عورت مارچ ۔۔۔مطالبات کیا ہیں؟/آصف محمود

گذشتہ کالم میں اس نکتے پر بات ہوئی تھی کہ عورت مارچ خواتین کا حق ہے جسے طاقت سے روکنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔سماج میں ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے اور ہر معاملے میں رد عمل کی نفسیات کا اسیر ہو کر صف بندی کر لینا مناسب نہیں ہوتا۔ آج کا سوال یہ ہے کہ عورت مارچ کے بنیادی مطالبات کیا ہیں؟ اس باب میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں عورت اپنے اسلامی اور آئینی حقوق سے محروم ہے۔یہاں ہر درجے میں عورت کا استحصال ہوتا ہے۔عورت مارچ میں اگر خواتین کے حقیقی مسائل زیر بحث آ گئے تو یہ مارچ عورت کے حقوق کا سنگ میل بھی بن سکتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا اور محض رد عمل کے جذبات غالب آ گئے تو مجھے ڈر ہے یہ مارچ بذات خود عورت کے استحصال میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دے گا اور یہی سمجھا جائے گا اس کے اہداف کچھ اور تھے اور نام عورت کا استعمال کیا گیا۔اس صورت میں میڈیا پر تو میدان سج جائے گا لیکن سماج میں ان لوگوں کے لیے کام کرنے کی گنجائش مزید سمٹ جائے گی جو واقعی عورت کے مسائل کے خاتمے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔سوال یہ ہے کیا عورت مارچ کے منتظمین اس پہلو سے بے نیاز ہیں یا وہ اس کی معنویت سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں عورت کے مسائل کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک پاکستانی معاشرے کی ساخت کو نہ سمجھ لیا جائے۔یہاں غالب اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہیں ان کے مسائل مختلف ہیں ۔ غریب ، متوسط اور مالدار پس منظر میں مسائل کی نوعیت ایک دوسرے سے جدا ہے۔کیا عورت مارچ کے منتظمین نے سماج کا مطالعہ کر کے اپنے مطالبات کے حوالے سے کوئی توازن پیدا کر رکھا ہے تا کہ جب یہ مطالبات سامنے آئیں تو یہ کسی ایک طبقے ، ایک کلاس اور ایک گروہ کے مطالبات نہ ہوں بلکہ یہ پاکستانی معاشرے کی خواتین کے عمومی مسائل سے متعلق بھی ہوں؟ کسی بھی معاشرے میں کام کرنے کا حکیمانہ ا صول یہ ہے کہ اس معاشرے کی حساسیت کو مجروح نہ کیا جائے۔ ہر سماج کی کچھ بنیادی قدرٰیںہو تی ہیں اور وہ ان کے باب میں حساس ہوتا ہے۔ لیڈی ڈیانا پاکستان آئیں تو ان کے سر پر دوپٹہ تھا تو یہ اسی حساسیت کا احترام تھا، ان سے کسی نے دوپٹہ لینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ بالعموم ہر سماج کی حساسیت کا احترام کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کام کرنے میں قدر مشترک کو تلاش کر کے اسی کو مخاطب بنا کر آگے بڑھا جاتا ہے۔پاکستان میں عورت کے حقوق کے معاملے میں قدر مشترکات کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ مذہبی اور سیکولر ہر حلقے میں اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کو اس کے حقوق ملنے چاہیں اور حکومتی سطح پر بھی اس کا اعتراف موجود ہے۔اس کا تازہ ترین مظہرہراسیت کے قوانین ہیں۔اس قدر مشترک کو مخاطب بنا کر آگے بڑھا جائے تو عورت کے حقوق کے باب میں با معنی پیش رفت ہو سکتی ہے اور اگر محض رد عمل کی نفسیات کا اظہار کیا جائے گا تو سماج کی پولرائزیشن بڑھنے اور صف آرائی کے امکانات روشن ہو نے کے سوا کسی بات کا کوئی امکان نہیں۔سوال وہی ہے: مقصود کیا ہے؟ اس سوال کا جو بھی جواب ہو ضروری ہے کہ حکمت عملی اسی کی روشنی میں تیار کی جائے۔ مشترکات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ عورت کو تعلیم کا حق حاصل ہے، شادی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی ، عورت کو وراثت کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے ، قرآن سے شادی کی رسم کا مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہیے ، غیرت کے نام پر اس کا قتل نہیں ہونا چاہیے ، کاروکاری کی رسم کو ختم ہونا چاہیے ، کم عمری کی شادی نہیں ہونی چاہیے ، ونی ، سوارا ، ساک ، اور سنگ چتی کی رسموں کا خاتمہ ہونا چاہیے ، پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو درپیش مسائل کا خاتمہ ہونا چاہیے۔اسی طرح عورت کی نسائیت اور خاندانی نظام کا تحفظ بھی اس کا حق ہے۔وہ ایک انسانی وجود ہے ، سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی کوئی پراڈکٹ نہیں۔ ایشوز پر فوکس کیا جائے گا تو یہ ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے جہاں سب مل کر عورت کے مسائل کے حل کے لیے آواز بھی بلند کر سکتے ہیں اور عملی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ مشترکات کی بجائے اگر ترجیحات میں سر فہرست رد عمل ، غصہ ، تضحیک یا دیگر عوامل ہوں گے تو پھر ایسے ہی بینرز اور نعرے سامنے آئیں گے جو پہلے بھی آئے اور انہوں نے اختلاف اور مزید رد عمل کو جنم دیا۔ اسے اقدار اور روایات پر حملہ قرار دیا گیا۔ یہ کیفیت ملک میں پولرائزیشن اور نفرت کو تو فروغ دے سکتی ہے یہ کسی با مقصد مشق میں نہیں ڈھل سکتی۔ رد عمل ایک اور رد عمل کو فروغ دیتا ہے اور نفرتوں کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے۔ سوال پھر وہی ہے : ترجیح کیا ہے ، مطالبات کیا ہیں؟ مسائل کو حل کر نا ہے یا رد عمل اور نفرت کے دائروں کا حجم بڑھاتے چلے جانا ہے؟ جہاں عورت مارچ کے ناقدین کو سمجھنا چاہیے کہ چند نا مناسب بینرز اور نعروں کی بنیاد پر کسی تحریک کے بارے میں حکم نافذ نہیں کیا جا سکتا وہیںمارچ کے منتظمین کو بھی سمجھنا چاہیے کہ سماج کی ایک عمومی اخلاقیات ہوتی ہیں ، اپنی بات ضرور کہنی چاہیے لیکن انہیں پامال نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے صرف تنائو اور نفرت پھیلتی ہے ۔اس صورت حال سے خود حقوق نسواں کا سفر متاثر ہوگا۔ کیونکہ جب آپ سماج سے کٹ کر اور اس کی اخلاقی مبادیات کو چیلنج کر تے ہوئے ایک کام کرتے ہیں تو آپ کا دائرہ اثر سکڑ جاتا ہے ۔ سماج کیا ہوتا ہے؟یہ ایک مالا ہے جس میں ہم سب پروئے ہوئے ہیں۔یہاں عورت کے بھی حقوق ہیں ، مرد کے بھی، لیکن کسی کے حق کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے کا حق پامال کر دیا جائے۔ عورت اور مرد کی طرح سماج کے اجتماعی حقوق بھی ہیں۔ مذہبی اور اخلاقی اقدار کے بارے میں ایک معاشرہ اگر حساس ہے اور اس نے آئین کی صورت میں اپنے عہد اجتماعی میں کچھ اصول طے کر رکھے ہیں تو یہ اس کا حق ہے کہ کوئی ان اصولوں کی سر عام تضحیک نہ کرے۔ ہمارے مزاج کی اتنی تہذیب ضرور ہو جانی چاہیے کہ اختلافات کے ساتھ جینا سیکھ لیں اور اختلافات کے اظہار کے شائستہ طریقوں سے ہماری کچھ شناسائی ہوجائے۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *