لنگر عمرانیہ۔ملنگ قوم۔۔۔۔ایم اے صبور ملک

ایک چینی کہاوت ہے کہ کسی بھوکے کو روزانہ مچھلی کھلانے سے بہتر ہے کہ اسے مچھلی پکڑنا سکھا دیا جائے،تاکہ اسکا روزگار بھی لگ جائے اور وہ بھوکا بھی نہ مر ے۔

رسالتماب ﷺ کا فرمان ذیشان ہے کہ محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے،ہم جو دن رات پاک چین دوستی کادم بھرتے ہیں،ہم جو ناموس رسالت پر جان دینے یا جان لینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں،ہم نے نہ تو کبھی اس چینی کہاوت پر غور کیا اور نہ ہی کبھی سرکار ﷺ کے اس فرمان کی گہرائی میں جانے کی زحمت گوارا کی ہے،آپ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کو نے میں چلے جائیں،ہر جگہ محنت کرنے والے کی عزت اور تکریم کی جاتی ہے، دین اسلام ہو یا دنیا کا کوئی بھی مذہب، ہر ایک نے بھیک مانگنے اور کسی ٹھوس وجہ کے بغیر کسی دوسرے کی کمائی پر عیش کرنے کی سخت مذمت کی ہے اور ایسے فرد کو کبھی بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

قرآن میں اللہ  تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی لئے وہ کوشش کرتا ہے،یعنی جتنی محنت اتنا سرمایہ،بنا محنت کے سرمائے کو سود کہہ کر اللہ سے جنگ کے مترادف قرار دیا  گیا ہے،کسی فردکی ذاتی زندگی سے لے کر اقوام کے صفحہ زیست تک ،محنت مشقت کرنے والوں نے ہی اس دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے،کام چور،سہل پسند افراد اور قومیں دوسروں کے دست نگر رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی بات کو اقوام عالم میں نہیں سنا جاتا۔

ایک سادہ سی مثال ہے کہ گھر میں عزت اسی بیٹے کی ہوتی ہے جو کماکر کھلائے ،سارا دن بستر توڑنے والا ماں باپ کی پھٹکار کا مستحق ٹھہرتا ہے،مجھے کل سے شیدے نے بہت تنگ کیا ہوا ہے،بار بار ایک ہی سوال کر رہا ہے کہ یہ ماڈل سکول،ماڈل کالج،ماڈل سوسائٹی،ماڈل تھانے اور ماڈل بوائز گرلز تو سنا تھا اب یہ کیا ماڈل لنگر خانے بھی کھل گئے۔ اس کا مطلب اب مفت کا کھانا بھی اعلی نسل کا ملے گا،یعنی ایک پلیٹ چاو ل کے لئے نہ تو لائن میں دھکے کھانے پڑیں گے اور نہ ہی چاول میں گوشت،سبزی اور چنوں کی جگہ کنکر ملیں گئے،اب لنگر کی بریانی میں گوشت کی مقدار برابر ہو گی،اور گندے مندے ہاتھوں چاول جھولی یا زمین پر رکھ کر کھانے کی بجائے میز کرسی پر بابوؤں کی طرح عزت سے بٹھا کر باقاعدہ ہاتھ دھلا کر کھانا دیا جائے گا،اور ساتھ میں وہ تمام لوازمات جو کہ شرعاً اور قانوناً جائز نہیں لیکن پاکستان کے تما م درباروں کے لنگروں میں ملنگ باباؤں کو باآسانی دستیاب ہیں وہ بھی ملیں گے،اور کوئی پولیس والا کسی کو چند گرام کی وجہ سے گرفتار نہ کرسکے گا،بقول شیدے کے لوگ خوامخواہ عمران خان کے خلاف بات کرتے ہیں ،یہ کتنی بڑی تبدیلی ہے کہ اس نے ہمارے ملنگ طبقے کی فلاح وبہبود کے لئے یہ انقلابی اقدام کیا۔

قارئین اس کا فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ شیدا ٹھیک کہہ رہا ہے یا غلط کیونکہ مجھے اس ملنگ طبقے کی فلاسفی سے کوئی لینا دینا نہیں،تاہم میری ناقص رائے میں سرکار کا ماڈل لنگر خانے کھولنے کا اقدام کسی طور بھی قابل تعریف  نہیں،ایٹمی صلاحیت کے حامل اس ملک میں جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا،قوم کو بجائے اسکے کہ ہنر مند بنانے کے اقدامات کیے  جاتے،تاکہ مفت کی مچھلی کھانے والے مچھلی پکڑنا سیکھ جاتے اور اپنے خاندان ،اپنے ملک وقوم کی بہتری کے لئے کارآمد بنتے،اسکے بجائے ان کو مفت کی روٹی کھانے کی ترغیب دی جارہی ہے،وہ دوکروڑ نوکریا ں دینے کاوعدہ،وہ50لاکھ گھر بنانے کا خواب،کل تک شہباز شریف کو لیپ ٹاپ د ینے کا طعنہ دینے والوں نے پاکستانیوں کو بنا محنت روٹی توڑنے پر لگا کر اس بات کو عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ اس حکومت کا ویژن کیا ہے؟

ایک سال میں بجائے معیشت درست کرنے کے،مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے،عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم ہونے پر بھی ڈھیٹ بن کر قیمتوں میں کمی نہ کرنے،ایک سال میں کوئی ایک بھی میگا پراجیکٹ نہ دینے اور پہلے سے جاری نیو اسلام آباد ائیرپورٹ تک میٹرو لے جانے کے منصوبے،راولپنڈی میں یورالوجی ہسپتال کی تعمیر روکنے،سی پیک پر سُست رفتاری جیسے ملک دشمن اور عوام دشمن اقدامات کے علاوہ کوئی ایک کام بھی نہیں ہوا،یوٹرن کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسوں نے ملک کو وہاں لاکھڑا کیا ہے کہ اب قوم کو لنگر خانے کا راستہ دکھا دیا ہے،آپ نواز شریف یا شہباز شریف سے لاکھ اختلافات رکھیں،لیکن یہ بات سچ  ہے کہ اپنے پہلے دور اقتدار میں یلو کیب سکیم ہو،گزشتہ دور میں نوجوانوں کو کاروبار کے لئے قرضہ ہو،شہباز شریف کی جانب سے لیپ ٹاپ اور وزیر اعلی پنجاب کی سکیم کے  تحت گاڑیوں کی تقسیم ہو،جس میں پنجاب بنک کے بقول قسطوں کی ادائیگی 100فیصد ہے،ان منصوبوں نے نوجوان طبقے کو باعزت روزگار دیا، نہ کہ مفت کی روٹی۔

قوموں کی تعمیر فکر سے ہوتی ہے ہنگامو ں سے انتشار پھیلتا ہے،ساری زندگی دوسروں کے پیسے پر پلنے والے وزیر اعظم کو کوئی یہ بتائے کہ وہ اس قوم کو محنت کے بجائے سہل پسندی کا درس دے رہے ہیں،پاکستان کو لنگر خانوں کی بجائے ہنر مند افراد پیدا کرنے والے تکنیکی اداروں کی ضرورت ہے،لیپ ٹاپ کا ایک فائدہ تو ہوتا ہے کہ آج کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں نوجوان طبقہ مختلف اقسام کے آن لائن فری لانس پراجیکٹ کر کے اپنا روزگار کمارہے ہیں،مفت کی روٹی کھا کر تو انسان کی پہلے محنت کرنے کی عادت ختم ہو تی ہے اور پھر اس کے اندر موجودغیرت و حمیت بھی باقی نہیں رہتیں،کیونکہ جس کو پیٹ بھر کر دو وقت کی روٹی مفت میں مل جائے اسے کیا ضرورت کام کرنے کی،جناب قوم کو خدارا ملنگ تو نہ بنائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *