محبت جیت جاتی ہے۔۔محمد افضل حیدر

ابا جی کو میرے میٹرک کے امتحان میں پاس ہونے کی خوشی ضرور ہوئی  مگر اتنی نہیں جتنی ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے میری خواہش کے برعکس مجھے شہر کالج بھیجنے کے بجائے بڑے بھائی  کے ساتھ آڑھت پر بھیج دیا۔ میں دن بھر وہاں چپ چاپ بیٹھا رہتا اور دکان کے سامنے رکتی شہر جانے والی بس پر سوار ہوتے اپنے ہم جماعتوں کو دیکھ کر سرد آہیں بھرتا۔میری جماعت کے آدھے سے زیادہ لڑکوں کا کالج میں داخلہ ہو گیا تھا۔وہ طالب علم ہی رہے اور میں بچپن میں ہی کاروباری بن گیا۔دکان پر بیٹھے پورا سال ہو گیا۔میرے لئے وہ سال صدیوں پر بھاری تھا,مگر جیسے تیسے گزر ہی گیا۔انہی دنوں شہر کالج کی پڑھائی  کے لئے جانے والے لڑکوں کے علاوہ کچھ لڑکیاں بھی تھیں جو اسی سویرے والی بس میں شہر جاتی تھیں۔ان لڑکیوں میں ایک وہ بھی تھی جو رب کی اس کائنات کی طرح ہر لحاظ سے خوبصورت اور مکمل تھی۔جب وہ دیگر سہیلیوں کے ساتھ بس سٹاپ پر آتی تو میں تمام کام چھوڑ کر صرف اسی کو دیکھتا اور بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔اس کو دیکھتا تو حیران ہوتا کہ خدا نے سارے جہاں کا حسن ہمارے گاؤں کی اس ایک لڑکی میں کیسے سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ایسا وجدانی حسن جس کو کوئی  ایک بار نظر اٹھا کر دیکھے تو پلکیں جھپکنا بھول جائے۔پہلے پہل ہماری نظریں چار ہوتیں تو وہ آنکھیں چرا لیتی,مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ محبت آنکھوں سے نکل کر سیدھی دل پر دستک دینے لگی۔اور ہم راہ و رسم سے کچھ آگے بڑھ گئے۔وہ فریال منظور تھی۔ہمارے گاؤں کے منظور صراف کی بیٹی۔کسی ماہر سنار کے ہاتھ سے بنے حسین زیور سے بھی زیادہ پیاری و دلکش۔ہماری محبت کو پورا ایک سال ہو چلا تھا۔ہفتے میں ایک دو بار ہماری فون پر بھی بات ہو جاتی تھی۔جب وہ بولتی تو صرف وہ ہی بولتی۔میں اس کا تصور ذہن میں لیکر صرف اس کی آواز سنتا رہتا۔اکثر اس الجھن کا شکار ہو جاتا کہ وہ زیادہ پیاری ہے یا اس کی مدھر آواز۔ایک دن کہنے لگی:”تم وہ ہو جس کے لئے میں اپنی زندگی تک قربان کر سکتی ہوں۔زمانے سے لڑ سکتی ہوں۔ہر حد پار کر سکتی ہوں۔تم میری اب تک کی اور آنے والی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہو۔خدا کے لئے میرا ساتھ نہ  چھوڑنا ،نہیں تو میں جیتے جی مر جاؤں گی۔میں ایک چھوٹی سی سرد آہ بھر کر کہتا:”جس دن تمہارا ساتھ چھوڑنے کا سوچا خدا کرے اسی دن مر جاؤں۔”

ماہ و سال مٹھی میں بھری ریت کی طرح سرکنے لگے۔گرمیوں کی ایک حبس زدہ سہ پہر میں اور بھائی  معمول کے مطابق دکان پر موجود تھے اسی دوران ہمارا خالہ  زاد عبداللہ ہانپتا ہوا دکان پر آیا اور گھبرا کر بولا”بھائی  جان حاجی جی کی طبیعت بہت خراب ہو گئی  ہے۔آپ لوگ جلدی سے گھر پہنچ جائیں”ہم بھاگتے,گرتے پڑتے گھر پہنچے تو ابا جی کی چارپائی  کے اردگرد لوگوں کا اک ہجوم سا جمع تھا گھر کے افراد تو تھے ہی محلے میں جس جس نے سُنا تھا وہ وہاں موجود تھا۔ہم ہجوم کو چیرتے ان کی چارپائی  تک پہنچے۔میں نے ان کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور بے اختیار چومنے لگا۔ان کے چہرے کا رنگ متغیر تھا اور ماتھے پر پسینے کے قطرے اور ہاتھ شدید سرد تھے۔اسی دوران ہمارے گاؤں کا ڈسپنسر شوکت بھی وہاں پر پہنچ گیا۔اس نے بلڈ پریشر چیک کیا تو وہ بے اعتدال تھا۔وہ بڑے اضطراب کے ساتھ بولا “جتنی جلدی ہو سکے انہیں شہر کسی بڑے ہسپتال لے جائیں۔”اس کی ابتدائی تشخیص کے مطابق انہیں دل کا دل دورہ پڑا تھا۔بڑے بھائی  نے آؤ دیکھا نہ  تاؤ,گاڑی نکالی اور ہم ابا جی کو لیکر دیوانہ وار شہر کی طرف بھاگ نکلے۔

گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ابا جی کا سر میری گود میں تھا اور ان کے اوپر نیم بے ہوشی کی سی کیفیت طاری تھی۔میرا ایک ہاتھ ان کی پیشانی پر اور دوسرا ان کے سینے پر تھا۔میں اپنی انگلیوں سے ان کے بالوں کو سہلا رہا تھا۔

ان کے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا اور سانسیں بے ترتیب سی تھیں۔بھائی  اور میں اس وقت شدید ذہنی اضطراب میں تھے۔دل و دماغ میں طرح طرح کے وسوسے اُمڈ آئے تھے مگر ہم قدرے استقامت کے ساتھ ان وسوسوں کو ذہن سے جھٹک رہے تھے۔ہمارے گاؤں سے شہر کا فاصلہ پچاس کلومیٹر کے لگ بھگ تھا مگر اس وقت یہ مسافت صدیوں پہ بھاری تھی۔

گاڑی ایک بہت بڑے کھڈے میں سے گزری تو ایک بڑا جھٹکا لگنے سے میرا سر چھت سے جا لگا۔ابا جی نے اس دوران خاصی تکلیف محسوس کی۔ایک دم سے ان کے لبوں میں جنبش آئی ۔انہوں نے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں بھینچا اور نحیف سی آواز میں گویا ہوئے:
“مجھے لگ رہا ہے۔میرا ویلہ آن پہنچا ہے میرا پتر! میرے پاس وقت بہت کم ہے۔میری کچھ نصیحتیں ہیں اگر ہو سکے تو ان کو ضرور پورا کرنا۔اپنی ماں اور بہنوں کا بے حد خیال رکھنا۔مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے۔میرے لعل!تم آگے پڑھنا چاہتے تھے ناں! میں نے روک دیا۔میں نے تم پر حکم چلا کر تمہارے خوابوں کا گلا گھونٹا۔میں نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا جس کا مجھے افسوس ہے۔تم اپنی ادھوری چھوڑی ہوئی  تعلیم کو ضرور مکمل کرنا۔اور آخری بات جس کی لاج رکھنا باقی تمام باتوں سے زیادہ ضروری ہے۔میری باتوں میں چھپی ہوئی  التجا کو محسوس کرنا میرے بچے۔مرنے والا آدمی اپنے آخری وقت پہ بے حد بے بس اور بے اختیار ہوتا ہے۔اس کی کی جانے والی ہر بات مان لینی چاہیے۔آج سے بیس سال پہلے جب تم چار سال کے تھے,ہم نے تمہاری نسبت تمہاری چچا زاد رباب کے ساتھ طے کی تھی۔تمہاری چچی کی شروع دن سے یہ خواہش رہی کہ یہ رشتہ نہ  ہو۔اس عرصے کے دوران ہم دونوں بھائی  خونی رشتوں میں حائل نفرتوں کی دیواروں کو پھلانگنے میں جتے رہے مگر وہ دیواریں ہمارے قد سے بہت اونچی نکلیں۔تم لوگوں نے اس دیوار کو گرا کر وہاں محبتوں کے بیج بونے ہیں۔رباب کا ہاتھ تھام کر یہ ثابت کرنا ہے کہ نفرت کی انتہا کو محبت کی ابتدا سے کم کیا جا سکتا ہے۔میری قبر تمہارے اس عمل سے ہمیشہ ٹھنڈی رہے گی۔اللہ تم سب کا حامی و ناصر ہو۔اس آخری جملے کی ادائیگی کے بعد ابا جی ہمیں اکیلا چھوڑ کر وہاں چل دئیے جہاں سے کوئی  لوٹ کر نہیں آتا۔
ابا جی جانے کے بعد اپنے پیچھے ایک بہت بڑا خلا چھوڑ گئے جس کو بھرنا ہماری بساط میں نہیں تھا۔
وقت کا دھارا پوری شدت کے ساتھ بہنے لگا۔میں نے ابا کی وصیت کے مطابق اپنی ادھوری چھوڑی ہوئی  تعلیم پھر سے شروع کرلی۔پرائیویٹ امیدوار کے طور پر ایف اے اور بےاے کا امتحان پاس کر لیا۔فارغ اوقات میں دکان پر بھائی  کا ساتھ بھی دیتا رہا۔موسم گرما کی ایک اجلی سی صبح یونیورسٹی میں داخلے کے لئے میں نے شہر جانا تھا۔نو بجے والی بس کے چلنے تک میں بھائی کے ساتھ دکان پر آکر بیٹھ گیا۔اسی دوران چچی اور ساتھ ایک بیس بائیس سال کی لڑکی سامنے سڑک پر کھڑی بس میں آکر سوار ہو گئے۔بس نے روانگی کا حتمی ہارن بجایا تو میں بھی بھائی  کو بتا کر بس میں آکر بیٹھ گیا۔اتفاق سے ان لوگوں کے دائیں طرف والی سیٹ میری تھی۔ایک دو بار چچی کی نظر مجھ پر ضرور پڑی مگر انہوں نے نظر انداز کیا۔بس فراٹے بھرتی شہر کی طرف رواں دواں تھی۔چچی کے ساتھ بیٹھی وہ لڑکی ہر ثانیے نظریں چرا چرا کر مجھے دیکھتی رہی۔اس کی آنکھوں میں محبت اداسی اور التجا تھی۔اس کے چہرے پر پھیلے نقاب کی وجہ سے چہرے کے خدوخال کا اندازہ نہ لگا پایا۔شہر کے مرکزی لاری اڈے پر گاڑی نے بریک لگائی  اور تمام سواریاں ایک ایک کرکے اترنے لگیں۔میں نے گاڑی سے اترنے کے لئے گیٹ کی جانب آنا چاہا تو اس نے آنکھوں کے اشارے سے منع کر دیا۔

میں نے معاً اپنے قدم روک لیے۔چچی اپنی سیٹ سے اٹھ کر تھوڑا آگے بڑھیں تو ان کے ساتھ بیٹھی وہ لڑکی میرے قریب آکر کہنے لگی۔”میں آپ کی کزن رباب ہوں۔ہم نے شام کو اسی گاڑی پر گاؤں واپس جانا ہے۔آپ بھی وقت پر یہاں پہنچ جانا”۔۔
یونیورسٹی میں داخلے کے تمام امور وقت پر نپٹا لئے۔قریب ہی ایک ہوٹل سے کھانا کھایا اور ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ بس سٹاپ پر پہنچ گیا۔گاؤں جانے کے لئے بس تیار کھڑی تھی۔میری نظریں بے اختیار رباب اور اس کی ماں کو ادھر ادھر ڈھوندتی پھر رہی تھیں مگر وہ کہیں نظر نا آئیں۔بس نے روانگی کا آخری ہارن بجایا تو دونوں ماں بیٹی بس کے سامنے رکنے والے رکشے سے اتر کر بس میں سوار ہوگئیں۔رباب کی نگاہ مجھ پر پڑی تو شکرانے کے طور پر اس نے نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور آنکھیں جھکا لیں۔
بس میں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی چچی کنڈکٹر کے کان میں کچھ کہہ کر نیچے اتر گئیں۔

رباب نے مجھے آنکھوں کے اشارے سے پیچھے ایک خالی سیٹ پر آنےکو کہا۔میں تھوڑا سا جھجکا,ادھر ادھر دیکھا اور اس کے دائیں طرف والی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا۔ میرے وہاں پر بیٹھتے ہی اس نے بجلی کی سی تیزی سے اپنے پرس سے ایک کاغذ نکالا اور لوگوں سے آنکھ بچا کر میرے حوالے کر دیا۔اس کی آنکھوں میں چھپی التجا اور محبت کو میں لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔کاغذ وصول پاکر میں اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا۔چچی کے آنے کے بعد بس چل پڑی۔میں نے اپنی مٹھی میں دبایا ہوا خط کھولا اور اگلی نشست پر پیشانی ٹکا کر اسے پڑھنے لگا۔خط کی عبارت کچھ یوں تھی۔

پیارے کزن سلام محبت!
“مجھے پتہ ہے آج سے پہلے آپ نے مجھے کبھی بھی نہیں دیکھا مگر خدا کی قسم کوئی  دن ایسا نہیں گزرا جس دن میں نے آپ کو نہ  دیکھا ہو۔آپ کا چہرہ ہر وقت میرے تصور میں رہتا ہے۔آپ کی تصویروں کا ایک پورا البم ہے جو روز رات کو میرے تکیے کے نیچے ہوتا ہے۔یہ کبھی نہیں بتاؤں گی کہ وہ البم میرے  پاس کہاں سے آیا۔میں نے آپ کے علاوہ اور کسی کی تمنا نہیں کی۔تایا جان اور ابو جان نے ہمارے حوالے سے جو فیصلہ کیا تھا اس پر میری جان بھی قربان ہے۔ابو ابھی بھی اس رشتے  کا دم بھرتے رہتے ہیں مگر امی ہرگز نہیں چاہتیں کہ یہ دو خاندان ایک ہوں۔آج وہ جان بوجھ کر مجھے ہمارے ماموں کے گھر لائی تھیں۔وہ میرے ماموں زاد نعمان کے ساتھ میرا نکاح کرنا چاہتی ہیں مجھے اور ابو کو یہ رشتہ ہرگز قبول نہیں ہے۔مگر گھر میں صرف امی کی چلتی ہے ابو کو وہ بالکل خاطر میں نہیں لاتیں۔خدا کے لئے مجھے اپنا لیں۔میں آپ کے علاوہ کسی اور کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔”

میں نے اسی بس پر کئی  بار گاؤں سے شہر اور شہر سے گاؤں تک کا سفر کیا مگر جتنا بوجھل مشکل اور بھاری سفر میرے لئے وہ تھا اس سے پہلے اس کا تصور بھی نا تھا۔تمام راستے رباب کی باتیں دل و دماغ پر نشتر چلاتی رہیں۔امیدوں اور توقعات کے پہاڑ کو ناتواں کندھوں پر لاد کر چلنے والا انسان ٹھوکر کھا کر گر جائے تو اس کے سارے خواب زمین پر بکھر جاتے ہیں۔میرے خواب بھی مجھے میرے سامنے بکھرتے دکھائی  دے رہے تھے۔ابا جی کی نصیحت کو میں نے پہلے کبھی بھی اتنی شدت کے ساتھ نہیں یاد کیا تھا جتنا وہ اس بس کے سفر کے دوران مجھے رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔وہ ایک وحشیانہ دستک کی طرح میرے دل پر چوٹ کر رہی تھی۔کب شہر سے نکلے اور کب گاؤں پہنچے کچھ پتہ نہ چلا سکا۔بھائی  نے داخلے کے متعلق سوالات پوچھے تو اس کا ہوں ہاں میں جواب دیتا رہا۔اس رات فریال سے بات ہوئی  تو کہنے لگی”گھر میں میرے رشتے کی باتیں چل رہی ہیں۔تم اپنے گھر والوں کو میرے گھر بھیجو۔میل جول بڑھے گا تو رشتے کی بات کرنے میں آسانی رہے گی۔”میں نے کال کاٹنے سے پہلے انتہائی  سرد لہجے میں اس سے کہا:”فریال اگر میں تمہیں اپنا نا سکا تو پھر ؟
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ سرد لہجے میں بولی :”وہ دن میری زندگی کا آخری دن ہوگا۔یہ میری دھمکی نہیں بلکہ میری بے بسی ہے۔مجھے اندازہ ہے تم مجھے اتنا بے بس نہیں ہونے دو گے۔کڑے سے کڑے وقت میں میرا ساتھ دو گے۔”
میں نے ایک طویل سرد آہ بھری اور مدھم سی آواز میں بولا:”اللہ نے چاہا تو سب اچھا ہو جائے گا۔”
وقت کا منہ زور گھوڑا اپنی پوری رفتار کے ساتھ دوڑتا رہا۔مہینے دنوں میں اور دن لمحوں میں بٹ گئے۔سالوں کا سفر اتنی جلدی کٹ جائے گا کبھی سوچا نا تھا۔ یونیورسٹی کے فائنل ایگزام چل رہے تھے,میں آخری سبجیکٹ کا آخری پیپر دے کر کمرہ امتحان سے باہر نکلا تو فون پر میرے دوست عمیر کی غمگین آواز نے میری سماعتوں کو بے حال کیا۔”تم جلدی سے گاؤں آجاؤ یار فریال کے ابو نہیں رہے۔”
منظور صاحب جیسے شریف النفس انسان کا یوں اچانک چلے جانا میرے لئے کسی بہت بڑے صدمے سے کم نہیں تھا۔مجھے فریال کی فکر کھائے جارہی تھی,میں پریشان تھا کہ والدین کی اکلوتی اولاد اس بہت بڑے کرب کو کس طرح جھیل پائے گی۔جنازے سے پہلے امی چند محلے کی عورتوں کے ساتھ فریال کے گھر گئیں۔امی نے اس دن پہلی بار فریال کو دیکھا تھا,ایک ہی گاؤں سے تعلق ہونے کے باوجود منظور صاحب اور ان کے اہل خانہ کا میل جول گاؤں کے لوگوں کے ساتھ نہ ہونے کے برابر تھا۔اس کی ایک وجہ یہاں کا آبائی  ہونا نہ تھا۔منظور صاحب دس سال قبل فیصل آباد سے ہجرت کرکے گاؤں آئے تھے۔یہاں مرکزی سڑک پر قائم مارکیٹ میں صرافہ کی دکان کھولی اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔لوگ بتا رہے تھے انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کی میت کو شہر لے کر جانے کے بجائے گاؤں میں ہی دفنایا جائے۔وہ ایک نہایت کم گو اور شریف النفس انسان تھے۔جنازہ گاہ تک ہر کوئی  ان کی شرافت اور ایمانداری کی گواہی دے رہا تھا۔

رات کے کھانے کے دوران امی بڑی بھابھی کو بتا رہی تھیں کہ منظور بھائی  کی بیٹی کا شدتِ غم کی وجہ سے بہت برا حال تھا۔انہی باتوں کے دوران امی نے بھابھی کے سامنے فریال کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی۔میں نے فریال سے رابطے کی بارہا کوشش کی مگر جس نمبر سے وہ کبھی کبھار مجھ سے بات کرتی تھی وہ مسلسل بند جا رہا تھا۔میں ایک بار اس کو دیکھنا چاہتا تھا۔اس کے والد کی اس ناگہانی موت کا غم اس سے بانٹنا چاہتا تھا۔اس کے گھر میں رشتہ داروں اور جاننے والوں کا تانتا سا بندھا ہوا تھا میرا وہاں جانا کسی بھی صورت ممکن نہیں تھا۔چند روز گزرے تو ایک دوپہر دکان سے کسی بہانے گھر آیا۔امی کسی کام پڑوس میں گئی تھیں۔میں نے بھابھی نجمہ کے سامنے فریال اور میری تمام سرگزشت کھل کر بیان کردی,ساتھ یہ بھی کہا اس معاملے میں مجھے آپ کا ساتھ چاہیے۔بھابھی نے کچھ ثانیے خاموش رہنے کے بعد کہا:”یہ سب تو ٹھیک ہے تمہاری اپنی زندگی ہے اپنے لئے جیون ساتھی چننے کا اختیار بھی تمہارا ہے۔ لیکن ابو جی نے مرنے سے پہلے تمہیں جو نصیحت کی تھی اس کا کیا بنے گا۔تم ان کی بات پوری نہیں کرو گے تو ابو جی کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔اور ہاں چند روز پہلے امی مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ وہ اپنے مرحوم شوہر کی خواہش کی تکمیل کے لئے رباب کے رشتے کے لئے اکرم بھائی  کے گھر جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔وہ یہ بات سنیں گی تو انہیں نا حق صدمہ پہنچے گا۔”
“بھابھی جان یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ امی ایسا سوچ رہی ہیں۔مجھے اس کا مکمل پاس ہے۔اللہ نے چاہا تو ابو جان کی خواہش بھی پوری ہوگی۔مجھے آپ بڑوں کی دعاؤں اور ساتھ کی اشد ضرورت ہے۔”
اگلے دن میرے کہنے پر بھابھی فریال کے گھر گئیں۔اسے گلے لگایا,اس کا ماتھا چوما,اور اس کے سامنے اپنی اور میری طرف سے تعزیت کی۔اور آنے سے پہلے یہ بھی کہا کہ وہ عدت کے دن پورے ہونے کے بعد اپنی ماں کے سامنے میری بات کرے اور انہیں ہماری شادی کے لئے قائل کرے۔

بھابھی نے وہاں سے واپس آنے کے بعد مجھے خوب چھیڑا اور کہا:”مان گئے لڑکے!تمہارے انتخاب کو۔میں نے اپنی زندگی میں اتنی خوبصورت لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔کچھ بھی ہو جائے بس اس کھونا نہیں اس کے ساتھ رہنا ہے اور زندگی بھر اس کا ساتھ نبھانا ہے۔فریال تمہارے لئے اللہ رب العزت کا ایک انمول تحفہ ہے,ایسی قیمتی اور خوبصورت چیزوں کی ہمیشہ قدر کرتے ہیں۔ امی اور اسد کو منانا تمہارے ساتھ ساتھ اب میری بھی زمہ داری ہے۔”

بھابھی کے فریال کے ہاں سے آنے کے تین دن بعد ایک چھوٹی سی بچی نے مجھے ہماری آڑھت سے باہر آنے کو کہا۔میں باہر آیا تو اس نے ہاتھ میں تھاما ہوا ایک کاغذ کا لفافہ میرے ہاتھ میں تھما دیا اور دھیرے سے کہا۔”مجھے رباب آپی نے بھیجا ہے۔آج وہ یہاں ہمارے گھر آئی  ہیں”میں نے گڑیا کو پیار کیا اور ساتھ ہی دکان سے ٹافیاں وغیرہ خرید کر دیں اور اسے واپس گھر جانے کو کہہ دیا۔
شام کے وقت آڑھت سے گھر واپسی پر سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور جھٹ سے جیب سے لفافے میں لپٹا خط نکال کر پڑھنے لگا۔ عبارت کچھ یوں تھی۔
پیارے کزن آداب!
دو سال بیت گئے۔۔پورے دو سال۔ان دو سالوں میں انتظار کی جس جلتی آگ پر مجھے لوٹنا پڑا اس تکلیف اور اذیت کا احساس میرے علاوہ اور کوئی   نہیں کر سکا۔
ان دو سالوں میں آپ کی طرف سے برتی جانے والی بے اعتنائی  میرے لئے باعث حیرت تھی۔خون کے رشتوں میں خودغرضی اور بے حسی کی آمیزش تو بہت پہلے سے ہی موجود تھی مگر پہچان اور حقوق کی تلاش میں مارے مارے پھرتے نئے رشتے اتنی جلدی پٹ کر ہار جائیں گے کبھی نہیں سوچا تھا۔دو سال قبل جب آپ کو بس میں دیکھا تھا تو آپ کی آنکھوں میں حسد اور نفرت کی قید میں سسکتے رشتوں کو آزاد کروانے کی آرزو نظر آئی  تھی۔ وہ آرزو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حسرت کیوں بن گئی  میں نہیں جانتی۔آپ کا تو مجھے پتہ نہیں البتہ میں وہ ہوں جو کسی کے انتظار میں اپنی تمام عمر قربان کر دے۔ مجھے آپ کے ساتھ ہونے والی نسبت کا پاس ہے۔یقین مانو اسی پاس کی خاطر دو سال گزار دئیے۔کوئی  دن ایسا نہیں گزرا جب گھر میں میرے رشتے کی بات نہ چلی ہو۔پہلے تو پڑھائی  کا بہانہ کرکے بات کو ٹالتی رہی مگر کچھ دنوں سے میں نے کھل کر کہنا شروع کردیا ہے کہ شادی کروں گی تو صرف اس سے جس کے ساتھ میری نسبت جوڑی گئی  تھی نہیں تو مرنا قبول کروں گی۔امی نے میری اس بات کا خوب برا منایا مجھے مارا پیٹا بھی مگر میں من جلی کہاں باز آنے والی تھی۔اب ابو بھی میرے ہم خیال ہیں۔امی مجھے چڑانے کے لئے کہتی ہے۔ تم بے شرم اور بے وقوف ہو خود ہی اتنے عرصے رشتوں کی اس بجھی ہوئی  راکھ سے چنگاریاں تلاشتی پھرتی ہو کبھی ان لوگوں کی طرف سے بھی کبھی اپنا ذکر سنا ہے۔تمہارے رشتے کا حصول تمہارے تایا کی خواہش تھی اور وہ ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو گئی۔ان لوگوں کی طرف سے کبھی کوئی نہیں آئے گا تمہارا ہاتھ مانگنے۔
میں نے ابھی بھی ہار نہیں مانی اور امی سے دو ٹوک انداز میں کہا:تم دیکھ لینا میں انہی کے گھر دلہن بن کر جاؤں گی۔میرا کزن مجھے کبھی دھوکا نہیں دے گا۔میں نے امی سے دس دن مانگے ہیں۔ان سے کہا ہے اگر آپ لوگوں کی طرف سے ان دس دنوں میں کوئی  جواب نہیں آتا تو وہ جہاں چاہیں میری شادی کر دیں۔مجھے امید ہے امی کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی کیونکہ اس سے پہلے میں زہر کھا کر مر جاؤں گی۔اگر ہو سکے تو مجھے اس خط کا جواب ضرور دینا۔”
رباب!

کمرے کے باہر اور اندر شدید سردی تھی,مگر وہ خط پڑھنے کے بعد میرے تن بدن میں سنسنی سی پھیل گئی۔پسینے کے چند ننھے منھے قطرے میرے ماتھے پر اُمڈ آئے اور میں کمرے سے باہر آکر صحن میں ٹہلنے لگا۔دل میں ایک عجیب طرح کی بے چینی اور ہلچل تھی دماغ اس وقت دو حصوں میں بٹا ہوا تھا ایک حصے میں رباب اور دوسرے میں فریال کے چہرے گردش کر رہے تھے۔میں خود کو سمجھا رہا تھا کہ زندگی کے بہت سارے معاملات ہمارے بس میں نہیں ہوتے ان کے فیصلے کہیں اور ہو رہے ہوتے ہیں اور ہمیں ان فیصلوں کا ہر حال میں احترام کرنا پڑتا ہے۔تمام شب نیند کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے گزر گئی۔رات جاگ کر کاٹنے کا فائدہ بھی ہوا,تمام شب آگے کیا ہوگا اور کیا کرنا ہے پر کام ہوتا رہا۔صبح بھابھی کو فریال کے گھر پیغام دے کر بھیجا کہ وہ ہر حال میں آج شام تک مجھ سے فون پہ بات کرے۔

بھابھی اس کی آمادگی کی خبر لیکر واپس گھر آ گئیں۔اس شام کے آنے کا انتظار قیامت کے انتظار سے بھی زیادہ کٹھن تھا خیر دن کٹ گیا اور دن کا سورج شام کے آنے کی خبر دے کر رخصت ہو گیا۔اس وقت میں اپنے کمرے میں موجود تھا۔اس کے فون کے انتظار میں بار بار نظر موبائل فون کی سکرین پر پڑ رہی تھی۔اذیت بھرے انتظار کے بعد دوسری طرف فریال تھی۔وہ پریشان تھی,اس کے ماموں آنٹی اور اس کو ہمیشہ کے لئے شہر لیکر جانا چاہتے تھے۔اور وہ اپنے انگلینڈ پلٹ بیٹے کے ساتھ اس کی شادی کرنا چاہتے تھے۔فریال کے بقول اس کی ماں اس رشتے سے خوش نہیں تھیں انہیں اس لڑکے کی بڑی عمر پر اعتراض تھا وہ اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کسی صورت بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں کرنا چاہتی تھیں۔میں نے فریال سے کہا یہی موقع ہے آنٹی کے سامنے ہماری بات کرنے کا۔اس نے مجھ سے دو دن کا وقت لیا اور دو دن بعد اسی وقت رابطہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔فریال سے بات کرکے میں نے خود کو بہت ہلکا محسوس کیا۔میں فریال کے سامنے رباب کی بات کرنا چاہتا تھا مگر کئی  بار یہ ذکر لب پہ آتے آتے رہ گیا۔میں نے اسی شام رباب کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔خط لکھنے بیٹھا تو اس کے اندر اپنے اور فریال سے متعلق سب کچھ لکھ دیا۔میں نے خط میں لکھا کہ میں فریال کو اپنانا چاہتا ہوں اور تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔اگر تم رضا مند ہو تو ہم ایک ایسی زندگی کا آغاز کریں گے جس میں کسی کی ہار نہیں ہوگی سب جیت جائیں گے۔کسی کی محبت دم نہیں توڑے گی۔سب کی محبتیں امر ہو جائیں گی۔کوئی کسی سے پیار کی بھیک نہیں مانگے گا سب کو اس کے حصے کا پیار مل جائے گا۔ابو کی آخری خواہش بھی پوری ہو جائے گی اور کسی کی پہلی بھی۔کوئی ادھوری محبت کے زخم کھا کر نہیں جیے گا بلکہ ہر ایک کے حصے میں پوری محبت آئے گی۔
یہ دو دن بھی ڈھلتے سائے کی طرح گزر گئے۔فریال کا فون آیا۔دوسری طرف فریال کی امی تھیں۔وہ بہت مضبوطی کے ساتھ گویا ہوئیں۔
“بیٹا اگر آپ کے پاس وقت ہے تو میں آج ہی آپ سے ملنا چاہوں گی۔آپ کو اعتراض نہیں تو آپ ابھی ہمارے گھر آ جائیں۔”فون کٹنے کے بعد میں نے بائیک نکالی اور کچھ ہی دیر میں ان کے گھر پہنچ گیا۔مجھے بیٹھک میں بٹھایا گیا۔کچھ دیر انتظار کے بعد آنٹی آئیں۔انہوں نے میرے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا اور بولیں:
“فریال میری اکلوتی اولاد ہے۔اب اس دنیا میں اس کے علاوہ میرا اور کوئی  نہیں ہے۔آج اگر اس دنیا میں میرے جینے کی کوئی  وجہ ہے تو وہ صرف میری بیٹی ہے۔رشتے ناطوں پر میرا یقین نہ ہونے کے برابر ہے۔رشتے احساس کے کم اور غرض کے زیادہ ہیں۔میں آج بے آسرا ضرور ہوں مگر اتنی بھی نہیں کہ کوئی  مجھے اکیلا اور کمزور جان کر مجھ سے میری بیٹی کی خوشیوں کا سودا کرلے۔مجھے میری بیٹی کی خوشیاں اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہیں۔میں تمہارے اور فریال کے رشتے سے راضی ہوں۔تمہیں دیکھ کر لگا میری بیٹی کا انتخاب غلط نہیں ہے۔تم اپنے گھر والوں کو میرے ہاں بھیجو میں جلد ہی یہ فرض نبھا کر سرخرو ہونا چاہتی ہوں۔میں نے جھجکتے جھجکتے آنٹی کے سامنے اپنے اور رباب سے متعلق تمام حقائق کھل کر بیان کر دئیے۔آنٹی نے میری تمام باتیں بڑے حوصلے سے سنیں۔میں نے اپنی بات ختم کی تو کہنے لگیں: “مجھے سوچنے کے لئے وقت دو۔یہ میری اکلوتی بیٹی کی زندگی کا سوال ہے۔میں اس حوالے سے کوئی  جلد بازی نہیں کرنا چاہتی۔کاش! یہ باتیں تم پہلے فریال کو بتا دیتے۔اب وہ سنے گی تو پتہ نہیں اس کے دل پر کیا گزرے گی۔میں وہاں سے اٹھتے وقت بولا:”آنٹی فریال آپ کی بیٹی ہے اس کے بہتر مستقبل کی جتنی فکر آپ کو ہے وہ اور کسی کو نہیں بس فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیجیے گا کہ فریال میری زندگی کی پہلی خواہش اور رباب میرے مرحوم والد کی دم توڑتی زندگی کی آخری خواہش ہے دونوں کے بغیر میری زندگی کی تکمیل نا ممکن ہے۔وہ مجھ سے محبت کرتی ہے اور میں فریال سے دونوں محبتوں کی بقا آپ کے ہاتھ میں ہے۔خدارا محبت کے اس بھرم کو ٹوٹنے سے بچا لیجیے گا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں دونوں کی حفاظت اس طرح کروں گا جس طرح مالی باغیچے میں کھلے پھول کی کرتا ہے۔”

چار فروری 2015 کی ایک سرد شام میرے گھر کے درو دیوار خوشیوں بھری روشنیوں سے نہا گئے تھے۔سارے کائنات کے رنگ سمٹ کر میرے گھر کے آنگن میں آ گرے تھے۔میں ملگجی رنگ کے عروسی جوڑے میں ملبوس اس وقت خود کو کائنات کا خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہا تھا۔گلاب اور گیندے کے پھولوں سے سجے اپنے کمرے میں گیا تو سرخ جوڑے میں ملبوس رباب عرش سے اتری کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی آج پہلی بار میں نے اسے نقاب کے بغیر دیکھا تھا۔خدا نے اسے کتنا خوبصورت بنایا تھا۔خدا کی جنت کی طرح پاکیزہ اور رعنا۔رباب تم میری زندگی میں بہت ساری خوشیاں لے کر آئی  ہو۔تم میرا ساتھ نا دیتی تو میں آج زندہ نا ہوتا۔اس دن میرے لکھے گئے خط کے جواب میں تم میرا ساتھ دینے کا عہد نہ کرتی تو آج کا دن ہم کبھی دیکھ نا پاتے۔تم نے فریال کو قبول کر کے دو محبتوں کو مرنے سے بچا لیا۔آج فریال میرے نکاح میں ہے تو صرف تمہاری وجہ سے۔اگر میں فریال کی ماں کے سامنے تمہاری رضا مندی کا ذکر نا کرتا تو وہ اس رشتے کے لئے کبھی نہ مانتیں۔آج فریال نے تمہیں اپنے ہاتھوں سے دلہن بنا کر مجھے مستقبل کی فکر سے آزاد کر دیا۔اللہ نے چاہا تو ہم تینوں ایسے رہیں گے جیسے گلدستے میں کھلتے مسکراتے پھول۔

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *