ہے کوئی برانڈ ممتا کے جیسا؟۔۔عامر عثمان عادل

کچھ دن قبل صبح سویرے ایف ایم ریڈیو کھاریاں جانا ہوا۔ سگھڑ بیبیوں کی طرح خیال رکھنے والے اسٹیشن مینجر اختر وزیر نے ناشتے کا اہتمام کر رکھا تھا ۔ غنیمت یہ ہے کہ ریڈیو کے ہمسائے میں شنواری ہوٹل کھل چکا ہے ۔ تندوری پراٹھا ، دال اور چائے سامنے رکھی تھی ۔ ذائقے کی بات چل نکلی تو کیسے ممکن تھا ماں جی کا ذکر نہ چھڑتا ۔

چشم ِتصور میں خستہ پراٹھوں کی مہک ، گھر کے مکھن کی تازگی ، رات کے بچے سالن کا منہ میں گھلتا ذائقہ اور ماں جی کے ہاتھ سے بنی بے مثال چائے کا رنگ    روپ تازہ ہو گیا۔
مجھے نہیں یاد پڑتا کسی ایک وقت کا کھانا بھی گھر پہ کھایا ہو اور باسی روٹی کھانے کو ملی ۔ ماں جی انتظار میں میں ہوتیں کب ہم آئیں اور گرما گرم روٹی ہمیں کھلائیں ۔ ہمیشہ ہمارے نعمت خانے میں دو قسم کے توے موجود رہتے ۔ ایک روائیتی سیدھا توا جس پر پراٹھے پکتے ۔ اور دوسرا جسے الٹا توا کہتے جو خاص طور پر چپاتی جسے پھلکا کہا جاتا بنانے کے لئے تھے ۔ پھلکے کو اس الٹے توے پر ڈالا جاتا چمٹے سے پلٹنے پر وہ خوب پھول جاتا ۔ کبھی یہ بھی نہیں ہوا کہ امی نے ایک ساتھ روٹیاں بنا کر دسترخوان میں لپیٹ کر رکھ دی ہوں ۔ گھر کے جتنے افراد تھے سب کو توے سے اتری ہوئی چپاتی ہی ملتی ۔

دست قدرت نے ماں کے ہاتھ میں کچھ ایسا ذائقہ بھر دیا تھا کہ عام سی چیز بھی خاص بن جاتی ۔ اور سب سے بڑی بات کہ رات ہو یا دن مجال ہے جو کچھ بھی پکاتے ہوئے رُخ پر بیزاری طاری ہوئی  ہو۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں مسجد کے شب بیداروں کے لئے خاص طور پر تھرماس بھر بھر کر چائے بنانا اور اس کے ساتھ کچھ لوازمات بھی یہ ہمیشہ ہی ہمارے گھر کا دستور رہا۔ میں چائے لینے گھر لوٹتا تو ماں جی جا ئے نماز سے اٹھتیں تازہ چائے بنا کے پھر سے عبادت میں مشغول ہو جاتیں۔

ان کا ایک ہی شوق تھا کہ گھر میں مہمان آتے رہیں اور وہ جی جان سے ان کے لئے طرح طرح کے پکوان بناتی رہیں ۔خلوص، رسان ، قدرتی ذائقہ اپنی جگہ کھانوں کی تیاری اور ان کے اجزاء کی صفائی  ستھرائی  میں جس قدر جتن وہ کرتیں حیرت ہوتی ۔

آج کل تو ہر شے تیار ڈبوں میں بند میسر ہے ۔ اماں تو نمک پر بھی سمجھوتہ نہ کرتیں ۔ بازار سے کھیوڑہ کا خالص نمک منگوایا جاتا اسے دھو کر دھوپ میں سکھاتیں ۔ پھر اپنے ہاتھوں سے ہاون دستے میں مشقت سے کوٹ کوٹ کر ایسا باریک کرتیں کہ پاوڈر کا گمان ہوتا۔ اکثر دیکھا کہ محلے کی خواتین نمک چاٹتی جاتیں اور کہتیں خالہ جی آپ کا تو نمک بھی اتنا مزیدار ہوتا ہے کہ کیا کہنے۔۔

ڈنڈی توڑ سرخ مرچ بھی ایسے ہی دھو کر سکھائی  جاتی پھر اسے پسوایا جاتا ۔ اسی طرح گندم ، دالیں اور چاول بھی ایک ایک دانہ موتیوں کی طرح چن چن کر صاف کر کے ڈبوں میں محفوظ کیا جاتا اور یہ سارا کچھ اکیلی ماں جی کا معمول تھا ۔ وہ تو پودینے کی چٹنی بھی بناتیں تو سل بٹے پر رگڑ رگڑ کر ذائقہ ایسا کہ انگلیاں چاٹتے رہ جائیں ۔

رشتے دار طعنے دیتے کہ آپ نے اپنی اولاد کو خراب کر دیا ہے ان کے نخرے اٹھا اٹھا کر ۔۔آج سب یاد آتا ہے تو گمان ہوتا ہے کہ واقعی ماں نے ہمیں شہزادوں کی طرح پالا ۔
گرمیوں میں سکول جاتے ہوئے ہمارا ناشتہ بھی تو شاہانہ ہوتا ۔ رات کو بادام کی گریاں بھگو دی جاتیں ۔ صبح ان کے چھلکے اتار کر اپنے ہاتھوں سے انہیں لنگری میں کوٹ کر سردائی  تیار کر کے اپنے ہاتھوں سے پلاتیں ۔ کوئی  گرائنڈر بھلا ایسی کمال کی چیز تیار کرتا ہو گا ۔

مجھے مکئی کی روٹی بہت پسند تھی ۔ اتوار کو خاص طور پر میری فرمائش پر مکئی کی روٹی بنتی ۔ جس کے ساتھ ساگ لازمہ ہوتا جو ایک دن پہلے ہلکی آنچ پر مٹی کی ہنڈیا پر گھنٹوں پکتا رہتا۔ ابا کو اسکے گھوٹنے سے چڑ تھی ۔ تو اماں اسے خاص طور پر ایسی محنت سے پکاتیں کہ گھوٹنے کی نوبت ہی نہ آتی ۔

امی کے ہاتھ سے بنی باجرے کی میٹھی روٹی چھوڑنے کو کس کافر کا جی چاہتا ہو گا ۔ ملائی  اور مکھن میں گندھے آٹے سے بنی روٹی جس کا کمال یہ تھا کہ بالکل باریک اور خستہ مجال ہے جو ہاتھ رک جائے ۔
سوچیے آپ کے باورچی خانے میں کیبنٹ ہو نہ جدید سہولیات، گیس کا چولہا ہو نہ کوئی الیکٹرک اوون ۔ ماں جی نے خاص طور پر کوئلوں والی انگیٹھی بنوا رکھی تھی جس میں بسکٹ بنا ئے جاتے تو ان کی خوشبو اور  تازگی دل دماغ کو مہکائے دیتی ۔
اچار ، مربے چٹنیاں ہر طرح کے جام خود اپنے ہاتھ سے تیار کرتیں ۔
سلیقہ شعار ایسی کہ دودھ بھی کبھی خراب ہوا تو اسے خوش ذائقہ کھوئے میں بدل ڈالا ۔ تازہ دہی کو رات ململ کے کپڑے میں باندھ کر چھینکے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا جو صبح تک انتہائی  لذیذ پنیر بن چکا ہوتا۔ ۔

شادی ہوئی  تو امی سرکاری سکول میں معلمہ تھیں۔ ابا نے یہ کہہ کر نوکری چھوڑ دینے کی ہدایت کی کہ میں ان مردوں میں سے نہیں جو کام سے گھر واپس لوٹیں تو دروازے پہ تالا پڑا ہو ۔ اور وفا شعار بیوی نے کئی سالہ نوکری چھوڑنے میں کوئی  تامل نہ کیا ۔

ساری زندگی پردے اور چار دیواری میں بسر کرنے والی خاتون کو ایک اور امتحان اس وقت درپیش ہوا جب دادا جی کے اصرار پر ابا کو بھینس خرید کر گھر لانا پڑی ۔ آفرین ہے اماں پر کہ دہلیز چھوڑے بغیر پردے میں رہ کر بھینس کو سنبھال کر دکھا دیا۔ اس کا دودھ دوہنے سے لے کر گوبر سنبھالنے اور نہلانے تک کے سارے جتن خوش اسلوبی سے انجام دے کر اس امتحان میں بھی سرخرو ٹھہریں ۔
گھر گرہستی ، سگھڑاپے سلیقہ شعاری کی یونیورسٹی تھیں ماں جی ۔

کیسا تھا پراٹھا؟
اختر وزیر کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔
میں تصور کی دنیا سے واپس لوٹا تو سامنے ماں جی کے ہاتھ سے بنے نہیں یہ تو شنواری کے پراٹھے تھے ۔اختر وزیر میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر بولے لگتا ہے ناشتہ پسند نہیں آیا ؟
پھر خود ہی کہنے لگے ہاں جی آپ برانڈڈ کھانے پسند کرتے ہیں بھلا آپ کو یہ ناشتہ کیوں پسند آنے لگا۔
بے اختیار میرے ہونٹوں سے نکلا ٹھیک سمجھے میرے دوست
جس برانڈ کی لت مجھے لگی ہے اس کے بعد واقعی اب کونسا پکوان مجھے پسند آئے گا ۔
اختر حیرانی کے عالم میں پوچھنے لگے بھائی  جان وہ کونسا برانڈ ہے ؟
اب میرے لبوں پہ مسکان تھی اور آنکھوں کے سامنے شفیق ماں کا  چہرہ
کہا ہے کوئی  برانڈ ممتا کے جیسا!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *