بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط2)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

“ باپ بیٹا ملتان روانہ ہو گئے “
ہم نے لکھ دیا آپ نے پڑھ لیا ، لیکن اُس زمانے میں سفر کے ذرائع آج کی طرح نہیں تھے،  وسیلہ سفر ریل گاڑی تھی۔ ہم بھلے انگریزوں کو لاکھ بُرا کہیں ، لوگوں کو ان کا غلام کہیں، ان کے گھوڑے اور کُتے نہلانے والے کے خطاب دیں ، ایک حقیقت مسلم ہے کہ وہ رموز ِ حکمرانی کے عارف تھے، پنجاب پہ  انہوں نے صرف بانوے برس حکومت کی، لیکن جس مہارت سے انہوں نے یہاں کے لوگوں کی تہذیب و تمدن کو سمجھا ،اس کے مطابق اپنا طرزِ  حکومت ترتیب دیا، یہاں کے وسائل اور مسائل کا ادراک کیا، رسم و رواج کی سٹڈی کی اور حکومتی بندوبست ان کے مطابق بنایا، اس کے ثبوت وہ گزیٹیئر ہیں جو ہر سال ہر ضلع بارے مرتب ہوتے تھے۔

راولپنڈی میں شمال مغربی کمان ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا، کیمبل پور ،پنڈی، جہلم ، خوشاب کے ملحقہ سارے علاقے کو فوج کی نرسری بنایا، اس علاقے میں بارانی زراعت اور فوجی ملازمت بڑے وسیلہ روزگار بنے ، پشاور سے کراچی اور ممبئ تک نقل و حرکت کے لئے ریلوے لائن بچھائی  گئی، برانچ لائنیں یوں بچھائی  گئیں کہ وہ مین لائن کے لئے شٹل سروس تھیں، فوج کے ملازمین بطور خاص چھٹی پہ آتے جاتے تو وہ ان لنک لائین کے ذریعے کسی بھی قریبی بڑے ریلوے سٹیشن تک آسانی سے پہنچ جاتے۔

باوا وقار شاہ کا گاؤں بھی برانچ لائن کے نزدیک تھا، یہاں سا ت آٹھ ملحقہ گاؤں کے لئے ریلوے سٹیشن تھا۔
ٹرین آدھی رات کے بعد یہاں سے گزرتی، ڈھائی  تین گھنٹے میں مندرہ پہنچ جاتی ،جہاں سے پسنجر ٹرین پہ  جانے والے مسافر وہ گاڑی پکڑتے اور اپنی منزل کو روانہ ہوتے، دور دراز جانے والے ایکسپریس ٹرین کے لئے پنڈی صبح پہنچتے۔جہاں سے روزانہ صبح ایک ایک گھنٹے  کے وقفے سے تیز گام، تیز رو، سکھر روہڑ ی ایکسپریس لاہور ملتان کراچی کے لئے اور واپسی والی پشاور کی طرف روانہ ہوتیں ۔

اتنے وسیع نیٹ ورکس کا نظام الاوقات، سٹیشن ٹو سٹیشن رابطہ، ریلوے کراسنگ پر موجو پھاٹک ، ہر سٹیشن پہ  ٹرین کی آمد و رفت، کراسنگ الغرض سارا سسٹم ، اس وقت کی ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز کرشمہ تھا۔
باوا وقار شاہ پہلے عام طور پر مندرہ سے ٹرین بدلتے تھے، یا جی ٹی ایس کی بس پے جہلم جاتے وہاں قیام کرتے اوراگلے دن ملتان روانہ ہوتے،لیکن اس بار تو کمان اصغر شاہ کے پاس تھی، کرنل صاحب نے بھی فیملی کے ساتھ پنڈی آنا تھا،اصغر شاہ نے باوا جی کو مشورہ دے کے کرنل صاحب کو فیملی کے ساتھ ڈنر پہ  بلا لیا ۔ خود ریلوے سٹیشن گیا۔

وہاں تو سارا عملہ ان کے خاندان کو جانتا تھا، سب کے لئے ٹکٹ خریدے، ریلوے سٹیشن کے مخصوص دو ٹانگہ بان کو پابند کیا کہ وہ رات کو ڈیرے سے سب کو سٹیشن لائیں گے،انگریز کی بنائی  کوئی  سروس ہو اور اس میں حفظ مراتب نہ ہوں ، یہ ہو نہیں  سکتا۔
ٹرین سروس نارتھ ویسٹرن ریلوے سے پاکستان ویسٹرن ریلوے ہوئی  پھر پاکستان ریلوے رہ گئی، لیکن گوروں کا وی آئی  پی کلچر قائم دائم رہا، اس پسنجر ٹرین میں فرسٹ ،سیکنڈ کلاس نہیں  تھی ، لیکن پانچ پسنجر بوگیوں میں پہلی بوگی افسران اور ان کی فیملی کے لئے مخصوص ہوتی، اصغر شاہ نے سٹیشن ماسٹر کو تاکید کی کہ یہ بوگی کرنل صاحب  ،انکی فیملی اور خود ان کے لئے ریزرو رکھے۔

رات کو یہ سب سامان سمیت ٹرین آنے سے پہلے سٹیشن پہنچ گئے، سامان پہلی بوگی کے دروازے والی جگہ کے سامنے رکھا گیا، ٹکٹیں خریدنے کی بات ہوئی  تو یہ سن کر کہ اصغر نے دن کو ہی لے لئے تھے، باوا جی اور کرنل صاحب حیران سے زیادہ اصغر کے احساس ذمہ داری پر خوش ہوئے،ٹرین تین بجے آئی ، چند اور مسافر تھے، وہ سوار ہوئے، سادات فیملی پہلی بوگی میں براجمان ہو گئی، باوا کی سیٹ پہ  اور کرنل فیملی برتھوں پہ  سو گئے، اصغر شاہ اور کرنل صاحب باتیں کرتے رہے۔
ٹرین رکتی چلتی صبح سویرے پنڈی سٹیشن پہ  پہنچ گئی، اس وقت تک کرنل صاحب نے اصغر شاہ کو پنڈی ایک دن گزارنے پر راضی کر لیا تھا، باوا جی تو یہی چاہتے تھے کہ چچا بھتیجے میں زندگی کے معاملات پر سیر حاصل باتیں ہوں۔
کرنل صاحب کی بڑی بیٹی میٹرک میں تھی، باوا جی اس پہلو پر بھی سوچ رکھتے تھے، لیکن ابھی تو بات مناسب نہ تھی۔

سٹیشن سے نکلتے اصغر نے اگلے دن کی ٹرین پہ  ملتان کی سیکنڈ کلاس میں سیٹیں بک کرا دیں، کرنل صاحب کا ویسٹریج میں گھر زیادہ دور نہیں  تھا، وہاں پہنچ کے سب ناشتہ کر کے سو گئے، شام کو اصغر شاہ نے مارکیٹ میں باربر شاپ سے حجامت کرائی  داڑھی کا خط بنوایا، واپس آ کے غسل کیا، کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنی تو باوا وقار شاہ نے پہلی بار اسے پیار اور غور سے دیکھا، وہ ماشااللّہ اپنی سادات کی وجاہت کا نفیس نمونہ لگ رہا تھا، بچپنے کی جگہ جوانی کی متانت چہرے  سے  عیاں تھی، شباب کی چھلک کے ساتھ ایک میچیور نوجوان کی جھلک نمایاں تھی۔

رات کو صدر میں مشہور ریسٹورینٹ میں سب ڈنر کر کے آئے، کرنل صاحب کے بچے اصغر کے ساتھ گپ شپ کرتے رہے، اور وہ خود برآمدے میں باوا جی  کے ساتھ محوِ  گفتگو تھے۔
کرنل صاحب نے باوا جی کو مشورہ دیتے  ہوئے کہا، “ بھائیا جی آپ اصغر کو بچہ سمجھنا اب چھوڑ دیں، اسے اس سے ڈبل اعتماد دیں جتنا بڑے بیٹے کو گاؤں کے اختیارت سونپتے دیا تھا، یہ حساس ہے، لیکن بہت ذمہ دار ہے، اس پر بھروسہ کریں، اسے فیصلے کرنے دیں، یہ مالی امور کے حساب کتاب میں بھی قدرتی طور  پر ماہر ہے، ہم اور آپ تو چراغ ِ سحری ہیں، آپ توکل کریں، ملتان اس کو سونپ کے دیکھ لیا ہے آپ نے ،یہ ہر ذمہ داری لینے کا اہل ہے۔ ۔۔”

اگلے روز صبح باوا جی کے لئے نئی تھی، سٹیشن پہ کرنل صاحب چھوڑ کے رخصت ہوئے تو جس تپاک، محبت اور عزت سے اصغر نے انہیں وداع کیا، پھر ٹرین پر باوا جی کو جس محبت اور احترام سے سوار کرایا، ہر کام پرفیکٹ  منظم طور کیا ،اس میں لڑکپن کا شائبہ بھی نہیں  تھا، ایک ذمہ دار جوان کا عکس تھا،پنڈی سے ملتان تک کا یہ سفر باوا وقار شاہ کو بیس سال پیچھے لے گیا، ان کو اپنی جوانی لوٹتی محسوس ہوئی۔۔
سچ کہتے ہیں جوان بیٹے کی معیت میں بوڑھے باپ بھی جوان رہتے ہیں۔

سارا راستہ باپ بیٹے میں مختلف امور پر باتیں ہوئیں، باوا جی محتاط تھے لیکن گفتگو بے تکلف اور اصغر کی ذہنی بلوغت کے لیول پر کرتے رہے، دن ڈھلے ٹرین ملتان کینٹ سٹیشن پہنچی، تو وہاں لینڈ روور جیپ ، ڈرائیور ، منشی ، استقبال کے لئے موجود تھے۔
باوا جی سال کے بعد ملتان آئے، پہلے جب بھی آتے تو دنیا پور یا قطب پور اترتے ۔ ٹانگے پر چک جاتے،سٹیشن سے نکل کے باوا جی کو نوکروں نے سلام کیے، سامان ڈگی میں رکھا ، اصغر نے خود فرنٹ سیٹ پہ بٹھایا،خود ڈرائیونگ سیٹ پہ، نوکر پیچھے بیٹھے، جہاں سیٹ پر پڑی کلاشنکوف دیکھ کے باوا جی کا تراہ نکل گیا۔۔

جاری ہے

بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط1)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *