ہم بھی یہیں موجود ہیں۔۔کوکن برادری/شکور پٹھان

ہم انسانوں نے اپنے آپ کو گو ناگوں خانوں میں بانٹ رکھا ہے۔ یہ تقسیم جغرافیائی بھی ہے اور زبان، مذہب اور ثقافت کی بنیاد پر بھی ہے۔ خالق نے تو یہ فرق صرف اس لئے پیدا کیا کہ اس طرح ہم ایک دوسرے کو شناخت کر سکیں۔ مخلوق نے لیکن اسے ایک دوسرے پر برتری جتانے کا ذریعہ بنا لیا۔ صورتیں اور زبان جدا ہیں لیکن سب کے لہو کا رنگ ایک ہے۔ پھر بھی کسی کو زعم ہے کہ وہ مذہبی حوالوں سے دیگر لوگوں پر فضیلت رکھتا ہے۔ کسی کی گردن اس بات پر اکڑی رہتی ہے کہ اس کا تعلق ۔۔جنگجو نسل (Martial Race) سے ہے۔ کوئی لوگوں کو یہ یاد دلاتا رہتا ہے کہ اس کے آباؤ اجداد ماورالنہر سے شہسواری کرتے ، تلوار لہراتے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ کسی کو اس بات کا گھمنڈ ہے کہ وہ ملک التجار کی نسل سے ہیں۔

میرے شہر میں یہ تفریق و تقسیم اپنی انتہائی شکل میں موجود ہے۔ یہان مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک زمانے تک آپس میں شیر و شکر رہتے تھے۔ اب بھی کم از کم میرے شہر میں اقلیتوں کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوتا جو بدقسمتی سے میرے ملک کے دوسرے شہروں کی پہچان بنتا جا رہا ہے۔۔ ہندو، پارسی، عیسائی یہاں تک کہ یہودی بھی تقسیم سے قبل مقامی مسلمانوں کے شانہ بشانہ رہتے تھے۔ میرے شہر کے اکثر تعلیمی ادارے، ہسپتال، باغات، بازار اور رفاہی ادارے انہی غیر مسلموں کی مرہون منت ہیں۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد میرا شہر نوزائیدہ مملکت کا دالحکومت قرار پایا۔ بندرگاہ اور ہوائی اڈہ ہونے کے علاوہ یہ تجارت، و صنعت اور تعلیم کا اہم مرکز بھی تھا۔چنانچہ ملک کے گوشے گوشے سے روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں لوگوں نے یہاں کا رخ کیا اور میرے شہر نے ان سب کو اپنے  آپ میں سمو لیا۔

کوئی نہیں جانتا کہ میرا شہر کتنی زبانیں بولنے والے اور کتنی قومیتوں کے لوگوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔ یہاں پہلے سے ٓاباد سندھی، بلوچی، شیدی، مکرانی اور گجراتی برادریوں کے علاوہ پنجابی، پٹھان، سرائیکی، ریاستی، پوٹھوہاری، ہزاروی، براہوی، تھری، چولستانی، کشمیری، بلتی، چترالی، واخی، اویغور، کے علاوہ وہ قومیں اور برادریاں جو ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے ٓائیں جن میں یوپی، حیدرٓاباد، اور دہلی کے علاوہ، بہاری، کچھی، میمن، گوانیز، مارواڑی، میواتی، ملباری، مدراسی اور ہندوستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں کی ان گنت تعداد رہتئی ہے۔

اور تو اور یہاں ایرانی پاڑہ بھی ہے، بنگالی، برمیز، ویتنامی اور افغانوں کے بھی باقاعدہ علاقے ہیں۔ ایک زمانے میں دندان سازی کی ساری دکانیں چینیوں کی تھیں. میرے بچپن میں گورنمنٹ سوسائٹیز کے ہمارے محلوں میں یوروپین اور انڈونیشی بھی رہتے تھے۔
میری یہ فہرست یقیناً  نامکمل ہے۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت سی زبانیں بولنے والے اور ہندوستان پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ مگر ایک ایسی برادری بھی یہاں رہتی ہے جو اپنی اعلی قدروں، شرافت اور نجابت کے باوجود انتہائی غیر معروف ہے۔ میرے احباب میں سے شاید ہی کسی نے ” کوکنی برادری” کا نام سنا ہوگا۔ البتہ وہ جن کا کسی کوکنی سے واسطہ رہا ہے وہ یقیناً  انہیں    بہت اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ آج کا میرا موضوع بہت سے دوستوں کو غیر دلچسپ اور غیر متعلق محسوس ہوگا۔ لیکن کیا ہرج ہے کہ معلومات کیلئے ہی سہی، کچھ باتیں کوکنی برادری کے بارے میں ہو جائیں۔

کوکنی برادری، ہم کوکنی جسے کوکنی جماعت کہتے ہیں اور کراچی میں جہاں کہیں کوکنی  آباد ہیں وہاں وہ عموماً  بمبئی والوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

کوکن کا علاقہ ہندوستانی صوبہ مہاراشٹرا کے تین اضلاع یعنی، رتناگیری، تھانے اور راٗئے گڑھ ( سابقہ ضلع کولابہ) پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں اضلاع ساحلی علاقےہیں جہاں نہ صرف سندھ میں مسلمانوں کی  آمد سے قبل بلکہ طلوع اسلام سے بھی پہلے عرب تاجر  آیا کرتے تھے۔ یہ تاجر، ان علاقوں کے علاوہ، بھٹکل، کیرالہ اور سراندیپ (سری لنکا) میں بھی تجارت کرتے تھے۔ ان میں سے بہت سے تاجر یہیں بس گئے یا یہان مقامی لوگوں میں شادیاں کیں۔ کوکنی برادری کے بہت سے لوگ انہیی عربوں کی نسل سے ہیں چنانچہ  آپ بھیونڈی، بھٹکل وغیرہ کے لوگوں کو بے حد سرخ و سپید پائیں گے جو عراق اور عرب سے ٓانے والوں کی اولادیں ہیں۔ اسکے علاوہ بہت سے مقامی لوگوں نے بھی اسلام کی دعوت پر لبیک کہا۔
ان عربوں کا ہی اثر تھا کہ ساحلی علاقوں کے باسی چاہے وہ کوکن سے تعلق رکھتے ہوں یا بھٹکل یا کیرالہ سے، اکثریت سنی شافعی مسلک کی پیرو کار ہے۔ ایک خاص بات کوکن جماعت کا امتیاز ہے وہ یہ کہ برصغیر کی تقریبا ہر زبان بولنے والوں میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل ہوتے ہیں جیسے پنجابی زبان بولنے والے مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی سب ہوتے ہیں یا گجراتی ہندوں، پارسیوں اور مسلمانوں کی بھی زبان ہے۔ کوکنی بولنے والے صرف مسلمان ہی ہیں۔ ہندو اس سے ملتی جلتی مراٹھی یا عیسائی “کونکنی” بولتے ہیں۔

کوکن عام طور پرراسخ العقیدہ، دیندار اور راست باز ہوتے ہیں۔ اس کی گواہی ٓاپ ان سے لے سکتے ہیں جو کسی کوکنی  آبادی میں رہتے ہیں۔ یا اگر کوئی کوکنی کسی اور جگہ رہتا ہے تو وہ اکثر ان خصوصیات کی وجہ سے اپنے محلے میں نمایاں ہوگا۔(آپ میری طرف نہ دیکھیں۔ میں نے عام طور پر کہا ہے۔۔بہت سے ایسے نہیں بھی ہوتے)۔

جن دوستوں نے دلیپ کمار کی پرانی فلمیں دیکھی ہوں وہ مزاحیہ اداکار مقری، کو تو جانتے ہی ہوں گے، اس کے علاوہ اداکار شفیع انعامدار، کانگریس کے لیڈر اور اندرا گاندھی حکومت میں اور بعض حوالوں سے متنازعہ وزیر، عبدالرحمن انتولے، کانگریسی لیڈر رفیق زکریا اور ان کے بیٹے اور مشہور امریکی صحافی فرید زکریا اور راجیہ سبھا کے رکن اور سابق وزیر قانون حسین دلوی، یہ سب بھارتی حضرات کوکنی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

ساحلی علاقوں کا ہی اثر ہے کہ ایک زمانے تک کوکنیوں کی اکثریت نیوی، مرچنٹ نیوی، کے پی ٹی اور کسٹمز کی ملازمت کو ترجیح دیتی تھی۔ میری نوجوانی کے دنواں میں مرچنٹ نیوی کی ملازمت بہت سے کوکن نوجوانوں کا خواب تھی۔

اب تو من و تو کا فرق مٹتا جا رہا ہے لیکن ہمارے بزرگوں کا لباس عموما ً قمیص یا کرتا پاجامہ ہوتا تھا۔ بہت سے بزرگ جناح کیپ یا ترکی ٹوپی بھی پہنا کرتے تھے۔ ادھیڑ اور معمر خواتین کا لباس اب تک ساڑھی ہی ہے۔ اور یہی ساڑھی کوکنیوں کو بمبئی والے کہلانے کا باعث بنتی ہے۔

ساحلی علاقوں کا اثر کوکنی کھانوں میں نمایاں نظر ٓاتا ہے۔ ہم کوکنیوں کا دعویٰ ہے کہ ہم سے زیادہ ذائقہ دار مچھلی کوئی نہیں پکاسکتا۔ مچھلی ہماری بنیادی خوراک ہوا کرتی تھی۔ اکثریت کی پسندیدہ ڈش دال ، چاول، مچھلی، اچار اور پاپڑ ہے۔ ایک دلچسپ بات  آپ کو بتاؤں جس کا مشاہدہ میں نے ہندوستان میں کیا۔
ہمارے ٓابائی علاقے میں بوڑھے بزرگ جب سودا سلف لینے بازار میں کسی دوسرے بزرگ سے ملتے ہیں تو سلام دعا اور حال احوال کے بعد دریافت کیا جاتا ہے کہ ٓاج ،بازار، یعنی سودا، کیا لیا اور مچھلی کون سی لی اور کس بھاؤ لی۔ یہ اطلاع وہ دوسرے بزرگوں تک بھی پہنچاتے ہیں تاکہ مچھلی والا کسی سے زیادہ دام نہ لے سکے۔

یہی مچھلی سکھاٗئی ہوئی حالت میں بھی مختلف کھانوں کا حصہ بنتی ہے۔ اگر ٓاپ کسی کوکنی کے گھر کی سوکھی مچھلی اور جھینگے کھالیں تو  آپ یا تو عمر بھر کیلئے اس کے گرویدہ ہوجائیں گے یا پھر غلطی سے بھی زندگی بھر کسی کوکنی کے گھر میں کھانا نہیں کھائیں گے۔

مچھلی کے علاوہ بیسن سے بنائی ہوٗئی ایک ڈش”الن”۔ کچھ مخصوص سبزیاں  جیسے سہجنا جسے انگریزی میں drumstick اور ہماری زبان میں سیگٹ کہتے ہیں. کوکنی کھانوں کا حصہ ہوتی ہیں۔ چند میٹھی ڈشیں بھی صرف کوکنیوں کی پہچان ہیں جیسے پورن پولی، جو کہ بہت پتلے سے روٹی نما پھلکے میں چنے کی میٹھی دال اور الائچی وغیرہ بھر کر بنائی جاتی ہے، چند اور مٹھائیاں، شنگولی، گھولے، کنولی اور سکڑی آپ کو صرف کوکنیوں کے ہاں  ہی ملیں گی۔ شیر خورمہ  آپ نے میٹھی عید پر بہت کھایا (یا پیا) ہوگا۔ لیکن ہم کوکنی اپنے شیر خورمے کے علاوہ دوسرے شیر خورمے کو شیر خورمہ مانتے ہی نہیں۔

میرے شہر میں یہ برادری، منوڑا، بلدیہ کالونی، بمبٗی ٹاون اور کوکن سوسائٹی میں ٓاباد ہے۔ کورنگی اور لانڈھی کے کچھ علاقوں میں چند کوکنی گھرانے قریب قریب ٓاباد ہیں۔ اسکے علاوہ، خلیجی ممالک، سعودیہ، برطانیہ، امریکہ اور کینید ا میں بھی کوکنی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ برطانیہ کا شہر بلیک برن تو ہندوستان یا پاکستان کے کسی کوکنی محلے کا نقشہ پیش کرتا ہے۔

کوکنیوں کے خاندانی نام (سرنیمsurname ) بھی بڑے دلچسپ ہیں،ان میں سی چند ایک ملاحظہ فرمائیں۔ خطیب، فقیہ، قاضی، مقادم، مقبہ، غزالی، ٹھاکر، دیشمکھ، پٹیل یا پاٹل، شیخ، پٹھان، سید،مقری، خان، بخشی، تنگیکر، پرکار، بھائجی، کاروباری، برے، کھربے، بھونبل، جشناک، دونک، وغیرہ وغیرہ
۔
مجھے علم ہے کہ یہ موضوع بہت سے دوستوں کو غیر دلچسپ محسوس ہو رہا ہوگا۔ آئیے  آپ کو میرے شہر کے چند مشہور کوکنیوں سے ملواوں۔ پھر آپ بھی کہیں گے کہ “ہیں یہ بھی کوکنی ہیں”؟!

1۔ حسن اے شیخ۔ ایڈووکیٹ۔۔۔۔ایوب خان کے زمانے میں مغربی پاکستان سے اپوزیشن کے واحد رکن قومی اسمبلی۔ ایک شریف، نیکنام اور راستباز سیاستدان اور وکیل۔ مادر ملت نے انہیں اپنا چیف الیکشن آفیسر مقرر کیا تھا۔

2۔ بیرسٹرمشیر احمد پیش امام۔۔۔ تحریک استقلال کے جنرل سکریٹری اور ائر مارشل اصغر خان کے دست راست۔ بحالی جمہوریت کی تحریک میں نمایاں کردار انجام دیا۔

3. مولانا محمد حسین برے رحمہ اللہ ۔۔صوفی منش، درویش صفت، عالم اور بمبئی کی مرکزی جامع مسجد کے امام۔ تقسیم سے قبل قائد اعظم نے مولانابرے کی اقتدا میں نماز ادا کی تھی۔ قائد کی ہمشیرہ شیریں جناح نے جب قائد کی جائیداد کیلئے مقدمہ دائر کیا تو عدالت نے قائد اعظم کے مسلک کے تعین کیلئے مولانا محمد حسین برے کو بھی گواہی کے لئے طلب کیا تھا۔ کوکنی برادری میں انتہائی عزت و احترام کی نظرسے دیکھے جاتے تھے ( اس خاکسار کو شرف حاصل ہے کہ اس کا نکاح مولانا مرحوم و مغفور نے پڑھایا تھا)

4. مولانا۔ محسن فقیہ رحمہ اللہ۔۔ دارالعلوم امجدیہ کے مہتمم، مولانا عبدالحامد بدایونی کے قریبی ساتھئ، الازہر کے فاضل مولانا محمد محسن فقیہ شافعی جامع مسجد میں نماز جمعہ پڑھاتے تھے۔ مشہور کرکٹر اعجاز فقیہ ان کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔

5.ایم ایم بخشی۔۔۔۔ تاجر ، صنعتکار، سماجی کارکن، سیاستدان اور کھیلوں کے سرپرست۔ بخشی صاحب مرحوم ایک عرصے تک کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔ کراچی کے کھلاڑیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سماجی اور رفاہی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے تھے۔ کچھ عرسہ سیاست میں بھی رہے لیکن ان کا اصل میدان سماجی فلاح و بہبود تھا۔ ایک دردمند دل رکھنے والے بخشی صاحب کئی گھرانوں کی دست گیری کرتے تھے۔

6. اسماعيل پٹیل۔۔۔وزارت خارجہ کے ترجمان۔۔۔ اردو اور انگریزی میں قومی اور بین الا قوامی موضوعات پر ان کے کالم دلچسپی سے پڑھے جاتے تھے۔

7. رضیہ بھٹی۔۔۔جری اور نڈر صحافی، ہیرالڈ کی ایڈیٹر

9. ایم ای زیڈ غزالی۔۔عرف ابو غزالی۔ پاکستان کی پہلی ٹسٹ ٹیم کر رکن۔ جن کا ایک منفرد ریکارڈ ہے کہ ایک دن میں صرف دو گھنٹے میں انہوں نے پئیر حاصل کیا ( گرچہ بات ہے رسوائی کی)۔ پاکستان کی طرف سے دو ٹیسٹ کھیلے۔پاک فضائیہ میں ونگ کمانڈر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے

10. محمد مناف۔۔پچاس کی دہائی کے ٓاخر میں پاکستان کیلئے چار ٹسٹ کھیلنے والے فاسٹ باولر محمد مناف ایک وجیہ اور خوبصورت انسان تھے۔ ٓاج کل ریٹائرڈ زندگی گذار رہے ہیں۔

11.اعجاز فقیہ۔۔۔ پاکستان کیلئے پانچ ٹسٹ، 27 ایک روزہ اور ایک ورلڈکپ کھیلنے والے اعجاز فقیہ مسلم کمرشیل بنک کے ٹیم کے کپتان تھے۔ بنگلور ٹسٹ میں نا مساعد حالات میں سنچری بنائی۔ عمران خان ان پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ اور یہ اکثر اس اعتماد پر پورے اترے۔

12.خالد نظامی۔ حسینہ معین کے کھیل، ان کہی، کے شہرت یافتہ ،، تھوئیْ،، مقبول مزاحیہ فنکار ھہیں۔ کچھ عرصہ امریکہ میں گذار کر شاید اب کراچی واپس آگئے ہیں.

13. صبغت اللہ باری۔ خوش اطوار و خوش اخلاق صبغت جنہیں مرحوم کہتے ہوئے جی ڈوبنے لگتا ہے۔ کراچی اسٹیج پر اپنے فن کا جادو جگایا کرتے تھے۔ جس وقت معین اختر فن کے افق پر نمودار نہیں ہوئے تھے۔ صبغت باری ان دنوں ٓاغا سرور، نرالا، رنگیلا کراچی والا، شوکت و افضال وغیرہ کے ساتھ قہقہوں کی پھلجڑیان چھوڑتے تھے۔ صبغت مولانا محمد حسین برے کے صاحبزادے تھے.

14. انور حارث۔۔۔ پاکستان کسٹمز میں ملازم تھے اور ان کا کلام باقاعدگی سے جنگ اخبار کے ادبی ایڈیشن میں چھپتا تھا۔ صاحب طرز شاعر۔

15. عاصم شادانی، المعروف بہ لیاقت علی عاصم۔۔ سبد گل، رقص وصال جیسے مجموعہ کلام کے مالک، مشہور شاعر لیاقت علی عاصم اردو ڈکشنری بورڈ سے بھی منسلک رہے۔

16. پروفیسر، ڈاکٹر، بریگیڈئر (ریٹائئرڈ) نسیم اختر خان۔ واٗس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی۔ پرویز مشرف کے دور میں وزیر اعظم کے مشیر خصوصی برائے متبادل توانائی۔ شمسی توانائی اور دیگر متبادل توانائی پر ان کی تحقیق کے صلے میں وزیر اعظم جونیجو سے تمغہ خدمت اور پرویز مشرف سے ستارہ خدمت وصول کیا۔

آئیے میں آپ کو بتاؤں کہ  ہم اتنے غیر معروف بھی نہیں ہیں۔ ہمار  ا آپ کے محبوب ترین فنکار، عظیم اداکار معین اختر بھی کوکنی برادری سے تعلق رکھتے تھے یہ بات انہوں  نے کئی بار خود بتائی۔ لیکن ان کے خاندانی کوائف میسر نہیں ہیں نہ کسی نے جاننے کی کوشش کی۔

دنیا بھر میں دھوم مچانے والے، ادیان کے تقابلی علم کے ماہر ، بے مثال اسکالر، ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی کوکنی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

میرے کچھ دوست کراچی کے مشہور جرائم پیشہ افراد کا بھی ذکر کرنے کیلئے زور دیتے رہتے ہیں۔ انکی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ جاوید میانداد کے سمدھی، بھارتی حکام کے نزدیک اندرورلڈ کے ڈان لیکن بمبئی اور مہاراشٹرا کے مسلمانوں کیلئے شیو سینا کے انتہا پسندوں کے سامنے ڈھال اور ان کے محافظ،داود ابراہیم ، کا تعلق بھی کوکنی برادری سے ہے۔

اب بھی بہت کچھ ہے داستان سنانے کیلئے لیکن ٓاپ جمائیاں لے رہے ہیں چنانچہ باقی باتیں پھر کبھی۔ مجھے تجسس رہے گا کہ ٓاپ میں سے کتنے اس برادری سے واقف ہیں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *