• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حرمتِ قلم:چکوال میں موروثی سیاست اور اُبھرتی ہوئی نوجوان سیاسی قیادت۔۔۔محمد علی عباس

حرمتِ قلم:چکوال میں موروثی سیاست اور اُبھرتی ہوئی نوجوان سیاسی قیادت۔۔۔محمد علی عباس

1947ء میں جب برصغیر پاک و ہند کا بٹوارا ہوا تو نئی قائم شدہ ریاست پاکستان کی سیاست پر جاگیرداروں،سجادہ نشینوں اور وڈیروں کا قبضہ تھا۔ان لوگوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا اور مسلم لیگ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئی۔اس وقت چکوال تحصیل ہوا کرتی تھی چکوال کی سیاست پر راجہ سرفراز خان کا مکمل ہولڈ تھا۔پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں وہ ایک عرصہ تک یہاں سے قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوتے رہے۔راجہ سرفراز   خان نے غیر معروف، نووارد سیاست دان چوہدری امیر خان بھگوالیہ سے شکست کھانے کے کچھ عرصہ بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور امیر خان بھگوالیہ کو بھی تکنیکی بنیادوں پر نا اہل کرا دیا۔

60ء کی دہائی میں چکوال کی سیاست پر دو نئےچہرے نمودار ہوئے۔سردار خضر حیات خان جن کا تعلق کوٹ چوہدریاں جبکہ سردار اشرف خان جو کہ سرداران دلہہ میں سے تھے اور راجہ سرفراز خان کے داماد بھی تھے۔راجہ سرفراز خان کی گہری چھاپ چکوال کی سیاست پر موجود تھی لیکن ان کے بیٹوں میں سے کوئی بھی سیاست میں نہ آسکا۔ ان کے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے سردار اشرف خان نے اپنا دھڑا مضبوط کیا۔ 60 اور 70 کی دہائی کے وسط تک کی سیاست سردار خضر حیات، سردار اشرف خان اور چوہدری امیر خان بھگوالیہ کے گرد گھومتی رہی۔امیر خان بھگوالیہ کےقتل کے بعد بھگوال کی سیاست کا باب کئی سالوں تک بند رہا۔

راجہ سرفراز خان کی درخواست پر نا اہل ہونے کے بعد امیر بھگوالیہ جب دوسری بار 71 کے انتخاب میں کامیاب تو ہو گئے مگر مدت پوری نہ  کرسکے اور قتل کر دیے گئے تو خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی اس نشست پر راجہ نذر حسین کیانی نے ضمنی الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی، جو ان کی چکوال سے پہلی اور آخری کامیابی تھی۔اسکے بعد انہوں نے چکوال سے انتخابات میں حصہ تو لیا مگر کامیاب نہ ہو سکے ان کی وفات کے ساتھ ان کی سیاست بھی دفن ہو گئی۔ ان کے خاندان میں سے عملی سیاست میں ضلع یا تحصیل سطح پرکوئی سامنے نہیں آیا۔85ء کے غیر جماعتی انتخابات اب تک کی سیاسی تاریخ کے دلچسپ ترین انتخاب رہے ہیں ،ان کا مکمل احاطہ کرنا اس لئے بھی ممکن نہیں کہ موضوع اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی دامن قرطاس میں گنجائش ہے۔

بہرحال مختصر یہ کہ ان انتخابات میں کچھ نئے چہرے چکوال کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ان انتخابات سے قبل سردار خضر حیات نے سردار غلام عبّاس کو اپنا جانشین مقرر کیا اور خود عملی سیاست سے دستبردار ہو گئے۔

سردار اشرف خان دلہہ پہلے سے سیاست میں موجود تھے۔ جنرل مجید ملک،کرنل ممتاز خان، چوہدری لیاقت علی خان اور چوہدری غلام محمد لطیفال ایسے نئے چہرے تھے جنہوں نے انتخابات میں پہلی بار حصہ لیا۔کرنل ممتاز اور چوہدری غلام محمد  کا تو یہ پہلا اور آخری انتخابی معرکہ تھا مگر جنرل مجید اور چوہدری لیاقت علی خان 3 دہائیوں تک سیاست کے افق پر جگمگاتے رہے۔اسی دوران ایاز امیر نے بھگوال کی سیاست کو ایک بار پھر سے  زندہ کیا۔ ایک بار 90 کی دہائی میں ایم پی اے اور ایک بار 2008 کے عام انتخابات میں ایم این اے بنے۔فوزیہ بہرام اور ملک اسلم سیتھی بھی بالترتیب 80 اور 90 کی دہائیوں کے دوران میدان سیاست میں اترے۔

اب سیاست کے تقاضے بدل گئے ہیں۔اب خاندانی رکھ رکھاؤ کے علاوہ وافر مقدار میں پیسا لگانا پڑتا ہے اور اب عوام کارکردگی بھی دیکھتی ہے۔اسی تناظر میں جو نئے چہرے وارد ہوۓ ہیں ان کے لیئے چیلنجز پہلے سے زیادہ ہیں۔پاکستان بننے سے اب تک موروثی سیاست ہی ہوتی چلی آرہی ہے۔گو کہ مستقبل میں موروثی سیاست کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہےمگر پھر بھی خاندان اور ذات، برادری کا اثر مستقبل قریب میں مکمل ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔اب بھی اگر چکوال کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو اکثر سیاستدانوں کا سیاسی بیک گراؤنڈ کافی مضبوط ہے۔راجہ سرفراز خان کا نام ان کے پوتے راجہ یاسر سرفراز نے زندہ کردیا ہے۔اگر  کل کلاں وہ سیاست سے دست بردار بھی ہوتے ہیں تو انکے چچا زاد راجہ عثمان ہارون سیاست میں آنے کی کوشش کریں گے۔

ایاز امیر عملی سیاست سے دور دکھائی دیتے  ہیں۔لیکن اگر وہ سیاست میں نہیں آتے تو بھی اپنے بیٹے شاہ نواز کو اپنا سیاسی جانشین اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقرر ضرور کریں گے۔سرداران کوٹ چوہدریاں میں سردار غلام عباس خان نے اپنے بھتیجے سردار محمد خان کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا ہے۔سردار محمّد خان اب آہستہ آہستہ سیاست کے داؤ  پیچ سمجھ رہے ہیں پڑھے  لکھے بھی ہیں  اور سردار غلام عباس خان کی شاگردی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ مستقبل میں سردار غلام عباس کی سیاست کی کمان سنبھال لیں گے۔سردار آفتاب اکبر کے بھتیجے سردار سجاد خان بھی سیاسی جلسوں اور تقاریب میں نظر آتے ہیں۔ مگر سردار عباس کے بھتیجے سردار محمد خان کے کوٹ چوہدریاں کی سیاست کو ٹیک اوور کرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

سردار اشرف خان دلہہ کے خاندان میں سردار خرم نواب کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا شاید کوئی پورا نہ کر سکے۔ جنرل مجید کے بھتیجے میجر طاہر اقبال اور سلیم اصغر سیاست میں کسی حد تک موجود تو ہیں مگر ان کے اسی طرح مستقبل میں بھی متحرک رہنے کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔چوہدری لیاقت علی خان نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے سلطان حیدر علی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔2018 کے ضمنی انتخابات میں سلطان حیدر علی نے کامیابی حاصل کی۔ سلطان حیدر کے بھائی شہریار سلطان کسی حد تک چکوال کی سیاست میں متحرک ہیں۔چوہدری لیاقت علی خان کے بھتیجے، نوجوان قانون دان چوہدری سلطان قاسم علی خان کے کم عمری میں ہی ملک کے بڑے سیاست دانوں کے ساتھ ذاتی مراسم ہیں۔سیاست کے داؤ  پیچ کو بخوبی سمجھتے ہیں۔انتہائی ملنسار بھی ہیں اور جمہوریت پسند ہیں۔ مستقبل قریب میں نہ سہی لیکن وہ کبھی نہ کبھی اپنے تعلقات کو بھرپور استعمال ضرور کریں گے۔چوہدری لیاقت اگر زندہ ہوتے تو حالات کچھ اور ہوتے ایسے میں شاید سلطان قاسم کو موقع مل جاتا۔لیکن اب 2018 کے انتخابات میں شکست کے بعد چوہدری حیدر سلطان کے لئے اپنا ووٹ بینک قائم رکھنا ہی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

سردار ذولفقار علی خان دلہہ جیسے تیسے ممبر قومی اسمبلی بن تو گئے  ہیں مگر خود ہی مستقبل قریب میں بھی سیاست کرتے نظر آرہے ہیں۔ملک سلیم اقبال نے اپنے نواسے کو اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے جو ایک بار ضمنی انتخابات جیت چکے ہیں۔سردار ممتاز ٹمن نے ضعیف العمری کے باوجود سیاست کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے جبکہ فیض ٹمن بھی کبھی کبھار متحرک ہو جاتے ہیں سردار منصور حیات  ٹمن سردار حیات خان ٹمن کی سیاست کو کسی حد تک سنبھالے ہوۓ ہیں۔ تنویر اسلم سیتھی کو بھی تادیر سیاست کرنے کی اعصاب اجازت دیتے ہیں اور ان کے لیے حالات بھی سازگار ہیں۔

مہوش سلطانہ شاید خود تو اگلی ایک دہائی تک الیکشن نہ  لڑیں مگر اپنا ووٹ بینک کسی کے پلڑے میں ڈال کر مخصوص نشست حاصل کرنے کی کوشش میں رہیں گی۔ اسی طرح فوزیہ بہرام بھی مخصوص نشست کے لیے ہی تگ و دو جاری رکھیں گی۔ راجہ منور احمد بھی سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنی بیٹی ماہا ترین راجہ کو اسمبلی میں پہچانے کی کوشش کریں گے۔
پیران کرسال،راجگان کالس،پیران کرولی، امیر بھٹی اور چوہدری محمد علی خان’ چکوال کے ان مشہور سیاسی خانوادوں میں سے آج تک کوئی اسمبلی کا ممبر نہ بن سکا۔یہی وجہ ہے کہ سب اپنے تئیں کسی حد تک سیاست میں متحرک ہیں اور سیاست آنے والی نسل میں منتقل کردی ہے

پیر نثار قاسم جوجی،راجہ طارق افضل کالس،پیر وقار کرولی، چو ہدری علی ناصر بھٹی اور چوہدری تیمور علی خان بالترتیب اپنے خاندان کی سیاسی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔اگر مستقبل میں ہماری عوام میں سیاسی شعور بیدارنہ ہو گیا تو یہی خاندان ہونگے جو ہم پر حکومت کریں گے۔لیکن اس کے باوجود اچھی بات یہ ہے کہ چکوال کی سیاست میں آنے والی نوجوان سیاسی قیادت تعلیم یافتہ اور نئے سیاسی تقاضوں سے آشنا ہے۔ آج کے بچے جانتے ہیں کے صرف عوام کے ووٹ سے کام نہیں چلنا، کوہسار مارکیٹ میں میٹنگز اور آب پارہ میں سجدہ سلامی کرنی پڑتی ہے تب جا کے چمن کی دیدہ وری نصیب ہوتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *