زندگی کی قوالی ۔ زندگی (25)۔۔وہاراامباکر

کوانٹم مکینکس کو بیان کرنے کے لئے کئی بار “عجیب” کا لفظ استعمال کیا جاتاہے اور ہاں، اس کو عجیب کہنا آسان ہے۔ ایسی تھیوری جو بتائے کہ اشیاء رکاوٹوں کے بیچ میں سے گزر جاتی ہیں، بیک وقت دو جگہ پر ہو سکتی ہیں۔ الگ مقامات پر ذرات ایک ہی کوانٹم حالت میں ہو سکتے ہیں، عجیب کہلا سکتی ہے لیکن اس کا ریاضیاتی فریم ورک بہت منطقی ہے اور اس میں کوئی تضادات نہیں۔ یہ ہماری فزیکل دنیا کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کے اثرات سائنسدانوں کی لیبارٹری کی نہیں، ہماری دنیا کی وضاحت کرتے ہیں۔ کوانٹم مکینکس کسی الگ نہیں، ہماری ہی دنیا کی تھیوری ہے۔ کوانٹم مکینکس نارمل ہے۔ اگر کچھ عجیب ہے تو وہ کوانٹم مکینکس نہیں، ہماری دنیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فُٹ بال، ٹرین یا سیارہ۔۔۔ ہم ان کی حرکات کو نیوٹن کے کلاسیکل قوانین سے بیان کرتے ہیں۔ رفتار، مومنٹم، ایکسلریشن۔ جب ہم ان کے اندر جائیں تو پھر تھرموڈائنمکس کی دنیا ہے۔ بہت سے ٹکراتے مالیکیول جس میں ہر ایک انفرادی طور پر بے ہنگم سفر میں ہے۔ لیکن ان کے مجموعی رویے سے بے ترتیبی سے ترتیب ابھرتی ہے۔ جبکہ اس سے اگلی تہہ میں ایٹم جو کوانٹم مکینکس کے باترتیب قوانین پر عمل پیرا ہیں۔ کوانٹم دنیا ہماری نظر سے مخفی ہے۔ صرف اس وقت ہمیں اس کا احساس ہوتا ہے جب بہت احتیاط سے کئے گئے تجربات، جیسا کہ ڈبل سلٹ تجربہ، کا مشاہدہ کیاجاتا ہے۔ یہاں پر کوانٹم قوانین ہمارے لئے مانوس نہیں کیونکہ ہم ہر شے کو ڈی کوہرنس کے فلٹر کے بعد دیکھتے ہیں۔

جاندار اشیاء بھی ٹرین، فٹبال یا توپ کے گولے کی طرح ہی بڑی ہیں۔ ویسے ہی نیوٹن کے قوانین ان کے لئے بھی ہیں۔ توپ سے گولا پھینک دیں یا کسی انسان کو۔ ان کے گرنے کا راستہ ایک ہی طرح نکالا جائے گا۔ کھڑکی سے باہر گملا پھینک دیں یا خود چھلانگ لگا دیں۔ ویسے ہی گریں گے۔ مزید اندر جائیں تو ٹشو اور خلیوں کی فزیولوجی بھی تھرموڈائنامک قوانین پر ہیں۔ پھیپھڑوں کا پھیلنا اور سکڑنا غبارے کے پھیلنے سے مختلف نہیں۔ اس لئے پہلے نظر میں ایسا لگتا ہے اور زیادہ تر سائنسدان یہ فرض کرتے رہے ہیں کہ چڑیا، مچھلی، ڈائنوسار، تتلی، درخت اور ہم میں بھی کوانٹم اثرات دوسرے کلاسیکل آبجیکٹس کی طرح ختم ہو جاتے ہیں۔ پانی کی متلاطم تہہ پر اس کی لہریں اثرانداز نہیں ہو سکتیں لیکن زندگی کی بنیاد میں کوہرنس، سپرپوزیشن، انٹینگلمنٹ اور ٹنلنگ موجود ہے۔

جیسا کہ شروڈنگر نے کہا تھا کہ زندگی میں جو چیز فرق ہے وہ یہ کہ اس میں مالیکیولر سطح پر بھی ترتیب ہے۔ اور کوانٹم بائیولوجی کے بانی پاسکل جورڈن کے مطابق، آخری سطح پر بائیومالیکیول پر کوانٹم اثرات پورے جاندار پر اثرانداز ہوتے ہیں۔پروٹین یا ڈی این اے فولاد سے بنے کسی لیبارٹری کے آلات نہیں۔ ان سٹرکچز کو مسلسل مالیکیولر شور کا سامنا ہوتا ہے۔ اس شور سے کوانٹم رویے کی نازک ارینجمنٹ ڈھے جاتی ہے۔ اور یہ سوال کہ اس کے باوجود یہ کیسے؟ بہت دلچسپ سوال ہے۔ زندگی کیا ہے؟ کے جواب کے لئے اس سے ہمیں گہری انسائیٹ ملنا شروع ہوئی ہے۔

کوانٹم کوہرنس برقرار رکنے کے لئے سائنسدان دو طرح کی تکنیک استعمال کرتے ہیں۔ یا تو اتنا کم درجہ حرات ہو کہ مالیکیولر حرکات بہت کم ہوں۔ دوسرا یہ کہ اس پر شیلڈ لگا دی جائے۔ خلیوں میں یہ کرنا ممکن نہیں۔ فوٹوسنتھیسز کے عمل میں ری ایکشن سنٹر دو الگ حربے استعمال کرتے ہیں۔ پہلا ایک ہلکا اور کم لیول کا “سفید شور” ہے۔ یہ تھرمل مالیکیولر حرکات سے آتا ہے۔ پانی اور دھاتوں کے مالیکیول جو اس کے پڑوس میں ہیں۔ دوسرا “رنگدار شور” ہے۔ یہ اونچا ہے اور کچھ فریکونسیوں تک محدود ہے۔ یہ بڑے مالیکیولز کے ارتعاش سے پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ کلوروفل اور پروٹین جو انہیں اپنی جگہ پر رکھتے ہیں۔ ان کے جوڑ لچکدار ہیں اور ارتعاش کر سکتے ہیں لیکن خاص فریکونسی پر۔ ویسا جیسے ستار پر بجتی دھن ہو۔ ان کی اپنی وائبریشنل فریکیونسی ہے جن سے چند نوٹ پیدا ہوتے ہیں۔ سفید اور رنگدار شور ملکر فوٹوسنتھیسز کے نظام میں ایکسائیٹون کی کوہرنس کی حفاظت کرتے ہیں۔

سفید شور کی دریافت دو الگ گروپس نے کی۔ برطانیہ کے شوہر اور بیوی مارٹن پلینو اور سوزانا ہویلگا جبکہ امریکہ میں ایم آئی ٹی میں سیٹ لائیڈ۔ اگر سرد درجہ حرارت پر شور کم ہو تو ایکسائیٹون راستہ بھول جاتا ہے۔ اگر شور زیادہ ہو تو کوانٹم زینو ایفیکٹ کی وجہ سے ایفی شنسی متاثر ہوتی ہے۔ انتہاوٗں کے بیچ میں کوانٹم ٹرانسپورٹ کے لئے ٹھیک ماحول ہے۔ (مسلسل مشاہدہ کوانٹم واقعات ہونے سے روک دیتا ہے۔ مثلاً، جس ریڈیوایکٹو ایٹم کا مسلسل مشاہدہ کیا جا رہا ہو، وہ کبھی ڈیکے نہیں ہوتا، کوانٹم زینو ایفیکٹ کا نام اس دریافت پر رکھا گیا تھا)۔ جاندار درجہ حرارت کی ایک رینج میں آپریٹ کرتے ہیں۔

رنگدار شور کی دریافت لندن میں 2014 میں الیگزینڈرا اولایا کاسٹرو نے کی۔ رنگدار شور کی مثال کے لئے یہ کسی موسیقی بجانے والے قوالوں کی آواز جیسا ہے۔ طبلے کی تھاپ، ہارمونیم کے سُر، قوال کی لے جبکہ سفید شور سامعین کی آوازوں جیسا ہے۔ کہیں ہوتی کھسر پھسر، کہیں کوئی کھلتا چپس کا پیکٹ، کہیں سے آتی ہوئی داد۔ اگر قوالی کی آواز دب جائے یا پھر سامعین نہ ہوں، محفل نہ جمی ہو تو پھر ایکسائیٹون بھٹک جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھیوری آف کمپلیکسیٹی کیاوس سے ترتیب پیدا کرنے کی اور سیلف آرگنائزیشن کی وضاحت کرتی ہے۔ پانی کیسے بھنور بناتا ہے۔ جبکہ اس کے مالیکیولز کا مشاہدہ کریں تو ترتیب نہیں۔ طوفان، مشتری پر لال دھبہ یا بایئولوجی میں پرندوں، مچھلیوں یا کیڑوں کے جھنڈ یا زیبرے کی دھاریاں یا پتوں کا فریکٹل سٹرکچر۔ ان سب نظاموں میں جو چیز حیران کن ہے وہ یہ کہ بڑے لیول پر ابھرتی ترتیب نظر آتی ہے۔ جبکہ مائیکروسکوپ سے مشاہدہ کرنے پر ترتیب نہیں ہے۔ صرف یہ کہ رینڈم نس معمولی سی ایک طرف جھک گئی ہے۔ اور یہ معمولی سا جھکاوٗ بڑے پیمانے پر آرڈر کا باعث بنتا ہے۔

بے ترتیبی سے ترتیب کا یہ مرکزی خیال ہے۔ اور بہت عرصے تک یہ زندگی کی وضاحت کا خیال رہا۔ جاندار خلیوں میں بھی بے ترتیب مالیکیولر موشن ہے لیکن زندگی کا اصل ایکشن بنیادی ذرات کا بہت ہی ٹائٹ کوریوگرافی میں حرکت ہے۔ زندگی سٹیم انجن کی طرح نہیں ہے۔

اگر فوٹوسنتھیسز کی مثال پر ہی رہیں تو پچھلے حصوں میں صرف فوٹوسنتھیسز کے عمل کی مثال دی گئی۔ لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ اسرار رکھنے وہ عمل ہے جو اس کی آکسیڈیشن کا ہے یعنی توانائی لینے کا۔

سٹیم انجن کی زیادہ سے زیادہ ایفی شنسی کتنی ہو سکتی ہے؟ یہ ہم کارنٹ لِمٹ سے جانتے ہیں۔ 2011 میں ٹیکساس یونیوسٹ کے مارلن سکلی نے پیپر لکھا کہ ایک کوانٹم ہیٹ انجن کی ایفی شنسی کتنی ہو گی یعنی ایسا انجن جس میں سب ایٹامک سکیل پر ٹیوننگ ہو۔ 2013 میں فوٹوسنتھیسز کی ایفی شنسی نکالی گئی تو یہ کارنٹ لمٹ سے بھی پچیس فیصد زیادہ تھی۔ یہ غیرمعمولی نتیجہ جانداروں کی کوانٹم دنیا سے فوائد حاصل کر لینے کی صلاحیت کی ایک اور مثال ہے۔ یہ میکروسکوپ اشیاء کو حاصل نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر جون 2014 میں سویڈن، روس اور نیدرلینڈز کی ٹیم کا نکالا گیا نتیجہ تھا جو ظاہر کرتا تھا کہ ری ایکشن سنٹر ٹو کوانٹم ڈیزئن والے روشنی کے پھندے ہیں۔ فوٹوسنتھیسز دو سے تین ارب سال پرانا ہے۔ اور یہ نتیجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوانٹم بوسٹڈ ہیٹ انجن زمین پر اربوں سال سے ہیں۔ یہ عمل اس قدر باریک اور پیچیدہ ہے کہ ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ مصنوعی طور پر اسے کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اور ہماری گاڑیاں چلانے والا اور گھروں میں روشنی کرنے والا ایندھن یہی قدیم کوانٹم توانائی سے حاصل کردہ اشیاء کے فوسل فیول ہی تو ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی قدرت کی اس قدیم کوانٹم ٹیکنالوجی سے سیکھ سکے تو حاصل ہونے والے فوائد بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔

ان مالیکیولز کے شور کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنا ہمیں انزائم ایکشن میں نظر آتا ہے۔ اور یاد رہے کہ انزائم زندگی کا انجن ہیں۔ “اچھی وائبریشن” کا ہمیں زندہ رکھنے میں بڑا کردار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنسدان کوانٹم کوہرنس کو برقرار رکھنے کے لئے مالیکیولر شور سے بچاوٗ کے طریقے ڈھونڈتے ہیں جبکہ بائیولوجی نے اسی شور کو اپنے مقصد کے لئے سدھا لیا ہے اور یہ ایک بہت ہی باریک توازن ہے۔ اس کا نظام صرف اور صرف اسی وقت چل سکتا ہے جب تک کوانٹم ڈی کوہرنس کے عمل کو دور رکھا جا سکے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ مکمل طور پر تھرموڈائنامکس کے رحم و کرم پر ہو گا۔

اس کو سمجھنے کے لئے ایک سوال: ایک کشتی کو خشکی پر رکھیں تو ایک طرف گر جاتی ہے لیکن پانی میں یہ مستحکم رہتی ہے۔ آخر کیوں؟
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *