• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اہل عرب و اسلام میں جدیدیت کا بانی (شیخ محمد عبدہ) ۔۔ منصور ندیم

اہل عرب و اسلام میں جدیدیت کا بانی (شیخ محمد عبدہ) ۔۔ منصور ندیم

عالم عرب میں اہل اسلام میں جدیدیت کے اثر ونفوذ کا بانی اگر شیخ محمد عبدہ کو کہا جائے تو شائد غلط نہ ہوگا۔
شیخ محمد عبدہ کا تعلق ( 1905-1849 سنہء) مصر سے تھا ، ان کا شمار اپنے عہد میں مصر کی انتہائی مقتدر علمی شخصیات میں ہوتا تھا، حتی کہ وہ مفتی اعظم مصر بھی رہے، شیخ محمد عبدہ 1870 سنہء میں،اعلی تعلیم کے حصول کے لئے مضر کو خیرباد کہہ کر فرانس چلے گئے، فرانس میں قیام کے دوران شیخ محمد عبدہ کی ملاقات جمال الدین افغانی سے ہوئی، شیخ محمد عبدہ نے جمال الدین افغانی کے فکری اثرات کو پوری طرح قبول کیا، جس کا سب سے کلیدی نقطہ یہ تھا کہ مغربی فکر و تہذیب کو مصر میں داخل کیا جائے۔

شیخ محمد عبدہ کا خیال تھا کہ عصر جدید میں اسلام کی بقا کی واحد صورت نظام تعلیم میں عقلی (Rational) اور سائنسی (Scientific ) علوم کو پوری طرح شامل کر لیا جائے ۔ اگر چہ اس تجدید کی آبیاری اور اس وقت کی موجود مصر کے سب سے مشہور و مرکزی جامعتہ الاظہر کے نظام میں تبدیلی کے باعث شیخ محمد عبدہ کو جامعتہ الاظہر کی طرف سے شدید مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن شیخ محمد عبدہ اس یقین پر قائم رہے کہ اگر جامعتہ الاظہر نے اس تجدد (Modernity ) اور اصلاح کو قبول کرلیا تو پھر مصر کو تبدیل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ شیخ محمد عبدہ کے تلامذہ کی کثیر تعداد درس گاہوں سے لے کر ایوانوں تک نفوذ رکھتی تھی۔ مصر میں جدیدیت سے ترقی  کے اس تصور   پر شیخ محمد عبدہ  کو بہت یقین تھا ۔

اسی یقین کو ایک مغربی مورخ نے شیخ محمد کے یقین کو اپنی سوانح نگار میں یہ لکھا کہ :
“If  the  Al- Azhar  Islamic  University  were reformed,  Islam  would  be  reformed”

باوجود مخالفت کے شیخ محمد عبدہ کے علمی رسوخ کی بنیاد پر رفتہ رفتہ شیخ محمد عبدہ کی فکر کو قبولیت حاصل ہوتی گئی، اور شیخ محمد عبدہ مصر میں جدیدیت کے بانی قرار پائے۔ شیخ محمد عبدہ متعدد کتابوں کے مصنف تھے، مگر ان کی فکر کی نمائیندہ کتاب “رسالتہ التوحید” ہے۔ مفتی شیخ محمد عبدہ کو مصر میں حکومتی سطح پر نہایت اہمیت حاصل ہوئی اور مصر میں سرکاری سطح پر جدیدیت پر مبنی افکار کی آبیاری کا سہرا مفتی شیخ محمد عبدہ کے ہی مرہون منت ہے۔ شیخ محمد عبدہ ہی کی کاوشوں کے باعث اس وقت اسلامی دنیا میں مصر کو تجدد پسندی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، وہاں جدیدیت پسندی کو اصل عروج شیخ محمد عبدہ ہی کی وجہ سے حاصل ہوا۔

اسلام کے روایت پسند حلقوں کا ماننا ہے کہ شیخ محمد عبدہ کی اس فکر نے مصر میں جدیدیت کی افزائش نے روایتی اسلامی فکر بلکہ خود اسلام ہی کے لیے سنگین ترین مسائل پیدا کئے۔ ان کا ماننا ہے کہ شیخ محمد عبدہ خود مغربی فکر و فلسفے اور سائنس کی تاریخ سے گہری واقفیت نہ رکھنے کے باعث شیخ محمد عبدہ اپنے تمام تر اخلاص کے باوجود، مغرب سے حد درجے مرعوب و مسحور تھے۔ وہ مغربی فلسفے کا عمیق ادراک نہ کرسکے جس کے باعث ان کا اخلاص ان کے تلامذہ میں لادینیت کے نفوذ کو نہ روک سکا۔

مشہور و معروف مصنفہ، صحافی، شاعرہ اور مضمون نگار مریم جمیلہ جو ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے 1961 میں اسلام قبول کر لیا اپنی مشہور تصنیف Islam and Modernism میں شیخ محمد عبدہ کے لئے لکھتی ہیں کہ :

” Shaikh Muhammad Abduh was an enthusiastic admirer of Europe and its civilisation. So stimulating and valuable did he find his travel in England and France that he returned again and again ” to renew my soul.” He said: “I never once went to Europe when I failed to renew my dreams of transforming the lives of my people into something better.” He went on to say that whenever he become filled with discouragement in Egypt because of the unyielding opposition he faced, he would go back to Europe “and there within a month or two,  these Hope’s would return to me and the attainment of what I had thought impossible now seemed easy.

شیخ محمد عبدہ کے بارے میں ہی مشہور مستشرق گولڈ زیہر Goldziher  (22 June 1850 – 13 November 1921)، لکھتا ہے کہ ” شیخ محمد عبدہ کا ذہن ان خیالات سے از اول تا آخر شرابور ہے جو انہوں نے قیام یورپ کے زمانے میں اخذ کیے اور بعد میں کتابوں سے حاصل کیے۔”

شیخ محمد عبدہ نے اسی فکر کے تحت تقلید کی مخالفت کی، اجماع کا انکار کیا، اجتہاد پر زور دیا، اور مغرب کی تمام اصطلاحات کو عین اسلامی ثابت کیا۔ ، شیخ محمد عبدہ خود عقلیت( Rationalism ) کی حاکمیت کے اس درجے قائل تھے ، جسے وہ اپنی کتاب The Theology of Unity میں اس طرح لکھتے ہیں :

How Then can reason be denied it’s right, being, as it is,  the scrutineer of evidence so as to reach the truth within them and know that it is Divinely given? Having, however,  once recognised the mission of a prophet, reason is obliged to acknowledge all that he brings, even though unable to attain the essential meaning within it or penetrate it’s full truth.  Yet this obligation does not involve reason in accepting rational impossiblities such as two incompatible or opposites together at the same time and point.  For prophecies are immune from bringing some follies, But if there comes something which appears contradictory reason must believe that the apparent is not the intended sense.  It is then free to seek the true sense by refrence to the rest of the prophet’s message in whom the ambiguity occurred, or to fall back upon God and His omniscience.  There have been those among our forebears who have chosen to do either one or the others.

مریم جمیلہ ، شیخ محمد عبدہ کے افکار، تاریخ ، نظریات، اہداف اور اثرات و نتائج کو اپنی کتاب (Islam and Modernism) میں اس طرح لکھتی ہیں :
His aim was to interpret the Shariah in such a way as to free it from the classical interpretations and prove that Islam and modern Western civilisation were compatible. Two of his best known “Fatwas” declared it lawful for Muslims to indulge in picture and statue making ” where there is no danger of idolatry ” and the other which allowed Muslims to deposit their money in banks where it would draw interest.  He also declared it permissible for Muslims to adopt Western dress.

روایت پرست علماء نے شیخ محمد عبدہ کے “اجتہادی نقطہ نظر کو اس لئے قبول نہیں کیا کہ وہ اجتہاد کے لئے کتاب وسنت کی طرف کم اور مغرب و سائنس کی طرف زیادہ دیکھتے تھے، اور اسلام اور مغرب  میں تطبیق کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے، یعنی علماء کے نزدیک شیخ محمد عبدہ مغرب و سائنس سے اس قدر مرعوبیت کی سطح پر تھے کہ ان کی کوشش رہی کہ کسی طرح اسلام ، مغربی اقدار سے میل کھانے لگے۔
شیخ محمد عبدہ کے افکار پر مریم جمیلہ مزید اپنی کتاب ( Islam  and Modernism ) میں ہی لکھتی ہیں کہ :
Shaikh Muhammad Abduh was hypnotized by modern science while he tried to read into the Quran. Here is one example of his reasoning at work: The Ulema say that the Djinn are living bodies which cannot be seen. But it is permissible to assert that the minute living bodies only recently,  discovered by means of microscope and called microbes may well be identified as the Djinn.
Consequently we Muslims in regard to the new scientific discoveries, must revise and correct traditional interpretations. The Quran is far too elevated in character to be contrary to modern science.
Shaikh Muhammad Abduh was convinced not only of the supremacy of the physical sciences but also of the social sciences as interpreted by the leading Western philosophers of his day. He tried to convince his followers that Darwin’s theory of evolution could be found in the Quran.

یہی وجہ رہی کہ ہمارے اکثر روایتی علماء اور روایت پسند اسکالرز کی غالب اکثریت نے فکر اسلامی کی تشکیل نو کا یکسر انکار کیا یا اگر اصرار بھی کیا تو مفتی شیخ محمد عبدہ کے اجتہادی نقطہ نظر کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے ۔ یعنی تشکیل نو کے کام میں وہ اس بنیادی دائرہ کار(Paradigm) پر نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں جس پر اجتہاد کی عمارت قائم ہے۔

شیخ محمد عبدہ کے متعلق سب سے دلچسپ تبصرہ اپنی کتاب (Modern Egypt) میں برطانوی ناظم اعلی Lord Cromer نے کیا:
Muhammad Abduh life lies in the fact that he may be said to have been the founder of a school of thought in Egypt very similar to that established in India by Syed Ahmad, the creator of the Alighur College.

ترجمہ: ” شیخ محمد عبدہ مصر کے جدید ذہنی مکتبہ فکر  کے بانی تھے، یہ مکتبہ فکر ہندوستان کے اس مکتبہ فکر سے بہت مشابہت رکھتا ہے ، جو علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان نے قائم کیا تھا۔”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *