سکاٹ لینڈ کی ڈائری۔۔۔۔طاہر انعام شیخ

برطانیہ کے دو وزرائے اعظم بریگزٹ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ تیسرے کو بھی ابھی اپنے مستقبل کا پتہ نہیں، پارلیمنٹ کئی سالوں سے ڈیڈ لاک کا شکار ہے، نئے وزیراعظم بورس جانسن جن کا کہنا تھا کہ وہ ہر صورت میں بریگزٹ کی آخری میعاد 31اکتوبر تک یورپی یونین سے نکل آئیں گے اور وہ اسے مزید ملتوی کرنے کے بجائے کسی کھائی میں گر کر مرنے کو ترجیح دیں گے۔ لیکن سیاست کی عملی حقیقتوں اور مجبوریوں کے باعث ان کو نئی تاریخ 31جنوری قبول کرنا پڑی پرانی پارلیمنٹ کے ساتھ کوئی بھی معاملات حل نہیں ہورہے تھے اور اب ان کے نزدیک بہترین متبادل نئے الیکشن کا انعقاد ہی باقی رہ گیا تھا، وقت سے پہلے الیکشن کرانے کے لئے انہیں پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی جو کہ ان کے پاس موجود نہ تھی، چنانچہ دیگر بڑی جماعتوں کی چند شرائط مان کر دسمبر میں نئے الیکشن کے لئے ان کی حمایت حاصل کی گئی، سیاسی پارٹیاں اپنے طورپر رائے عامہ کے سروے کراتی رہتی ہیں، جن کے نتائج وہ خود تک ہی محدود رکھتے ہیں، ان خفیہ سروے کی روشنی میں کنزرویٹو پارٹی بورس جانسن کی قیادت میں خاصی آگے جارہی تھی، اس وجہ سے وزیراعظم نئے الیکشن میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے، 12دسمبر کو الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد جو پہلا سروے آیا اس
میں کنزرویٹو پارٹی 8فیصد کی اکثریت کے ساتھ 41 لیبر 24لبرل ڈیمو کریٹ 3فیصد کمی کے بعد 20کرسن ایک فیصد کم ہوکر 3بریگزٹ پارٹی تین فیصد کی کمی پر 7جبکہ سکاٹش نیشنل اور پلیڈ سمرو 5فیصد پر آئیں۔ بورس جانسن کا نئے الیکشن کرنے کا بڑا مقصد تو یہی بتایاجاتا ہے کہ نئی پارلیمنٹ سے بریگزٹ کی ڈیل کو منظور کرالیں لیکن اس منشور پر ان کو نائیجل فراج کی بریگزٹ پارٹی سے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جو کہ مکمل طورپر بغیر کسی ڈیل کے یورپی یونین سے نکلنا چاہتی ہے۔ اس سے یورپ سے حامیوں کے ووٹ تقسیم ہوسکتے ہیں۔ ڈیلی میل کے مطابق اگر بریگزٹ پارٹی کے ووٹ کنزرویٹو پارٹی کو ملیں تو شمالی انگلینڈ، مڈلینڈز میں وہ لیبر کی 90تک نشستیں توڑ سکتی ہے، لیکن یہ سب ابھی ابتدائی اندازے ہیں، سیاست میں ایک دن بھی پانسہ پلٹ دیتا ہے، 12دسمبر کو اگر برفباری یا سخت سردی ہوئی تو کم لوگوں کے ووٹ ڈالنے سے بھی نتائج مختلف ہوسکتے ہیں، اگر بورس جانسن اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو اس سے لبرل ڈیمو کریٹ اور سکاٹش نیشنل پارٹی کو خاصی مایوسی ہوگی جو کہ بدستور یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہیں، البتہ سکاٹش نیشنل پارٹی کو ایک زبردست سیاسی فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے۔ یورپی یونین کے ریفرنڈم میں سکاٹ لینڈ کے عوام نے بڑی واضح اکثریت 38کے مقابلے میں 62فیصد ووٹوں سے یورپ کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیئے تھے، سکاٹش حکومت آزادی کا دوسرا ریفرنڈم 2020میں کرانا چاہتی ہے لیکن یو کے کی کنزرویٹو حکومت کسی طورپر اس کی اجازت دینے کے حق میں نہیں، سکاٹش نیشنل پارٹی کی حکومت ویسٹ منسٹر کے نئے الیکشن کو آزادی کے نئے ریفرنڈم کی منظوری کے لئے دباؤکے طورپر استعمال کرنا چاہتی ہے اگر وہ سکاٹ لینڈ کی 59 سیٹوں پر اکثریت حاصل کرلیتی ہے تو وہ اسے نئے ریفرنڈم کے لئے مینڈیٹ کے طورپر استعمال کرے گی، جس کو مسترد کرنا برطانوی حکومت کے لئے آسان نہ ہوگا، فرض کیا کنزرویٹو کو مطلوبہ اکثریت نہیں ملتی اور لیبر پارٹی سکاٹش نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر مجبور ہوتی ہے تو سکاٹش نیشنل پارٹی کی شرط کے مطابق لیبر پارٹی کو نہ چاہتے ہوئے بھی سکاٹ لینڈ کی آزادی کے نئے ریفرنڈم کی اجازت دینی پڑے گی، لیبر پارٹی کے اکیلے حکومت بنانے کے امکانات بہت کم ہیں، میڈیا کی بڑی تعداد جرمی کوربن کے خلاف ہے، نہایت دولت مند افراد تو پہلے ہی دھمکیاں دے چکے ہیں کہ جرمی کوربن کی حکومت بنتے ہی وہ برطانیہ چھوڑ جائیں گے، کیونکہ وہ ان کی طرف سے ان کی دولت پر نئے ٹیکسز کے نفاذ، سرمائے پر کنٹرول کرنے کی پالیسیوں سے خاصےخوفزدہ ہیں، لیبر نہ صرف پرائیویٹ سکولوں کو بند کرسکتی ہے بلکہ بہت سی صنعتوں کو بھی سرکاری تحویل میں لینے کا پروگرام رکھتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کا ایک بڑا حصہ بھی جرمی کوربن کے خلاف ہے اور ان کو انتہائی بائیں بازو کا سمجھتا ہے، چند سال پیشتر جب جرمی کوربن نے ٹرائڈنٹ ایٹمی آبدوزوں کے پروگرام پر بات کی تھی، تو فوج کے ایک حاضر سروس جرنل نے نہایت غیر معمولی طورپر یہ بیان دیا تھا کہ ٹرائڈنٹ کو ختم کرنے کی کوشش، یا مسلح افواج کو کسی بھی طورپر کمزور کرنا یا نیٹو سے باہر نکلنا ہمیں کسی بھی طورپر قبول نہ ہوگا، یہ وزیراعظم کے ایسے اقدامات کی سخت مخالفت کریں گے۔ ایک بااثر ملک اور اس کی لابی بھی جرمی کوربن کے خلاف مہم میں شریک ہے، جرمی کوربن کا تمام تر اثاثہ اپنے اصول اور عوام کے ایک بڑے طبقے کی حمایت ہے وہ کمیونٹی کی پالیسیوں کا مکمل خاتمہ دولت کی مزید منصفانہ تقسیم اور غریبوں کی فلاح وبہبود کے اقدامات چاہتے ہیں، الیکشن کے حتمی نتائج کے متعلق فی الحال کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، یہ تو نتائج آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن امکانات میں ڈیل، نو ڈیل ، یورپ پر ایک نیا ریفرنڈم یا پھر آرٹیکل 50 کا مکمل خاتمہ اور بدستور یورپی یونین کے ساتھ رہنا سبھی کچھ شامل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *