اسلامی تصوف بارے ایک سیکولرموقف۔۔۔سلیم جاوید/قسط5

اسلامی تصوف کی چوتھی منزل وہ ضخیم فلسفیانہ لٹریچر ہے جسے”علم لدؔنی” کا نام دیا گیا ہے( اس منزل کو میں بلیک زون کا نام دیتا ہوں)- میری رائے ہے کہ اس لٹریچر کو گیارہ سو”کے وی” کی ننگی تار سمجھ کر دور رہا جائے- (“علم لدٗنی” کی اصل سے خاکسار کو اختلاف نہیں مگرسادہ سی “داستان حرم” کو”فسانہ عجم” بنانے پرناگواری ضرورہے)-

مضمون اندازے سے زیادہ طویل ہوتا جارہا ہے لہذا ذیل میں ہم تین عنوانات کے تحت ایک مختصرگفتگو کریں گے-

1- علم لدٗنی کیا ہے؟

2- تکوینی نظام کیا ہے؟-

3- علم لدنٗی کے حصول کا طریقہ-

1–علم لدنی کیا ہے؟-

عربی کا ایک لفظ ہے” من لدنٗا” یعنی ہمارے طرف سے “فرام مائی  سائیڈ- (شہادۃ من لّدنی- میری طرف سے سرٹیفیکٹ)- قرآن میں ایک جگہ جنرل سی بات کی گئی کہ خضر کوہم نے اپنی طرف سےعلم دیا- مگراس آیت کے لفظ “لدّنا” کو باقاعدہ ایک اصطلاح “علم لدٗنی” بنا کر، پہاڑ جتنا لٹریچر تیارکرلیا گیا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ خدا،اپنے چنیدہ بندوں کو اپنی طرف سے خاص یا سّری علم ودیعت کرتا ہے-یہ علم عوام کی سمجھ میں نہیں آسکتا –پس انکو “خاص بندوں” کی اندھی اتباع کرنا چاہیے-

اب اس بارے خاکسار کی گذارشات ملاحظہ فرمائیں-

علم کی تین قسمیں آپ جانتے ہیں- کتابی علم، اکتسابی علم اوروہبی علم- کتابوں سے علم حاصل کرنے والے کو “عالم” کہتے ہیں جبکہ تجربہ سے علم پانے والے کو”ماہر” کہتے ہیں- جب کوئی بندہ اپنے کتابی یا اکتسابی علم پرعقل اور دل کی پوری لگن کے ساتھ، اپنا مال اور وقت لگاتا ہے (جسے” مجاہدہ” کہتے ہیں)، تو اس آدمی پر، اس علم وفن کے ایسے رموز کھلتے ہیں جو کتابوں میں لکھے نہیں ملتے-(لنھدینھم سبلنا)- اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں آدمی کو اس فن کا”ملکہ” حاصل ہوگیا ہے-

ہمارے ہمسائے میں چاربھائی رہتے تھے جوسارے ہی ٹرک مکینک تھے (بڑا بھائ استاد تھا)- ایکبار گرمیوں میں، بعد عشاء ہمارے صحن میں بیٹھے ثوبت کھارہے تھے کہ دوفرلانگ دورایک گاڑی کے گذرنے کی آوازآئی- بڑے بھائی نے آواز سن کرکہا کہ “اس کے انجن کا حصہ آواز دے رہا ہے(یعنی خراب ہے)-سب حیران رہ گئے- بعد میں پتہ چلا کہ درست کہہ رہا تھا- اس علم کو” وہبی علم” کہتے ہیں- یہ بندے کی لگن اور مجاہدے کی بنا پرالقاء ہوجاتا ہے( جیسے ارشمیدس پرغسل کرتے ہوئے القاء ہوگیا)- خاکساراسی کوعلم لدنی کہتا ہےکہ خدا کی طرف سے ایک گرہ کھل جاتی ہے-

صوفیاء مگر” علم لدنی” کی اپنے انداز سے تعریف کرتے ہیں- انکا کہنا ہے کہ اس دنیا میں دوقسم کے نظام ہردم جاری وساری ہیں- ایک تشریعی نظام ہے اورایک تکوینی نظام ہے( جسکی وضاحت اگے کروں گا)- صوفیاء کاخیال ہے کہ تشریعی نظام کو سمجھنے والے علماء ہوتے ہیں مگرتکوینی نظام کو سمجھنے کیلئے”علم لدنی” درکارہوتا ہے جو اولیاء کے پاس ہوتا ہے-

اس ساری بات پہ خاکسار کاتبصرہ یہ ہے کہ اس فانی دنیا میں سب سے قیمتی علم، خدا کی پہچان ہے- اس لگن کے ساتھ آپ کتابی علم پڑھیں گے توآپ عالم کہلائیں گے-آپ غور وتدبرکے ذریعہ اکتساب علم کریں گے تو آپ ذاکروشاغل کہلائیں گے –جب آپ خدا شناسی کو ہی نصب العین بنا لیں گے تو خدا آپکو اپنے تعارف کا علم “القاء” کرے گا- اس وقت آپکو عارف کہا جائے گا-(خدائی  علوم کے علاوہ دنیاوی علوم کی بھی یہی ترتیب ہے)-پس عارف وہ شخص ہے جو ہرلمحہ، خدا کی قربت کی لذت میں سرشار رہتا ہے- اسکوبرقت پتہ چل جاتا ہے کہ حال کے امرمیں خدا کس بات پہ خوش ہوگا؟- اسی کو”علم لدنی” یا “وہبی علم” کہتے ہیں-

چنانچہ، علم لدنی کی اصل سے خاکسار کو اختلاف نہیں ہے مگراسکی آڑ میں عجمی فسلفے کو اسلامائز کرنے پراعتراض ہے-

بعض جینئس  لوگوں نے اپنی قوت تخیل اورطاقت لسانی کی بنیاد پرایک فلسفہ “علم لدنی” کا نام دیکر کھڑا کردیا جس میں بزرگوں سے منقول محیرالعقول واقعات، علم کلام کی پیچیدہ بحثیں ( جس میں یونانی، ہندی اور فارسی جوگ کی آمیزش ہے) اورشاعرانہ تخیل کو گھول کرشامل کردیا- عموماً اسکا شکار سادہ دل و دماغ کا مالک طبقہ ہوا کرتا ہے-

2- تکوینی نظام:

ایک تشریعی نظام ہوتا ہے اورایک تکوینی نظام-

پوچھا جائے کہ آیک آدمی، ایک حسین عورت پرکیوں مرتا ہے؟ جواب ہوگا کہ اسکا سبب ،اس عورت کی صفت حسن ہے- پوچھا جائے کہ ایک آدمی ایسی عورت پرمرتا ہے جس میں کوئی  قابل ذکرصفت بھی نہیں ہے تواسکی وجہ کیا ہے؟- تو جواب خاموشی ہوگا-

ایک آدمی اپنے ملازم کو تنخواہ کیوں دیتا ہے؟- اسکی خدمات کے بدلے- ایک آدمی ایک میٹھے گانے کے بول سن کر کیوں اس گلوکار پہ نوٹوں کی بارش کردیتا ہے؟-جواب پیچیدہ ہے-

اوپردومثالوں میں دوجملے بیان ہوئے اور ہردو میں دوفریق ہیں-

پہلے جملے کو تشریعی نظام کہاجائے گا کیونکہ ایک فعل کا سبب( علت) اور اسکا نتیجہ قابل فہم ہے- دوسرے جملے میں”کیسے ہوا؟” سے زیادہ”کیوں ہوا؟” ناقابل فہم ہے کہ اس میں ایک فریق کو کسی خاص وجہ سے یا تو”جزا” دی گئی ہے یا “سزا” دی گئی ہے- اسکو تکوینی نظام کہتے ہیں-

صوفی لٹریچرمیں مگراس تکوینی نظام کی عجیب وغریب تفاصیل درج ہیں- مثؒلاً   پوری دنیا کا تکوینی نظام، ایک قطبِ ارشاد یا قطب الاقطاب چلاتا ہے- جسکے نیچے سات قطب اور چالیس غوث یا ابدال ہوتے ہیں- پوری دنیا کے زندہ اولیاء، ہرجمعرات کی شب، خانہ کعبہ میں ملا کرتے ہیں- مرے ہوئے نیک مسلمانوں کی روح چاہ زمزم میں، جبکہ برے مسلمانوں کی روح حضرموت کے کنویں میں قید رکھی جاتی ہے- جذب، حلول، نقل نسبت، حال کا آنا، مکاشفات، رجال غیب، کشف القبور وغیرہ وغیرہ، ایک طلسمی دنیا کی داستان ہے-

معلوم نہیں یہ اصلی خبر ہے یا فیک، مگرکہیں پڑھا تھا کہ زمین پرکسی دوسرے سیارے کی مخلوق کےانسانوں کے اندرموجودگی کے آثار معلوم ہوئے ہیں- بہرحال، قرآن بتاتا ہے کہ دوفرشتے( ہاروت ماروت) انسانوں کے اندر جادوگروں کی شکل میں بستے رہتے تھے- یہ بھی قرآن نے بتایا کہ حضرت خضر نامی ایک بندہ حضرت موسی کے وقت موجود تھا- وہ بندہ تھا مگرنہ تو موسی کا امتی تھا نہ ہی الگ نبی (ورنہ اسکی قوم کا ذکرہوتا)- چنانچہ، یہ خاکسار ،رجال غیب اورمکاشفات وغیرہ صوفی اصطاحات کوغیرعقلی قرارنہیں دیتا- یہ کائنات اسرارسے پرہے – کسی کو خواب میں مستقبل کی خبرمل جانا توبہت چھوٹی بات ہے-خاکساراس کو بھی ناممکن نہیں سمجھتا کہ خواب میں کسی کوہدیہ دیا جائے اوروہ جاگے تووہ چیز ٹھوس حالت میں اسکے پاس موجود ہو- انسانی دماغ کی گہرائیوں کو کون ماپ سکتا ہے؟

مقصود صرف یہ ہے کہ اس مزعومہ تکوینی نظام سے آگاہی حاصل کرنا جب ایک مسلمان کے ذمہ ہی نہیں( نہ ہی یہ ہرکسی کے بس کی بات ہے) تو اس طرف کیوں جایا جائے؟ – یہ ایسی مبہم اورخطرناک راہ ہے جس میں لگنے سےعقل وہوش سے محرومی یا کم ازکم معاشرے میں فعال انسانی کردار اداکرنے سے محرومی کا قوی اندیشہ ہے-

3- علم لدّنی کے حصول کا طریقہ:

صوفی لٹریچر میں جنات، رجالِ غیب اورروح کی تسخیرکیلئے ، سحرونظرکے علاج کیلئے اورسات عالم کی سیرکیلئے عجیب وغریب طریقے وضع کیے گئے ہیں-ان میں سے کچھ تو فقط جنترمنترٹائپ چیزیں ہیں-( مثلاً رجال غیب کو بلانے کی لمبی دعا ” بسم الله الرحمن الرحيم ولا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وسلم . السلام عليكم يارجال الغيب ورحمة الله وبركاته السلام عليكم يا أرواح يامقدسة أعينونى لوجه الله بقوة وانظروا الي بنظرة ياقطب الغوث ياأقطاب يا احباب يانقباء يااوتاد يا ابدال—الخ- اس عبارت میں صوفیاء کی درجہ بندی ملاحظہ کیجیے)

مگرزیادہ ترعملی مشقیں بیان کی گئی ہیں جو کہ انسان کے لطیف جسم میں موجود “لطائف ستہ” کو بیدار کرنے کیلئےکی جاتی ہیں-

بسا اوقات یہ مشقیں ، نہ صرف شرع محمدی سے ٹکراتی ہیں بلکہ انسان کی جان کیلئے بھی نقصان کا باعث بن جایا کرتی ہیں( خاکساراس ضمن میں خود بھی کچھ نقصان اٹھا چکا ہے)-

یہ کہا جاتا ہے کہ ایک صوفی سالک / مبتدی کوترقی دینا ہوتی ہے توپہلے اسے “عالم ناسوت” سے “عالم ہاہوت” تک بطورمہمان سیرکروائی جاتی ہے- ( ایک صوفی بزرگ نے مجھے بتایا تھا کہ اس سیر کے دوران ہی منصورحلاج جب عالم جبروت تک پہنچا تواسکا ضبط جواب دے گیا تو اس نے خود کو خدا کے منصب پہ پایا اور” انا الحق” کا نعرہ لگادیا اور اسی سیرکے دوران مرزا قادیانی مقام نبوت سے گذرا تو اسکا ظرف جواب دے گیا اور اس نے خود کو نبی کہہ دیا )-

ملامتی صوفی نامی گروہ ایک الگ ہی ناٹک ہے -نشہ بالخصوص چرس( درویشی نشہ) کا استعمال کرنا اورغلاظت میں لتھڑے رہنا تودیوبندی صوفیاء سے بعید ہے مگرپھر بھی بعض ایسے امور انکے ہاں بھی رائج ہیں جونارمل نہیں کہے جاسکتے-

دیکھیے، صوفی لٹریچراصلا” محبت کے جذبے کی اساس پرمبنی ہے اوراس میں انسان دوستی بارے اتنا کچھ موجود ہے کہ جدید سیکولرزم، ہیومینزم اور گلوبلزم کے داعی زور لگا کربھی وہاں نہیں پہنچ سکتے-مگر اسکے باوجود، خاکسار آپکو صوفی لٹریچر سے دور رہنے کی ہدایت کرتا ہے تو اسکی ایک وجہ ہے- اس بارے ایک مثال عرض کرتا ہوں-

مولانا رومی فرماتے ہیں ” عورت خدا کا نور وعکس ہے- وہ تمہاری محبوبہ نہیں ہے بلکہ تمہاری خالق ہے- تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ وہ مخلوق نہیں ہے”- اب دیکھیے کہ یہ کتنی پیاری بات کی گئی ہے- مگراسی کو بڑھا کرچڑھا کر، ہندوازم کا دیوی دیوتاؤں والا فلسفہ مکس اپ کرتے ہوئے صوفی حضرات یہاں تک پہنچ گئے کہ مسجد کی محراب ، دراصل عورت کے اندام نہانی کا عکس ہے پس سجدہ میں جانا ، دراصل واپس ماتا کی کوکھ میں جانا ہے ( یعنی اصل کی طرف لوٹنا ہے)- ایسی باتیں ہی صاف وسادہ اسلام میں ملاوٹ پیدا کرتی ہیں مگر یہ باتیں بہت دل چسپ ہوتی ہیں تو آدمی کا ذہن اسکا اسیر ہوتا چلا جاتا ہے-

میں علم لدنی کے موضوع کو اس لئے بھی طول نہیں دینا چاہتا کہ عین ممکن ہے صوفیاء سے جو اقوال منقول ہیں ، وہ کسی بیرونی ہاتھ کی کارستانی ہو- جب پیغمبر اسلام سے جھوٹی احادیث منسوب کی جاسکتی ہیں تو صوفیاء کی پراسرار دنیا میں نقب لگانا کیا مشکل بات ہے؟- جیسے امام ابوحنیفہ کے کوتاہ مغز مقلدین نے اپنے امام کی بے پناہ ذہانت کو ثابت کرنے کیلئے ایسے ایسے قصے گھڑرکھے ہیں امام صاحب ، فقیہہ کم اور طلاق کا ایکسپرٹ زیادہ معلوم ہوتا ہے ، ویسے ہی معروف صوفی بزرگوں کے دماغ بند مریدوں نے بھی اپنے پیرکی بزرگی منوانے کیلئے خود سے روایات گھڑ دی ہوں گی-(پیراں نمی پرند، مریدان می پرانند)-

مگر اس سارے حسن ظن اورتاویلات کے باوجود، سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمیں قرآن کافی نہیں ہے؟- اگر ہے اور یقیناً ہے تو ہمیں سری یا باطنی علوم کے نام پرمغزکھپائی کی ضرورت ہی کیا ہے؟- جس راہ جانا نہیں تو اسکی مسافت ماپنے سے فائدہ؟- اپنے اندر انسانیت سے محبت پیدا کیجیے کہ یہی روح تصوف ہے- یہ محبت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہر انسان میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی ایسی خوبی نکال لایئے کہ وہ خود بھی حیران ہوجائے- مگر اس مشق کیلئے بھی ضروری ہے کہ پہلے انسانوں کے ساتھ رہن سہن تو سیکھ لیا جائے- (جو انسانوں کے ساتھ رہ نہیں سکتا تو انسانوں کوبرت کیسے سکتا ہے؟)-

آجکل کی “پرائیویسی کانشنس” سوسائٹی میں کوئی  آپکواپنا بیڈ روم دکھانا نہیں چاہتا تو دن رات آپکے ساتھ بھلا کیسے رہے گا؟- اس مشق کیلئے تومجھے ایک ہی پلیٹ فارم نظر آتا ہے- کچھ دن تبلیغی جماعت کے ساتھ رہ کردیکھیے-شاید کہ آپ روح تصوف تک پہنچ پائیں-

مضمون کا اختتام ہوگیا ہے، تاہم بطور تتمہ کچھ گزارشات ہیں جو اگلے صفحہ پرعرض کی گئی ہیں-

جاری ہے

اسلامی تصوف بارے ایک سیکولرموقف۔۔۔سلیم جاوید/قسط4

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *