اسلامی تصوف بارے ایک سیکولرموقف۔۔۔سلیم جاوید/قسط4

اسلامی تصوف کی دنیا کا تیسرا دروازہ “شیخ کی بیعت” کرنا ہے (جسے میں “ریڈ زون ” کا نام دیتا ہوں)- اسے ایک خطرناک منطقہ سمجھتا ہوں تاہم اس پہ کوئی فیصلہ کُن رائے دینے سے بھی قاصر ہوں جس کا سبب آپ کوذیل کی بحث سے معلوم ہوجائے گا-

دیکھیے، تصوف کی بنیاد جس اصول پر قائم ہے وہ ہے”صحبت صالح ترا صالح کند”- میرا نہیں خیال کہ اس اصول میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہے-

فرنچ سائنسدان مسٹر چارلس کولمب نے باقاعدہ تجربہ سے یہ سائنسی اصول دریافت کیا تھا کہ ایک بڑا مادی جسم، ایک چھوٹے مادی جسم کو اپنی طرف کھنچتا ہے- ( “کشش” کیا چیزہوتی ہے؟-اوربے جان جسم بھلا کیسے کشش کی قوت رکھتا ہے؟)- ماحولیات کے ایکسپرٹ بتاتے ہیں کہ اونچے پہاڑوں کے اوپرآکسیجن کم ہوتی ہے- اگرمیدانی علاقے کےلوگ وہاں نقل مکانی کرلیں تو آکسیجن کی کمی کو ایڈجسٹ کرنے، اگلی نسلوں میں ا ن کی ناک کا سائزبڑھ جائے گا- جب غیرجاندار اجسام اورماحول کا بھی انسان پہ اثر پڑتا ہے توکیسے ممکن ہے کہ کسی انسانی کی صحبت کا انسان پہ اثر نہ پڑتا ہو؟- صوفیاء کہتے ہیں کہ بکری چرانے والوں میں عاجزی، گھوڑے والوں میں تکبر، اونٹ والوں میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے- حتی کے دریا کنارے رہنے والوں میں بزدلی اورکھلے صحن کے گھر میں رہنےوالوں میں سخاوت پائی جاتی ہے( بندہ صحرائی اور مرد کوہستانی کی فطرت ایک ہوتی ہے)-

پس کسی شیخ کا اثر، مرید میں منتقل ہوجانا کوئی ایسے اچھنبے کی بات نہیں ہے-( شیخ اگرذاکرشاغل ہے تو مرید بھی اسکی صحبت کی وجہ سے ویسا ہوتا جائے گا- شیخ اگر ماتھے پرمحراب کے باوجود، بنی نوع انسان سے نفرت کا پرچارک ہے تو وہی جذبہ مرید میں بھی سرائیت کرتا جائے گا)-

” بیعت” کا نظام یہ ہے کہ ایک آدمی، اپنی طبیعت کوخاص رنگ میں ڈھالنے کی خاطر، اسی رنگ کی مجلس وصحبت کو اختیار کرنے کا رسمی عزم کرتا ہے- صوفیاء کے سب سلسلوں میں بیعت کا نظام قائم ہے جسکی صورت یہ ہے کہ مرید(طالب) اپنا ہاتھ ، ایک شیخ( پیرصاحب) کے ہاتھ میں دیکر، اسکی اتباع کیلئے کچھ مخصوص الفاظ دہراتا ہے( اسکو آپ “حلف نامہ” یا “ڈکلیریشن” کہہ لیجیے)- اس رسم کے بعد گویا باقاعدہ طور پر استاد شاگرد کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے-” بیعت” کی ٹرم، عربی لفظ”بیع” سے نکلی ہے جس کا معنی “فروخت کرنا ” ہوتا ہے- بیعت کا مطلب یہ ہے کہ مرید نے اپنی جان، اپنے پیرصاحب کو فروخت کردی ہے(یہ محاورتا” بات ہے جیسا کہ خدا نے مومنین کا جان ومال خرید لیا ہے)-

یہ خاکسار منطقی طور پراس نظام کی تائید کرتا ہے کہ زندگی میں کسی مخلص دانشورکو اپنا راہنما بنالیا جائے-

آدم کا ہربچہ خطاکار ہے مگرہرآدمی میں خاص ایک منفرد کمزوری (ڈارک سیکرٹ) بھی ہوتی ہے- بہت ضروری ہے کہ کسی ایسے دانش مند آدمی کے ساتھ اس کمزوری کو شیئر کیا جائے جو پردہ پوشی بھی کرسکتا ہو، علاج بھی کرسکتا ہو اور بوقت ضرورت ، مریض کواسکی “خاص حالت” میں سنبھال بھی سکتا ہو- یہ آدمی آپکا سچا دوست یا مخلص استاد ہوگا- آپ ایسے شخص کو ” فیملی ڈاکٹر” کی طرح” ذاتی سائیکاٹرسٹ ” بھی کہہ سکتے ہیں-شیخ کہنے میں بھی حرج نہیں-

اسی طرح، خدا نے ہر آدمی میں ایسی ایک خاص خوبی رکھی ہوتی ہے جو کسی دوسرے آدمی میں نہیں ہوتی- گاہے خود وہ آدمی بھی اپنی اس خاص خوبی یا منفرد صلاحیت سے بے خبرہوتا ہے- بہت ضروری ہے کہ کسی ایسے دانش مند آدمی کی دوستی میسرہوجو اس خاص خوبی کو ڈیٹکٹ کرسکتا ہو، اسکی حوصلہ افزائی کرسکتا ہو اوراس آدمی کوسماج میں پروموٹ کرسکتا ہو( اوراسکی وجہ سے ساری سوسائٹی مستفید ہوجائے)- آپ ایسے شخص کو “سپیشل ٹرینر”بھی کہہ سکتے ہیں مگرشیخ کہنے میں بھی حرج نہیں-

جب آپ نے اپنی ذاتی زندگی کیلئے ایک ایساراہنما ڈھونڈ ہی لیا تو پھرکامن سینس کا تقاضہ ہے کہ اسی ایک کے ساتھ ہی منسلک رہیے-( اپنے گھرکا روزانہ کا سودا سلف لینے کیلئے بھی اگرایک ہی دکاندارمقررکرلیا جائے تو اس میں کئی فائدے ہیں)-اگرایسے راہنماء کے حلقہ احباب میں (فرینڈزسرکل میں) میں باقاعدہ طور پررجسٹر ہونے کیلئے کوئی “اقرارنامہ” یا کوئی رسم اداکرنا پڑے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں – آپ اس رسم کو” بیعت” کو نام بھی دے سکتے ہیں-

مسئلہ مگرآگے شروع ہوتا ہے جب “بیعت” کی اس رسم کو ایک دینی رنگ دیا جاتا ہے (بلکہ اس کواسلامی ضرورت قراردینے کیلئے شرعی دلائل مہیا کیے جاتے ہیں)- ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جس کے گلے میں بیعت کا طوق نہیں، وہ جہالت کی موت مرا۔۔ اب اس پرخاکسار کی معروضات ملاحظہ فرمائیں-

قرآن پاک میں مسلمانوں سے “بیعت” کا تذکرہ صرف ایک مقام پرملتا ہے جب صلح حدیبیہ کے موقع پرنبی اکرم نے صحابہ سے قریش مکہ کے خلاف لڑنے مرنے پربیعت لی تھی- ظاہرہے کہ یہ بیعت “دعوت وارشاد” والی نہیں تھی جوصوفیاء میں رائج ہے- بلکہ اس واقعہ سے “بیعت” کی رسم کی شرعی صورت کا استدلال بھی نہیں کیا جاسکتا ہے- خاکسار،اس بیعت کو رسول اکرم کی “سیاسی حکمت عملی” سمجھتا ہے- اس وجہ سے کہ مکہ کے جوارمیں ہونےکے باعث کفار کو لشکراسلام بارے برابراطلاعات پہنچ رہی تھیں- لہذا، “موت پر بیعت” والا مظاہرہ کیا گیا جسکی اطلاع کفار کو فوراً مل گئی اور ان کے حوصلے پست ہوئے اور وہ صلح کے معاہدہ کی طرف آ گئے تھے- ورنہ رسول اکرم نے اپنی زندگی کے دیگر پچیس غزوات میں کبھی صحابہ سے اس طرح بیعت نہیں لی جس طرح حدیبیہ کے موقع پر لی تھی- پس یہ ایک استثنائی واقعہ ہے-

قرآن سے ہٹ کر، بعض روایات میں البتہ بیعت بارے کچھ واقعات رپورٹ کئے گئے- مثلاً، رسول اکرم نے عورتوں کویوں بھی بیعت کیا کہ پانی کے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور بیعت کرنے والیوں نے بھی اس میں ہاتھ ڈال کر”حلف نامے ” کے الفاظ دہرائے( عمامہ پربیعت کا تذکرہ بھی آتا ہے)- ان روایات کودرست بھی مان لیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا صحابہ میں سے بھی کسی نے عمامہ پریا پانی میں ہاتھ ڈال کرکسی سے بیعت لی ہے؟ اگر نہیں توپھر یہ خاص خدا کے رسول کا فعل ہوا-امتی کویہ سٹیٹس حاصل نہیں- کسی کواسلام میں داخل کرنے کیلئے بھی فقط کلمہ شہادت پڑھوایا جاتا تھا- ایک آدھ روایت میں یوں ہے کہ کسی کافر کو مسلمان کرتے ہوئے رسول اکرم نے اسکا ہاتھ لیکربیعت کروائی مگریہ بھی رسول اکرم کے ساتھ ہی خاص ہے- صحابہ کسی ” سریہ” میں فتح حاصل کرتے تووہاں کے کفار کواسلام میں داخل کرانے کیلئے کلمہ شہادت ہی پڑھوایا جاتا تھا – کیا صحابہ نے کبھی کسی کا ہاتھ ، اپنے ہاتھ لیکربیعت لی تھی؟-

البتہ، “بیعت” کی ایک صورت، جو دور صحابہ سے لیکرآج تک تواترکے ساتھ ثابت ہے، وہ ہے مسلم خلیفہ کی اطاعت کی بیعت کرنا- اوپرجس حدیث شریف کا حوالہ دیا ہے( جسکے گلے میں بیعت کا طوق نہیں ، وہ جہالت کی موت مرا)، اسکا اشارہ بھی “ولی الامر”کی بیعت کی طرف ہے کیونکہ اپنے حکمران پرراضی نہ ہونے والا آدمی ، قومی اجتماعیت سے باہرہوگا (جو کہ جہالت کی بات ہے)- اس حدیث شریف کو اگر صوفیاء کے سلاسل والی “بیعت” پرمنطبق کیا جائے تو بات نہیں بنتی کیوں کہ یہاں تو سینکڑوں صوفی سلسلے موجود ہیں- ظاہر ہے کہ آپ ایک وقت میں ایک ہی شیخ کی بیعت کریں گے- جبکہ ممکن ہے کہ دوسرا شیخ ہی اصل طریق پرہو- پس آپ توایک کی بیعت کرنے کے باوجود بھی” جہالت” میں ہی رہے کیونکہ آپکے گلے میں اصلی طوق نہیں تھا-( حضرت اویس قرنی ، حضور کے زمانہ میں یمن میں رہتے تھے- مسلمان توہو گئےتھے مگرحضور کے ہاتھ میں ہاتھ دینا تو درکنار، کبھی زیارت بھی نہیں کی- تو کیا وہ بغیر”بیعت” کیے فوت ہوگئے تھے ؟)-

چنانچہ خاکسار کے نزدیک صوفیاء کا” بیعت کا نظام” ایک خود ساختہ طریقہ کار ہے-(مگرظاہر ہے کہ کفرنہیں ہے)- اگر بیعت کرنا ایک عقیدہ کی بجائے، ایک اصلاحی سٹرٹجی ہے تواس میں شرعاً کوئی مضائقہ بھی نہیں- (حضور کے وقت میں مدارس کا نظام بھی موجود نہیں تھا- جہاد کے لئے کوئی باقاعدہ لشکر بھی موجود نہیں تھا-تبلیغی جماعت والا طریقہ بھی نہیں تھا- یہ سب انتظامی باتیں ہیں اوراس کوگناہ وثواب سے نہیں جوڑنا چاہیے)-

لگے ہاتھوں، تنظیم اسلامی کی طرف سے نظام خلافت کے قیام کیلئے بیعت کے نعرے پربھی بات ہوجائے-

ڈاکٹر اسراراحمد مرحوم ومغفور نے بیعت”سمع وطاعت ” کا سلسلہ متعارف کرایا تھا- خاکسار نے اگرچہ یہ بیعت نہیں کی تھی مگراس سے اتفاق رکھتا تھا- تاہم، انکے اخلاف کی طرف سے وضع کیے گئے نعرے پرضروراعتراض ہے-

دیکھیے، ایک نظام حکومت- پارلیمانی ہو، صدارتی ہو، ڈکٹیٹر شپ ہو، مارشل لاء ہویا خلافت ہو، ان میں سے کوئی  طریقہ بھی شرعی یا غیرشرعی نہیں ہوا کرتا- اسلامی معاشرہ کیلئے قرآن تین باتیں بیان کرتا ہے-(1)- حکمران منصف ومتقی ہو-(2) نظام حکومت رعایا کی خیرخواہی اور میرٹ پرمبنی ہو-(3) رعایا کو اپنے منصف حاکم کی اطاعت ومدد کرنا چاہیے-

باقی یہ کہ انسانوں کے ہرگروہ کواپنے لئے اقتدار حاصل کرنے کا حق حاصل ہے مگریہ فرض نہیں ہے- قرآن میں مسلمانوں پریہ ذمہ داری نہیں دی گئی کہ وہ ضرورحکومت حاصل کریں- (صرف یہ بتایا گیا کہ اگر مسلمانوں کواقتدارمل جائے تووہ کیا پالیسی اختیار کریں)-

ایک غلط فہمی عام کی گئی ہے کہ چونکہ اسلام کے بہت سے احکام، حکومت سے متعلق ہیں(جواسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے انجام پذیر نہیں ہوسکتے) لہذا حکومت کا حاصل کرنا ایک شرعی فریضہ ہے- عرض کرتا ہوں کہ قرآن نے سینکڑوں بار زکواۃ اداکرنے کا حکم دیا ہے- مگرکیا قرآن نے یہ بھی لازم کیا ہے کہ “زکواۃ” کا قرآنی حکم پورا کرنے کیلئے پہلے ہرآدمی کا مالدار ہونا ضروری ہے ورنہ خدا کا خاص حکم بھلا کیسے پورا ہوگا؟-جیسے زکواۃ کے بیان سے مقصود صرف اتنا ہے کہ اگرتم مالدارہوتو پھراسکے احکام پورا کرو، ویسے ہی حکومت بارے بیان ہے کہ جب اقتدار مل جائے توایسا کرنا- مال ودولت یا اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا، مسلمان کیلئے منع نہیں بلکہ مستحسن ہے مگریہ دینی فریضہ بھی نہیں ہے- کیا اگرسارے مسلمان غریب رہ جائیں توکیا اسلام ادھورارہ جائے گا؟-

بہرحال، خاکسار کےعلم میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے جس میں رسول اکرم نے اپنی زندگی میں کسی موقع پرخلافت کے قیام کیلئے بیعت لی ہو- (حضور نے تو اپنا خلیفہ تک نامزد نہیں کیا )- کوئی خاص نظام حکومت قائم کرنے پر”بیعت لینے” کی مثال تو خاکسار کو کہیں نہ ملی البتہ مسلمانوں کے موجود نظام حکومت کو الٹنے پربیعت لینے کی ایک مثال ملتی ہے جس پرصحابہ کی اکثریت متفق نہیں ہوئی تھی- (یعنی اجماع امت نہیں ہوا تھا)-چنانچہ، تنظیم اسلامی کا بیعت پروگرام، اگر کوئی  سیاسی سٹنٹ ہے تویہ انکا حق بنتا ہے مگراسکو شرعی منہج قراردینے پرتائید نہیں کرسکتا-

مذکورہ بالا جملہ معترضہ کے بعد، واپس اپنے صوفی سلسلہ کی بیعت کی طرف آتے ہیں-

صوفیاء کے ہاں یہ رسم ہے کہ کوئی آدمی اپنی اصلاح کرانا چاہتا ہے تو وہ ایک شیخ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دےکرگویایہ حلف اٹھاتا ہے کہ آئندہ اپنے شیخ کی مرضی سے زندگی گذارے گا اور اسکی کامل اتباع کرے گا- (اسکی تشریح یوں کی جاتی ہے کہ شیخ کے واسطے سے دراصل نبی اکرم کی اتباع مقصود ہے)-

شیخ کے ہاتھ پر اس نیت سے بیعت کرنا کہ میں شیخ کی ہربات مانوں گا- یہ تبھی ممکن ہے کہ آپ کو اپنے شیخ پرکسی غلطی کی بدگمانی نہ ہو- جو آدمی ڈاکٹر سے آپریشن کراتے ہوئے ،اسکی نالائقی کاخدشہ بھی ذہن میں رکھے تو پھر ہوگیا علاج – بھائی ، ڈاکٹر کو ڈھونڈتے ہوئے ہزارتفتیش کی جائے لیکن جب ایک ڈاکٹر کومنتخب کرہی لیا توپھراس پہ کامل اعتبارکیا جائے-( ہاں یہ عقیدہ اپنی جگہ کہ صحت دینا خدا ہی کے ہاتھ میں ہے)-

مزید یہ کہ جب آپ نے یہ مان لیا کہ آپکا راہنما، آپکے ساتھ مخلص بھی ہے اور آپ سے زیادہ سمجھدار بھی ہے تو ظاہر ہےکہ پھراسکی وہ باتیں بھی ماننا چاہئیں جوآپکی سمجھ سے باہرہوں( اگر صرف وہی باتیں ماننی ہیں جو آپکی سمجھ دانی میں آسکیں تو اسکو اپنا معالج یا کوچ کیوں مانا ہوا ہے؟)- چنانچہ، اپنے شیخ کوکامل سمجھنا ، اس سے کمال محبت کرنا وغیرہ بیعت کے ضمنی اثرات ہیں اوراس میں بھی کوئی خاص مضائقہ نہیں ہے- (اسکو بیعت کہیں یا کچھ اور مگریہاں تک سب کچھ منطقی ہے)-

اسکو مگر”ریڈ زون” اس لئے قراردیتا ہوں کہ عموماً، شیخ ومرید کا رشتہ، افراط وتفریط کا شکار ہوکر، نہ صرف شریعت بلکہ انسانیت سے بھی آؤٹ ہوجاتا ہے- ایسے واقعات بھی ہوئے کہ شیخ کی محبت میں اسکا پیشاب پی گیا- ایسی حکایات بھی ہیں کہ شیخ نے مرید سے محمد رسول اللہ کی بجائے اپنے نام کا کلمہ پڑھوایا-( بعض احباب کو یہ بات ناقابل یقین لگے گی تو انکی تسلی کیلئے چند حوالہ جات مضمون کے آخر میں بطور تتمہ پیش کردوں گا)- جب صوفیاء میں ایسی حرکات کی پذیرائی  کی جائے( بلکہ اسکو صحابہ کے طرزعمل سے ثابت کیا جائے) تو پھریہ گروپ، ہمارے نزدیک” ریڈ زون” بن جاتا ہے جس میں ایمان اور جان ، دونوں کے نقصان کا خطرہ ہے-

یہ خاکسار، دوستوں کو”بیعت” بارے ذاتی رائے عرض کرکے، اس موضوع کو ختم کرنا چاہتا ہے-

کیا آپ اپنی نجی زندگی میں ایک مخلص اورسمجھدار شخص کی بیعت کرنا چاہتے ہیں؟- کیا آپ اپنی اجتماعی زندگی میں ایک متقی دانشورسے راہنمائی  لینا چاہتے ہیں؟- پہلی صورت میں اپنے والدین کی بیعت کیجئے( لڑکا، اپنے والد کو اپنا شیخ سمجھے اورلڑکی اپنی ماں کو)- لیکن دوسری صورت میں، کوئی ایک دانشور، اس قابل نہیں جو آجکل کی پیچیدہ زندگی بارے درست رہبری کرسکے- آجکل ضروت ہے کہ ایک پیرصاحب کی بجائے، اہل الرائے متقین کا ایک پوراگروپ آپکی راہنمائی  کیلئے موجود ہو-

ہرمحلے میں تبلیغ والوں نے مسجد کی جماعت بنائی  ہوئی  ہے جو ہرپروفیشن سے متعلق دین دار لوگوں کا ایک گروپ ہوتا ہے- پروفیشنل راہنمائی  کیلئے مسجد کی جماعت سے جڑ جائیے-

ہاں، اسکے علاوہ اگر اپنی روحانی ترقی کیلئے کچھ مخصوص تسبیحات واذکار کی حد تک کسی روحانی شخصیت کی بیعت کرنے کا شوق ہے تویہ خاکسار اسکی تائید ہی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی  کرتا ہے-

اگلی قسط میں تصوف کے فلسفہ “علم لدّنی” بارے ایک مختصر بات کرکے، اس سلسلے کااختتام کریں گے ان شاء اللہ-
(جاری ہے)

اسلامی تصوف بارے ایک سیکولرموقف۔۔۔سلیم جاوید/قسط3

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *