سوال تو کئی ایک ہیں۔۔۔منور حیات سرگانہ

سانحہ ساہیوال فیصلے کے بہت سے پہلو ہیں۔کلی طور پر حکومت کو موردالزام ٹھہرانا بھی درست نہیں ہوگا۔پہلی بات تو مدعی حضرات کی کریں۔جنہوں نے گورنر ہاوس لاہور میں وزیراعظم سے ملاقات والے دن ہی ایک کروڑ روپیہ پکڑ لیا تھا۔دوسرا پولیس نے شہادتیں اکٹھی کر کے لانا تھیں۔استغاثہ جن کو ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کرتا ،جن کی بنیاد پر فائرنگ کرنے والے چھ لوگوں کو مجرم ثابت کیا جا سکتا تھا۔پولیس کو اپنے پیٹی بھائیوں کو سزا دلوانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔سو انہوں نے عدالت میں جا کر کہہ دیا کہ ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں تھے۔تیسرا بڑے جوش وخروش سے گواہوں کے طور پر نام لکھوانے والے تمام 63 لوگ گواہی سے مکر گئے۔ہو سکتا ہے،ان پر ترغیب یا دھمکی دے کر دباؤ  ڈالا گیا ہو،یا وہ خود ہی منحرف ہو گئے ہوں۔اور چوتھا مقتولین کے لواحقین مزید چار کروڑ روپیہ لے کر ملزمان کو عدالت میں شناخت کرنے سے ہی انکاری ہو گئے،یہ بات مقتولین کے وکیل کی زبانی معلوم ہوئی ہے۔

اب کوئی بتا سکتا ہے،کہ ایک ایسے کیس میں ملزمان کو کوئی بھی عدالت سزا کیسے دے سکتی ہے،جس میں نہ ہی تو ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت ہو،نہ ہی کوئی گواہ ہو اور نہ ہی مدعی ملزمان کو سزا دلوانے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔اب یہاں تک تو حکومت اس معاملے میں بے قصور نظر آتی ہے،لیکن اس کے بعد بھی کئی سوال باقی بچتے ہیں۔ایک تو دیت کے قانون کا غلط استعمال ہے،جس کا فائدہ اٹھا کر امریکی سی آئی اے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس دو پاکستانیوں کو قتل کر کے صاف بچ کر نکل گیا تھا۔دوسرا قتل کے معاملے پر ریاست کی بجائے لواحقین کا مدعی ہونا بھی اپنی جگہ سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔جس کے ہوتے ہوئے۔مقتول کے لواحقین دھمکی ،دباؤ یا ترغیب سے مجبور ہو کیس کی پیروی سے ہی دستبردار ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ شاہ زیب قتل کیس میں سامنے آیا،جب قاتل شاہ رخ جتوئی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزائے موت ملنے کے بعد لواحقین نے معاف کر دیا،لیکن اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس معاملے پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے شاہ رخ کی رہائی روک دی اور یہ بات واضح، کردی کہ دہشت گردی ریاست کے خلاف جرم ہے،اس لئے لواحقین اس قتل کو معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔اس سے اب یہ بھی سوال اٹھتا ہے،کہ شاہ زیب کیس کی طرح انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس کیس میں فیصلہ کرتے ہوئے،سپریم کورٹ کی طرف سے دی ہوئی اس رولنگ کو مدنظر کیوں نہ رکھا۔
پولیس کی کارکردگی،قانون کی خامیوں اور عدالتی نظام کے طریقہ کار کی خامیوں پر تو کئی سوال اٹھائے جاتے رہیں گے،مگر سب سے بڑا سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے۔
کہ دیت کی رقم کس نے ادا کی؟

اگر حکومت نے یہ رقم ادا کی ہے؟ تو مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے وعدے کیوں کیے گئے؟جے آئی ٹی کی تشکیل کا اعلان کیوں کیا گیا،جو کبھی بھی بنائی نہ جا سکی۔کیا حکومت کے اس اقدام نے ریاستی،اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے یہ اصول ہمیشہ کے لئے طے نہیں کر دیا کہ،آپ جس کو چاہیں گولی سے اڑا دیں،ریاست آپ کے پیچھے کھڑی رہے گی۔ساتھ ہی عامیوں کو ان کی اوقات بھی بتا دی گئی ہے۔

اور آخر پر دو واقعات کا ذکر کرنا مناسب ہو گا ۔ایک تو آج سے محض تریسٹھ دن پہلے بنگلہ دیش میں پیش آنے والا دلخراش واقعہ،جس میں ایک مدرسے کی طالبہ نصرت جہاں نے مدرسے کے مہتمم اعلیٰ کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت درج کروائی،مدرسے سے منسلک لوگوں نے اس پر اپنی شکایت واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا،لڑکی نے انکار کر دیا،جس کی پاداش میں اسے مدرسے کی چھت پر لے جا کر زندہ جلا دیا گیا۔مرنے سے پہلے وہ لڑکی اپنے قاتلوں کی نشان دہی کر گئی۔وہاں بھی وزیراعظم نے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا،اور ٹھیک دو ماہ کے اندر اس بربریت کے ذمہ دار سولہ افراد کو سزائے موت سنا دی گئی۔وہاں کسی نے بھی مقتولہ کے لواحقین کی مالی امداد کرنے کی کوشش نہیں  کی۔

دوسرا واقعہ امریکہ کا ہے وہاں پر ایک خاتون پولیس آفیسر رات کو غلطی سے اپنے گھر کے شبے میں پڑوسی کے گھر میں داخل ہو گئی،اور صاحب خانہ کو اپنے گھر میں اجنبی مداخلت کار سمجھ کر گولی مار دی۔اگرچہ یہ ایک حادثہ تھا،لیکن خاتون پولیس اہلکار پر مقدمہ چلا اور اسے دس سال قید کی سزا سنا دی گئی ،اس موقع پر مقتول کے بھائی نے قاتلہ کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا،لیکن عدالت نے سزا برقرار رکھی،کیونکہ امریکی قانون کے مطابق قتل کے جرم کی معافی کا اختیار لواحقین کو نہیں ہے۔مانا کہ سانحہ ساہیوال ایک اندوہناک حادثہ تھا،لیکن کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا،اس جرم کی مدعی ریاست ہوتی ہے۔ضروری نہیں تھا کہ ان پولیس اہلکاروں کو قتل عمد کی سزا دی جاتی لیکن قتل خطا کی سزا تو ضرور دی جانی چاہیے تھی۔اور اس سب معاملے میں سب سے افسوس ناک پہلو یہ نظر آیا کہ اس جرم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد جب یہ کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا گیا، تو ریاست نے مقتولین کی جانب سے مدعی بننے کی بجائے،ملزمان کی طرف سے دیت کی رقم ادا کر کے ان کا مربی بننا زیادہ پسند کیا۔ کیا حکومت کا یہ اقدام آئین و قانون سے متصادم تو نہیں تھا ،یہ سوال بھی مستقبل میں ضرور اٹھایا جائے گا۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *