ایک راندہ درگاہ ولی ۔ شاد مردانوی

سراج اورنگ آبادی نے کہا تھا

بہار ساقی ہے، بزم گلشن ہیں مطربانِ چمن  شرابی

 پیالہ گل، سروِ سبز شیشہ ، شراب بو اور کلی گلابی

ہوا شفق پوش باغ و صحرا محیط ہے رنگ لالۂ و گل

غبارِ گلگوں ہے آب رنگیں ، زمیں ہیں سرخ اور ہوا شہابی

دور تک پھیلا سبزہ، کہیں کہیں سرسرں کے پیلے پھول، کوئی ایک بیچ کا کھیت جس کی فصل کاٹی گئی ہو اور دشمن کی تہ تیغ سپاہ کی طرح ہموار زمین پر ڈنٹھلوں کی فوج کے سپاہی زندگی کا جیسے تاوان ادا کررہے ہوں. بوائی، روئیدگی، بوٹے، ڈنٹھل، شاخ، شگوفے، پھول فصل، سنہری چمک اور یک لخت درانتی کے ہاتھوں جن کی گردن زدنی زندگی کے مسلسل چکر نے لکھ دی. یہ اور اس طرح کے کئی مناظر کی خوبصورتی دیہاتوں اور قصبوں کی بیان ہوتی ہے. قصباتی فضا کو ہر بیان کرنے والے نے اس قدر رومان پرور بنادیا کہ تقریباً ہر پڑھنے والا شہر کے مقابلے میں گاؤں کی فضا کو مسحور کن سمجھتا ہے اور اس کے چارم میں مبتلا ہوجاتا ہے.

گاؤں کی بود و باش میں ہزار خوبیاں سہی لیکن گاوں میں یہ ایک خامی دیکھی کہ وہاں لڑائی، بوائی کٹائی کی طرح شعور اور سوچ بھی جتھے کی شکل میں ہوتا ہے. گاؤن کے تمام افراد ایک ایسی ڈار کا حصہ ہوتے ہیں کہ کوئی پکھیرو ڈار کی قطار کے حصار کو چھوڑ کر اڈار نہیں لے سکتا. وہاں پسند نا پسند کا کوئی انفرادی ضابطہ نہیں رکھا جاسکتا. وہاں گاؤں کے جرگے کے دھتکارے ہوئے فرد سے ذاتی حیثیت میں رہ کر چاہتے ہوئے بھی روابط نہیں رکھ سکتا. گاؤں مجبور ہوتا ہے کہ جس کو گاؤں کے بڑوں نے معتوب قرار دے دیا اس سے اجتماعی نفرت کی جائے. کوئی ایک فرد نفرت کے اس زنجیری اتحاد کو توڑنے کی سوچ نہیں سوچ سکتا.

میں سفر میں تھا. مجھے ایک ایسے فرد کی داستان سنائی گئی جو دس سال حرم مکی سے پیدل مسافت پر اپنا چھوٹا سا کام سنبھالتا رہا. اس کو لیکن یہ توفیق نہ ملی کہ اللہ کریم اس کو اپنے در پر بلائے. وہ ایک آدھ بار حرم شریف میں قدم رکھنے کی کوشش کرچکا تھا لیکن اس کی حالت بگڑ جاتی. اس نے اس بات کو رب سے قطع تعلق کی وجہ بنالی. وہ اللہ کا منکر تو نہ تھا لیکن اس نے اللہ سے “پختو” (ضد) شروع کرلی. اگر اللہ مجھے اپنی دہلیز سے دھکے دے رہا ہے تو میں کیوں اس کی منتیں کروں. آج سے میں بھی اللہ سے بات نہیں کروں گا. تعلق نہیں رکھوں گا. ادھیڑ عمری میں وہ گاؤں واپس لوٹا تو اللہ کریم اور بندے کے اس خالص نجی معاملے کی پاداش میں اہلِ قریہ نے مجموعی طور پر اس کا سماجی مقاطعہ کرلیا. وہ گاؤں سے باہر اپنی زمین پر جھگی ڈال کر رہنے لگا. جب میں اس سے ملنے گیا میں نے اس کے چہرے پر وہ کیفیات دیکھی جو پہاڑی جھریوں جیسی تھی جیسے مسلسل پانی بہنے سے کچھ نقش جم سے جاتے ہیں. ان کیفیات کو نفرت، آدم بیزاری، مسلسل ناراضگی، خود ترسی، وحشت کے غیر متناسب مجموعہ کا نام دیا جاسکتا تھا. گھاس کے نرم بچھونے پر میں نے دیکھا کہ وہ ٹیک لگائے بائیں ہاتھ سے پانی کا کٹورا ایک سانس میں چڑھاگیا. گاؤں کے لوگ بتاتے تھے کہ وہ جب دیار حرم سے پلٹا تو اس کی داڑھی تھی. لیکن میں نے دیکھا کہ داڑھی کے نام پر اس کے چہرے پر چند بے ترتیب کہیں کہیں سے ترشے اور کہیں بے ہنگم انداز سے پھیلے بالوں کی ایک جھاڑ تھی. میرے السلام علیکم کہنے پر اس نے پخیر راغلی کہا. وہیں اوپر تلے دھرے دو سرخ اینٹوں کو میں نے نشست بنائی.

اس سے گفت گو میرے لئے ایک نیا بالکل نیا تجربہ تھا. وہ ظاہر کرتا تھا کہ اس کو اللہ سے نفرت ہوگئی ہے. وہ ہر وہ کام کرنے کی کوشش کرتا جس کا اسے علم ہوتا کہ اللہ کریم نے اس سے منع کیا ہے. وہ بری طرح اللہ کریم سے ضد پر اڑا ہوا تھا. اور کسی صورت رب سے صلح پر آمادہ نظر نہیں آتا تھا. گفتگو کے بیچ اس نے ایک جملہ کہا اور میں آج تک طے نہیں کرپایا کہ اس جملے کا مناسب رد عمل کیا ہونا چاہیے تھا. میں اس وقت بھی سن ہوکر رہ گیا تھا. پتھراگیا تھا میں. اس نے کہا تھا

“قیامت کے دن میں اپنے سرکار علیہ السلام سے اللہ کی شکایت کروں گا “

مجھے ایک بے چینی نے گھیر لیا اس کے نفرت اور غصے کی آتش فشاں کے لاوے کو روکنے کیلئے میں نے غیر اختیاری طور پر اٹھ کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا. میں نے اپنی بات شروع کی کہ جس کو آپ آج تک اللہ کریم کی طرف سے دھتکار سمجھے ہیں وہ تو اپنائیت کا ایک ایسا روپ تھا جس پر سو عبادتیں قربان. ارے بندہ خدا محبوب ناز برداریاں کررہا تھا اور تم عجیب ہو محبت کے آئین سے ہی بغاوت کرلی. حضرت ایسا براہ راست تعلق تو سو مجاہدوں کے بعد نصیب ہوتا ہے. اور تم نے اس تعلق کو عتاب و غضب سمجھ لیا. جس نبی علیہ السلام پر تمہیں اتنا ناز ہے وہ تو پوری زندگی اپنی اور اپنی امت کے لیے “غیر المغضوب علیہم ولا الضالین” کی دعا مانگتے رہے ہیں. کیا آپ یہ تصور بھی کرسکتے ہیں کہ آقا علیہ السلام کی دعا معاذ اللہ رد ہوئی ہوگی…؟ تم بھی تو اسی امت کے ایک فرد ہو کیسے مانا جاسکتا ہے کہ تم مغضوب اور معتوب ہو. اچھے عاشق ہو صاحب جو راہ کی کجیوں سے ڈر گئے.

مجھے نہیں علم اس نے رب سے صلح کی یا نہیں. لیکن جب میں واپس ہورہا تھا تو اس نے میرے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہا تھا.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *