آزاد خیالی کو خود تک محدود رکھیں۔۔۔سدرہ

جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک طوفانِ بدتمیزی شروع ہوگیا ہے فیمینسٹ، لبرل اور سیکولر ازم کے حامی لوگوں نے  اِس کی خاص طور پر بہت پذیرائی کی ہے جو کہ ہر ایک انسان کا اپنا الگ مسئلہ ہے کہ کون کیا ہے اور وہ کیا پسند یا ناپسند کرتا ہے، اُن کی اِس چاہت میں کسی دوسرے کی مداخلت کرنا میرے خیال میں قابلِ احترام بات نہیں مگر کچھ مخصوص طبقات کی شخصی سوچ کو اجتماعی طور پر سب کے لئے قابل قبول گرداننا نہایت غیر مساوی اور غیرمعیاری بات ہے۔
آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر کراچی اور اسلام آباد میں جو ایک نظریہ پیش کیا گیا عورت ذات کی آزادی کے خیال سے وہ سراسر غلط اور انتہائی شرمناک ہے، بطور ایک عورت کے میرے مطابق اِس میں اُن مسائل کو بیان ہی نہیں کیا گیا جو حقیقی زندگی میں پاکستانی معاشرے میں عورت کو درپیش ہیں، اگر پیش بھی کیا گیا تو وہ نازیبا الفاظ کی مدد لے کر غیر متعلقہ مواد کو جِن کا ہونا کسی بھی معاشرے میں عین ممکن ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ اُن کے مطالبات کیا تھے، دوپٹہ، بستر، موزہ، ٹانگیں کھول کر بیٹھنا، وغیرہ وغیرہ یہ تمام نقات نہ ہی تو اِس قابل ہیں کہ اِن پر کوئی بحث کی جائے اور نہ ہی موضوع بنایا جائے، یہ تو انسانی اقدار ہیں جو انسان کی فلاح و بہبود کے لئے بنائے گئے ہیں، یہ تو گھریلو زندگی کی روح ہیں جن کے بغیر ایک منظم اور خوشگوار معاشرے کی تشکیل ممکن ہی نہیں۔
ایک مرد کی جب شادی ہوتی ہے تو اُس کے دل میں اپنی بیوی کے لئے محبت بھرے جذبات ہوتے ہیں وہ اپنی زندگی اپنی بیوی کے قدموں میں رکھ دیتا ہے اور اُس کے ہر حکم کو پیار و محبت سے قبول کرتا ہے تو اگر بیوی بھی بدلے میں تھوڑی بہت محبت و خلوص سے اپنے خاوند کی زندگی میں خوشیاں بکھیر دیتی ہے تو اِس میں پابندی کہاں سے آئی؟ کیا کوئی غیر اُس کے لئے اپنے شوہر سے زیادہ محبت دینے والا  بن سکتا ہے؟ کیا ایک ہنستا مسکراتا گھرانہ اُس کو کوئی باہر والا دے سکتا ہے اور وہ بھی ایسے معاشرے میں جہاں شہوت اور جسمانی بھوک کی کمی نہ ہو۔
ہر تحریک کو ماحول و رواج کے مطابق تشکیل دیا جاتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک گھر میں دن رات موسیقی تیز آواز میں بجتی رہے اور اُس کا پڑوسی اِس کی شکایت نہ کرے؟ یہ مثال ایسی ہے کہ آپ اگر کسی تحریک کو آگے تک لے جانا چاہتے ہیں تو ابتداء آپ کی نہایت موزوں اور قابل قبول ہونی چاہیے  تاکہ دوسرے اُس سے متاثر ہوکر آپ کے ہمنوا بن سکیں ناکہ آپ پر تنقید شروع کرے اور آپ کو غلط ثابت کرکے آپ کے لئے اور پریشانی کا باعث بنیں ۔
عورت اگر لندن کی  شاہراہوں پر برقعہ پہن کر گھومنے لگے تو سب کی نظر اُس پر پڑتی ہے اور پولیس تک بات پہنچ جاتی ہے کیونکہ وہاں کا ماحول اِس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ ایک عورت بِکنی پہنے گھومتی رہے اور دوسری برقعہ پہن کر، اِس لئے کہ وہاں کا ماحول اُس انداز سے بن چکا ہے کہ اگر عورت اپنی ٹانگیں پھیلا کر بھی بیٹھ جائے تو کسی کو محسوس نہیں ہوتا وہاں کے ساحل سمندر پر عورتوں کے لباس نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اِس لئے کہ وہ عادی ہیں اُس ماحول کے، اور اگر یہی بات وہ عورتیں چاہتی ہیں کہ وہ بھی آزادی سے اِسی طرح زندگی گزاریں تو کیوں کراچی کے ساحل خالی پڑے ہیں، کیوں ایسی عورتیں یہاں موجود نہیں؟ آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی  اقدار کو پرانے زمانے کا لیبل لگا کر جِدت کی ٹوکری میں پھینک دو۔
آپ کو دوپٹے سے تکلیف ہوتی ہے تو آپ نا لیا کریں نہ دوسروں کے لئے آپ کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ اُن کے زندگی کے فیصلے بھی آپ کرلیں، آپ اپنی ٹانگیں کُھلی رکھتی ہیں یا ٹانگیں اُٹھا کر تو یہ آپ کے اپنے اختیار کی بات ہے آپ بیشک کریں اور پورے شوق سے کریں مگر اِس میں اجتماعی صِنف کو اپنا پیادہ بنانا کسی طور مناسب نہیں، آپ نہیں چاہتی کہ آپ کو کوئی روکے ٹوکے تو یہ آپ کی اپنی ذاتی زندگی ہے آزاد خیالی کوئی آج کی بات نہیں برسوں سے چلی آرہی ہے آپ بیشک آزاد خیال رہیں اور آزادی سے گھوما پھرا کریں مگر اِس لیبل کے بغیر کہ آپ ساری قوم کی عورتوں کی ترجمانی کر رہی ہیں۔
آپ کا جسم آپ کی مرضی بیشک اِس میں کوئی آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا آپ جیسا چاہیں ویسے ہی  کریں مگر اپنی ضرورت کو سب کی ضرورت بتا کر اپنا اُلو سیدھا کرنے کا اختیار نا آپ کو کوئی آج دے گا نہ  ہی برسوں بعد مل سکے گا، آپ سڑک پر چلنا چاہتی ہیں تو بیشک چلیں مگر اُن کو بھی آپ دقیانوسی نہیں کہہ سکتیں  نہ ہی غلام جو اپنی شرعی خاوند کے ساتھ پردے میں جا رہی ہے، آپ گھر کے کاموں سے تنگ آگئی ہیں تو آپ کو حق ہے کہ آپ اپنے گھر والوں سے احتجاج کریں لیکن یہ حق نہیں کہ آپ اُن تمام عورتوں کو مرد کی غلام جیسے القابات سے نوازیں جو اپنے خاوند کی خدمت کرنے پر فخر کرتی ہے۔
بات مختصر جو لوگ اِس تحریک پر متفق ہیں کہ عورت غلام ہے تو وہ بیشک اپنی وفاداریاں نبھا سکتے ہیں متعلقہ لوگوں کے ساتھ مگر اجتماعیت پر اپنی ذہنیت کو مسلط نہیں کر سکتے خواہ آپ خود کو آزاد رہتے ہوئے حکمران اور پابند رہنے والوں کو غلام ہی کیوں نہ تصور کریں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آزاد خیالی کو خود تک محدود رکھیں۔۔۔سدرہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *