• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حضرت محمد ﷺ بطور ترقی پسند رہنما۔سیاسی اور سماجی اصلاحات/مکالمہ سیرت ایوارڈ۔۔۔عالیہ سرور

حضرت محمد ﷺ بطور ترقی پسند رہنما۔سیاسی اور سماجی اصلاحات/مکالمہ سیرت ایوارڈ۔۔۔عالیہ سرور

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک ترقی پسند راہنما
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آفاقی اور عالمی شحصیت ییں اس دنیا میں کون ہے جو آپ کے نام اور پیغام سے واقف نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت، سنت اور آپ کا نظام ہر خطے اور ہر دور کے لوگوں کے لیے قابل اتباع ہی نہیں بلکہ ذریعۂ اصلاح وفلاح بھی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ رب العزت نے رحمت اللعالمین بنایا۔
تمام شعبہ ہائے زندگی سے منسلک لوگ آپ کی سیرت سے رہنمائی لے سکتے ہیں مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بزرگ، حاکم ہو یا محکوم، تاجر ہو یا ملازم، غلام ہو یا آزاد آپ سب کے ہادی و رہنما ہیں۔
آپ کی آمد سے پہلے دنیا گمراہی اوراندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی مذہب تو تھا مگر تہذیب نام کی کوئی چیز نہ تھی اور انسان تو تھے مگر انسانیت سے عاری،رشتے ناطے تو تھے مگر رشتہ دارری سے نا بلد،قانون تو تھا مگر انصاف سے محروم، دولت تو تھی مگر صرف امراء کے پاسں، غرضیکہ پورا معاشرہ تباہی کے دہانے پر تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفرو شرک کےاندھیروں میں ڈوبتی دنیا میں روشن چراغ کی مانند آئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی معاشرے کی تشکیل نو شروع کردی ۔ مشعل ہدایت تھام کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تئیس سال تک تمام رکاوٹوں کے باوجود اللہ کے دین کی اشاعت میں لگے رہے ،یہاں تک کے سارا معاشرہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ بن گیا جو رہتی دنیا کے لیے ایک مکمل اور معیاری نمونہ ہے
اگر آپ ﷺکو ایک رہنما کی حیثیت سے دیکھا جائے تو اللہ تعالی کا فرمان ہے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔
یقیناََ تمہارے لیےرسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب معاشرے کی وضع اور لوگوں کی سوچ اور عمل کو یکسر بدل دیا۔ عرب معاشرہ فرسودہ رسومات سے بھرا ہوا تھا لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فرسودہ رسم کا خاتمہ کیا اور عورت کو وہ مقام و مرتبہ عطا کیا کہ دنیا کا کوئی مذہب اس کی برابری نہیں کر سکتا۔
محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے بت پرستی عام تھی۔ لوگوں نے من پسند خدا بنا رکھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو ایک خدا لاشریک کی عبادت پر جمع کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور سے پہلے ظلم کا دور دورہ تھا غریبوں، یتیموں، مسکینوں، محتاجوں اور بیواؤں کو کسی قسم کے حقوق حاصل نہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف ان میں سے ہر ایک کے حقوق مقرر کیے بلکہ ان کی کفالت کو باعث اجرو ثواب بھی قرار دیا۔
عرب معاشرہ ذات پات اور رنگ نسل میں بٹا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی برتری نہیں تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔”

عرب دوسرے مذاہب اور علاقوں کے رہنے والوں کو غلام بنا کر رکھتے تھے اور غلاموں کے حقوق تو دور ان ک ساتھ جانوروں سے بھی برتر سلوک کیا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف غلاموں کو عزت عطا فرمائی بلکہ تمام اقلیتوں کے لیے باقاعدہ حقوق بھی مقرر فرمائے۔ اور اقلیتوں کو اسلامی ریاست میں مکمل مذہبی آزادی دی۔اسلامی ریاست میں حاکم اعلی صرف اللہ کی ذات ہوتی ہے جبکہ حاکم وقت اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ریاست کا نظام چلاتا ہے آپ کو بھی اللہ کی مدد و نصرت بذریعہ وحی حاصل تھی۔
عرب جاہل و گنوار تھے ان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اندر پڑھنے اور سیکھنے کا شوق اور ولولہ پیدا فرما دیا اور حصول علم کو فرض قرار دیا۔
” طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة”
علم کی طلب ہر مسلمان مرداور عورت پر فرض ہے۔

جانوروں اور پرندوں پر بھی شفقت اور نرمی سے پیش آنے کا حکم دیا اور ان پر سختی یاظلم کرنے سے منع فرمایا۔
خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اسی کی بنیاد پر معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہذا آپ ﷺنے اس کی ضرورت و اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اصلاح کی ۔والدین ، زوجین، اولاد اور تمام رشتہ داروں کے حقوق فرائض متعین کر دیئے تاکہ انتشار سے بچا جا سکے۔
ایک بہترین رہنما وہ ہے جو خود باکردار ہو اور اس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو آپ کے کردار کی تو ابو جہل بھی گواہی دیتا تھا۔
ایک اچھے رہنما کی یہ خوبی بھی ہوتی ہے کہ وہ گاہے گاہے مشاورتی مجالس کا انعقاد کرواتا ہے۔ مسجد نبوی میں مشاورتی مجالس منعقد ہوتی تھی جن میں اہم معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تجارتی امور پر غور و فکر کیا جاتا تھا۔

ایک اچھا رہنما وہ ہوتا ہے جو عوام کے کے دلوں میں رہتا ہے اور ہر شخص کے لیے اس تک رسائی آسان ہو۔عوام کے اندر گھل مل جائے اور ان کے مسائل کو نہ صرف سُنے اور سمجھے بلکہ ان کو حل کرنے کہ لیے ہر وقت کوشاں بھی رہے۔آپ ﷺ میں یہ تمام اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ پر جان قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔
آپﷺ اپنے اصحاب کی ہمہ وقت اصلاح کرتے رہتے تھے اور آپ کا لب و لہجہ اتنا دلنشیں، میٹھا اورنرم ہوتاکہ انھیں پتہ بھی نہ چلتا اور اصلاح بھی ہو جاتی۔ کسی بھی لیڈر کی یہ ایک بہترین خوبی ہے۔

ایک بہترین رہنما بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے سے بچتا ہےآپ فضول اور لغو باتوں سے خود بھی بچتے اور دوسروں کو بھی اجتناب کی تلقین کرتے۔
اگر جنگی حکمت عملی کے تناظر میں آپ کو بطور چیف دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح حالات و واقعات کے مطابق آپ اپنی سٹریٹجی تبدیل کر لیتے۔ اس سلسلے میں صلاح حدیبیہ کی مثال قابل ذکر ہے۔ بہترین رہنما وہ ہے جو اپنے پیروکاروں کی رائے کو بھی اہمیت دے اور ان سے مشاورت کرے آپ ﷺ اہم امور پر اپنے صحابہ سے مشاورت کرتے اور اور نہ صرف ان کی رائے لیتے بلکہ ان کی تجاویز پر عمل بھی کرتے۔ جیسا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کھودنے کی تجویز پیشں کی تو آپ ﷺ نے اس پر عمل کیا۔

آج کل کسی بھی ملک کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کو خارجہ پالیسی کا سب سے اہم اور لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔آپ ﷺنے آج سے چودہ سو سال پہلے مختلف ممالک کے بادشاہوں کو خطوط بھیجے اور وہاں سفیر بھی مقرر کیے۔
سیاسی وسماجی اصلاحات
1۔ آپ ﷺوہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے پُر امن معاشرے کے قیام کے لیے مدینہ میں تشریف لاتے ہی یہودیوں کے ساتھ معاہدے کیے۔
2 ۔آپ ﷺنے مدینہ میں ایک فلاحی ریاست کا تصور دیا اور اسکا قیام عمل میں لاتے ہوئے مالداروں سے زکوۃ و عشر وصول کرکے مستحقین تک پہنچانے کا منصفانہ نظام قائم کیا۔
3۔ آجکل مساجد صرف عبادت کے لیے مخصوص ہیں لیکن آپ نےمسجد نبوی کو بیک وقت یونیورسٹی، پارلیمنٹ، عدالت اور گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال کیا۔
4۔ معاشرتی فلاح وبہبود کے لیے ضروری ہے کہ وہاں رہنے والے تمام افراد کو یکساں حقوق حاصل ہوں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ یہود جو اقلیت میں تھے سب کے لیے حقوق کی فراہمی کویقینی بنایا۔
5۔ نبی کریم ﷺکے گھر میں کئی کئی روز تک چولہا نہیں جلتا تھا کئی مرتبہ بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے۔ آپ چاہتے تو قیمتی لباس پہنتے اور انوع و اقسام کے کھانے کھاتے۔ لیکن آپ خود کو ملنے والے تحائف بھی ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے۔آپ نےعیش و عشرت کی بجائے نہایت سادہ زندگی گزار کر حکمرانوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر تمام جہانوں کا بادشاہ اتنی عاجزی اختیار کر سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں۔
6۔آپﷺ وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے خوشگوار تعلقات کے لیے اپنے وفود دوسرے ممالک میں بھیجے اور دوسرے ممالک سے آنے والے وفود کا خیر مقدم بھی کیا۔
7۔جزا اور سزا کسی بھی معاشرے میں امن کے قیام کے لیے بہت ضروری ہے آپ ﷺ نےجرائم کے لیے سزائیں مخصوص کردیں تاکہ ان جرائم کا سد باب کیا جا سکے مثلا قتل، چوری، زنا وغیرہ اور قانون کی نظر میں سب کو برابر قرارا دیا ایک اچھا لیڈر ہونے کی حیثیت سے آپ معمولی غلطیوں اور کوتاہیوں کو درگزر فرماتے اور جب ذاتی انتقام کی بات آتی تو یکسرمعاف فرما دیتے جیسا فتح مکہ کے موقع پر ہوا وہ تمام لوگ جنھوں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی تھی آپ کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے لیکن باوجود انتقام کی طاقت کے آپ نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا۔حتی کہ ابو سفیان کی بیوی ہندہ جس نے غزوہ احد کے موقع پر آپ کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کلیجہ چبا لیا تھا۔ اسے بھی معاف فرما دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی عدالت میں یہودی بھی انصاف لینے آتے تھے۔
8۔ کسی بھی معاشرے کی فلاح و ترقی کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو شعور اور علم و آگہی دی جائے آپ نے اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے صحابہ اکرام کو دور دراز ملکوں میں بھیجا اور مسجد نبوی کے ساتھ ایک چبوترہ جس کا نام صفہ تھا میں صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کی جاتی تھی۔ حتی کہ بدر کے قیدیوں کی آزادی کے لیے یہ شرط مقرر کی کہ وہ صحابہ اکرام کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔
9۔ آپ کے دربار میں ہر ایک کو آزادی رائے حاصل تھی چنانچہ جس کے ذہن میں جو مسئلہ ہوتا وہ آپ سے براہ راست پوچھ لیتا۔ آپ ہر ایک کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اسکے مسئلے کا حل مرحمت فرماتے۔
10۔ آپ ﷺنے معاشرے کے ہر فرد کو ذمہ دار بنایا اور ہر ایک کے ذمہ کچھ حقوق و فرائض مقرر کیے تاکہ کسی کے ساتھ کمی یا زیادتی نہ ہو۔
11۔ کارو بار اور تجارت کے بھی کچھ ضابطے مقرر کیے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے جیسے سود کو حرام قرار دیا تجارت کو حلال، اور خود کامیاب تاجر بن کر ایک اچھے تاجر کی خصوصیات سے روشناس کروایا۔
12۔ معاشرتی برائیاں قتل، شراب، جوا، زنااور بہتان کو اسلامی معاشرے میں ممنوع قرار دیا۔
13۔ دنیاوی زندگی کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی میں کامیابی کو بھی یقینی بنایا اور خود بھی نیکی کرنے اور دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور گناہ سے بچنے کی تلقین فرمائی۔
غرضیکہ آپ نے ایک پُرامن اور ترقی پسند سماج کا تصور دیا اور پھر انہی اصولوں پر معاشرہ قائم کیا اور پھر اسے پورے عرب میں وسعت دے کر بتایا کہ یہی نظام پورے دنیا میں آۓ گا اور چھا جاۓ گا۔

آپ ﷺ کی سیرت ایک گہرے سمندر کی مانند ہے اور مجھ ناچیز کے لیے آپ کی خوبیوں کو احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔
تیری زندگی کا اک باب بھی ختم نہ ہوا
زندگیاں ختم ہوئی اور قلم ٹوٹ گئے
المختصر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ےتمام بادشاہوں سے بڑے بادشاہ ، رہنماؤں کے رہنما ہیں۔ جو کوئی بھی آپ کی چوکھٹ پر رہنمائی اور رہبری کی مراد لے کر آیا خالی ہاتھ نہیں لوٹا اور ان شاءاللہ نہ کبھی لوٹے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *