• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ٹرمپ کی دولت کے پیچھے قحبہ خانہ کی کمائی اور ٹیکس چوری کارفرما ہے۔۔ غیور شاہ ترمذی

ٹرمپ کی دولت کے پیچھے قحبہ خانہ کی کمائی اور ٹیکس چوری کارفرما ہے۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING
SHOPPING

یہ تو ماننا پڑے گا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مہمان پاکستانی وزیر اعظم عمران خاں کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی آفر دیتے ہوئے جب یہ کہتے ہیں کہ وہ بہت اچھے مذاکرات کار اور ثالث ہیں تو کم از کم وہ یہاں بزنس میں اپنی کامیابیوں کو کسی بھی طرح حاصل کر لینے کے ماضی کی بنیاد پر سچ ہی بول رہے ہوتے ہیں۔ ایک کامیاب بزنس مین کے طور پر ٹرمپ فیملی نے اپنے جنیاتی دھوکہ دہی والے خصائص سے اچھے مذاکرات کار، بزنس کی پوشیدہ حسیات کو سمجھنے اور کاروباری کامیابی کے لئے درکار دوربینی کا ادراک کرنے کی کافی زیادہ صلاحیتوں کو استعمال کیا ہے۔ بزنس میں کامیابی کے لئے انہیں جو بھی طریقہ استعمال کرنا پڑا، ٹرمپ کے دادا اور والد نے خوبی سے استعمال کیا، چاہے وہ ہوٹل بزنس کی آڑ میں قحبہ خانہ چلانا ہو، ٹیکس سے بچنے اور لازمی ملٹری سروس سے چھٹکارا پانے کے لئے ہجرت اختیار کرنی ہو یا نسل پرستانہ جذبات کو ہوا دے کر بزنس کو بڑھانا ہو۔ امریکی کہاوت ہے کہ سیب کبھی اپنے درخت سے دور نہیں گرا کرتا اس لئے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی کاروباری حلقوں میں یہ افواہ عام ہے کہ وہ بھی بزنس اور فائدہ کے لئے اپنے باپ اور داداکی طرح ہر حد پار کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ بہت زیادہ دولت مند فیملیز میں تاریک ماضی، اسکینڈلوں سے بھری زندگی اور حتیٰ کہ دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر بلکہ انہیں روندتے ہوئے آگے بڑھنے کے کئی پہلو پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا خاندان بھی ان جیسے معاملات سے مبرا نہیں ہے۔ اُس کے دادا طوائفوں کے دلال تھے اور ٹیکس چور بھی تھے جبکہ اس کے والد ایک ایسے نسل پرست تھے جو ایک امیر رئیل اسٹیٹ ٹائیکون بننے سے پہلے ایک نسل پرست شدت پسند گروہ (Ku Klux Klan) ”ک۔ک۔ک“ کے فعال کارکن کی حیثیت سے کئی دفعہ نیو یارک پولیس کے ساتھ مڈھ بھیڑ میں بھی ملوث رہے تھے۔ رئیل اسٹیٹ ٹائیکون بننے کے بعد بھی اُن کا نام کئی دفعہ ایسے تنازعات میں سامنے آیا جب اُن پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ افریقی۔امریکی اور ایشیائی لوگوں کو اپنی بلڈنگوں میں فلیٹ اور اپارٹمنٹس کرائے پر دینے میں شدید رکاوٹیں پیدا کرتے تھے اور بعض اوقات تو وہ انہیں صاف انکار بھی کر دیتے تھے۔

مصنف:غیور شاہ ترمذی

ڈونلڈ ٹرمپ کی خاندانی کہانی بھی اندھیرے راستوں سے امیر بننے والے خاندانوں میں ایک اُن جیسا چیتھڑوں بھرا پیوند ہی ہے۔ ڈونلڈ کے والد نے جب بزنس کے لئے اپنی انٹری دی تو بنک میں وہ $250-$300 ملین ڈالرز کے اکاؤنٹ کے ساتھ تھی۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جو مسلمانوں کو امریکہ آنے پر پابندی لگانا چاہتا ہے، جب پیدا ہوا تو چاندی کا چمچ لے کر نہیں پیدا ہوا تھا بلکہ سفید سونے اور جواہرات کا چمچ اُس کے منہ میں تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اُس سے زیادہ ناگوار چیز اُس کی فیملی کی ناجائز دولت حاصل کرنے کی اندھیری تاریخ ہے۔ کینیڈا کے شہر یوکون (Yukon) میں کولون ڈائیک (Klondike) نامی قصبہ میں اگست 1896ء کے دنوں میں سونے کی کانیں دریافت ہوئیں تو سان فارنسسکو اور دوسرے امریکی شہروں سے تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے وہاں ہجرت کی۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے صرف 25 ہزار ہی منزل مقصود کو پا سکے تھے۔ اس ہجرت کو مقامی زبان میں (Gold Rush at Klondike) کہا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دادا فریڈرک ٹرمپ نے یہاں پہنچ کر گھوڑے کے گوشت کا ایک ریسٹورانٹ اور ایک ہوٹل قائم کیا جہاں قسمت آزمانے کے لئے آنے والوں کی خاطر مدارت کی جاتی اور اُن سے کئی گنا زیادہ منافع کمایا جاتا۔ یہ تو ویسے بات بتانے کا ایک اچھا طریقہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ فریڈرک ٹرمپ نے اپنی اولین دولت یہاں ہوٹل، ریسٹورانٹس اور قحبہ خانے بنانے کی وجہ سے حاصل کی تھی۔ مشہور امریکی چینل CBC کی ایک نیوز رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دادا فریڈرک ٹرمپ نے اپنی دولت گولڈ رش کے دوران کینیڈا میں قحبہ خانے بنا کر کمائی تھی۔ مشہور مصنفہ گوینڈا بلئیر (Gwenda Blair) نے تو صاف لکھ ڈالا کہ ٹرمپ کی دولت کا سب سے نمایاں حصہ  شراب اور سیکس کی سیلز سے آیا تھا۔ ٹرمپ کا دادا فریڈرک جرمنی میں شراب بنانے کے کارخانہ میں ملازم والدین کے گھر پیدا ہوا۔ سنہ 1885ء میں فریڈرک نیویارک ہجرت کر گیا جہاں اُس نے حجام کا کام کرنا شروع کر دیا۔ تقریبا“ چھ سال کے بعد وہ واشنگٹن کے شہر سیٹل (Seattle) ہجرت کر گیا۔ یہاں اُس نے وہ ریسٹورنٹ بنایا جسے وہ زوال پذیر ریسٹورنٹ کہا کرتا تھا۔ درحقیقت اس ریسٹورنٹ کو سیٹل کے علاقہ میں گھنگھریالے بالوں والی طوائفوں کا اڈہ کہا جاتا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت تک خفیہ طور پر پکارے جانے والا یہ نام سان فرانسسکو میں بھی معروف ہو چکا تھا۔ اس دوران فریڈرک امریکی شہری بھی بن چکا تھا۔ جب کولون ڈائیک (Klondike) گولڈ رش کی کہانیاں زبان زد عام ہوئیں تو فریڈرک فورا“ وہاں پہنچا اور اس نے اپنا ریسٹورنٹ آرکٹک (Arctic) کے نام سے بنا لیا۔ یوکون سن (Yukon Sun) نیوزپیپر کے ایک قلم کار نے فریڈرک ٹرمپ کے بزنس کے بارے میں لکھا تھا کہ اکیلے آدمی کے لئے آرکٹک رہنے کے لئے اور کھانے پینے کے لئے بینیٹ (Bennett) ریسٹورنٹ شاندار جگہیں ہیں لیکن میں معزز خواتین کو مشورہ دوں گا کہ وہ وہاں قیام نہ کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سوتے ہوئے انہیں اپنے اردگرد کے کمروں سے تھرڈ کلاس لیول کے جسمانی ملاپ کی ایسی آوازیں بکثرت سنائی دیں جو شریف خواتین کے لئے انتہائی غیر مناسب ہوں۔ فریڈرک پہلے تو سنہ 1894ء میں واش، مونٹے کرسٹومیں مہاجر ہوا پھر چار سال بعد جب کولوندائیک گولڈ رش کا بزنس عروج پر پہنچا تو وہ بینیٹ، برٹش کولمبیا چلا گیا جہاں اُس نے آرکٹک ریسٹورانٹ اور ہوٹل قائم کیا۔ اس کے فوراً  بعد اُس نے یوکون میں وائیٹ ہارس نامی مقام پر ”وائیٹ ہارس ریسٹورانٹ اور ان“ کے نام سے بھی سیٹ اپ قائم کیا۔

سنہ 1901ء میں پولیٹیکو (Politico) نامی مجلہ میں شائع شدہ ایک کالم میں بتایا گیا ہے کہ کیسے فریڈرک ٹرمپ نے قانون کے کمزور پہلوؤں کو استعمال کرتے ہوئے قحبہ خانہ سمیت اپنی جائیداد فروخت کی اور واپس جرمنی ہجرت کر گیا کیونکہ اُسے احساس ہو گیا تھا کہ گولڈ رش کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اور ا س کے بعد ہوٹل اور قحبہ خانہ بزنس میں جان باقی نہیں رہے گی۔ اس کے اگلے سال فریڈرک نے اپنی پرانی ہمسائی الزبتھ کرائیسٹ (Elizabeth Christ) سے جرمنی میں اپنے آبائی قصبہ کالسٹاڈت (Kallstadt) میں شادی کر لی۔ اس دوران وہ جرمن حکومت کی سخت نگرانی میں آ گیا۔ اُن دنوں جرمنی میں 35 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے دو سال کی لازمی ملٹری سروس کرنی لازم ہوا کرتی تھی۔ فریڈرک ٹرمپ نے امریکہ ہجرت اور جرمنی واپسی تک اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ 35 سال کی حد کو عبور کر جائے۔ اس دوران وہ بہت زیادہ دولت کما چکا تھا جس کی ویلیو اُس زمانہ کے حساب سے آدھ ملین امریکی ڈالرز یا 80 ہزار جرمن مارک تھی۔ اُس کی تحصیل (ٹاؤن) کونسل کے اراکین کی خواہش تھی کہ فریڈرک اور اُس کی دولت وہیں رہے کیونکہ اُ س نے وہاں شراب خانوں کو نظر انداز کرکے اور خاموشی سے زندگی بسر کرنے کی روایت کے ساتھ اپنا مقام پیدا کر لیا تھا۔ مگر پولیٹیکو (Politico) مجلہ کا کہنا ہے کہ فریڈرک دراصل امریکہ اور کینیڈا میں کمائی دولت پر واجب الادا ٹیکسز کی عدم ادائیگی اور جرمنی کی طرح امریکہ میں بھی لازمی فوجی سروس سے بچنے کے لئے واپس جرمنی میں اپنے چھوٹے سے قصبہ میں زندگی بسر کر رہا تھا۔

ڈونلڈ کے دادا کی طرح اس کا باپ فریڈ ٹرمپ بھی کسی شاندار ماضی یا قابل تقلید کردار کی مثال نہیں ہے۔ سنہ 1927ء میں یکم جون کو نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک کالم میں فریڈ ٹرمپ کے نیو یارک پولیس کے 100 ملازمین کے خلاف لڑنے کے لئے نسل پرست شدت پسند گروہ (Ku Klux Klan) ”ک۔ک۔ک“ کے ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا جتھہ لے کر کوئینز نامی قصبہ میں آ گئے تھے۔ اگرچہ فریڈ ٹرمپ پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی لیکن وہ اُن سات لوگوں میں شامل تھے جنہیں اس جرم کے لئے باقاعدہ گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ درست ہے کہ ابراہام لنلن کی کوششوں سے ملک میں نسل پرستی کے خاتمہ کے لئے قوانین بن چکے تھے تاہم پھر بھی اُن دنوں نسل پرست گروپ اس طرح کی کاروائیاں سرعام کیا کرتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ شدت پسند نسل پرست گروپ ک۔ک۔ک کی کاروائیوں کا عروج بھی اسی20ء کی دہائی میں تھا۔ بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ اپنے باپ فریڈ کی ک۔ک۔ک میں شمولیت اور فعالیت کی تردید کر دی تھی حالانکہ یہ سب اُس کی پیدائیش سے دو دہائیاں پہلے کے واقعات ہیں۔ فریڈ ٹرمپ کے نسل پرست متشدد خیالات اُس وقت تک تبدیل نہیں ہوئے تھے جب تک قانون نے ایسا کرنے کے لئے اُسے مجبور نہیں کیا۔

SHOPPING

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے باپ کے رئیل سٹیٹ بزنس میں سنہ 1971ء میں نیو یارک میں شمولیت اختیار کی اور صرف دو سال بعد ہی کمپنی کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ آرگنائزیشن نے سیاہ فام لوگوں کو پراپرٹی کرایہ پر دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اربن لیگ (Urban League) نامی انسانی حقوق تنظیم کو یہ خبر ملی تھی کہ ٹرمپ کی بلڈنگوں میں نسل پرستانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ لہذٰا انہوں نے ایک خفیہ اپریشن کے تحت سفید فام اور سیاہ فام لوگوں کے ایک گروپ کو کرایہ پر گھر لینے کے لئے بھیج دیا۔ اس کے تحت انہیں یہ ثابت ہو گیا کہ ٹرمپ آرگنائزیشن نے سیاہ فام لوگوں کو کرایہ پر گھر دینے سے انکار کر دیا اور صرف سفید فام لوگوں کی درخواستوں کو منظور کر لیا گیا۔ سنہ 1979ء میں امریکی مجلہ ویلج وائیس (Village Voice) میں وائین بیرٹ (Wayne Barrett) کے ایک کالم میں ٹرمپ آرگنائزیشن کے نسل پرستانہ سلوک کے بارے پوری تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کالم میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کا اپنے خلاف ہورہی قانونی کاروائی کے بارے یہ کہنا تھا کہ یہ کاروائی صرف اس لئے کی جارہی ہے تاکہ جدید اور آرام دہ اپارٹمنٹس اور فلیٹس کے مالکان اپنی جائیدادیں خیراتی اداروں سے امداد لینے والے مستحقین کو کم نرخوں کے عوض دے دیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے کہ وہ ہماری بلڈنگوں میں اپنے کم کرایہ دے سکنے والے کمزور مالی حیثیت کے لوگ شامل کرسکیں اور ا س طرح پہلے سے رہنے والوں کی زندگیوں کو پریشان کریں۔ ہمارے کرایہ دار کئی سالوں سے یہاں رہتے رہے ہیں، انہوں نے اپنی فیملیز کو یہاں پروان چڑھایا ہے اور وہ یہاں مزید رہنا چاہتے ہیں۔ گورنمنٹ کو ہماری بلڈنگوں میں کمزور مالی حیثیت کے لوگ داخل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ایسے اختیار سے یہاں رہنے والے ہزاروں لوگوں کے حقوق پر چوٹ لگے گی۔ بے شک ٹرمپ کی جنگلی اور متشدد ہرزہ گوئی زیادہ تر کم معلومات اور غیر دانشمندانہ خیالات پر مبنی ہے۔ یہ اُس شخص کے خیالات ہیں جس کی فیملی بیک گراؤنڈ سے یہ ثابت ہے کہ کیسے یہ لوگ دولت حاصل کرنے اور اسے محفوظ کرنے کے لئے دوسرے امریکیوں کی گردنوں پر پاؤں رکھ کر چلتے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ رویہ ہر سرمایہ دارانہ نظام سے منسلک لوگوں کا رواج ہو سکتا ہے مگر اسے کسی بھی طرح اخلاقی اقدار اور انسانی شعور کی بلندی کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *