سرکاری اعلان ہوا ہے، سچ بولو۔۔۔۔ جاوید بلوچ

ہر معاملے میں دو ممکنات ہوتے ہیں جیسے کہ سہی غلط ،موجود غیر موجود وغیرہ وغیرہ ، بالکل اسی طرح جہاں جہاں سچ نے پڑاو کیا وہاں جھوٹ نے بھی اپنی جڑیں پیوست کرکے بھر پور مقابلہ کرنے کی ہمیشہ سے کوشش کرتا چلا آرہا ہے۔

سچ یا سچائی کی تعرف کی جائے تو مطلب کچھ یوں نکلتا ہے کہ سچ بولتے ہوئے اس بات کا خیال بالکل بھی نہیں رکھا جاتا ہے کہ کیا اور کیسے بولنا ہے ،الفاظ کا چناؤ کیسے کرنا ہے اور جھوٹ کے بارے میں بات کی جائے تو یقیناً جھوٹ بولتے وقت بندہ اتنا مجبور ہوتا ہے کہ لب بھی ساتھ نہیں دیتے اور لبوں کو بھی کسی مخصوص زاویے سے ہلانا پڑتا ہے اور تو اور ایک چھوٹے سے گوشت کے ٹکڑے یعنی زبان بھی طاقت اور دبدنے والے انسان کے کنٹرول میں نہیں ہوتا یوں اچھے خاصے شخصیات پھسلنے سے بال بال بچتے ہیں۔ اور اس کے برعکس سچ بولنے والے ان تمام تجربوں اور ہوشیاریوں سے ناواقف ہوکے بس بولتے چلے جاتے ہیں چاہے انجام کچھ بھی ہو.!!

اب سچ اور جھوٹ عدم سے موجود ہیں تو چلو ان ادوار پر نظر ڈالتے ہیں کہ کب ان دونوں کو کیا مقام حاصل رہا ۔جہاں تک بات سچ کی ہے تو سچ کو عدم سے روکنے کی  بھرپور  کوشش رہی ہے۔ سچ کو جن زبانوں پہ  دیکھا گیا ان زبانوں کو ہمیشہ کے لیے جسم سے الگ کیا گیا ،سچ کو جب کبھی کسی قلم سے کسی صفحہ پر اترتا دیکھا گیا تو قلم کو سر قلم کردیا گیا اور اس میں موجود سیاہی کو سرخ کرکےبہایا گیا اور ان ہاتھوں کو کاٹ کر کسی چوک پہ  لٹکا کے باقیوں کو پیغام دیا گیا کہ جو بھی ہاتھ اس ہاتھ کو تھامنے کی کوشش کرے گا سر بازار لٹکا دیا جائے گا، جب جب سچ کی حامیوں کو حمایت کرتا دیکھا گیا تب ان کو ایسی سزا ملی کہ پھر ان حامیوں کا کوئی حامی نہیں رہا، جب کبھی سچ کو عدالتوں میں مظلوموں کے حق کے لیے ادھر ادھر بھٹکے دیکھا گیا تو مظلوم کے ساتھ ساتھ سچ کو بھی کال کوٹھڑیوں میں ہمیشہ کے لیے نظر بند کیا گیا اور جب کبھی سچ کو کہیں کسی معاملے میں صحت مند پایا گیا تو ظلم اور بربریت کی ایسی لاٹھی چارج ہوئی کہ وہ بس رینگتا رہا اور سچ کی یہی بات مجھے بہت اچھی لگی کہ جو بھی حالات ہو سچ کا سفر ہمیشہ سے جاری رہا ہے۔
اور اس کے برعکس جب بات جھوٹ کی ہو تو جب جھوٹ کو کسی زبان پہ ناچتے دیکھا گیا تو شائقین  داد دیے بنا نہ رہ سکے۔اور اس طرح جھوٹ بولنے والوں میں کبھی کوئی عام فرد، کبھی کوئی نام نہاد لیڈر تو کبھی خود ریاستیں شامل رہیں ۔

جھوٹ کو اتنی تقویت اور اعلیٰ مقام دینے میں معاشرے کے جو  حضرات ہمیشہ سے پیش پیش رہے ہیں ان کو اس کام کے بدلے دنیا جہاں کی دولت سے مالا مال کیا گیا اس طرح انعامات دینے،ضمیر خریدنے اور سچ کو تاریکیوں میں رکھنے کا یہ  سلسلہ آج  تک جاری ہے ۔اور سچ کو تاریکیوں میں رکھنے والے یا سچ بولنے پر پابندی لگانے والوں کو شاعر نے دیکھا تو فرمایا ۔۔

اپنے ہونٹ سئے ہیں تم نے
میری زبان کو مت روکو
تم کو اگر توفیق نہیں تو
مجھ کو ہی سچ کہنے دو
ظلم رہے اور امن بھی
کیا ممکن ہے تم ہی کہو

اب وقت آہی گیا ہے کہ سامراج کے خلاف سچ   بولا اور لکھا جائے تاکہ انسانی فطرت کا تقاضا پورا ہو کیونکہ سچ یقیناً فطری عمل ہے اور فطری عمل کو روکے رکھنا بغاوت ہے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *