جشن آزادی۔۔رؤف الحسن

آزادی کا اعلان ہو چکا تھا۔ ہندوستان سے مہاجرین قافلوں کی صورت میں مملکت خدادا پاکستان کو آباد کرنے پہنچ رہے تھے۔ فسادات کی آگ میں کسی قافلے کا خیر و عافیت کے ساتھ پہنچنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ بلوائیوں کے حملے میں کوئی زخمی ہوتا تو کسی کی جان جاتی۔ کوئی مال و زر سے ہاتھ دھوتا تو کوئی عزت گنواتا۔

بارہ سالہ محمد علی بھی ایسے ہی ایک قافلے کا حصہ تھا۔ امرتسر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے رات کے اندھیرے میں نکلنے والے اس قافلے میں تین خواتین, دو مرد اور بارہ سالہ محمد علی شامل تھا۔ گاؤں سے نکلتے وقت محمد علی کے باپ نے پوٹلی دیتے ہوئے اس سے وعدہ لیا تھا کہ اگر میں زندہ نہ پہنچ سکا تو وہ پاکستان پہنچ کر اپنے باپ کی خواہش پوری کرے گا۔ اس کا باپ اسے ایک سبز چیز دکھاتے ہوئے سمجھا رہا تھا۔

چھپتے چھپاتے یہ قافلہ نوزائیدہ مملکت پاکستان کی طرف رواں دواں تھا جب ان کا سامنا تلوار لہراتے سکھوں کے ساتھ ہوا۔ نہتے, مظلوم بھلا کیا مقابلہ کرتے؟ مملکت اسلامیہ کی بنیاد کو شہیدوں کے خون نے اور مضبوط کردیا۔ محمد علی معجزانہ طور پر اس حملے میں محفوظ رہا۔ لیکن اپنے خاندان والوں کی دردناک چیخیں اور ابلتے خون کے مناظر اس کے ذہن میں نقش ہو کر رہ گئے۔ اس نے اپنی پوٹلی اٹھائی اور ان دیکھی راہوں پر چل دیا۔کچھ دور جا کر اسے ایک اور قافلے میں پناہ ملی اور وہ گرتے پڑتے وہ بحفاظت سرحد پار پہنچ گیا۔

پاکستان پہنچنے والوں کی خوشی دیدنی تھی۔ کوئی خوشی کے آنسو بہا رہا تھا تو کوئی سجدہ شکر ادا کر رہا تھا۔ کوئی سوہنی مٹی کو سونگھ رہا تھا تو کوئی حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ آسمان کو تک رہا تھا۔ محمد علی بھی ایک کونے میں کھڑا بیتے واقعات کو یاد کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے خاندان والوں کی کٹی ہوئی لاشیں گھوم رہیں تھی۔ اس نے پر نم آنکھوں کے ساتھ اپنی پوٹلی کھولی اور کانپتے ہاتھوں سے وہی سبز رنگ کی چیز نکالی۔ یہ اس کے باپ کی آخری نشانی تھی۔ اس کے ذہن میں ایک فلم سی چل رہی تھی۔ وہ کافی دیر تک اس چیز کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا۔ آنسو اس کے گالوں سے بہہ کر زمین میں جذب ہو رہے تھے۔ اس نے آنکھوں کو بند کیا اور اس سبز رنگ کی چیز کو اٹھاتے ہوئے منہ کے قریب لے گیا۔

“بھاں۔۔۔۔۔۔بھاں۔۔” اس نے پھیپھڑوں کا مکمل زور لگاتے ہوئے وہ سبز رنگ کا باجا بجایا۔ باجے کے منہ سے کان کے پردے پھاڑ دینے والی آواز بلند ہوئی۔
“پاکستان زندہ باد” لوگوں نے باجے کی آواز سنتے ہی نعرہ لگایا۔ اس نے مسکراتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا۔ جشن آزادی شروع ہو چکا تھا۔

Rauf Ul Hassan
Rauf Ul Hassan
I do not consider myself a writer. Instead, I am a player. As one of my friend s said: "You play with words. " He was right. I play, and play it beautifully.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *