یہ کیا ہورہا ہے؟۔۔۔سلیم مرزا

یہ ہو کیا رہا ہے ؟
اچھے بھلے لکھنے والے بھی کمنٹ میں آتے ہیں تو جگت کرنے کو خوش خطی کے اضافی نمبروں جیسا سمجھ کر فٹاک سے کچھ بھی لکھ دیتے ہیں ۔
اللہ کے نیک بندوں چار لائنیں مزاح کی میں نے کیا لکھ دیں، آپ نے مجھے میراثیوں کا منڈا ہی سمجھ لیا

پچھلی پوسٹ پہ ایک صاحب نے کمنٹ کیا ۔
“آپ کو جب بھی پڑھا ،بہت سواد آیا ۔آپ ہمیشہ نئی نئی جگتیں کرتے ہو ”

اب میں کیا بتاتا کہ میں روزمرہ میں اتنا ہی عطائی ہوں جتنے آپ “کوڑھ ” ہو۔مجھے تو اب حسرت ہے کہ کوئی مجھے ابنارمل نہ سمجھتے ہوئے نارمل بات کرلے ۔

ہمارے ایک پیارے ہزارے وال میں ہیں ۔مجھے وہ بھی مذاق کرنے سے باز نہیں آتے، حالانکہ ان کی اپنی معصومیت کا یہ عالم ہے کہ شادی کے چار سال تک اولاد جیسی نعمت سے محروم رہے ۔اس دوران ہمسائیوں کے ہاں تین بچے ہوگئے ،وہ تو اللہ نے کرم نوازی کی، ان کا پڑوسی دوبئی سے واپس آیا تو اس نے بتایا “بھائی آپ کے گھر کا گیٹ نیلے رنگ کا ہے “۔اچھے بھلے سادہ انسان ہیں ۔
حادثے کے بعد میری عیادت کو فون کیا ۔بازو کا پوچھا تو بتایا،”بازو تو اب ٹھیک ہے مگر ہاتھ کبھی کبھار کام نہیں کرتا”۔۔
جھٹ سے بولے “جہاں ہاتھ نہ چلے، وہاں زبان چلایا کرو “۔۔
میں تو ہکا بکا رہ گیا، ذرا ناراض ہوکر پوچھا۔۔۔”اس کا کیا مطلب ہے؟
کہنے لگے “اس کا وہی مطلب ہے جو میں نے کہا ہے ۔باقی جو تم سوچ رہے ہو، وہ بھی ٹھیک ہے “۔

پرانے وقتوں میں کمنٹس بُری بات سمجھی جاتی تھی ۔عموما ًان کا استعمال اچھی باتوں کی ترویج اور بچوں کو ٹوکنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ہماری جوانی میں کم مارکس پہ اتنی دھلائی نہیں ہوئی، جتنی ریمارکس پاس کرنے پہ ہوتی تھی ۔پرانے محلے کی ایک” جَگت بُوا “ہر لڑکی کو ایک ہی کوسنا دیا کرتیں تھیں “تیریاں تے ٹنگاں چہ چج ای کوئی نئیں “۔۔۔
اوائل عمری میں اکثر سنتا تو سوچتا کہ ٹانگوں کا، سلیقے سے کیا تعلق؟۔۔
وہ تو جوان ہوئے تو اندازہ ہوا کہ “سلیقہ “سلائی مشین کا نام ہے، جو پیروں سے چلتی ہے ۔جس پہ جو نوبیاہتا زیادہ سے زیادہ ننھے منے کپڑے سی لے وہی سگھڑ کہلاتی ہے ۔
باقی آپ جو سوچ رہے ہیں ،وہ بھی ٹھیک ہوسکتا ہے ۔۔مگر اپنی صوابدید پہ سوچیے ۔کیونکہ اب بھی سلائی مشینوں سے عرب ملکوں میں خواتین اربوں کما لیتی ہیں،لیکن وہاں سلیقہ نہیں “جوکی ” کی ڈیمانڈ ہے ۔

کمنٹ کا مطلب تبصرہ ہی ہوتا ہے ۔کل ایک خاتون ادیبہ نے ،جو شاید کہیں پڑھاتی بھی ہیں، ایک مرد ادیب کے کھانے کی پوسٹ پہ تبصرہ کیا ۔۔جو شاید آج کل صرف لکھ رہا ہے ۔
اکیلے اکیلے۔۔۔؟
سرکار نے ترنت ریپلائی کیا
“آپ کی ایک ٹانگ لالہ موسی اور دوسری انگلینڈ ہوتی ہے، کیسے بلاتا “؟
اب خاتون نے تو دوبارہ کمنٹنے کی ہمت نہیں کی ۔میں کل کاسوچ رہا ہوں کہ نیک بختو۔۔کمنٹ توسوچ سمجھ کر کرو ۔
اگر محترمہ کہیں پانی بنانے بیٹھ گئیں تو ترکی میں سردیوں کی بارشیں وہاں کیاقیامت ڈھائیں گی؟
لالے موسے اور انگلینڈ کے درمیان وہی آتا ہے ۔جیسے شام اور ترکی کے درمیان کُرد آگئے ہیں ۔اب تُرکی ،شام میں خواتین کُردوں سے لڑے گا یا ہماری خاتون کے گردوں سے؟۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *