جادہ ء تحقیق کا نیا راہی،فیصل عرفان۔۔۔خورشید ربانی

فیصل عرفان سے میری یاداللہ کوئی دس،پندرہ سال کو محیط ہے۔اِس عرصہ میں اُس کے خلوص،کام کی لگن اور شعروادب کے میدان میں سرگرم کردار کی ادائیگی نے اسے ایک باصلاحیت انسان ثابت کیاہے۔اس نوجوان کی قلمی کاوشوں کو اردو اور پوٹھوہاری ادب کے میدان میں ہمیشہ تحسین کی نظر سے دیکھا گیا۔ہر دو زبانوں میں شعرگوئی سے لے کرشعری نثری تراجم،اپنے علاقہ کی علمی،ادبی اور سیاسی شخصیات کے کارناموں سے عوام کو آگاہی دینے کے لیے مختلف اخبارات میں مضمون نگاری،مقامی سطح پر غریب طلبا کی تعلیمی ضروریات پورا کرنے کے لیے اپنی مدد آپ اور مخیر حضرات کے تعاون کا حصو ل سمیت دیگر سماجی خدمات فیصل عرفان کی دل چسپی کے میدان ہیں اور وہ ان میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔

شعروادب کی دنیا میں وہ لوگ یقیناً خوش نصیب ہیں جنھوں نے اپنی ماں بولی کو وسیلہ اظہار بنایا ہے۔فیصل عرفان بھی انہی خوش بختوں میں شامل ہے اور یہ بات بہ خوبی سمجھتا ہے کہ ماں بولی میں اظہار جس قدر سہولت سے ہو سکتا ہے دوسری زبان میں ممکن نہیں۔اسی لیے اس نے شعر گوئی بھی اپنی ماں بولی یعنی پوٹھوہاری زبان میں کی ہے اوراس زبان کے شعروادب کے تراجم بھی شائع کرائے ہیں۔اپنی ماں بولی سے محبت کے زیر اثر، گزشتہ دوسال سے وہ پوٹھوہاری اکھان کی جمع آوری کے لیے کوشاں تھا اور اب جا کے اس کی محنت اور کوشش ٹھکانے لگی کہ وہ اپنی اس کاوش کو کتاب کی صورت میں شائع کرانے کا مرحلہ سر کر لیاہے۔

فیصل عرفان کی کتاب”پوٹھوہاری اکھانڑ تے محاورے“ کی اشاعت کا اہتمام ادب اور کتاب دوست حسن نواز شاہ کے ادارے مخدومہ امیر جان لائبریری نے کیا ہے جبکہ پیش کے لفظ کے طور پریاسر کیانی اور شیراز طاہر جیسے باکمال ادیبوں کی توصیفی آرا درج ہیں۔فلیپ کی عبارت اردو کے ممتاز شاعرڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے لکھی ہے۔ اکھان،لوک دانش کا اہم حصہ اور کسی بھی زبان کے علم و دانش کا انمول خزانہ ہوتے ہیں جو انسانی زندگی کے تجربوں اور مشاہدوں سے نمو پاتے اور معاشرتی و تہذیبی زندگی کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔لوک دانش کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قوموں کی تاریخی،ثقافتی، معاشرتی،فکر ی،فنی،لسانی اور ادبی خصوصیات کی بقا میں معاون ہوتی ہے۔یہ اکھان،انسان کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ اجتماعی اورانفرادی زندگی کی دل کشی کا سنہری اصول بھی قرارپاتے ہیں۔یہ سنہری اصول لوک دانش کا ایسا ذخیرہ ہیں جو انسانی زندگی کے ظہور کے ساتھ ہی وجود میں آئے اور دل سے دل تک سفر کرتے چلے گئے۔ماضی قریب میں کئی زبانوں میں یہ اکھان کتابی صورت میں سامنے آئے ہیں تاہم پوٹھوہاری میں اس قدر جامع کام شاید ہی منظر عام پر آیا ہو۔فیصل عرفان نے یہ کام بھی احسن طریقے سے انجام کو پہنچایا ہے۔

میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ اس نے ایک ایک اکھان کے حصول اوراس کی تصدیق کے لیے ہر اس صاحب علم و دانش سے رابطہ کیا جو اس لوک دانش کو دل میں سنبھالے ہوئے تھا۔کئی کئی دن وہ کتب کی چھان پھٹک میں بھی مصروف رہا کہ کوئی اہم اکھان رہ نہ جائے۔اس لوک دانش کی جمع آوری کے ساتھ ساتھ وہ اس کتاب کی مشینی کتابت بھی خود کرتا رہا ہے۔ میں نے کتاب دیکھی تو اندازہ ہوا کہ فیصل عرفان نے کتنا اہم کام کر لیا ہے،ایک بات اور جس نے مجھے حیران کیا وہ یہ کہ اکثر اکھان ایسے نظر پڑے ہیں جو دوسری کئی زبانوں میں بھی اسی طرح موجود ہیں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک دانش کا سفر محدود نہیں ہے،وہ علاقوں اور سرحدوں کی پابند بھی نہیں ہے۔یوں اس کتاب کی اہمیت دوچند ہو گئی کہ ایک وسیع خطہ کی لوک دانش محفوظ کرلی گئی ہے۔چند اکھانڑ ملاحظہ  ہوں
آپ نہ گئیاں ساہورے،سئیاں متی لا
خود سسرال نہ جانیوالی لڑکی سہیلیوں کو نصیحتیں کرتی پھر رہی ہے
(اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت)
……
پہھیڑے رونڑ ے کولوں چپ چنگی
برے رونے سے چپ اچھی ہوتی ہے
(بندہ جو کام نہ کرسکے وہ اسے نہیں کرنا چاہیے)
……
تہھیاں نے نصیب کسے نئیں پھرولے ہونڑے
بیٹیوں کے نصیب کیسے ہوں گے،کسی کو پتا نہیں ہوتا
……
ٹُرنے داندے کی چُکہ نئیں ماری ناں
چلتے بیل کو نہیں چھیڑنا چاہیے
(خواہ مخواہ کسی کو چھیڑنا نہیں چاہیے)
……
جو کُجھ جال تکڑاں اوہ ماچھی نئیں تکڑاں
جال جو دیکھتا ہے مچھیرا وہ نہیں دیکھ پاتا
(جس کے سر پر بیت رہی ہو وہی جانتا ہے)
……
چُپ چپیتا پُتر منداچتے آلی تہھی
خاموش رہنے والے لڑکے اور زیادہ باتونی اور ناز نخروں والی لڑکیاں طبعاََ چالاک ہوتی ہے
……
خصماں بغیر ساونڑ تریہایا
شوہر کی عدم موجودگی میں ساون بھی بے رونق گزر تاہے
فیصل عرفان کی یہ کاوش اس لیے بھی قابل داد ہے کہ انھوں نے اکھان کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ اور بعض مقامات پر صرف مفہوم بھی شائع کیا ہے جس کے باعث ہر زبان کا قاری،پوٹھوہاری خطہ کی لوک دانش سے استفادہ کرسکتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ فیصل عرفان کی یہ کاوش مدتوں یا رکھی جائے گی۔میں اس گراں قدر کام پر فیصل عرفان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ وہ اسی طرح کامیابی اور کامرانی کی منزلیں طے کرتا رہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *