ٹک ٹاک گرل۔۔۔۔ذیشان نور خلجی

ہم میں سے سبھی لوگوں کو اس بات کا ادراک ہے کیونکہ ہم بھی اپنی زندگی کے ایسے دور سے کبھی نہ کبھی گزر چکے ہیں۔ ایک صحافی کو 14 سالہ رسمی تعلیم پوری کرنے میں کیسی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پھر اس کے بعد مزید چار سال پروفیشنل ڈگری کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔اور اگر محنت رنگ لائے تو اچھے جی۔پی کی بدولت ہی کسی میڈیا ہاؤس یا نیوز ایجنسی میں انٹرن شپ مل پاتی ہے۔اور میڈیا ہاؤس میں، انٹرن شپ کے نام پہ اُسے ایسے ایسے کام بھی بلا معاوضہ کرنا پڑتے ہیں جو ایک درجہ چہارم کے ملازم کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔
انٹرن شپ کی مدت پوری ہونے کے بعد، بہت سے دوسرے ساتھی، کچھ اپنے غیر سنجیدہ رویے کی بدولت اور کچھ حالات کی ستم ظریفی کے باعث، اپنی پروفیشنل ڈگری کے برعکس مختلف کمپنیوں اور فرمز میں خدمات دینے پہ مجبور ہوتے ہیں۔۔۔۔لیکن وہ حالات کے رحم وکرم پہ نہیں بہتا۔ اور اپنے مستقل مزاج اور سنجیدہ رویے کے باعث کسی میڈیا ہاؤس میں قلیل معاوضے پہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض سر انجام دینے لگتا ہے۔سالہا سال کی محنت اور پیشہ وارانہ تجربہ کاری کے بعد ہی پھر اسے ” خاص جگہوں” پہ روپوٹنگ کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ جہاں، جامہ تلاشی کے بعد اس کی رسائی استقبالیہ تک ہی ہو پاتی ہے۔ اور اس سے ایک درخواست لے کر واپس لوٹا دیا جاتا ہے، کہ ابھی اس کے پاس اجازت نامہ/پاس نہیں، کہ وہ ایسی اہم جگہ پہ روپوٹنگ کے فرائض انجام دے سکے۔پھر ایک دو ماہ چکر لگانے کے بعد اسے روپوٹنگ پاس تو مل جاتا ہے۔ لیکن وہاں روپوٹنگ کرنے کے بھی کچھ قاعدے ہوتے ہیں، جن کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔جیسا کہ استقبالیہ پہ اندارج، شناختی ڈاکومنٹس، بلاک کا تعین، فلور کا تعین، وقت کا تعین وغیرہ وغیرہ۔۔۔

ان سب مراحل سے گزر کر ہی ایک محنتی اور سنجیدہ مزاج صحافی وہاں روپوٹنگ کرسکتا ہے۔اور وہاں سکیورٹی کے ایسے فول پروف انتظامات اور روپوٹنگ کے لئے اتنی کڑی جانچ پڑتال کرنے میں انتظامیہ حق بجانب ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ کوئی عام جگہ نہیں، کہ جہاں جس کا دل چاہے، منہ مع کیمرہ اٹھائے چلا آئے، اور فلمانے لگے۔
بلکہ وزارت خارجہ کا کمپلیکس ہے۔جہاں دنیا بھر سے سفارت کار، بین الاقوامی مندوبین، اعلیٰ افسران اور وزراء آتے ہیں۔حساس نوعیت کے بین الاقوامی معاملات پہ میٹنگز ہوتی ہیں۔ ملک کی خارجہ پالیسی مرتب کی جاتی ہے۔اور ایسے کئی ایک راز ہوتے ہیں جن کا ظاہر ہونا ملکی مفاد میں نہیں ہوتا۔
اور پھر ایسے سارے قواعد اور ضوابط میں آتا ہے ایک ٹوئسٹ۔۔
جب ایک غیر سنجیدہ سی خاتون، کہ جنھیں شوبزنس تو دور کی بات،لوبزنس، یعنی گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے اخلاق باختہ تھیٹروں نے بھی گھاس ڈالنا مناسب نہیں سمجھا ہوتا۔
اور وہ تشنگی دور کرنے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ٹک ٹاک کی خود ساختہ ایکٹریس بنی پھرتی ہیں،سستی شہرت کمانے کے چکر میں وزارت خارجہ کو فلمانے لگتی ہیں۔

اور پھر ایسی حساس جگہوں کی ویڈیوز انڈین گانوں کے ساتھ سوشل میڈیا پہ شیئر کرنے لگتی ہیں،کہ جنھیں فلمانے کی اجازت ایک صحافی کو بھی نہیں ہوتی۔ اور جب ان سے اس بارے پوچھا جاتا ہے کہ محترمہ نے یہ سارا ڈرامہ کیوں رچایا؟ جو کہ پاکستان کے لئے بھی جگ ہنسائی کا باعث بنا ہے،تو کمال بے پرواہی برتتی ہیں۔۔۔
یہ تو میرا معمول ہے، جہاں بھی جاتی ہوں ،ایسا ہی کرتی ہوں۔ اور پھر معصومیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید کہتی ہیں کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ویڈیو وائرل ہوجائے گی۔حالانکہ ایک عام آدمی جو کہ سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرتا، وہ بھی جانتا ہے کہ سوشل میڈیا پہ وائرل کرنے کے لئے ہی ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہے۔
اور جب یہ جواب بھی ناقدین کی تسلی نہیں کرسکتا، تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق محترمہ میڈیا کو ہی لتاڑتے ہوئے کہتی ہیں کہ میڈیا کو اور کام کیا ہے سوائے بات کا بتنگڑ بنانے کے۔
اور ان سے ایسے گھٹیا جواب کی ہی توقع کی جاسکتی تھی۔

یہ تو ارباب اقتدار کو سوچنا چاہییے تھا۔ وزارت خارجہ ایک سنجیدہ، حساس نوعیت کی اور ایک ذمہ دار وزارت ہے۔ اور کیا یہاں ایسی فضولیات زیب دیتی ہیں؟ یہاں ایسی غیر سنجیدہ شخصیات کا داخلہ ہونا چاہیے؟
جس کا قلم دان بھی تحریک انصاف کے سب سے سنجیدہ اور سیاسی فہم رکھنے والے وزیر شاہ محمود قریشی کے پاس ہے۔لیکن ان کو کیا روئیں، کہ حریم شاہ کا کہنا تھا کہ میں انہی سے تو ملنے آئی تھی اور اکثر و بیشتر آتی رہتی ہوں۔ اور دیکھنے میں آیا ہے کہ شاہ محمود سمیت کئی ایک انصافی راہنماؤں کی محترمہ کے ساتھ سیلفیز بھی میڈیا پہ موجود ہیں۔ ایک سینئر صحافی کے ساتھ بھی ان کی سیلفیز وائرل ہوئیں اور جنہوں نے آج کل محترمہ پہ چوری کا مقدمہ بھی دائر کیا ہوا ہے۔
لوگ بھی سستی شہرت کے حصول کے لئے کیسے کیسے پاپڑ بیلتے ہیں۔

ویسے پچھلی حکومتوں میں ایسے اوچھے کرتوت صرف پارلیمنٹ لاجز تک ہی محدود رہتے تھے۔ اور شراب کی بوتلیں ایم این ایز ہاسٹل سے آگے نہ جاتی تھیں۔ لیکن موجودہ حکومت، اپنے غیر سنجیدہ رویے  میں پچھلی حکومتوں سے بازی لے گئی کہ جب وزارت خارجہ جیسی اہم وزارت کے پردے پہ ایسے ایسے جلوے دکھائی دے رہے ہیں۔
تو پھر سوچا ہی جاسکتا ہے کہ پس پردہ کیا کیا گل کھلائے جارہے ہیں؟ لکھا نہیں جاسکتا۔۔۔۔۔۔

وضاحت: بائیس اکتوبر کے کالم “مسئلہ کشمیر دھرنے کی نذر” کے بارے میں یار لوگوں نے الزام لگائے ہیں کہ میں کالم لکھنے کی مد میں حکومت سے پیسے لیتا ہوں تو اپنی صفائی میں صرف اتنا کہوں گا کسی پارٹی یا حکومت سے میری کوئی سیاسی وابستگی نہیں، بس جو دکھتا ہے وہی لکھتا ہوں۔اور قارئین کو بھی پورا حق حاصل ہے کہ جو نظر آئے وہی کہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *