اگلے سو سال۔۔محسن علی خان

میں صبح سو کر اٹھنے کی کوشش میں تھا، پورا جسم مفلوج تھا، دل کی دھڑکن سے زندگی کے آثار ملے، انگرائی لینے کی ناکام سی کوشش کی۔ اِک آنکھ میں ابھی نیند باقی تھی، دوسری آنکھ میں نے زبردستی کھول لی، تب محسوس ہوا، دل تو دھڑک رہا ہے لیکن سانس نہیں چل رہی۔ مشینی انداز میں ہاتھ سے سانسوں کی تلاش شروع کی، تکیہ کے نیچے سے موبائل اٹھایا، سانس بحال ہوئی۔ موبائل سے پھوٹتی ہوئی روشنی کی پہلی کِرن چہرے پہ پڑی، دوسری آنکھ بھی خودی کُھل گئی، سر سے لے کر پاؤں تک پورے جسم کو توانائی ملتی محسوس ہوئی۔ پتہ چلا آج بھی زندہ ہی ہوں۔

واٹس ایپ پر مارننگ واک شروع کی، جلدی جلدی گزرتے ہوۓ لوگوں کے دُھندلے چہرے دیکھے، کچھ پورے تیس سیکنڈ تک دیکھتا رہا۔ زیادہ جوش آیا تو انسٹاگرام کے ٹریک پہ جوگنگ کرنے لگ گیا، جب تھک گیا تو میسنجر کے بنچ پر بیٹھ گیا، فیس بُک کے نیلے گھاس پر چہل قدمی کرتی خواتین کو دیکھا، سنیپ چیٹ پہ کچھ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ٹریک سُوٹ پہنے دیکھا، ان کے سر کے اوپر بھی دو عدد کان تھے اور زبان کافی لمبی ہو کر دانتوں سے باہر نکل رہی تھی، مجھے گھورتا دیکھ کر انہوں نے منہ پھیر لیا، میں جلدی سے فلٹر لگا کر ہرن بن گیا۔ تب وہ بھی مجھے دیکھنے لگے۔ اب میں بھی اسی جنگلی ٹائپ باغ میں سب کے سَنگ تھا۔

اچانک باغ میں روشنی کم ہوئی، کچھ لال سا جھماکا ہوا، روشنی اور مدھم ہوئی، باغ میں نظر آنا بند ہوا، ساتھ ہی موبائل آف ہو گیا، باغ کیا اُجڑا، زندگی اجڑ گئی۔ اُکتاہٹ میں دیوار پہ گَرد آلود گھڑی کی طرف دیکھا، روزانہ کی طرع سوئیاں اپنی جگہ پر رُکی ہوئی تھیں، عرصہ بیت گیا تھا گھڑی میں سیل نہیں ڈالے تھے، اب گھڑی کو زندہ رہنے کی ضرورت نہیں تھی، دراصل اب ہم خود بھی زندہ نہیں رہے ہیں۔ ہماری زندگی کی گھڑی والی سوئیاں بھی عرصہ سے رُک چُکی ہیں۔ ہم نے مذہب کی سُوئی، معاشرتی سُوئی، سائنس و ٹیکنالوجی کی سُوئی کو ملا کر گھڑی بنانے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے تینوں سُوئیاں بھی رُک گئی ہیں اور زندگی کی گھڑی اب وقت کی تیز رفتاری کی دوڑ میں پیچھے چلے گئی ہے۔ اب اس گھڑی کو کوئی معجزہ ہی چلا سکتا ہے۔ خیر یہ تو کوئی بڑی بات بھی نہیں تھی، کیونکہ سیل تو اپنے بھی رفتہ رفتہ ختم ہونے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ آپ خواہ گھڑی کو چابی دے لیں، سیل ڈال لیں، سولر گھڑی لے لیں، ایک مخصوص مدت کے بعد اُس کی سوئیاں رُک ہی جائیں گی۔ جیسے موبائل آف ہوا، کیا میں بھی کسی دِن آف ہو جاؤں گا۔

اپنے دماغ میں آنے والے ایسے بور خیالات کو جھٹکتے ہوۓ، بیڈ سے اُترا، موبائل کو زندگی دینے کے لئے چارج ہونے لگایا۔ اب میں کچھ دیر انتظار کروں گا، جب موبائل میں جان پڑ جاۓ گی تب میں اپنا پورا دن اس میں غوطہ زن ہو کر گزاروں گا۔ میں اپنے اردگرد کے حالات کو، رشتوں کو، معاشرے کو بھول جاؤں گا۔ موبائل ہی کو دستر خوان کی جگہ بچھاؤں گا، ناشتہ، کھانا سب اسی پہ کروں گا، ماں باپ کی خدمت بھی اسی پہ کروں گا، لوگوں کو دین کی تبلیغ بھی کروں گا، کفر کے فتوی بھی جاری کروں گا، جب بور ہو جا ؤں گا، تو پاکستان کو گوگل کی ایک رپورٹ کے مطابق پہلے نمبر پر لاؤں گا، اب میں اپنا لباس بھی اسی کے لئے تبدیل کروں گا۔ اب میں اسی پر لوگوں کو چاہوں گا، لوگ بھی تو مجھے اسی پر چاہتے ہیں۔

جب سے دُنیا سمٹ کر اس موبائل میں آگئی ہے تب سے ہم نے اپنی زندگی سمیٹ لی ہے۔ اب ہمارا وجود روز بروز بکھر تا جا رہا ہے اور ہمارے وجود کے ٹکرے اس موبائل میں جمع ہو رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں جنازے بھی ادھر ہی پڑھاۓ جائیں، عیدیں بھی منائی جائیں، کیا پتہ دُنیا اتنی ترقی کر جاۓ کہ روح کو بھی ہم اپنے جسم سے نکال کر اس میں قید کر لیں۔ بچپن میں جب پتہ لگا کہ قیامت کے قریب علم اٹھ جاۓ گا، قرآن کے الفاظ مٹ جائیں گے۔ تب سوچتا تھا کون اتنی ربڑ سے مٹاتا پھرے گا، اب سمجھ آگئی ہے۔ قلم اور کتاب ختم ہو رہے ہیں، سب کچھ موبائل میں لکھا اور پڑھا جا رہا ہے۔ جس دن موبائل دوبارہ آن نہ ہوا، سمجھ لیں آپ کی زندگی کے سب الفاظ مٹ گئے ہیں۔ جس دن ٹیکنالوجی بکھری سب کچھ بھاپ کی مانند اُڑ جانا ہے، صرف پہاڑ ہی نہیں سب ٹیکنالوجی بھی روئی کے گالوں کی طرع ہوا میں اُڑ رہی ہونی۔

لیکن میں اس سب کو منفی نہیں سمجھتا۔ یہ سب ہو کر رہنا تھا، لیکن یہ صرف ہمارے ساتھ کیوں ہو رہا، آپ موبائل فون کے علاوہ بھی کوئی بھی ٹیکنالوجی اٹھا کر دیکھ لیں۔ جنہوں نے ٹیکنالوجی دریافت کی ان کے ساتھ کیوں نہیں ہوا۔ دراصل ہم ہمیشہ کی طرع جلدی والی غلطی کر گئے ہیں۔ آپ یورپ و امریکہ کی مثال لے لیں، وہ لوگ آج سے سو سال پہلے والے کام بھی کر رہے اور آنے والے سو سالوں پر ریسرچ بھی کر رہے ہیں۔ جب کے ہم اپنے پچھلے سو سالوں کو چھوڑ چُکے ہیں اور آنے والے سو سالوں میں ہم نے کیا کرنا ہمیں کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ہم انگریز بھی بننا چاہ رہے، اپنے معاشرتی اقدار کو بھی ساتھ رکھنا چاہ رہے، ہم یورپ، امریکہ و چین کی طرف نظریں لگا کر بیٹھ گئے ہیں، وہ ترقی کرتے جائیں گے، ہم آدھا تیتر آدھا بٹیر کی جنگ لڑتے جائیں گے۔

ہم کرونا وائرس کی مثال بھی لے سکتے ہیں، یہ وائرس اب چین کی حدود سے باہر نکل کر ہمارے ہمساۓ ممالک تک آگیا ہے، ٹیکنالوجی کے زور پر سائنسدان اس وائرس کا توڑ دریافت کرنے میں دن رات ایک کر رہے ہیں۔ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے اس دوائی کے بننے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ شدت کے ساتھ اس وائرس کا پاکستان آنے کا انتظار کر رہے ہیں، انہوں نے ماسک کا سٹاک کر لیا ہے وہ اس کو مہنگے داموں بیچ کے دولت اکٹھی کر لیں گے۔

ہم نے اُن اقوام سے جدید ٹیکنالوجی تو لے لی ہے لیکن ساتھ میں اس کو استعمال کرنے والا یوزر مینول (کتابچہ، ہدایتات براۓ استعمال) نہیں لیا۔ ہم پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کو اپنے معاشرتی اصولوں سے ہٹ کر چلانا چاہ رہے ہیں۔ ہمارے اُصول کیا تھے یا مستقبل میں کن اُصولوں کی بنیاد پر معاشرہ کو چلنا چاہیے یہ بات ابھی تک طے نہیں ہو رہی۔ ابھی بھی وقت ہے جو گزر گیا اس پہ رونا نہ روئیں، آنے والے سو سالوں کا سوچیں، اپنی نسل بچانے کی فکر کریں، اپنے مستقبل کو اولین ترجیح بنا لیں۔ آپ بے شک ٹیکنالوجی مستعار لیں لیکن اس کو اپنے معاشرتی اصولوں کی حدود سے تجاوز نہ کرنے دیں۔ ورنہ ہم وقت سے پہلے اس دائرے میں داخل ہو جائیں گے جب ہم اپنی صبح اسلام، دوپہر منافقت اور رات کفر پر کریں گے۔
پھر جس رات جسم مفلوج ہوا، دل نہ دھڑکا، زبردستی آنکھ نہ کُھلی، انگرائی نہ آئی، مشینی انداز میں ہاتھ تکیہ کے نیچے موبائل فون تک نہ پہنچا۔ سر سے لے کر پاؤں تک توانائی ختم ہو گئی تب پتہ چلنا آج زندہ نہیں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *