درمیاں فہم محبت۔۔۔ماریہ خان خٹک/قسط5

SHOPPING

کہتے ہیں جب محبت پہلی نظر میں قربان ہونے کو تیار کر دیتی ہے۔.لیکن کبھی کبھی ہم نے کسی کے ساتھ برسوں رہ کر بھی وہ پہلی نظر اٹھا کر دیکھا ہی نہیں ہوتا۔۔۔
شاید  عدنان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔یا شاید شروع سے ہی دل پہ پڑنے والی ہلکی ہلکی محبت کی دستک کو وہم سمجھ کر جھٹک دیتا ہو۔یا پھر انا کے زعم میں خود اپنے آگے بھی اپنے دل میں پنپتی محبت کی کونپل کو نظرانداز کیے جارہا تھا۔اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ کچھ کچھ اسے سوچنے لگا ہے۔۔۔۔۔غرور سے ہی سہی
پھر وہ دن بھی آیا کہ اس کی آنکھوں میں عریزے کے نام سے چمک اترنے لگی اور دھڑکن اس کے ذکر پہ تیز ہونے لگتی۔۔۔۔
عریزے اچھی لڑکی تھی ۔۔
بلا کی حسین تھی لیکن اپنی بےنیاز انہ اداؤں  کی وجہ سے  شاید  ہمارے معاشرے میں جہاں آتے جاتے لوگ اسے دیکھ کر رال ٹپکاتے وہیں وہ نادان بجائے نظر انداز کرنے کے سامنے ہی مقابلے پر آجاتی اور کھری کھری سنانا شروع کردیتی ۔۔۔
ہمارے معاشرے میں جہاں کسی مرد کی کوئی  بیہودہ حرکت کو چھپالے تو یہی بہتر ہوتا ہے۔عزت رہ جاتی ہے اس عورت یا لڑکی کی۔۔۔ کیونکہ جو منہ کھول کر مرد ہی کے معاشرے میں مرد کی برائی  سامنے لاتی ہے،اسے اپنے کردار پہ انگلی اٹھانے کا حو صلہ دینے کے مترادف ہوتا ہے ۔
جہاں تک میں جانتی تھی وہ اچھے طریقے سے مخاطب سے پیش آتی ،تمیز اور بات کرنے کا سلیقہ تھا اسے لیکن صرف اس کے ساتھ جو تمیز اور سلیقے سے بات کرے ۔
عریزے کی بھی بس یہی باتیں تھیں کہ عدنان ڈرتا تھا کہ گھر والے  نہیں مانیں گے،جیسے تیسے تین چار مہینے میں عدنان اپنے منہ سے گھر والوں کے سامنے عریزے کا نام لینے کی پوزیشن تک پہنچا ۔۔۔
گھر والوں نے پہلے تو پیار سے سمجھایا کہ خاندان کا مسئلہ ہے۔شاید عریزے کے بھائی  نہ مانیں ۔۔۔

گزرتے دنوں میں وہ دن بھی آیا کہ عدنان کی امی میرے گھر آئیں ،امی سے کہنے لگیں۔۔۔آپ لوگ شاہ زین سے کہیں کہ وہ عدنان کو سمجھائے ،کہ گھر حسن و جمال سے نہیں بستے ۔بلکہ عزت والی عورت سے بستے ہیں سلیقہ اور سگھڑپن سے بستے ہیں ۔۔۔الفاظ تھے کہ میرے اعصاب پہ پڑتے ہتھوڑے کی ضربیں ۔۔
عزت والی عورت ؟؟؟
کسی بازگشت کی طرح الفاظ میری سماعتوں میں پڑ کر منتشر سے ذہن کو مرتعش کرتے ہوئے بھنبھوڑ رہے تھے۔۔۔
کون ہوتی ہے عزت والی عورت ۔۔۔۔ سلیقہ اور سگھڑپن تو تھا ہی ،پورا گھر سنبھالا ہواتھا پھر کیا وجہ تھی کہ عریزہ گھر بسانے کی  قابلیت پہ پوری نہ اترسکتی تھی ۔ کیا اس کی عزت نہیں تھی؟کیا عریزے نے کوئی  بیہودہ حرکت کی ؟
جب سے میں اسے جاننے لگی تھی ایسی کوئی  بات تھی ہی نہیں،میں نے  اپنے ذہن پہ زور دیا، وہ ایک ایک پل یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی جو اس کے قریب رہ کر گزارا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے سمجھاؤں کہ لوگوں نے عزت کے معیار پر پورا اترنے کیلئے جو پیمانے بنائے ہیں ان پہ کم از کم کوئی  اولاد آدم تب ہی پوری اترسکتی ہے،جب وہ   فرشتوں کے شہر میں پرورش پائے ۔
یا شاید نہیں تب بھی نہیں ۔
کہ ہے تو آدم زاد ہی۔۔۔
میں اسے زیادہ نہیں جانتی تھی لیکن جتنا جانتی تھی وہ کافی تھا وہ اچھی تھی تھوڑی بولڈ ٹائپ تھی ۔لیکن میرے خیال میں وہ ماحول کا اثر تھا۔ہمارے معاشرے میں پسند کا اظہار کیے  جانے پہ لڑکے کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بالآخر عدنان انہیں عبور کرچکا تھا ۔عدنان کی امی بڑی شان سے چادر لپیٹ کر عریزے کے گھر میں داخل ہوئی  اور عریزے کا ہاتھ مانگا۔۔۔

ہمارے معاشرے میں جہاں خاندانی و نسلی امتیاز برتا جاتا ہے۔وہاں اور بہت سے سماجی مسائل سے نبرد آزما شخص کو خواہ مخواہ حقیر سمجھنا اک عام بات ہے ۔لیکن جہاں کسی بھی مجبوری کی وجہ سے اگر امیر اپنے غرور کو روند کر غریب کے در پہ آہی جائے تو وہاں پھر اس غریب کی ساری انائیں اسی دن جاگ اٹھتی ہیں ،اور ایسے جاگتی ہیں کہ پھر اسے ہر طرف اپنی عزت کے جنازے نظر آتے ہیں،شاید برسوں کی محرومی اسے احساس کمتری میں مبتلا کردیتی ہے ،یا پھر انجانے خدشے اسے اولاد کے مستقبل کیلئے کچھ سوچنے قابل ہی نہیں چھوڑتے ۔۔۔

عریزے پریشانی کے عالم میں کھوئی  کھوئی  مجھے بتانے لگی :
امی اور لالا نے انکار کردیا ہے ۔۔۔
مجھے حیرانگی کے ساتھ غصہ بھی آنے لگا تھا ، لیکن کیوں؟
کیا کمی ہے عدنان میں؟ اچھا ہے خوبصورت ہے؟ گھر اچھا ہے ۔
پھر ۔۔۔۔آنٹی اور لالا کو کیا چاہیے؟

عریزے کی آواز رندھنے لگی تھی۔مجھے لگا جیسے ذرا سی دیر میں وہ پھوٹ پھوٹ کر رودے گی۔۔۔شاید اسی لئے کہ امی بھتیجے کے لئے ہاں کرچکی ہے ماموں کو۔۔۔۔ وہ بمشکل آنکھوں میں آئی  نمی کو چھپاکر نظریں چرانے لگی ۔

اور تم!۔۔۔ تم۔۔۔ کیا چاہتی ہو۔۔۔۔کیاتمہیں عدنان پسند نہیں؟ میں نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے دھیرے سے پوچھا
ایسی بات نہیں ہے کہ مجھے کیا پسند ہے کیا نہیں ۔۔۔لیکن مجھے نہیں کرنی ماموں کے بیٹے سے شادی ۔
شانزے تمہیں نہیں معلوم اسے جب دورہ پڑتا ہے تو مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔ جہاں گرا وہیں گرا اللہ والا ہے ناں ۔۔۔۔وہ اپنے مستقبل کی فکر میں جیسے گھلنے لگی تھی ۔

اللہ والا(ابنارمل) ہے تو کیا باقی سب لوگ شیطان والے ہیں تمہارے لالا جانتے ہیں یہ سب ؟ میں نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

جی ۔۔۔ جانتے ہیں کہتے ہیں ۔لیکن امی کے سامنے کچھ نہیں بولتے۔۔۔
امی کہتی ہیں ایک ہی بھتیجا ہے میرا ۔۔۔۔میں بیٹی نہ دوں، دھتکار دوں تو کوئی  دوسرا کیسے دے گا ؟کیوں دے گا ۔۔۔۔؟
بہن بھائی ہوتے کس لئے ہیں ۔۔۔۔؟ وہ متفکر سے لہجے میں خالی نظروں سے آسمان   کو تک رہی تھی ۔اور اسکی آنکھوں میں آئی  نمی میں زندگی سے بھرپور   عکس ڈوبتے محسوس ہونے لگے تھے۔
عدنان کیلئے رشتے سے گھر والوں کےانکار کے بعد عریزے کھوئی کھوئی  سی رہنے لگی ۔۔۔

=====

عدنان کے گھر والوں نے کوئی  اور لڑکی ڈھونڈنے کی مہم مزید تیز کردی جیسا کہ ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ لڑکے کی کسی لڑکی میں دلچسپی کو بھانپ کر بجائے من مطابق کوشش کرنے کے اس کی مخالفت میں دن رات ایک کرکے کسی بھی دوسری لڑکی کو فوراً سے پہلے تلاشتے ہوئے اس کا    گھر بسانے کیلئے کوششیں شروع کردیتے ہیں ۔
بالآخر جلد ہی کامیاب ہوئے اور یوں بڑی دھوم دھام سے اس کی شادی قریبی رشتے داروں میں کردی گئی  ۔
عریزے ان سب کے بیچ پریشان سی رہتی ۔
گزرتے دنوں کے ساتھ سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوتے گئے۔جیسے ہر لڑکی کے رشتے آتے رہتے ہیں ۔عریزے کے بھی رشتے آتے لیکن عریزے کی ماں اپنے بھائی  کے ساتھ رشتے کی لاج کیلئے ہر اچھے سے اچھا رشتہ ٹھکرائے جاتی ۔۔۔
کسی بھی لڑکے یا لڑکی کی یہ عمر ایسی ہوتی ہے جہاں اس کو فطری طور پر اپنی خواہشات کی تکمیل درکار ہوتی ہے۔
ایسے میں اگر والدین بچوں کی خواہشات کو محسوس نہ کریں تو سب میں نہ سہی لیکن اکثر میں باغیانہ سوچ    پیدا ہونا  شروع ہوجاتی ہے ۔
اور پنپتے پنتے انہیں سماج، رواج اور خود اپنی ذات کے مخالف سمت میں لے جاتی ہے ۔
ہم میں ہر ایک پورے وثوق سے کہتا پایا جاتا ہے کہ ہمارے بچے ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ بچپن سے ان کے مزاج سے آشنا ہیں لیکن یہاں ہماری ساری شناسائی ہوا ہوجاتی ہے۔جب ہمیں اولاد اپنے سامنے چھوڑ کر اپنی جوانی کا احساس دلاتی ہے۔
عریزے کب اس ڈگر پہ نکلی اور کیسے چل پڑی   ،وقت کی تیز رفتاری میں کسی کو  پتہ ہی نہ چل سکا۔
جاری  ہے

SHOPPING

درمیاں فہم محبت۔۔۔ماریہ خان خٹک/قسط4

SHOPPING

ماریہ خان خٹک
ماریہ خان خٹک
میرا نام ماریہ خان ہے خٹک برادری سے تعلق ہے ۔کراچی کی رہائشی ہوں ۔تعلیم ،بچپن اور دوستوں کے ساتھ سندھ کی گلیوں میں دوڑتی رہی ہوں ۔ کتابوں کے عشق اور مطالعے کی راہداری کو عبور کرکے خود قلم اٹھانے کی لگن ہے ۔طالب دعا ہوں اللہ تعالی قلم کا حق ادا کرنے کی توفیق دے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *