پاکستان میں گیس کا خودساختہ بحران۔۔۔ احمد فہیم

جو برکت ،نارمل سپلائی کی بجلی یا گیس میں ہے ، وہ جنریٹرز ، سلنڈرز یا دوسرے جگاڑوں میں نہیں ہے ۔نارمل سپلائی کی بجلی ،پانی گیس کی بات ہی اور ہے ۔ گرمیوں میں بجلی نہ ہو تو بڑا مسئلہ ، سردیوں میں گیس نہ ہو تو بڑا مسئلہ۔

پچھلے دنوں پاکستان میں سخت سردی پڑی اور سوشل میڈیا پہ لوگ کافی شور مچاتے رہے کہ جی بڑی ٹھنڈ ہے ۔ بہت مشکل ہو رہی ہے ۔ اوپر سے پورے ملک میں گیس کا بحران ہو گیا ۔ پاکستان میں ہمارے اپنے گھر میں بھی گیس کم کم ہی آتی ہے اور گھر والے زیادہ تر بازار سے کھانا منگوا کے کھانے پہ مجبور ہیں ۔

اب آپ یہ دیکھیں کہ پاکستان کے پاس اپنی گیس ہے ۔ لیکن حکومتی نا اہلی   اور  مِس مینجمنٹ کی وجہ سے اکثر سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔ دوسری طرف یورپ میں یو کے سمیت ۔۔۔ زیادہ تر ملکوں کے پاس اپنی گیس نہیں ہے ۔ ان کو گیس ، روس سے خریدنا پڑتی ہے،یعنی دوسرے بر اعظم سے ،لیکن اس کے باوجود چوبیس گھنٹے بالکل نارمل سپلائی  جاری رہتی ہے ۔ یورپ میں ٹھنڈ بہت زیادہ ہوتی ہے اور سال کے دس مہینے ٹھنڈ پڑتی ہے لیکن لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ گھروں میں تو سنٹرل ہیٹنگ آن رہتی ہے اور لوگ ٹی شرٹس میں اپنے کام کرتے ہیں ۔ گھر میں تو بالکل نارمل درجہ حرارت ہوتا ہے ۔ ہم خود رات کو رضائیاں چُک کے پرے مارتے ہیں اور ویسے ہی سوتے ہیں ۔

سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ کیا گیس مہنگی ہے؟ ۔ جی ہاں ۔۔ گیس اچھی خاصی مہنگی ہے لیکن اگر ہم نے اچھے سے رہنے کے لئے ،اپنی سہولت کے لئے پیسے خرچ نہیں کرنے ، تو پھر ہم کماتے کس لیے ہیں؟

پاکستان والے گیس ہیٹر ویسے بھی خطرناک ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے رات کو  گھٹن ہو سکتی ہے اور کئی دفعہ  تو اموات بھی واقع ہو جاتی ہیں ۔لیکن یورپ میں ریڈی ایٹر والا ہیٹنگ سسٹم ہوتا ہے جو بالکل محفوظ ہوتا ہے ۔ دوسری بات ، یہاں کی حکومتوں نے سسٹم ایسا بنایا ہے کہ لوگ مہنگی یوٹیلیٹیز بھی افورڈ کر سکیں۔ بات یہ نہیں کہ روٹی دو روپے کی کر دیں ۔ روٹی بیشک پچاس روپے کی ہو ۔ آپ عوام کو اس قابل کر دیں کہ وہ پچاس روپے کی بھی روٹی افورڈ کر سکیں ۔ وہ کیسے ہو گا ۔۔ یہاں جو کم از کم اجرت رکھی جاتی ہے ، ورکر کو وہی ملتی ہے ۔ اس وقت حال یہ ہے کہ  غیر قانونی  ورکر بھی  کم سے کم   مزدوری سے زیادہ مانگتا ہے ۔الیگل ورکر جس کے پاس پاسپورٹ ویزا وغیرہ کچھ نہیں ہوتا ۔ لندن میں ایک دن کا الیگل ورکر ۔۔۔ عام جاب کا پینسٹھ پاؤنڈ دہاڑی لے رہا ہے ۔ اس سے کم میں بندہ بالکل نہیں ملتا ۔ اور یہ اس جاب کے لئے جو نسبتاً  آسان ہے ۔ جیسا کہ دکانداری وغیرہ ۔ جو لیبر کی جا بز ہیں ۔ جہاں  قابلیت یا زیادہ محنت لگتی ہے ۔ وہاں الیگل ورکر بھی کم سے کم نوے سے ایک سو پاؤنڈ تک دہاڑی لیتا ہے ۔لیگل ورکر اس سے بھی زیادہ مہنگا ہے ۔ ہمارے ہاں کم سے کم ویج پہ کوئی خاص عمل نہیں ہوتا ۔ برطانیہ میں ہوتا ہے ۔ کیوں ۔۔۔ کیونکہ برطانیہ کی آبادی کم ہے ۔ بندے کام کرنے والے کم ہیں اور بزنس   میں ڈیمانڈ زیادہ ہے ۔ اس لئے تنخواہیں زیادہ دینا پڑتی ہیں ۔ اوپر سے یہاں بزنس ترقی بھی بہت کر رہا ہے ۔ پاکستان کا الٹا حساب ہے ۔ آبادی بہت زیادہ ہے ۔ لیبر زیادہ دستیاب ہے لیکن بزنس کم ہے ۔ جس کی وجہ سے لیبر کی ڈیمانڈ کم ہے اور لوگ کم تنخواہوں پہ کام کرنے پہ مجبور ہیں ۔

واپس گیس پہ آ جائیں ۔ حکومتی سطح پہ عوام میں بہت زیادہ آگاہی پھیلائی گئی ہے کہ وہ گھر ایسے بنائیں جو حرارت کو جذب کریں ۔ہر گھر کی انسپکشن کر کے اسے انرجی ریٹنگ سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے ۔ ڈبل گلیزنگ والی کھڑکیاں دروازے ہوں تو وہ ویسے ہی پیکڈ ہوتے ہیں ۔ اوپر سے ان کے گھروں کے کمرے وغیرہ ۔۔۔ہماری نسبتا ً  چھوٹے ہوتے ہیں ۔ تو ان کو گرم رکھنے کے لئے پھر کم انرجی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ایسا سارا کام گرم ملکوں میں بھی کیا جا سکتا ہے لیکن وہ گرم موسم کے حساب سے سوچ کے کہ   کمروں کو ٹھنڈا کیسے رکھا جائے ۔

باہر سردی ہوتی ہے لیکن یہاں لوگ ڈریسنگ ایسی کر کے نکلتے ہیں جس سے ٹھنڈ نہیں لگتی ۔ پیڈڈ جیکٹ پہنی ہو تو وہ برفباری کے موسم میں بھی پسینے نکال دیتی ہے ۔یورپ میں آ کے دیکھا ہے کہ سر بیشک نہ ڈھکیں، گردن ضرور گرم رکھیں۔ اس کے لئے یہ مفلر یا سکارف وغیرہ استعمال کرتے ہیں ۔ کپڑوں کے نیچے اچھی کوالٹی کے تھرمل پہنیں ۔ تھرمل جرابیں ۔۔۔ تو باہر بھی ٹھنڈ سے بندہ بچا رہتا ہے ۔ موسم انجوئے کرتا ہے ۔ ہمارے ہاں لوگوں کو سردی میں ڈریسنگ کرنا بھی نہیں آتی ۔لیدر جیکٹ پہننی ہے ۔ فیشن کرنا ہے ۔ حالانکہ لیڈر جیکٹ کی نسبتاً  پیڈڈ جیکٹ بہت گرم اور آرام دہ ہوتی ہے ۔ہمارے ہاں زیادہ ترلوگوں نے شلوار قمیض کے اوپر گرم چادر لی ہوتی ہے جو جسم کو پوری طرح سے  ڈھانپ  نہیں  پاتی اس لئے ان کو ٹھنڈ زیادہ لگتی ہے ۔ تو بھیا بات یہ ہے کہ ڈریسنگ ہی ایسی کر کے نکلیں کہ آپ کو ٹھنڈ زیادہ نہ لگے۔
چلیں جی ۔ میرا سٹیشن آ گیا ۔میں چلوں کام پہ ۔ بعد میں ملتے ہیں ۔
مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *