نیلز بوہر ۔ کوانٹم کی دنیا میں گلیور کا گزر۔۔۔صدف مرزا

SHOPPING

مجھے کتاب تحریر کرنے کے دوران کہیں بھی اور کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ خشک سائنسی تحقیق ہے بلکہ یہ تو ایک صدیوں پر محیط طویل تاریخی ناول لکھنے ک خواہش کو بیدار کرتی کیفیت کی مانند تھا۔

جوں جوں تحقیق آگے بڑھی لکھنے کا عمل تخیل کو مہمیز کرتی خواہش کی طرح متجسس اور آورد جیسی رواں تخلیق جیسا ہوتا چلا گیا۔ فوری نوٹس بنا کر تفصیلی مضمون لکھتے ہوئے بھی نظم کہنے کے فطری بہاؤ سے ابھر کر اسے مرصع اور پُر اثر بنانے کی کاوش کا سا لگا۔۔

کلاسیکل طبیعات یا قدیم طبیعات کی آنکھ نے اجسامِ فلکی کی جگمگاتی دنیاکو پرکھا تو وہی ازلی توازن اور مقررہ آہنگ موجود پایا جو غزل کے اوزان و بحور میں مدھم سُروں میں بہتے ترنم جیسا ہوتا ہے۔

قدیم طبیعات کی یہ دنیا تو جمی جمائی ہے اپنے مقررہ راستوں سے سرِمُو انحراف نہیں کرتی ۔اس دنیا کے تمام تر قوانین کسی سخت گیر ماں نے بنا رکھے ہیں۔ شمس و قمر کےراستے اور کوکبی گزرگاہیں ان قوانین کی پابند ہیں ۔

لیکن پوری ایک صدی قبل ایک صدا بلند ہوئی اور اس د نیا کے ربط و ضبط میں چانک ہلچل مچی جیسے کوئی شریر بچہ ہاتھ میں غلیل تھامے تالاب میں کسی نادیدہ ہدف پر پتھر مارے ، لہروں کے بے ترتیب ،چکراتے دائروں کے ارتعاش کی پیمائش کی کوشش کرے، اورتہہ میں مخفی اسرار جاننے کی کوشش کرے۔

ایٹم کی ازل سے موجود مگر نادیدہ دنیا کو بیرونی بوچھاڑ سے مرتعش ردِ عمل سے جاننا اور لہروں کی گنتی سے متوقع راز جاننے کی تمنا جس میں احتمالات اور بے یقینی موجود رہتی ہے۔ طفلِ نادان اسے سچ ماننے کی ضد کرتا ہے اور سخت گیر ماں اسے سدھارنے کے لیے کبھی گُھرکی، کبھی جھڑکی اور کبھی برہمی آمیز سکوت اختیار کرتی ہے۔

کائنات میں یہی علیم و بصیر ماں اور علم و آگاہی کی پہلی دہلیز پر کھڑے متجسس بچے کے متحرک اندازے چار سو بکھرے ہیں۔

کلاسیکل اور کوانٹم دونوں دھڑوں میں احکامات جاری کرنے کے بنیادی حقوق مانگتی ماں اور بغاوت پر آمادہ بچہ جو خود کو جنم دینے والی ما ں کے دکھائے گئے 6 کے ہندسے کو 9 پڑھنے پر بضد رہا. کھیلنے کو چاند مانگتا رہا۔

میرے لیے ان رویوں اور رجحانات کا مطالعہ اس ضدی بچے کے کھیل میں خفیہ شراکت جیسا تھا ۔ شعر و سُخن کی دنیا کے مطالعے سےپلٹ کر ذرے سے کائنات کے مطالعے تک کے عزم نے میرے شوق کے پاؤں تھکنے نہیں دئیے۔ سو اس کتاب کی تحریرکا عمل انکشاف کی لذت اور تحیر کی جہت سے بھرپور رہا ۔

SHOPPING

یہ مضمون ان کی فیس بک وال سے لی گئی ہے!

SHOPPING

Avatar
صدف مرزا
صدف مرزا. شاعرہ، مصنفہ ، محقق. ڈنمارک میں مقیم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *