تاریخ کی تعبیر اور ہم سب۔۔زاہد سرفراز

علم تاریخ قدیم ادوار میں جس قدر اہمیت کا حامل تھا آج اس سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے ، کل کا انسان ماقبل کے انسان کی تاریخ سے سبق سیکھتا تھا جو غلطیاں ماقبل کے انسان نے کی ہوتی تھیں ان سے بچ کر چلنے کی کوشش کرتا تھا جو تجربات قابل عمل ہوتے تھے ان پر عمل کرتا تھا لیکن موجودہ دور میں انسان نے تاریخ کے علم کو جیسی مقصدیت بخشی ہے اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی، موجودہ دور میں انسان نے تاریخ کو مقرر کرنے کے لیے  اسے ایک مخصوص بیانیہ دیا ہے تاکہ تاریخ ویسی بنا دی جائے جیسا کہ انسان چاہتا ہے یعنی اب تاریخ صحیح عن لخطا  کا  نام نہیں رہا بلکہ اب تاریخ کے علم سے انسان کی تقدیر مقرر کی جاتی ہے گویا پہلے تاریخ یہ طے کرتی تھی کہ مستقبل کا انسان کیسا ہو گا اب انسان یہ طے کرتا ہے  کہ مستقبل کی تاریخ کیا ہو گی ۔تاریخ کو کنٹرول کرنے کا یہ عمل معاشرے میں موجود نظام کے ذریعے سر انجام دیا جاتا ہے ، جو نظام اپنے متعارف کردہ ٹولز کے ذریعے عمل میں لاتا ہے، جیسے پہلے تاریخی پیشن گوئیاں تاریخ کے بہاؤ  کو مد نظر رکھ کر دی جاتی تھیں اب یہ پیشن گوئیاں تاریخ کو مقرر کرنے کے لیے دی جاتی ہیں تاکہ اس سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکیں ،اس ضمن میں اب تک انسان نے تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس کی مختلف تعبیریں بیان کی ہیں جن کی بنیاد مختلف نظریات پر قائم ہے۔

آج کے دور میں عام انسان کا یہ المیہ ہے  کہ اسے جب تھوڑا بہت علم حاصل ہو جاتا ہے تو وہ اسی کو حتمی جان کر دیئے گئے  بیانیے کے مطابق انٹ شنٹ اپنی فکر کا پرچار کرتا ہے اور خود کو آزاد سمجھتے ہوئے حریت فکر اور انسانیت کا درس دیتے راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔ مرتے دم تک اسے اس بات کی مطلق خبر نہیں ہوتی کہ جس آزادی کا وہ نعرہ مستانہ بلند کیا کرتا تھا وہی اصل میں اس کی غلامی تھی اور جس انسانیت کی وہ بات کرتا تھا وہ اپنے ڈسکورس میں حیوانیت سے بھی بدتر تھی وہ خود کو آزاد سمجھتا تھا مگر اصل میں وہ ایک غلام تھا ایک مہرہ تھا جسے چند انسانوں نے خواب غفلت میں مبتلا رکھا ،اس کی تقدیر مقرر کی ،اسے ویسا بنا دیا گیا جیسا کہ وہ چاہتے تھے یعنی جس آزادی کا ہم نے شور مچا رکھا ہے، وہ دراصل انسان کی غلامی ہے  جس مساوات کی ہم بات کرتے ہیں ،اس کا کوئی معیار نہیں ہے۔

اس سلسلے میں ماضی کے انسان کو دھوکہ دینا بہت مشکل ہوا کرتا تھا کیونکہ وہ خیر و شر کے معیارات سے باخوبی واقف تھا اب تو خیر و شر کو ہی اس قدر باہم ملا دیا گیا ہے  کہ فقط شر ہی باقی رہ جاتا ہے  اگر کوئی سچ بیان کرے تو یہ کہا جاتا ہے  یہ تو آپ کا پوائنٹ آف ویو ہے  ۔سچ تھوڑی ہے، سچ تو کچھ ہوتا ہی نہیں سرے سے ۔آج کا سچ کل کا بہت بڑا جھوٹ ہوتا ہے ،یہ مغالطہ سائنسی علم کو معاشرت پر منطبق کر کے  پیدا کیا جاتا ہے  جس میں سائنسی طریقہ کار اور آئین  سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹویٹی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر آپ اس مرض میں مبتلا نہیں ہیں کہ آج کا سچ کل کا بہت بڑا جھوٹ ہوتا ہے  تو تاریخ کے اس موجودہ سچ کو آپ مختلف اقوام کے انسانیت سوز مظالم اور حیوانیت کے تناظر میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں ،اس بے حسی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو لمحوں میں موت کی نیند سلا کر بھی شاد ہے  وہ ہولی جو رنگوں سے کھیلی جاتی تھی ، اب انسانی خون سے کھیلی جاتی ہے  مگر اس سب کا نام مہذہب انسانیت ہے۔

اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ تاریخ کی تعبیر بیان کرنے کے لیے  مختلف  ادوار میں جو نظریات اختیار کیے گئے وہ کیا ہیں
یوں تو یونان کے فلسفیانہ دور سے تاریخ کی چند تعبیریں چلی آتی ہیں  جن میں گردشی تاریخ یعنی cyclic interpretation of history کو تاریخ کی ابتدائی  تعبیر  کے  طور  پر  جانا  جاتا ہے ، جس کے مطابق تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی ہے  ،اب تاریخ کس فریم ورک میں خود کو دہراتی ہے، اس کے نظریات درج ذیل ہیں۔۔
1. Great god theory-عظیم خدا کا نظریہ
2. Great man theory-عظیم انسان کا نظریہ
3. Great mind theory-عظیم دماغ کا نظریہ
4. The best people theory-بہترین لوگوں کا نظریہ
5. The human nature theory-انسانی فطرت کا نظریہ

یہ وہ نظریات ہیں جو قدیم یونان میں موجود تھے بعد میں آنے والے نظریات انہی  کا چربہ ہیں  یا انہی  سے تخریج کیے گئے ہیں مضمون کی طوالت کے پیش نظر میں ہر ایک کی تفصیل میں تو نہیں جاؤں  گا مگر مختصرا ً بیان کر دیتا ہوں۔۔

1۔ عظیم خدا کا نظریہ یہ کہتا ہے  کہ تاریخ کے دھارے میں جو بھی تبدیلی ہوتی ہے وہ خدا کی مرضی سے ہوتی ہے  ،انسان اس میں محض ایک قوت کے طور استعمال ہوتا ہے ، جس میں انسان کی مرضی کا کچھ خاص عمل دخل نہیں ہوتا اسے مذہبی تصور تاریخ یعنی
theological interpretation of history
کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔،

2- عظیم انسان کا نظریہ یہ کہتا ہے  کہ تاریخ معاشرے میں موجود کسی ایک عظیم انسان کا نتیجہ ہوتی ہے  جیسے سکندر اعظم یا مختلف سماجی و مذہبی رہنما!

3- عظیم دماغ کا نظریہ یہ کہتا ہے  کہ سماج میں موجود اعلی دماغ لوگ اصل میں انسانی تاریخ کا تعین کرتے ہیں  اور انہی کے نتیجے میں تاریخ آگے بڑھتی ہے۔

4- اسی طرح بہترین لوگوں کا نظریہ ہے  جو سماج میں موجود بہترین افراد کو تاریخی محرک کے طور پر بیان کرتا ہے۔

5- جبکہ انسانی فطرت کا نظریہ یہ کہتا ہے  کہ انسانی فطرت تاریخ کا تعین کرتی ہے  وہ جو سوچتا ہے، جو محسوس کرتا ہے ، جیسا عمل کرتا ہے، اسی کے نتیجے میں تاریخ آگے بڑھتی ہے، گویا تاریخ انسانی فطرت کا عملی اطلاق ہے۔

یہ تو تاریخی تعبیر کے قدیم دور کے نظریات تھے موجودہ دور میں جو تعبیر اختیار کی گئی ہے، وہ ارتقائی فریم ورک میں کام کرتی ہے، جس کے نظریات درج ذیل ہیں۔
1.Theological interpretation of history
2. Geographical interpretation of history
3. Racial interpretation of history
4. Intellectual interpretation of history
5. Economical interpretation of history
6. Composite interpretation of history

تاریخ کی تعبیر کے یہ موجودہ نظریات یا تو مادیت پسند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر عینیت پسند مکتبہ فکر سے ان کا تعلق ہے، مادی مکتبہ فکر کے مطابق تاریخی دھارے کا تعین مادی قوتیں کرتی ہیں یعنی جیسے انسان کے مادی حالات ہوں گے ویسی ہی انسان کی تاریخ ہو گی جبکہ عینیت پسندوں کا ماننا ہے  کہ جیسا انسانی تصورات ہوں گے ویسی ہی انسان کی تاریخ وقت کی ٹکسال سے نکل کر سامنے آئے گی۔ اس طرح آخر میں بیان کی گئی تعبیر سب کا مشترک تصور ہے ، ان میں سے ہر ایک تصور تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو سب کے لیے ثبوت مہیا کیے جا سکتے ہیں اور ہر تاریخی تصور اپنے اپنے دائرہ کار میں درست معلوم ہوتا ھے مگر کسی ایک کو حتمی قرار دیا جانا مشکل ہے، جب انسان نے یہ دیکھا کہ ہم یہ نہیں جان سکتے کہ تاریخ کی حقیقی تعبیر کیا ہو گی تو پھر انسان نے کہا کہ ہم تاریخ کو ویسا بنا دیں گے جیسا کہ  ہم  چاہتے ہیں اس طرح موجودہ تصور  تاریخ نکل کر سامنے آتا ہے  جس نے نام نہاد جدید انسان کو آزادی کا لولی پاپ دے کر غلام بنا رکھا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *