ساحلِ سمندر ۔۔۔میں اور علیشا/راجہ محمد احسان

SHOPPING

کل شام ڈھلے ننگے پاؤں میں سمندر کنارے گیلی ریت پر ہوا کے مخالف سمت چلا جا رہا تھا ۔ سمندر کی اٹھتی موجیں تسلسل کے ساتھ میرے پاؤں سے ٹکراتیں اور واپس لوٹ جاتیں ۔ آبی پرندے بھی اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے تھے ۔۔ سمندر میں ڈوبتا ہوا سورج مجھے اسکے چہرے کی گلابی رنگت کی یاد دلا رہا تھا۔۔میں اسی کے تصور اور خیالات میں چلتے چلتے بہت دور نکل آیا تھا ۔۔ میں آنکھیں بند کر کے بانہیں پھیلا کر کھڑا ہو گیا۔۔سمندر کنارے میں اسکے تصور میں ڈوب جانا چاہتا تھا کہ اچانک سے ہوا رک گئی سمندر میں بھی ٹھہراؤ آ گیا حالانکہ شام کو سمندر کنارے ہوا اور موجوں کے شور کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا لیکن یہ انوکھی خاموشی جس میں مجھے اپنے دل کی دھڑکن تک سنائی دے رہی تھی کسی عجوبے سے کم نہ تھی ۔۔ لیکن اسی خاموشی نے مجھے ایک عجیب سا لطف بھی دیا ۔۔ چار پل بھی نہیں گزرے تھے کہ مجھے پائل کی آواز سنائی دی جو لمحہ بہ لمحہ میرے قریب ہوتی جا رہی تھی اور پھر وہ بالکل میرے قریب آ کر رک گئی۔۔ایک مانوس سی خوشبو نے معطر کر کے رکھ دیا ۔۔”علیشا”۔۔۔۔ ہاں یہ علیشا ہی تھی ۔۔۔ عربی خوشبو ۔۔۔۔۔ جو وہ اکثر لگایا کرتی تھی۔۔ مجھے اسکی سانسیں اپنے کانوں پر محسوس ہوئیں ۔ اور پھر وہ سرگوشی میں بولی ۔۔تم اپنی انا کو تسکین دینا چاہتے ہو، پھر تم اترا جاؤ گے۔۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں کہ میں تمھیں چاہتی ہوں .۔۔شاید آج کے بعد تمھارا سامنا کرنے کی کبھی ہمت نہ ہو پائے گی۔۔ آج مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ  میں کتنی بد بخت ہوں کہ  اتنا عرصہ ایک شخص کا سامنا کرنے کے باوجود بھی میں اس کی محبت حاصل نہیں کر پائی ! بس اب کوئی بات نہیں بھول جاؤ مجھے ۔۔ہر محبت کے نصیب میں محبت نہیں ہوتی ۔اللہ ہمیشہ تمھیں اپنی پناہ میں رکھے ۔۔ میں آنکھیں کھول کر اسے دیکھنا چاہتا تھا لیکن مجھ میں جیسے جان ہی نہیں رہی تھی ۔۔ میں بولنا چاہتا تھا لیکن جیسے سماعت کے سوا میری تمام حسیں دم توڑ چکی ہوں۔۔ اب اسکی آواز بھرا آئی تھی اور وہ بولے جا رہی تھی ۔ برسوں میں نے تمھاری جانب سے اظہارِ محبت کا انتظار کیا لیکن میرا یہ انتظار طول ہی پکڑتا چلا گیا ۔۔ برسوں میں تمھاری محبت میں سلگتی رہی ۔۔ میں تمھیں کبھی نہ بتاتی لیکن آج میں بے اختیار ہو گئی۔معاف کردینا اگر ہو سکے تو ۔۔اتنی بے باکی پہ ،نا محرم سے محبت گناہ ہے ۔ہے ناں۔۔۔

جانتے ہو یہ یکطرفہ محبت مجھے جلا کے سوختہ کر رہی ہے گھلا رہی ہے ۔۔۔اگر میری بات طے نہ ہو گئی ہوتی تو میں اپنی جان دے دیتی مگر ،وہی پرانا ڈرامہ ،گھر والوں کی عزت،دیکھ لینا میں مر جاؤں گی آج تم سے دل کی بات جانے کیسے ہوگئی۔۔۔ورنہ سب ان کہی باتیں سینے میں دفن چلی جاتیں۔۔۔۔تمہاری برجستگی حاضر جوابی ،مجھے اگنور کرنا تمہاری سحر انگیز آواز ،تمھارا دوسری لڑکیوں سے بات کرنا اور میرا جل کے خاکستر ہونا۔۔

محبت تو سات پردوں میں چھپا کے رکھتی ہے لڑکی ذات

رات ہر رات یہ گیت لبوں پہ مچلتا ہے ،لگ جا گلے ..کہ پھر یہ ملاقات ہو نہ ہو ..شائد پھر اس جنم میں ملاقات ،ہو نہ ہو

مگر اندر کی کسک کہتی ہے سب گناہ ہے ۔میری قسمت میں بس پیاس ہے۔۔

کیا تم میرے بارے میں کچھ کہو گے بس ایک انہونی سی آخری خواہش ہے۔۔

جانتی تھی ،میری قسمت میں محض پیاس ہے،سب سراب ہے ،بدن اور آنکھیں جل رہی ہیں،اسی لیے اتنی ہنس مکھ ہونے کا نقاب پہنے رہتی ہوں ،کہ کوئی پہچان نہ جائے،جانے سے پہلے کچھ تو کہہ دو میرے لیے ۔جب تک زندہ رہوں گی ۔ان الفاظ سے سانسیں چلیں گی۔

تم لفظوں کے جادوگر ہو چار جملے میری محبت،میری تعریف کا حق نہیں  بنتے؟

مرہم بنیں گے یہ میرے رستے ہوئے زخموں کے لئے ،دنیا کے لئے تو میں خوش و خرم ، چلبلی ، شریر سی لڑکی ہوں ،کون جانے اس کے دل سے خون بھی رس سکتا ہے۔

تمھارے کہے دو جملےبھی بقیہ سانسوں کو روانی دینے کو کافی ہونگے،

اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی (ڈرامے باز لگتا تھا جیسے دیو داس دیکھ کر آئی ہو )

میں اسے جواب دینا چاہتا تھا، میں چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ تمھاری اس والہانہ محبت کو چار جملوں میں نہیں تولا جا سکتا ۔۔۔۔ میں نے بھی برسوں تمھیں چاہا ہے تمھارا انتظار کیا ہے ۔۔ تمھاری محبت مجھ پر قرض ہے جسے جان دے کر بھی چُکایا نہیں جا سکتا ۔۔۔۔ لیکن میں تو ایک پتھر کا جامد بت بنا کھڑا رہا نہ ہلنے کی سکت نہ بولنے کی طاقت ۔۔۔۔

SHOPPING

چند لمحے بالکل خاموشی ۔۔۔۔۔ اور پھر پائل کی آواز اور علیشا کی خوشبو مجھ سے دور ہوتی چلی گئی  اور پھر ایک گہرا سکوت ۔ میں نے آنکھیں کھولیں ۔ وہی سمندر کی موجیں وہی تیز ہوا اور شور شرابا ۔۔۔ سورج غروب ہو چکا تھا میں واپس جانے کے لئے مڑا تو مجھے گیلی ریت پر کسی کے پاؤں کے میرے پاس آنے اور جانے کے واضح نشان نظر آئے۔

SHOPPING

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *