عراق کی جنگ (قسط 3)۔۔وہارا امباکر

بغداد میں جمعرات کی صبح دس بجے کچھ عراقی اردن کے سفارت خانے میں ویزہ حاصل کرنے کے لئے لائن میں لگے ہوئے تھے۔ 7 اگست 2003 کا گرم دن تھا۔ بغداد میں اس سے پہلے کبھی خود کش حملے نہیں ہوئے تھے۔ بازاروں اور مساجد میں بم نہیں پھٹے تھے۔ اردن ایک برادر ہمسایہ عرب ریاست تھی جس کے عراق کے ساتھ دیرینہ تاریخی اور کلچرل تعلقات تھے۔ لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔ اردن یہاں سے چھٹی منانے والوں کے لئے جانے کی جگہ تھی۔ یہاں کے گارڈز کا کام یہی تھا کہ ویزے کے لئے لگی قطار میں بدنظمی نہ ہو۔

اس پس منظر میں جب ایک سبز وین جب سیدھی سفارت خانے کے فرنٹ گیٹ پر پہنچی تو کسی کو خاص تشویش نہیں تھی۔ ایک نوجوان ڈرائیور نے کنکریٹ کے بیرئیر سے چند فٹ دور رک کر گاڑی سے چھلانگ لگائی۔ اس سے پہلے کہ گارڈ یہ جاننے کے لئے اس تک پہنچتے کہ معاملہ کیا ہے، اس وین میں لگا ریموٹ کنٹرول بم پھٹ چکا تھا۔ اس قدر طاقتور بم کہ اس نے تیس فٹ گہرا گڑھا کر دیا۔ ویزے کے لئے آئے درخواست گزار اور گارڈ موقع پر ہلاک ہو گئے۔ سترہ عراقی اس میں مارے گئے جس میں ویزہ لگوانے کے لئے آنے والی فیملی کے ہمراہ بچے بھی شامل تھے۔ اس سے پہلے عراق جنگ میں کسی نے سویلین آبادی کو جان کر نشانہ نہیں بنایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عراق میں امریکہ بغیر پلان کے داخل ہوا تھا۔ اس پر امریکی غلطیوں پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں (اور لکھی جا چکی ہیں)۔ کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ صدام حسین کے بعد کرنا کیا ہے۔ امن و امان رکھنا کس کی ذمہ داری ہو گی؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ عام عراقیوں کے لئے زندگی کہیں زیادہ مشکل ہو گئی تھی۔ سیکورٹی فراہم کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ابتدائی چند ہفتے کی آسان کامیابی کے بعد عراق میں امریکہ کے خلاف موڈ پہلے ہی جلد بدل گیا تھا۔ اس غاصب فوج سے کسی کی ہمدردی نہیں تھی۔

مزاحمتی گروہ انہی جذبات کو استعمال کر رہا تھا۔ اس کیلئے جو طریقہ اپنایا گیا تھا، وہ انتہائی موثر اور سفاکانہ تھا۔ عام لوگوں کو مار کر مزاحمت کرنے کا یہ ایک نیا طریقہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرے دھماکے میں نشانہ بننے والے سرجیو، بغداد کا شاید وہ واحد غیرملکی تھے، جن کو عراق میں ہر کوئی پسند کرتا تھا۔ برازیل سے تعلق رکھنے والے سسفارتکار جو اقوامِ متحدہ کے مشن کی سربراہی کر رہے تھے۔ عراقیوں کو خوراک اور ادویات پہنچانے کے علاوہ ان کا کام عراقی دھڑوں میں ریفری کا کردار ادا کرنا اور امریکیوں اور عراقیوں کے درمیان رابطے کا کام کرنا بھی تھا۔ وہ عراق کے وکیل کہے جاتے تھے۔ ان کی سیکیورٹی کے لئے پوسٹ قائم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اصرار کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے آفس کو عسکری علامت یا قبضے کا نشان نہیں بننا چاہیے۔ ایسی کسی بھی چیز سے دور رہنا چاہیے۔ بغداد میں اقوامِ متحدہ نوے کی دہائی سے بغداد کینال ہوٹل کا استعمال کر رہی تھی۔ اس کے گرد حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی تھی لیکن لوگ بغیر تلاشی کے آتے جاتے رہتے تھے۔

پہلے حملے کے بارہ روز بعد 19 اگست کو سرجیو تیسری منزل پر اپنے ڈیسک پر بیٹھے تھے۔ بارود سے بھرا ٹرک آ کر اس عمارت سے ٹکرایا جس نے ٹرک کے ساتھ ہوٹل کو اڑا کر رکھ دیا۔سرجیو سمیت اقوامِ متحدہ کے بائیس لوگ اس میں مارے گئے۔ اقوامِ متحدہ کے کسی بھی مرکز پر ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے دس روز بعد ایک اور حملہ اس بار بغداد میں نہیں، نجف میں ہوا۔ نمازِ جمعہ کے لئے امام علی مسجد میں آیت اللہ محمد باقر الحکیم کا خطبہ سننے لوگ اکٹھے ہوئے تھے۔ ایک بااثر شعیہ عالم جو صدام کے معزول کئے جانے کے بعد جلاوطنی سے واپس آئے تھے۔ مسجد کے منبر سے وہ امریکہ کی قابض افواج کے خلاف سخت تقریر کر رہے تھے اور اس پر کہ کس طرح عام عراقی کے لئے زندگی عذاب بن گئی ہے۔ امن و امان ختم ہو رہا ہے۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ عراقیوں کا اکٹھا ہو کر کچھ کرنا ہے۔ ملکر عراق بنانا ہے اور قابض فوج کو باہر نکالنا ہے۔ حکیم اس کے بعد مسجد سے باہر نکلے تھے جب ایک کار بم کا دھماکا ہوا۔ اور پھر اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک اور۔ اس سے 85 لوگ ہلاک اور پانچ سو زخمی ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ میں جنگ کے حامی عراق کی بگڑتی صورتحال کا انکار کر رہے تھے۔ سی آئی اے کی صاف الفاظ میں بھیجی رپورٹوں کا بھی کئی مہینے تک انکار کیا جاتا رہا۔ عراق میں امریکہ کی مسلط کردہ جنگ نے اس ملک میں ایک نئی طاقت کو کھول دیا تھا۔ عراق کی شمالی پہاڑیوں میں چھپے زرقاوی اب عراق کے دل میں موجود تھے اور روز بروز خطرناک تر ہو رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرقاوی نے اپنے نشانے بہت ہوشیاری سے چنے تھے۔ عرب سفارتخانہ، تا کہ عرب ممالک کی عراق کی تعمیرِ نو میں شرکت کی حوصلہ شکنی ہو۔ اقوامِ متحدہ، تا کہ غیرحکومتی تنظیمیں یہاں پر امداد کا کام کرنے سے باز رہیں۔ شیعہ مذہبی راہنما پر حملہ، تا کہ ملک میں شعیہ سنی کے درمیان خلیج بنائی جا سکے۔ امریکہ کی آمد سے قبل عراق میں سنی اور شیعہ کے درمیان کوئی سنجیدہ کشیدگی نہیں تھا۔ دونوں اکٹھے کام کرتے تھے۔ ایران کے خلاف لمبی جنگ عراقی شیعہ اور سنیوں نے مل کر لڑی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرقاوی کا نہ عراق سے تعلق تھا اور نہ عراق میں حکومت بنانے یا امن و امان سے دلچسپی تھی۔ انہوں نے اس کے بعد کئے جانے والے اگلے حملوں سے تین طرفہ جنگ چھیڑ دی تھی۔ تشدد سے بغاوت پر لکھی ابوبکر ناجی کی کتاب “ادارة التوحش” جہادی ویب سائٹس پر 2004 شئیر ہونے لگی اور ان حلقوں میں مقبول ہوئی۔ اس میں انتہاپسندی کے ذریعے اسلامی خلافت کے قیام کی سٹریٹجی تھی۔ “ہمیں جہاد میں رحم کو دل میں کبھی نہیں لانا چاہیے۔ اگر ہم خون نہیں بہائیں گے اور نرمی ہمارے دل میں آ جائے گی تو ہم طاقت کھو دیں گے۔ لوگوں کو جہاد کی طرف مائل کرنے کے لئے ہمیں وہ ایکشن لینے ہیں جو اشتعال پیدا کریں اور لوگ جنگ میں شرکت کے لئے آئیں، خواہ مرضی سے یا پھر مرضی کے بغیر۔ اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں جنگ کو زیادہ سے زیادہ خون آشام بنانا ہو گا”۔

حملے جاری رہے۔ سب سے بڑا حملہ 2 مارچ 2004 کو دس محرم کو کیا گیا۔ بغداد اور کربلا میں ایک ہی وقت میں کئی نوجوان خود کش جیکٹیں پہنے جلوسوں میں شامل تھے۔ صبح دس بجے سب نے یہ حملہ کر دیا۔ کربلا میں مچنے والے افراتفری میں بھاگتے لوگوں پر فارنگ کی گئی۔ ہونے والے ایک درجن دھماکوں میں سینکڑوں افراد نشانہ بنے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکی غاصب فوج، ایران کی پشت پناہی رکھنے والے متشدد اور سفاک شیعہ عسکری گروہ اور ان کے مقابلے میں عراقی القاعدہ ۔۔۔ یہ عراق کی سہہ فریقی جنگ تھی۔

زرقاوی کو عراق میں داخل ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ چند ہتھیاروں، تھوڑے سے کیش اور اپنی امنگیں لے کر آئے تھے۔ امریکی قابضین کو تنہا کرنا اور شیعہ اور سنی کمیونٹی میں دراڑ پیدا کرنا ان کا مقصد تھا جس میں کامیاب ہوئے تھے۔ شہرت اور مقبولیت بھی پائی تھی۔ جس طرح انہوں نے امید کی تھی، عراق انتشار کا شکار تھا اور ان کے آنے والے نئی حربوں نے اس کو تیزتر کر دینا تھا لیکن ابھی ان کا ایک کام نامکمل رہتا تھا۔ وہ اپنی اصل اور بڑی نفرت کو نہیں بھولے تھے۔

اُردن!

ان کی والدہ کا انتقال 29 فروری 2004 کو کینسر سے لمبی جنگ کے بعد اردن میں ہوا تھا۔ اردن کی انٹلی جنس کئی ہفتوں نگرانی کرتی رہی تھی کہ ان کا بیٹا آئے گا یا نہیں۔ وہ نہیں آیا۔ زرقاوی کے ذہن میں اردن کے لئے ایک اور پلان تھا۔ اتنا بڑا کام جو القاعدہ نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

ساتھ والی تصویر کینال ہوٹل بم کی، جس میں اقوامِ متحدہ کے آفس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

.الجفر کا قیدی (قسط 2) ۔۔وہارا امباکر

اردن : بادشاه کا فیصلہ (قسط 1) ۔۔وہارا امباکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *