اسلامی فلاحی ریاست میں فراہمی انصاف کے خدوخال۔۔بدر غالب

اسلامی فلاحی ریاست میں تصور ِانصاف، ایک انتہائی سادہ سا نظامِ حیات ہے جس میں قرآن و حدیث سے اخذ شدہ سیاسی، سماجی، معاشی و معاشرتی حقوق و ذمہ داریوں کا تعین ہوتا ہے۔ اور مسلمان حاکم اور قوم مل جل کر ایسے انصاف پر مبنی نظام عدل و نظام حیات کو ممکن بناتے ہیں۔

اسلامی فلاحی نظام ِانصاف کی اساس و بنیاد سچی، بے خوف و بے لاگ گواہی ہے۔ اس سچی، بے خوف و بے لاگ گواہی کا اظہار حکمران کو چننے یا اس کی  بیعت کے وقت شروع ہوتا ہے۔ اگر اس ریاست کے مسلمان اخلاقی بلندیوں کا فیض حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہوں تو ایک درست حکمران ان پر حاکم ٹھہرتا ہے، اور اس وقت تک اصلاح شدہ متصور ہوتا ہے، جب تک کہ اس کی قوم میں اس حکمران کا اصلاحی عکس ظہور پذیر رہے۔

ایسا صالح حکمران اس بات کو قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اپنے زیرِنگیں ریاست اسلامی میں ایک ایسا انصاف پر مبنی نظام زندگی قوم کے لیے ممکن بنائے جہاں ہر طرح کی نیکی کرنا، سچ بولنا اور سچی گواہی دینا، جھوٹوں کی گوشمالی کرنا ممکن ہو۔ ایسا مسلمان حاکم خود بھی سچا، امانتدار اور ایفائے عہد کا پاس رکھنے والا ہوتا ہے، اور اپنے زیرِنگیں قوم کے لیے بھی ان بابرکت راہوں کو استوار کرنے اور چلنے میں آسانی و سہولت فراہم کرنے والا ہوتا ہے۔ سچ اور سچی گواہیوں کی برکت سے قرآن و حدیث میں درج حقوق قوم کی دہلیز تک پہنچتے ہیں، اور حق تلفی کرنے والے اپنے کیے کی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔

پھر ایک ایسا سچا مبنی بر انصاف معاشرہ قائم ہوتا ہے جس کا تصور تک آج کے مادی دور میں شاید ایک جرم قرار پانے لگا ہے۔

بدر غالب
بدر غالب
ماسٹر ان کامرس، ایکس بینکر، فری لانس اکاوٰنٹنٹ اینڈ فائنانشل اینیلسٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *