سیاسی شدت پسندی۔۔۔ رانا اورنگزیب

الیکشن ساری دنیا میں ہی ہوتے ہیں۔برطانیہ امریکہ اور دوسرے ممالک میں جمہوریت کیسے چلتی  ہے؟مجھے نہیں علم کیونکہ” انگریجی” مجھے سمجھ نہیں آتی اور برطانیہ امریکہ یورپ وغیرہ گھومنے کا وقت نہیں(یہ وقت نہیں والی بات اپنے اپنے ذوق کے مطابق اوقات نہیں بھی سمجھی جا سکتی ہے)۔ترقی یافتہ ملکوں کی جمہوریت کے بارے مجھے اتنا ہی علم ہے جنتا ممنون حسین کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا۔مجھے نہیں علم کہ الیکشن میں یورپین لوگ کیسا رویہ اپناتے ہیں ایک دوسرے کی مخالفت میں کس حد تک جاتے ہیں۔الیکشن میں اپنے امیدوار کی حمایت کا کیا انداز اپناتے ہیں؟کیا وہ لوگ سیاسی مخالفت کو سیاسی مخالفت تک ہی رکھتے ہیں یا ہماری طرح مخاصمت میں تبدیل کرتے ہیں؟

ہاں مجھے اپنا اور اپنے معاشرے کا علم ہے میں نے لڑکپن میں پہلا الیکشن 1988 والا دیکھا تھا مجھے یاد ہے میرے بزرگوں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیے تھے اس کے بعد بہت دنوں تک گاٶں میں بہت سے لوگوں کی بول چال لین دین بند رہا تھا۔پھر میں نے مکمل دلچسپی کے ساتھ 1993 والا الیکشن دیکھا ،اس میں نعرے بھی لگاۓ اور پوسٹر بھی۔اس الیکشن میں پہلی بار لوگوں کو اپنے اپنے لیڈروں کے بارے گردن کی” رگیں پھلاۓ” لڑتے اور بولتے سنا ۔پاکستانی معاشرہ اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے۔کوئی دو تین فیصد غیر مسلم اقلیت کے علاوہ باقی اٹھانوے فیصد مسلمان ہیں کلمہ گو ہیں۔جس نبیؐ کا کلمہ پڑھتے ہیں انھوں نےمیانہ روی اور اعتدال کا سبق بھی دیا حکم بھی دیا اور عمل بھی کر کے دکھایا۔مگر ہم ہر طرح سے ہر عمل میں دو طرفہ انتہاوں پر کھڑے ہیں۔انتہاپسندی اور شدت پسندی دونوں نا پسندیدہ عمل ہیں۔ہمارے دانشور مذہبی انتہاپسندی اور مذہبی شدت پسندی کو دن رات نشانہ بناۓ ہوۓ ہیں۔ہر ایرا غیرہ جب جی چاہے قلم اٹھاۓ اور مذہب کے عام اور قابل ستائش رویوں کو بھی انتہاپسندی کا نام دے کے مطعون و مصلوب کردے، قوال کے پیچھے بیٹھی سنگت کی طرح تان اٹھانے والے اس کی بات کو نیچے نہیں گرنے دیتے۔مگر وہی دانشور قلمی خیانت کرتے ہوۓ کبھی سیاسی رویوں پر بات نہیں کرتے۔

سیاسی دہشت گردی پر قلم اٹھاتے ہوۓ واللہ اعلم کیوں انگلیاں فالج زدہ ،زبان کھولتے زبان لقوہ ماری بن جاتی ہے۔اگر کوئی سنی شیعہ کے خلاف بولے تو نفرت پھیلانے کا مرتکب، شیعہ سنی کو برا کہے تو قانون کا مجرم اور کوئی بھی عالم خطیب مقرر کسی بھی مسلک و مذہب کے بارے بات کرے تو فوراً اتحاد امت کا وجود لرزنا شروع ہوجاتا ہے۔ہاں سیاسی پارٹیاں اس سب سے بری الذمہ ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق فروری 2013 تک پاکستان میں 227 سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ تھیں۔جن میں سے صوبائی وعلاقائی سطح کی 13 جماعتیں اور لسانی سطح کی کم و بیش اٹھارہ جماعتیں شامل ہیں۔پاکستان میں دینی ومذہبی رجسٹرڈ جماعتوں کی تعداد چالیس کے قریب ہے جن میں سے زیادہ تر امن پسند اور محب وطن ہیں، یہ میں نہیں بلکہ پاکستان کے مستند ومعتبر ادارے کہہ رہے ہیں۔جبکہ نفرت پھیلانے میں سب سے زیادہ کردار سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا ہے مگر کیا وجہ ہے کہ کسی سیاستدان کو کبھی مولوی کی طرح تنقیدو تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا؟پچھلے چند مہینوں سے جب سے پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا ہے ایسا کونسا ملکی سلامتی کا ادارہ ہے جس کو حکومتی وزیروں اور ترجمانوں کی طرف سے دھمکیاں نہیں دی گئیں؟ اگر ان دھمکیوں کا عشر عشیر بھی کسی بھی مسلک کی کسی بھی مذہبی جماعت کی طرف سے ہوتا تو اب تک دانشوروں کی آہ وبکا سے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہورہے ہوتے۔۔

مذہب کے نام پر معاشرہ تقسیم ہے مجھے یہ قبول کرنے میں کوئی عار نہیں مگر مذہبی تقسیم خاندانوں کو آپس میں تقسیم نہیں کرتی خاندان کیا بلکہ کئی گاٶں پورے کے پورے ایک ہی مسلک سے منسلک ہیں جبکہ سیاست بھائی بھائی کو باپ بیٹے کو حتیٰ کہ میاں بیوی کو بھی آپس میں لڑا رہی ہے۔چلیں آج ہی قومی اسمبلی کے حلقہ 120 میں جا کے دیکھ لیں کہ کیسے محلے دار ایک دوسرے کیلئے دل میں بغض بھر کے بیٹھے ہیں۔جس طرح ہر دستیاب ذریعہ چاہے وہ قلم ہو فلم ہو ٹی وی چینل ہو یا اخبار مین سٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہر فورم پر مذہب کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مذہب کا مولوی کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔مولوی کی معمولی سی کمی کوتاہی کو ہر دستیاب کینوس پر پھیلا کے بڑا کرکے دکھایا جاتا ہے۔حتیٰ کہ قرآنی احکام کو بھی ظلم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح سیاسی شدت پسندی کو اجاگر کیوں نہیں کیا جاتا؟سیاسی منافرت کو شیرمادر سمجھ کے ہضم کیوں کرلیا جاتا ہے؟

کیا سیاستدانوں کو کھلی چھٹی ہے کہ معاشرے کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزارتے پھریں۔کہیں لوگوں کو علاقے کے نام پر لڑائیں کہیں صوبے کے نام پر کہیں قوم کے نام پر تو کہیں زبان کے نام پر۔اگر سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کیلئے نفرت پھیلانا جمہوری حق کہلاتا ہے تو مذہب کا نام لینے والوں کا جمہوری حق کیوں چبھتا ہے۔اگر قرآن کی تلاوت معاشرے میں انارکی پھیلاتی ہے اور اس پر لاٶڈسپیکر ایکٹ نافذ ہوتا ہے تو سیاسی بیانات بڑھکیں کیسے اتحاد امت کا باعث ہیں؟میرے پیارے لبرلز، مان لو کہ تم بھی انتہا پسند ہو۔ تم بھی شدت پسند ہو۔ اگر مولوی منافرت پھیلاتا ہے تو محبت کا درس تم بھی نہیں دیتے۔اگر مولوی اپنی ضد کا پکاہے تو ہٹ دھرمی تمہاری بھی میراث ہے

 

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *