بڑا حملہ (قسط 4)۔۔وہارا امباکر

گزشتہ قسط:

امریکی غاصب فوج، ایران کی پشت پناہی رکھنے والے متشدد اور سفاک شیعہ عسکری گروہ اور ان کے مقابلے میں عراقی القاعدہ ۔۔۔ یہ عراق کی سہہ فریقی جنگ تھی۔زرقاوی کو عراق میں داخل ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ چند ہتھیاروں، تھوڑے سے کیش اور اپنی امنگیں لے کر آئے تھے۔ امریکی قابضین کو تنہا کرنا اور شیعہ اور سنی کمیونٹی میں دراڑ پیدا کرنا ان کا مقصد تھا جس میں کامیاب ہوئے تھے۔ شہرت اور مقبولیت بھی پائی تھی۔ جس طرح انہوں نے امید کی تھی، عراق انتشار کا شکار تھا اور ان کے آنے والے نئی حربوں نے اس کو تیزتر کر دینا تھا لیکن ابھی ان کا ایک کام نامکمل رہتا تھا۔ وہ اپنی اصل اور بڑی نفرت کو نہیں بھولے تھے۔

اُردن!ان کی والدہ کا انتقال 29 فروری 2004 کو کینسر سے لمبی جنگ کے بعد اردن میں ہوا تھا۔ اردن کی انٹلی جنس کئی ہفتوں نگرانی کرتی رہی تھی کہ ان کا بیٹا آئے گا یا نہیں۔ وہ نہیں آیا۔ زرقاوی کے ذہن میں اردن کے لئے ایک اور پلان تھا۔ اتنا بڑا کام جو القاعدہ نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

چوتھی قسط

زرقاوی کو اردن میں غیرموجودگی میں سزائے موت سنا دی گئی۔ اس کا بدلہ لینے کے لئے ان کے ذہن میں ایک بڑا منصوبہ تھا۔ وہ کچھ ایسا کرنا چاہتے تھے جو اس سے قبل کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ ایک ایسا وار جس سے وہ تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیں۔ اس کے لئے زرقاوی نے اپنے افغانستان کے وقت کے ساتھی عزمی الجیوسی کا انتخاب کیا۔ عزمی نے بم بنانے کی تربیت ہرات کے کیمپ میں حاصل کی تھی اور اس میں اپنی ایک انگلی بھی گنوا بیٹھے تھے۔ کردستان میں انہوں نے انصار الاسلام کی کیمیکل لیب میں بھی کام کیا تھا۔ اب پلان الجیوسی کے تمام ٹیلنٹ کو استعمال کرنے کا تھا۔ ایک بہت بڑا بم جو عمارتیں گرا سکے اور ساتھ ہی اردن کے دارالحکومت میں زہریلی گیس کا بڑا بادل چھوٹ سکے۔ اگر ہوا نے مدد کی تو اس سے بہت بڑی تعداد میں لوگ مارے جا سکتے ہیں۔

شام سے تعلق رکھنے والے ڈینٹسٹ ابو غادیہ نے پٹرول کے ٹینکر کے ٹرک میں انہیں کسٹم سے بارڈر پار کروانے کا بندوبست کیا۔ ان کے پاس دھماکہ خیز مواد بنانے کے طریقے اور اردنی دینار تھے۔ جیوسی نے ایک پرانی گاڑی حاصل کی اور پھر سامان خریدنے نکل گئے۔ تین ٹرک خریدے گئے۔ دو نے بم میں تبدیل ہونا تھا اور تیسرے نے کیمیکل سے بھرے جانا تھا۔ ان کے بمپر کو فولاد سے ویلڈ کیا گیا۔ جراثیم کش ادویات، پوٹاشیم سائینائڈ، ہائیڈروجن پرآکسائیڈ، گلسرین، ایسیٹون۔ الگ الگ جگہوں سے اتنی مقدار میں خریدے گئے کہ شک نہ گزرے۔ بیس ٹن مواد کو رکھنے کے لئے ابرید شہر میں ایک چھوٹا وئیر ہاوس کرائے پر لیا گیا تھا۔ اس مشن پر کام کرنے والے بارہ افراد تھے جو اس کو زندگی کا آخری کام سمجھ کر ہی حصہ لینے آئے تھے۔

اس سب کی نگرانی عزمی الجیوسی کر رہے تھے۔ فون کا استعمال نہیں کیا جاتا تھا تا کہ اردن کی ایجنسی کہیں کچھ سن نہ لے۔ اس کا نشانہ انٹیلی جنس ایجنسی کو بنایا جائے، امریکی سفارت خانے کو، شاہی محل کو یا نئے بننے والے مکہ شاپنگ مال کو، یہ انتخاب جیوسی نے کرنا تھا۔ سب کچھ پلان کے مطابق جا رہا تھا۔ “بڑا دن” صرف چند روز کے فاصلے پر تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردن کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈیپارٹمنٹ میں سرخ بتیاں جلنے لگی تھیں۔ شام کے قریب اربید شہر میں بڑی رقم لئے اجنبی خاص شاپنگ لسٹ کے مطابق خریداری کر رہے تھے۔ پرانے لیکن مضبوط ٹرک اور گاڑیاں ان کے پاس ہونے کی خبر ملی تھیں۔ تفتیش پر پتا لگا تھا کہ ان کو خریدا نامعلوم ایجنٹوں کے ذریعے گیا ہے اور لکھوائے گئے فون نمبر اب کام نہیں کرتے تھے۔

مخبرات کے افسر ابو متز کے میز پر اب خریدے جانے والے کیمیکلز کے نام آنا شروع ہو گئے۔ مخبرات کچھ کیمیکلز کی فروخت کو ٹریک کر رہا تھا جو دھماکہ خیز مواد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ ہو کیا رہا ہے؟ اب تلاش جاری تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قطر سے صحافت کی ڈگری لینے والے ابومتز قرآن کو کسی بھی جہادی سے کم نہیں جانتے تھے۔ گھنٹوں تک کسی تفتیش میں کسی ایک شخص کے ساتھ دلائل کے ساتھ تھیولوجیکل بحث کر سکتے تھے اور انتظار کے فن کو جانتے تھے۔ سابق جہادیوں سے دوستی بنا چکے تھے۔ ذاتی تعلقات کے اسی نیٹورک نے انہیں اس ٹرک کی مخبری کر دی۔ افغانستان سے واپس آنے والے نوجوان نے ایک زرد ٹرک دیکھا تھا۔ جھانک کر اندر دیکھنے پر اسے زیرے کی بوریاں نظر آئی تھیں (یہ دھماکہ خیز مواد میں استعمال ہوتا ہے)۔ پینٹ کے ڈبے اور ویلڈنگ مشین۔ ٹرک کے آگے لگا ہوا فولادی بیرئیر۔ اس نے یہ سب پہچان لیا تھا۔ اردنی ایجنسی کو سراغ مل گیا۔

جیوسی کو 18 اپریل کو صبح دو بج کر دس منٹ پر گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس شام کو انٹیلی جنس کے ڈائرکٹر ابو ہیثم جب زیرِ حراست جیوسی کے کمرے میں داخل ہوئے تو جیوسی کے چہرے پر تھکن اور شکست کے آثار نمایاں تھے۔ یہ آسان کام تھا۔ ابو ہیثم نے شہد اور پنیر والی پیسٹری جیوسی کی طرف بڑھائی، “چلو کنافے کھاتے ہیں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو روز بعد جیوسی نے ابومتز کو اپنی تمام کہانی سنائی۔ ویڈیو کیمرے اس کو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اگلے روز اردن کے اخبار سرخیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ دہشت گردوں کے حملے کو کیسے ناکام بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد اسی ہزار تک جا سکتی تھی۔ جیوسی نے مکینک سے گئیر بدلوانے سے لے کر سرحد پار کرنے، اس کی فائننسنگ، جعلی کاغذات اور زہریلے مادوں کو کنستر میں رکھنے کے طریقوں کی تمام تفصیل بتا دی تھی۔ پھر حملے کے بارے میں بتایا۔

“گاڑی سے لوگوں نے خودکار ہتھیار لھے کر نکلنا تھا۔ گارڈز کو قتل کرنا تھا۔ راستے کی رکاوٹوں کو ہٹانا تھا۔ اس کے بعد بڑے ٹرک کی باری تھی۔ اس پر لگا بمپر بھاری چیزوں کو ہلا سکتا تھا۔ دیوار کو بھی گرا سکتا تھا۔ اس نے چلتے رہنا تھا جب تک کہ وہ انٹیلی جنس کی عمارت کے مرکز تک نہ پہنچ جاتا۔ یہاں پر آ کر اس نے پھٹ جانا تھا۔ جو گارڈز مرنے سے بچ بھی جاتے، وہ جواب دینے کے قابل نہ رہتے۔ اس کے بعد اگلی گاڑیوں نے اس جگہ پر آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے پہنچنا تھا۔ کہیں پر بھی پارک کر دئے جانا تھا۔ میں دھماکے کرنے کا ماہر ہوں تو میرا اندازہ ہے کہ اس عمارت کا کچھ بھی باقی نہیں رہنا تھا”۔

جب اس حملے کی وجہ پوچھی گئی تو جیوسی نے کہا کہ وہ اپنے کمانڈر کے احکامات کے مطابق ایسا کر رہے ہیں، جس سے ان کی وفاداری ہرات کے دنوں سے ہے۔ “ہم وفاداری میں سوال نیہں کرتے۔ ایسے مشن میں مر جانا عزت ہے۔ اگر میں مر جاوٗں تو شہید ہوں گا۔ اور جن کو ماروں گا، وہ بھی جنت میں جائیں گے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ عبداللہ نے امریکہ کو عراق کے ایڈونچر سے منع کیا تھا۔ اس کے بعد بعث پارٹی کو تحلیل کر دینے سے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا، “یہ پاگل پن ہے، اس سے انارکی اور تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا”۔ ان کی بات نہیں سنی گئی تھی۔ پال بریمر نے جواب دیا تھا، “ہم جانتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں”۔

ایک سنی ہونے کی حیثیت سے انہیں عراق کی سنی اقلیت کے جذبات کا احساس تھا جو اپنے آپ کو تنہا اور خوف زدہ محسوس کر رہے تھے۔ یہ جذبات لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے تھے۔ اس آگ کو تیزی سے بھڑکانے والے سکینڈل ابو غریب کے جیل میں عراقیوں کی تذلیل کا تھا۔ شاہ عبداللہ نے جارج بش پر زور دیا تھا کہ وہ اس پر عراقی عوام سے معافی مانگیں (جب جارج بش نے یہ معافی مانگی تھی تو اردن کے بادشاہ ان کے ساتھ کھڑے تھے)۔

جب نیویارک میں ان سے سوال کیا گیا تھا کہ عراقیوں کی زندگی اب کیسی ہے۔ تو ان کا جواب تھا، “پہلے سے دس گنا بدحال ہیں۔ خاص طور پر خواتین۔ صدام کے دور میں مرد اور خواتین کے حقوق برابر تھے”۔

عبداللہ کے اس طرح صاف گوئی سے بات کرنے پر ڈک چینی کی بیٹی اور پال ولفووٹز (جو عراقی جنگ کی پالیسی کے آرکیٹکٹ تھے) نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے خیالات اپنے پاس رکھیں۔

اردن اور امریکہ کی اچھی دوستی تھی لیکن شاہ عبداللہ کی امریکہ کی عراق پالیسی لئے کوئی ہمدردی نہیں تھی اور ان کی کہی باتیں بھی ٹھیک ثابت ہو رہی تھیں۔ عراق جل رہا تھا اور پورا خطہ لیپٹ میں لے رہا تھا۔ اردن اس سے بال بال بچا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیوسی کے اعترافِ جرم کی ٹیپ اردن اور دوسرے عرب میڈیا پر دکھائی گئی۔ زرقاوی نے بھی پبلک جواب انٹرنیٹ پر دیا۔ “ہاں، اردنی مخبرات کے دفتر کو اڑا دینے کا ہمارا پلان تھا۔ ہمارا اصل نشانہ اسرائیل ہے۔ ہم اس کے راستے میں آنے والی ہر چیز کو گرا دیں گے۔ اردن کے ساتھ ہماری لڑائی چلتی رہے گی۔ شاہ عبداللہ! بھیانک مستقبل تمہارا انتظار کر رہا ہے”۔

زرقاوی کے لئے یہ ناکامی ایک بڑا دھچکا تھی۔ یہ ان کے لئے عالمی شہرت حاصل کرنے کا موقع تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس نے گیارہ ستمبر پر امریکہ میں کئے گئے حملوں کو بھی گہنا دینا ہے۔ اس سب کا بندوبست کرنے پر عراقی القاعدہ نے اڑھائی لاکھ ڈالر خرچ کئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ایسے واقعات کامیاب ہوں تو سپورٹ کم نہیں، زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ وہ اردن کی ایجنسی سے بدلہ بھی لینا چاہتے تھے۔

انہوں نے اپنی شہرت حاصل کرنے کے لئے ایک اور طریقہ تلاش کر لیا۔ جہادی سپرسٹار بننے کے لئے صرف ایک قتل کافی تھا۔ یہ اپریل 2004 میں کیا گیا۔

فلاڈیلفیا کے ایک ٹیکنیشن کے ذہن میں کمیونیکیشن ٹاور کی سستی مرمت کرنے کا ایک طریقہ آیا تھا۔ کینیا میں کچھ کامیابی کے بعد اس کے ذہن میں نیا خیال کوندا تھا۔ نِک برگ اب مشہور ہونے والے تھت۔ جبکہ اردن میں القاعدہ کو بڑے دہشت گرد حملے کی کامیابی کے لئے اس کے بعد چند ماہ کا انتظار کرنا تھا۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

عراق کی جنگ (قسط 3)۔۔وہارا امباکر

ساتھ لگی تصویر جیوسی کی ہے جب ان کو، بارہ ساتھیوں سمیت عمر قید کی سزا سنائی جا رہی تھی۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *