تتلیوں کے دیس اور فاصلے سے عمل ۔ زندگی (18)۔۔وہاراامباکر

ہر سال ستمبر سے نومبر کے درمیان، کئی ملین مونارک تتلیاں ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں۔ جنوب مشرقی کینیڈا سے انکا سفر جنوب مغرب کے سمت میں ہوتا ہے۔ صحرا، پہاڑ، کھیت، میدان پار کرتی ہوئی یہ وسطی میکسیکو کی درجن بھر بلند چوٹیوں پر پہنچتی ہیں۔ بہار میں یہ سفر واپسی کا ہوتا ہے۔ اس میں حیران کن چیز یہ ہے کہ جس تتلی نے سفر کا آغاز کیا ہوتا ہے، اس میں سے کوئی بھی واپس نہیں پہنچتی۔ اس وقت تک ان کی دو نسلیں گزر چکی ہوتی ہیں۔ کینیڈا چھوڑنے والی تتلیوں کی نواسیاں اور پوتیاں واپس کینیڈا پہنچتی ہیں۔ اس سفر کے تسلسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ کیڑے ہزاروں میل دور اپنے ہدف تک ٹھیک ٹھیک کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ تمام ہجرت کرنے والے جانداروں کی طرح یہ تتلیاں اپنی کئی حسیات کا استعمال کرتی ہیں۔ دیکھ کر، سونگھ کر، سورج کو قطب نما بنا کر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنکھ کا ایک بڑا کام دیکھنا ہے لیکن اس کا کام صرف یہی نہیں۔ ہماری چوبیس گھنٹے کی جسمانی گھڑی کو شب و روز سے ہم آہنگ رکھنے کا آلہ بھی یہی ہے۔ کرپٹوکروم ایک اہم پگمنٹ ہے جو انسان سمیت بہت سے جانوروں اور پودوں میں ہے۔ اور جانوروں میں یہ آنکھوں میں پایا جاتاہے۔ یہ نیلی روشنی کو بالکل ویسے جذب کرتا ہے جیسے پودے فوٹوسنتھیسز کرتے وقت روشنی جذب کرتے ہیں۔ نیلی روشنی ایک الیکٹران کو ہٹا دیتی ہے۔ یہ طریقہ باقاعدہ آنکھ کی آمد سے قبل روشنی کو ڈیٹکٹ کرنے کی بہت قدیم حس ہو سکتی ہے جو مائیکروب اربوں سال سے استعمال کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان تتلیوں کے اینٹینا میں کرپٹوکروم پایا گیا جو شروع میں معمہ تھا۔ کیڑوں کے اینٹینا بہت ہی حیران کن اعضاء ہیں جو کئی حسیات کا گڑھ ہیں۔ سونگھنا، سننا، ہوا کا پریشر معلوم کرنا حتیٰ کہ گریویٹی بھی۔ کیا سرکیڈین ردھم (جسم کا چوبیس گھنٹے کا ردھم) کا بھی ان سے تعلق ہے؟ جب تتلی کے اینٹینا پر سیاہ رنگ کیا گیا تو ان کی یہ چوبیس گھنٹے کی یہ گھڑی خراب ختم ہو گئی۔ تو کیا اس کی وجہ اینٹینا کا کرپٹوکروم تھا؟ تجربات سے اس کا جواب اثبات میں نکلا۔

یہ وہ وقت تھا (2008) جب یہ معلوم ہو چکا تھا کہ چڑیا کی مقناطیسی فیلڈ معلوم کر لینے کی حس کی وجہ اس کی آنکھ میں اسی پروٹین کی موجودگی ہے۔ کیا تتلیوں کی اینٹینا میں اس پروٹین کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ یہ بھی زمین کا مقناطیسی فیلڈ ڈیٹکٹ کر لینے کی حس (میگنیٹوریسپٹرون) رکھتی ہیں؟ 2014 میں رپرٹ کے گروپ کے تجربات نے یہ دکھا دیا کہ ہاں، مونارک تتلی انکلی نیشن قطب نما رکھتی ہے یعنی راستہ ڈھونڈنے کے لئے زمین کے مقناطیسی فیلڈ کا زاویہ معلوم کرتی ہے اور یہ صلاحیت اس کے اینٹینا کی وجہ سے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرندوں میں مقناطیسی فیلڈ کی پہچان کی کی دریافت کی تاریخ پرانی اور طویل ہے۔ اور اس میں شبہہ نہیں کہ پرندے اس صلاحیت کو استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ صلاحیت اس سوال کو جنم دیتی ہے۔ “ایک مکھی پتھر کی سِل کیسے گرا سکتی ہے؟”۔

اس کا مطلب کہ ارضی مقناطیسی فیلڈ اس قدر کمزور ہے تو یہ کیسے ان کیمیکل ری ایکشن کا باعث بن سکتا ہے جو پرندے کی راہنمائی کرتے ہیں۔ آکسفورڈ کے کیمسٹ پیٹر ہورے اس کا جواب دیتے ہیں کہ مکھی کا پتھر کی سِل گرا دینا ممکن ہے لیکن اس وقت اگر پتھر کی سل بہت ہی نازک طریقے سے بیلنس کی گئی ہو۔ اگر مکھی اس پر ایک طرف بیٹھے تو وہ اس طرف گر جائے گی، دوسری طرف بیٹھے تو دوسری طرف گر جائے گی۔

خلاصہ یہ کہ بہت چھوٹی توانائی سے بڑے اثرات ہو سکتے ہیں لیکن صرف اس وقت جب ایک سسٹم دو مختلف نتائج کے درمیان بہت ہی نازک توازن برقرار رکھے ہوئے ہو۔ زمین کے کمزور مقناطیسی فیلڈ کو پکڑنے کا یہی طریقہ ہے۔ اور پرندوں میں یہ طریقہ ریڈیکل پئیر ایکشن ہے۔ اور یہ ریڈیکل پئیر پیدا کرنے والی پروٹین کرپٹوکروم ہے جو نیلی روشنی جذب کرنے والے FAD مالیکیول کے ساتھ ملکر کام کرتی ہے۔

بہت مختصر یہ کہ اس کی وجہ کوانٹم اینٹینگمنٹ ہے اور الیکٹرون کا آپس میں اینٹنگل ہونے والا جوڑا سنگلٹ اور ٹرپلٹ حالتوں کے درمیان فی سیکنڈ کئی ملین بار حالت بدلتا ہے۔ مقناطیسی فیلڈ اسے سنگلٹ اور ٹرپلٹ میں سے ایک حالت کی طرف دھکا دیتا ہے اور یوں پرندے مقناطیسی فیلڈ “دیکھ” سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ پرندے اسے محسوس کیسے کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک اضافی رنگ کے طور پر جو زمین کا مقناطیسی فیلڈ دکھا رہا ہو۔

اس پورے سسٹم کی کچھ چیزیں ابھی حل طلب ہیں۔ ولاٹکو ویڈرال کا 2011 میں شائع کردہ کوانٹم کیلکولیشن کا پیپر یہ دکھاتا ہے کہ سپرپوزیشن اور انٹینگلمنٹ کو کم از کم دس مائیکروسیکنڈ کے لئے برقرار رہنا چاہیے تا کہ چڑیا سمت کا تعین کر سکے۔ یہ دورانیہ مصنوعی مالیکیولر سسٹم میں حاصل کردہ دورانیے سے زیادہ ہے۔

لیکن اس فیلڈ میں ہونے والی تحقیق نے میگنیٹوریسپشن میں دلچسپی میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ ہمیں اس صلاحیت کا بہت سی انواع میں معلوم ہو چکا ہے۔ مرغی اگرچہ ہجرت نہیں کرتی لیکن اس میں میگنیٹوریسپشن کی صلاحیت برقرار رہی ہے۔ پرندوں کی بہت سی انواع، لوبسٹر، وہیل، ڈولفن، شہد کی مکھی، سٹنگ رے، شارک اور حتیٰ کہ مائیکروب میں بھی۔ 2009 میں امریکی کاکروچ میں یہ دریافت ہوئی اور اس کا طریقہ لال چڑیا والا نکلا۔

فطرت میں اس کی وسیع پیمانے پر موجودگی یہ بتاتی ہے کہ یہ صلاحیت نئی نہیں، کم از کم بھی پچاس کروڑ سال پرانی ہے۔ کوانٹم قطب نما غالباً قدیم ہیں اور شاید کریٹیشئیس دور میں رہنے والے ڈائنوسارز کو بھی راستہ دکھاتے رہے ہیں۔ پرمین سمندروں میں تیرتی مچھلیوں کی راہنمائی کرتے رہے ہیں، کیمبرین سمندروں کنارے سوراخ بناتے آرتھوپوڈ کی بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ کیمبرین دور سے پہلے کے اُن مائیکروبس کی بھی، جو خلیاتی زندگی کے آباء تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ آئن سٹائن کا “فاصلے سے ہونے والا پرسرار عمل” تاریخ کے بیشتر حصے میں زمینی مخلوقات کی زمین پر پھیلنے میں مددگار رہا ہے۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *