پانی کا اُبال۔۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

میرا ماننا ہے کہ ہر لڑکی بیٹی ہوتی ہے اور بیٹی اس دھرتی پر اللہ کی رحمت ہے۔ جس کسی کو لڑکیوں / بیٹیوں کے رحمت ہونے پر شک ہے وہ اپنے گریبان میں جھانکے اور پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے تعلق اور محبت کا جائزہ لے لے۔
جو لوگ لڑکیوں کو جھوٹی سچی محبتوں کے سبز باغ دکھا کر انہیں ورغلاتے ہیں یا بسی بسائی عورتوں کو الٹے سیدھے مشورے دے کر اور ان کی نجی زندگی پر تبصرہ کر کہ انہیں طلاق لینے یا خلع لینے پر اکساتے ہیں اور ان کے گھر برباد کرتے ہیں وہ معاشرے کے مجرم ہیں۔ “عورت” کو قصور وار اور گناہ گار قرار دینے والے بلکہ گناہوں کی جڑ قرار دینے والے اور ان کے گھر برباد کرنے والے اپنے گریبانوں میں جھانک لیں کہ بقول ابو الحسنات حقی کے۔۔

بجتی ہوئی خون کی روانی
خواہش کی گرفت میں بدن ہے

کے  مصداق خواہش نفسانی کی گرفت میں ان کا دل و دماغ ہوتا ہے اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگے مردوں کے لئے پاکستان کا male dominated بلکہ Male chauvinist معاشرہ کھل کھیلنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور آج کل مرد کی محبت، محبت کم اور “پانی کا ابال” زیادہ ہوتی ہے۔ مرد تو جتنے مرضی گناہ کر لے “نہا دھو” کر پھر سے پاکباز ہو جاتا ہے اور کسی سیانے کے بقول “عورت کا گناہ ساری عمر کنول کے پھول کی طرح معاشرے کے تلاب پر تیرتا رہتا ہے” جس کے نظارے تو سب کرنا چاہتے ہیں پر اپنے گھر کی زینت کوئی نہیں بناتا-
اور پاکستان میں مطلقہ یعنی طلاق یافتہ لڑکی یا عورت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ یہاں تو مثل مشہور ہے کہ “طلاق” لکھ کر عورت پر یا “302” لکھ کر سر سبز درخت پر لٹکا دو تو وہ بھی سوکھ جاۓ۔ اور گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کی تو اولاد تک سے کوئی شادی کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور اس کے ماں باپ اور بہن بھائی تک نموشی / شرم سے زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔
لیکن اس سب کے پیچھے ہاتھ ہوتا ہے کسی مرد کی شہوت کا جس کو عشق و محبت و پیار کے لبادے اوڑھا، صنف نازک کو حسین سپنے دکھا برباد کیا جاتا ہے۔ اسی لئے تو ریاض خیر آبادی نے کہا تھا۔۔

بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے
ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا

مختصر یہ کہ کیا کبھی سنا کسی نے کہ کوئی عورت بھی کسی کوٹھے پر کسی مرد کا رقص دیکھنے گئی، یہ سارے کمال مرد کے ہی ہیں، نفس گزیدہ مرد کے۔

عورت نے جنم دیا مردوں کو
مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا
جب جی چاہا دھتکار دیا

قصہ مختصر عورتوں کے لئے تو یہی کہوں گا کہ۔۔

اک مجبوری ہے جو نچاتی ہے محفل محفل
لوگ فن سمجھ لیتے ہیں کسی لاچار کا رقص

اور مرد حضرات کے لئے؛

نفس کو آنچ پہ وہ بھی عمر بھر رکھنا
بڑا محال ہے ہستی کو معتبر رکھنا

اور مرد حضرات سے درخواست ہے کہ ہیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حکم ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔۔
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے مگر ا س وقت، جب کہ اس کا کوئی محرم بھی موجود ہو۔[بخاری، کتاب النکاح، حدیث: ۴۹۳۹]

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *