میری قوم کے شاہین۔۔۔۔عارف خٹک

ہمارے پشتون دوست جب اپنے گاؤں یا علاقے سے دور کسی اور شہر یا ملک چلے جاتے ہیں،تو فوراً  سے پیشتر اپنی جیب اور شلوار کھجانی شروع کر دیتے ہیں۔ جیب میں پیسوں کا لمس محسوس کرکے وہ مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اب مسجد جانے کی ضرورت نہیں ،اللہ نے بہت دیا ہے۔اور شلوار میں ہاتھ ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ بس جب تک یہ موجود ہے ساری دنیا کو اس کے اوپر رکھوں گا۔

کراچی طارق روڈ یا لاہور لبرٹی کے خواتین کے تنگ و چست لباس دیکھ کر پہلے تو دہرے ہوکر منہ سے “وئی” کی آواز نکالیں گے،اور پھر شلوار پر ہاتھ رکھیں گے۔ پھر اپنی آنکھیں بند کرکے اور منہ کھول کر شدید ترین ٹھرک سے مقابلہ کریں گے۔ پھر کسی رکشہ ڈرائیور سے لی مارکیٹ یا ہیرامنڈی کرائے کا بھاؤ تاو شروع کریں گے۔

ہمارے بیشتر پشتون نوجوانوں کو اپنے سوا دوسرے کے مرد یا شوہر خصی لگتے ہیں،اور ان کو لگتا ہے کہ دوسری  اقوام کی بیویوں کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ لہذا چاند رات پر کراچی کے طارق روڈ پر آپ کو جابجا سلطان آباد یا بنارس کے عبدالولی خان اور ممریز خان ہر سو  نظر آئیں گے، اور خواتین کیلئے مخصوص دکانوں کے سامنے اپنی شلوار کھجاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

ان میں سے کافی مردانگی سے بھرپور نوجوان شاہین، خواتین کے سینوں پر چٹکیاں کاٹتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یا ان کے کولہوں کے  بیچ پھنسی قمیض کو مزید اندر پھنسانے کی تگ ودود کریں گے۔ کل رات ایسے ہی ایک پشتون مجاہد کے پیچھے مجھے بھی چلنے کا شرف حاصل ہوا۔ جیسے ہی وہ خاتون کے کولہوں کو دباتا اس سے دوگنی رفتار میں اس کے کولہے دباتا۔۔۔ خاتون بھی انجان بنی ہوئی تھی سو اپنا شاہین بھی انجان بنا ہوا تھا اور میں بھی انجان بنا ہوا تھا۔ بالآخر خاتون کی برداشت جواب دے گئی۔ اس نے جڑ کر تھپڑ دے مارا۔ نوجوان پلٹ کر مجھے جیسے ہی تھپڑ مارنے والا تھا اس سے پہلے میں نے مار دیا کہ بے غیرت گھر میں ماں بہن نہیں ہے۔ یہ سننا تھا کہ اس  کے پاس دوسرے مجاہدین جو انگلیاں کرنے میں مصروف ِعمل تھے اس پر ایسے ٹوٹ پڑے ،جیسے انڈیا آج کل کشمیر پر ٹوٹا ہوا  ہے۔ اور میں فیس بکی دانشوروں کی طرح ایک طرف ہوگیا کہ بھئی یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

خیر بات ہم اپنی کررہے تھے۔ ہم فن لینڈ تھے کہ کچھ پشاوری دوست ہمارے مہمان بن گئے۔ رات کے ڈنر کے بعد وہ کھسیانی ہنسی ہنستے رہے ۔ میں انجان بنا ہوا تھا۔ بالآخر ان کی برداشت ختم ہوگئی۔ کہنے لگے  ،خٹک صاحب آپ کے دیس کی بچیوں کو کیا پشتونستان کے  مردوں کی ضرورت نہیں پڑتی؟۔۔۔۔ کیا یہاں کی  خواتین کو پشتون کی مردانگی کا اندازہ نہیں ہے یا آپ نے یہاں بھی گل خان بن کر ہماری  قوم کی عزت کی دھجیاں اُڑا  دی  ہیں؟۔

بہتیرا سمجھایا کہ یہ دنیا کا سب سے زیادہ شریف اور امن پسند ملک ہے۔ ان کی عورتوں کیلئے ان کے مرد کافی ہیں۔ مگر وہ یہاں بھی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہے تھے۔ کہنے لگے، محترم جانی سن کو بھول جائیں گی یہاں کی بچیاں جو آج یہ پشاور کے جانی پسٹلز کو دیکھیں گی۔

بالآخر مجبور کرکے پانچوں کو ایک رجسٹرڈ کنجر خانے لیکر چلا گیا۔ جہاں ریسپشن پر موجود خوش اخلاق خاتون نے استقبال کیا۔ ہم نے اپنا مدعا بیان کیا۔ تو انھوں نے خوش اخلاقی سے معذرت کی۔۔ کہ اس وقت میرے پاس فی کس ایک مجاہد کیلئے فی عدد خاتون دستیاب نہیں ہے۔ لہذا کل کیلئے آپ لوگ ایڈوانس بکنگ کرسکتے ہیں۔ میرے دوست اتاولے ہورہے تھے۔ بالآخر اس خاتون نے بتا دیا کہ سر ابھی ایک خاتون دستیاب ہے وہ ایک وقت میں ایک مرد کو بھگتا سکتی ہے کیونکہ ہم انسانی قوانین کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔ مگر آپ ایسا کریں اندر روم میں پانچوں کو لیکر جائیں۔ ان کا معائنہ کرائیں تاکہ سائز کے حساب سے پھر قیمت کی بارگیننگ کی جا سکے۔

میں پانچوں کو اندر لیکر گیا۔ تو سب سے باجماعت شلوار اتروائی گئی۔ تو لڑکی سب کا سائز بغور دیکھنے کے بعد مسکرائی اور کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہوتی کہ میں آپ کے کام آسکتی۔ کیونکہ ان کے سائزلیس سائز دیکھ کر میں والنٹیرلی ان سب کو بلامعاوضہ اور باجماعت انٹرٹین کرتی۔ مگر میرے پاس دوسرا کسٹمر ہے جو آپ سے پہلے آیا ہوا ہے۔ اس کا حق زیادہ ہے۔ ہم نے نظر اٹھا کر چھ فٹ کے ایک ننگے یورپین کو دیکھا۔ جو شلوار کھول کر کھڑا تھا۔ آنکھیں گناہ گار تھیں۔ وہاں چلی گئیں جہاں نہیں جانا چاہیے تھا ۔ یورپین کا سائز دیکھا تو شرمندہ ہوکر ہم سب ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے کنجر خانے سے نکلے۔

اگلی صبح پانچوں نے مجھے ٹانگ سے پکڑ  کر زبردستی نیند سے اٹھایا کہ اے ملحد انسان یہاں  پاس کوئی مسجد ہے یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *