اصل مسئلہ۔۔۔۔حسنین چوہدری

ویمن مارچ ہوگیا,فیسبکی مجاہدین بھی ٹھنڈے ہوگئے,پوسٹرز کی حمایت و اعتراضات بھی ہوچکے اوریا مقبول جان بھی اپنی چول مار چکے مگر میں نے خاموشی ہی میں عافیت جانی۔۔

مجھے خواتین کے کسی پوسٹر پہ اعتراض نہیں ہے،ان کے مسائل وہ بہتر جانتی ہیں مگر جو مسائل اور ان کا حل وہ بتا رہی ہیں وہ اگلے سو سال تک تو مجھے نظر نہیں آتا۔۔۔جن مسائل کی طرف ان کا اشارہ ہے وہ جہالت اور غربت کا عشر عشیر بھی نہیں ،میں کسی شخص کے کسی خاتون کو چھیڑنے ، پردے کا طعنہ دینے ، صحیح سے نہ بیٹھنے کا طعنہ دینے، ڈک پکس بھیجنے کو اتنا بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا، جتنا بڑا مسئلہ جہالت کو سمجھتا ہوں۔

میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ تعلیم دیے بنا ، جہالت کے خاتمے کے بنا خواتین کبھی اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتیں۔۔

جب بچے کو مدرسے میں بٹھا کر بنا پردے والیوں کو جہنمی اور کنجری اور خراب عورت سکھانے کی بجائے اچھے سکول و کالج میں خواتین کے تمام شعبہ ہائے زندگی میں کردار کی اہمیت و افادیت کی تعلیم دی جائے گی تو کوئی کسی خاتون سے پردہ کرنے کو نہیں کہے گا۔
جب مذہبی تعلیمات کی حیثیت ثانوی اور انفرادی ہوجائے گی اور سائنس و جدید دنیاوی علوم کو ترجیح دی جائے گی تو مذہبی تنگ نظری میں بھی واضح فرق آجائے گا اور کوئی آپ سے مذہبی احکامات نہیں منوائے گا۔
جب جہالت کا قلعہ قمع کر کے ہر بچی کو کھیلنے کودنے ، ہنسے کھیلنے ، بھاگنے دوڑنے ، پہننے گانے کی آزادی دی جائے گی اور لڑکوں کو پیدائش سے یہ تعلیم دی جائے کہ اس کام میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،
کھلی شرٹ پہن کر باولنگ کروانے والی لڑکی میں کسی اوریا مقبول جان کو بے حیائی یا فحاشی نظر نہیں آئے گی،تنگ جینز یا شرٹس پہننے والیوں کو دیکھ کر کوئی غلط جملہ نہیں کسے گا اگر ان کے گھر والے بھی ان کی بچیوں کو وہی لباس پہنائیں اور سمجھائیں کہ اس میں کوئی بری بات نہیں ہے۔

اصل مسئلہ تعلیم و شعور کی کمی ہے،آپ ایک جاہل ترین معاشرے میں یورپی نظام ہائے زندگی لاگو کرنا چاہتے ہیں جو کسی بھی طور پہ ممکن نہیں ہے۔

خواتین کے حقوق کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ مذہبی معاشرہ ہے،معاشرے کی بجائے براہ راست مذہب کو اس تنگ نظری اور تعصب کا باعث کہنا کم از کم اس شخص کیلئے درست نہیں ہے جو مذہب کو اور خدا کو معاشرے کی دین اور پیداوار سمجھتا ہے،جو مذہب کے اور خدا کے ارتقا سے واقف ہے وہ عورتوں سے برے سلوک کا طعنہ مذہب کو دیتے ہوئے اچھا نہیں لگتا۔بہتر ہے کہ اس معاشرے کو قصوروار ٹھہرایا جائے جس نے اس مذہب کو پیدا کیا،اگر بات مذہب کی ہی کی جائے  تو بائبل و اسلامی فقہ سمیت ، ہندو پرانوں اور ویدوں میں عورتوں کی تضحیک کی کئی مثالیں موجود ہیں۔بہتر یہی ہے کہ اس معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، یورپ میں عورتوں سے کیا ذلت آمیزسلوک ہوتا رہا،سب کو علم ہے،ہندوستان میں شوہر کو عورتیں بھگوان سمان مانتی رہیں ان کی پوجا کرتی رہیں،پنج تنتر اور دیگر ہندو کتب میں عورت کی جو تذلیل کی گئی ہے،وہ سب کی نظر میں ہے،عرب میں عورتوں سے جو توہین آمیز سلوک ہوتا رہا وہ بھی دل دہلا دینے والا ہے۔ایک اندازے کے مطابق عرب ممالک میں بارہ کروڑ عورتیں ایسی ہیں جن کو بچپن میں ختنہ کر دیا گیا۔اس ختنہ میں داخلی لیبیا اور  بظری  پردے کو کاٹنے کا رواج عام رہا ہے۔کسی زمانے میں شرم گاہ کو باقاعدہ ٹانکے لگا کر بند کر دیا جاتا تھا اور شادی سے قبل کھولا جاتا تھا، بابل و نینوا میں عورتیں ہزاروں برس کاہنوں اور پجاریوں کے بستر گرم کرتی رہیں،سدوم کے معبد خانوں میں عورتیں صحن میں بیٹھیں کسی مرد سے ہمبستری کا انتظار کرتی رہیں،بنی اسرائیل میں کنوارگی ثابت نہ کرسکنے والیاں سنگسار ہو کرمرتی رہیں،افغانستان میں مذہب کے نام پر عورتوں پر ہنٹر برسائے جاتے رہے اور گھروں میں قید کر دیا گیا،کھیتوں میں کام کرنے والی ، بلند آواز میں پشتو ٹپے گانے والی خواتین کو معمولی الزامات پہ سروں میں گولیاں ماری گئی،رباب چھین کر کلاشنکوف پکڑا دی گئی،پنجاب کی الہڑ مٹیاروں کو شٹل کاک برقعے پہنا دیے گئے،ذہنیت ہی ایسی بنائی گئی کہ ناچیز نے اپنے کانوں سے معصوم بچیوں کو برقعہ خریدنے کی ضد کرتے سنا،ان نوخیز کلیوں کو بھی مذہب کے نام پر ملفوف و محجوب کر دیا گیا،جیسے گھر میں لگے انار کو گلہری سے بچانے کیلئے تھیلی چڑھائی جاتی ہے۔

جیسے انار پہ سپرے کرنے سے تھیلی کی حاجت نہیں رہتی،ایسے ہی ان بچوں بچیوں پہ بھی سپرے کی ضرورت ہے،تعلیم کا سپرے، شعور کا سپرے ،پھر سر سے دوپٹہ سرکنا بے حیائی نہیں ہوگا،پینٹ پہننا خراب ہونے کی نشانی نہ ہوگا۔

جو خواتین یوم نسواں پہ باہر آئیں،یا تو وہ تعلیم کی افادیت سے واقف نہیں ہیں۔یا وہ بغیر محنت کا پھل کھانا چاہتی ہیں۔۔۔

دوسرا اہم مسئلہ غربت ہے،یوم نسواں کے بینرز پہ کچھ دوست یوں رقمطراز تھے کہ یہ تو عورتوں کے مسائل ہیں ہی نہیں۔۔یہ ایلیٹ کلاس خواتین عمر کوٹ ، شھداد کوٹ ، کندھ کوٹ ، تھر اور قبائلی علاقہ جات کی خواتین کے مسائل کیا جانیں  اور جو مسائل وہ بیان کرتے ہیں وہ مسائل خواتین کے نہیں ہیں،وہ غربت کی وجہ سے درپیش آنے والے مسائل ہیں ،مانا کہ کندھ کوٹ کی خاتون کا مسئلہ Dick pics نہیں ہے بلکہ فیسٹولا ہے،سارا دن پیشاب رستا ہے اور کپڑے خراب رہتے ہیں،مانا کہ ان کا مسئلہ جینز پہن کر طنز سننا نہیں بلکہ زچگی کے مسائل ہیں،بچے جنتے ہوئے مر جانا ان کا مسئلہ ہے،علاج کی سہولت نہ ہونا ان کا مسئلہ ہے،کھانا گرم کرنا ان کا مسئلہ نہیں بلکہ کھانے کا حصول ان کا مسئلہ ہے،پانی شوہر کو پلانا ان کا مسئلہ نہیں بلکہ صاف پانی کا حصول ان کا مسئلہ ہے،گندے پانی پی کر ٹائیفائیڈ جیسی کئی بیماریوں سے بچنا ان کا مسئلہ ہے۔۔ایسی غریب خواتین کو کوئی برقعے کو نہیں کہتا۔

ان کا مسئلہ غربت کا ہے،غربت کے ختم ہونے سے یہ مسائل خودبخود ختم ہوجائیں گے مگر یہاں ایک لیڈر کے انگریزی تقریر کرنے پہ اسے میچور اور چرچل اور لنکن کے لیول کا سیاستدان کہا جاتا ہے جس کے اپنے حلقے میں بچوں کے سکول میں صاف پانی نہیں،پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو فضلہ ملا پانی دیا جاتا رہا اور فلاں لیڈر صاحب انگریزی میں تقریر کرتے ہیں اور لبرل ہیں،اس لیے سب کو عزیز ہیں، میں نے یوم نسواں پہ بھی خاموشی اسی لیے رکھی کہ میرا موقف یہی تھا کہ یہ عورتیں ایک سو سال تک بھی یونہی اپنے حقوق کیلئے آتی رہیں،کچھ نہیں ہونے والا، حق تب ملے گا جب ان عورتوں کے حقوق کیلئے مرد آگے آئینگے اور مردوں کو اس قدر شعور ابھی تک نہیں ہے،ان کو شعور دینے کیلئے کئی برس کی تعلیم و تربیت درکار ہے،یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہیں،عورتوں کو ان کے حقوق دلوانے کیلئے عورتوں سے زیادہ جدوجہد مردوں نے کی،لکھاریوں نے لکھ لکھ کر معاشرے کو سینچا،مجھے اس سارے معاملے پہ ایک بہترین کتاب کی حاجت محسوس ہوتی ہے اور میری نظر میں پاکستان میں ایسا کوئی ادیب فی الحال نہیں ہے جو اس معاملے کو آخری حدوں پہ جائے بنا متوازن انداز میں صورتحال کا عمیق جائزہ لے،اس کے عوامل ، پس منظر اور حل پر جامع کام کرے،اور صرف ایک کتاب سے آگہی و شعور کا پھل ملنے والا نہیں، کچھ دوستوں کے نزدیک جس آزادی کا مطالبہ یہ کر رہی ہیں یہ ممکن نہیں ہے،اس سے خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر جائے گا،معاشرتی اقدار کا خون ہوجائے گا،ایسا نہیں ہے۔۔۔ جب یہ خود مختار ہوجائیں گی تو ان پہ ایسا بوجھ پڑے گا کہ خاندانی نظام سے الگ ہونا ممکن نہیں رہے گا،خاندانی نظام سے الگ ہونا ان کا اکثریتی مطالبہ ہے بھی نہیں، ایک خاتون نے لکھا کہ ” She is someone – Not someone’s sister/daughter/wife and mother.” گویا کہ ہم انسان ہیں،ہمیں ماں بہن بیٹی بیوی نہ سمجھا جائے۔۔یا بعض پوسٹرز پہ لکھا دیکھا کہ ہم انسان ہیں/ عزت نہیں، ہماری رگ ظرافت پھڑکی اور ہم نے لکھا کہ اگر صرف انسان ہیں تو کپل وستو کی راجدھانی چھوڑ کر گوتم بدھ کی طرح بن میں جا بسرام کریں اور سارا جیون وہیں بن میں بن واسی بن کر گزاریں اور وہیں مرتی رہو۔شہروں سے دور دور رہیے،تفنن برطرف۔۔ارسطو کے بقول انسان معاشرے کے بنا نہیں رہ سکتا اور خاندان معاشرے کی اکائی ہے۔۔ اکائی کا اپنے اصل سے جدا ہوجانا مسئلے کا حل ہر جگہ نہیں مگر اصل کو بدلنے کی کوشش اور میں سدھار لانا حل ہے اپنے خاندان سے کٹ جانا حل نہیں.بلکہ اپنے بچوں کو ایسی تعلیم و تربیت دینا کہ کل وہ کسی لڑکی کو ڈک پکس نہ بھیجیں اور کسی سے برقعے کا نہ کہیں،کسی کے بیٹھنے کے انداز پہ تنقید نہ کریں،متعصب ، تنگ نظر اور جنونی مذہبیت کا شکار نہ ہوں،یہی کامیابی ہے اور یہی ایک فیمینسٹ کا مطمع نظر ہونا چاہیے ،اصل مسئلے کا ادراک ، اس مسئلے کے حل کی حتی الوسع اجتماعی و انفرادی کوشش ہی مسئلے کا حل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *