مکان کو گھر بنائیں ۔۔۔بشریٰ نواز

کمینی کم عقل ذلیل عورت ! تیری ہمت کیسی ہوئی اپنی ماں کو فون کرنے کی میں نے تمہیں سمجھایا بھی تھا کہ مجھے وہ لوگ پسند نہیں تو پھر تو نے ان کو فون کیوں کیا ؟ یاسر ! میری امی ہاسپٹل میں  بہت بیمار ہیں میں نے صرف ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کیا تھا میرے آگے اب تو زبان چلائے گی یہ کہتے ہی وہ زارا پر جھپٹ پڑا۔ بچے جو بیڈ پر بیٹھے ٹیب پر گیم کھیل رہے تھے اپنی ماں کو پٹتا دیکھ کر سہم گئے ،یاسر نے ایک نظر بچوں پہ  ڈالی اور کمر ے سے باہر نکل گیا۔۔
یہ ماڈل ٹاؤن میں واقع تین کنال کی کوٹھی کے ایک کمر ے میں ہونے والی کہانی ہے۔۔
بیل ہوئی بچے دوڑ کے دروازے کی طرف لپکے وہ سرخ بھبھوکا منہ لے کر اندر داخل ہوا،بانو نے پوچھا خیر تو ہے ۔۔

اتنا سننا تھا کہ اس نے بانو کو بالوں سے پکڑ لیا، گالیوں اور تھپڑوں کا طوفان تھا ،جس کی زد میں بانو آگئی ،بتائیں تو  سہی  ہوا کیا ہے، وہ بے چاری مار کھاتے  ہوئے  بھی پوچھ  رہی تھی، مجھے پیسوں کی ضرورت تھی تیرے بھائی کے پاس گیا اس نے صاف انکار کر دیا میں نے اتنے زیادہ تو نہیں مانگے تھے صرف بیس ہزار ہی تو مانگے تھے۔۔

پہلے بھی تو آپ کو بھائی نے دیے جو آپ نے کبھی واپس ہی نہیں کیے، بکواس کرتی ہے آگے سے، ایک زور دار تھپڑ سے اس کے ناک سے خون کا فوارہ اُبل پڑا۔۔ یہ کہانی ایک لو مڈل کلاس گھرانے کی ہے۔

گھر یلو تشدد، سماجی ناانصافی اور ظلم کی شکل  ہے دہشت گردی کاابتدائی انداز ہے، سب جانتے ہیں کہ خوا تین کس کس قسم کے تشدد اور ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔ کہیں بھائی نے بہن کو آگ لگا دی کہیں بیوی کو گھر سے نکا ل دیا ،بہن کو جائیداد نہ  دینی پڑ ے بہنو ں کو زنداں میں ڈا ل دیا۔

اس کا کوئی تو حل ہونا چاہے، اس سلسلے میں بہت کچھ کرنے کو ہے اور بہت زاویوں سے ہے ،اسمبلی میں بیٹھی خوا تین پہ  بھی بھا ری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متحد ہو کے اس نکتے پرمثبت قدم اٹھا ئیں ،اس سلسلے میں میڈیا اوراساتذہ پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ والدین اور بچوں کے درمیان دوری ختم  کر کے ان کا اعتماد بحال کریں۔ خاص طور پر لڑکیوں میں احساس کمتری سے پیدا شدہ باغیانہ ردعمل کا خا تمہ کریں ،ادھر مرد حضرا ت گھر کے سر براہ ہیں۔ ان کو بھی احساس دلا یا جاۓ کہ با ہر کا غصہ بیوی بہن  یا بیٹی  پہ  نہ اتارا جاۓ، گھر سے با ہر کی پریشانی با ہر ہی چھوڑ کر آئیں۔

یاد رکھیں عورت محفوظ ہے تو خاندان محفوظ ہے، گھر سلامت ہیں ،امیر کی کوٹھی  ہو یا غریب کا گھر اپنا،  سب کو پیا را ہے۔۔ مکان اینٹ سیمنٹ سے بنتے ،ہیں مگر گھر انسان کے محبت بھرے جذبات سے بنتا ہے ،عزت اور احساس سے پھلتا پھو لتا ہے ،انسانی تحفظ کی علامت ہیں، گھر صبر سے بنتے ہیں،  برداشت سے مکانو ں کو گھر بنائیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *