• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کائنات کی کہانی کے اسرار، غیر مسلموں کے اعتراضات اور قرآن کا جواب

کائنات کی کہانی کے اسرار، غیر مسلموں کے اعتراضات اور قرآن کا جواب

میری نظر سے کچھ آیات گزریں تو سوچا کہ کائنات کی کہانی کو قرآنی آیات کی رو سے کچھ تشریح کر کے آپ احباب کی خدمت میں پیش کر دوں گا، اور ابتدائی ارادہ تو یہ تھا کہ ایک چھوٹا سا مضمون تحریر کروں گا لیکن جب شروع کیا تو اس کےبعد لگتاہے کہ شاید کتاب بھی کم پڑ جائے۔ اور پھرجب ان آیات کو اکٹھا کیا تو ایسا خوبصورت مجموعہ ترتیب پا گیا کہ جس کےبعد تشریح کی ضرورت ہی ختم ہو گئی ، بلاشبہ قرآن سے بڑھ کر فصیح و بلیغ کوئی کتاب نہیں ہے۔ ذیل میں آیات اکٹھی کی گئی ہیں سب سے پہلی قسط جو ایک طرح سے فہرست مضامین کا درجہ بھی رکھتی ہے،جو کہ کائنات کی ابتداء سے لے کر کائنات کی انتہاء تک کی مکمل تفصیل بیان کرتی ہے جس پر کہ آئندہ چند روز آپ کی خدمت میں سلسلہ وار جدید سائنسی توجیہات کے ساتھ حاضر خدمت رہوں گا، آیات سے مشرف ہوں اور غور و فکر فرمائیں۔ شکریہ
٭ بگ بینگ اور کافروں (مغرب ) کی جانب سے اس کی دریافت
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
1۔ أَ وَ لَم یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الأَرضَ کَانَتَا رَتقًا فَفَتَقنَاھُمَا وَ جَعَلنَا مِنَ المَآءِ کُلَّ شَئ حَیٍّ أَفَلاَ یُؤمِنُونَO(الانبیاء،٢١:٣٠)
اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اِکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے، پس ہم نے اُنہیں پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) ہر زِندہ چیز (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (اِن حقائق سے آگاہ ہو کر اَب بھی) اِیمان نہیں لاتےO
تخلیق کائنات کے مراحل
2۔ وَ جَعَلنَا فِی الأَرضِ رَوَاسِیَ أَن تَمِیدَ بِھِم وَ جَعَلنَا فِیھَا فِجَاجًا سُبُلاً لَّعَلَّھُم یَھتَدُونَO(الانبیاء،٢١:٣١)
اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا (نہ) ہو کہ کہیں (زمین اپنے مدار میں) حرکت کرتے ہوئے اُنہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے (درّے) بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکیںO
طبقات سماوی ، کہکشاؤں کائنات اور سات آسمانوں کی تخلیق
3۔ وَ جَعَلنَا السَّمَآءَ سَقفًا مَّحفُوظًاج وَّ ھُم عَن اٰیَاتِھَا مُعرِضُونَO(الانبیاء،٢١:٣٢)
اور ہم نے سمآء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مُہلک قوّتوں اور جارحانہ لہروں کے مُضر اَثرات سے بچائیں) اور وہ اُن (سماوی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیںO
4۔ ثُمَّ استَوٰی إِلَی السَّمَآئِ وَ ھِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَھَا وَ لِلأَرضِ ائتِیَا طَوعًا أَو کَرھًا قَالَتَا أَتَینَا طَائِعِینَOO (فصلت،٤١:١١)
پھر وہ (اﷲ تعالیٰ) آسمان کی طرف متوجہ ہوا کہ وہ (اُس وقت) دھُواں (سا) تھا۔ پھر اُسے اور زمین کو حکم دیا کہ تم دونوں (باہمی اِنحصار کے توازُن کے لئے) خوشی سے آؤ یا نا خوشی سے، اُن دونوں نے کہا کہ ہم (فطری نظام کے تحت) خوشی سے حاضر ہیںO
5۔ فَقَضَاھُنَّ سَبعَ سَمٰوٰتٍ فِی یَومَینِ وَ أَوحٰی فِی کُلِّ سَمَآءٍ أَمرَھَا وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنیَا بِمَصَابِیحَ وَ حِفظًا ذٰلِکَ تَقدیرُ العَزِیزِ العَلِیمِO(فصلت،٤١:١٢)
پھر دو (خاص) مراحل میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان کے اَحکام اُس میں بھیج دیئے، اور ہم نے آسمانِ دُنیا کو چراغوں سے رَونق بخشی اور اُس کو محفوظ (بھی) کر دیا، یہ اِنتظام ہے زبردست (اور) علم والے ربّ کاO
حقیقت اجرام فلکی
6۔ وَ ھُوَ الَّذِی خَلَقَ الَّیلَ وَ النَّھَارَ وَ الشَّمسَ وَ القَمَرَ کُلٌّ فِی فَلَکٍ یَّسبَحُونَO (الانبیاء،٢١:٣٣)
اور وُہی (اﷲ) ہے جس نے رات اور دِن کو پیدا کیا اور سورج اور چاندکو (بھی)، تمام (آسمانی کرّے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیںO
زمین میں معدنیات اور خزانے
7۔ وَ جَعَلَ فِیھَا رَوَاسِیَ مِن فَوقِھَا وَ بَارَکَ فِیھَا وَ قَدَّرَ فِیھَآ أَقوَاتَھَا فِی أَربَعَۃِ أَیَّامٍ سَوآء لِّلسَّائِلِینََO (فصلت،٤١:١٠)
اور اُس نے اس (زمین کے) اندر بڑی برکت رکھی (قسم قسم کی کانیں اور نشوونما کی قوتیں) اور اُس میں (اپنی مخلوق کیلئے) چار مراحل میں (زمین) میں اُس کے ذرائعِ نِعَم رکھے، جو ہر طلبگار کیلئے برابر ہیںO
دم دار ستاروں ، قواسرز اور بلیک ہولزکا ذکر
فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ﴿15﴾
ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں
الْجَوَارِ الْكُنَّسِ ﴿16﴾
جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں.
8۔ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِO وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌO
(الواقعه، 56 : 75 – 76)
پس میں ستاروں کے مقامات کی قسم کھاتا ہوںo اور اگر تم جان لو تو یہ بہت بڑی (چیز کی) قسم ہےo
إِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْO
(التکوير، 81 : 2)
اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گِر پڑیں گےo
وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتْ
جب تارے بےنور ہو جائیں گے (سورۃ التکویر،آیت22)
فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْO
(المرسلت، 77 : 8)
اور جب ستارے بے نور کر دیئے جائیں گےo
فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتْ
جب تاروں کی چمک جاتی رہے (سورۃ المرسلات،آیت88)
بگ کرنچ کا منظر
فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةًۭ كَٱلدِّهَانِ
پس جب آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے گا جیسے کہ سرخ چمڑہ (سورۃ الرحمن،آیت377)
وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍۢ وَاهِيَةٌۭ
اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا (سورۃ الحاقہ آیت 166)
يَوْمَ تَكُونُ ٱلسَّمَآءُ كَٱلْمُهْلِ
جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا (سورۃ المعارج،آیت88)
يَوْمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوْرًۭا
جس دن آسمان تھرتھرا کر لرزنے لگے گا۔(سورۃ الطور،آیت99)
إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا (سورۃ التکویر،آیت 11)
وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ
اور چاند بے نور ہو جائے گا (سورۃ القیامہ،آیت88)
وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں۔(سورۃ القیامہ،آیت99)
وَإِذَا ٱلْكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتْ
اور جب تارے جھڑ پڑیں گے (سورۃ الانفطار،آیت 22)
قیامت کا مکمل منظر سورۃ التکویر میں
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ﴿1﴾
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ ﴿2﴾
جب تارے بےنور ہو جائیں گے
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ ﴿3﴾
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ﴿4﴾
اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ ﴿5﴾
اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے
وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ﴿6﴾
اور جب دریا آگ ہو جائیں گے
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ ﴿7﴾
اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿8﴾
اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ ﴿11﴾
اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی
اپنی مصروفیات کی وجہ سے بہت عرصہ سے غیر حاضر تھا، بلیک ہولز اور قواسرز کے بارے میں آج کل لبرلز اور مغرب کی جانب سے بڑی شد و مد کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قرآن جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس میں ہر چیز کا ذکر ہے ، اس میں بلیک ہولز اور قواسرز کا ذکر نہیں ہے ، ابتدائی ارادہ صرف بلیک ہولز تک محدود رہتے ہوئے ایک چھوٹا سا مضمون تحریر کرنے کا تھا تاکہ خدمت قرآن میں اپنا مختصر حصہ پیش کر سکوں، مگر جب لکھنے کے لئے تحقیق شروع کی تو کریم قرآن نے اتنا کچھ عطا کر دیا کہ اب اس پر کئی اقساط بن جائیں گی ، انہیں کم سے کم اقساط اور مختصر ترین صورت میں منتقل کر کے اسی ترتیب سے احباب کے گوش گزار کرتا رہوں گا۔ ان شاءاللہ

Avatar
محمد حسن شاہ
نام محمد حسن شاہ ، لکھنے والوں کوپڑھ کر سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں ، محبت اور امن کا داعی اور کچھ بھی نہ ہونے کا دعویدار ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *