فیشن کے متوالو !ہوش کرو۔۔۔۔رضوانہ سید علی

کیا آپ جانتے ہیں کہ مغرب میں جدید تراش خراش کے ملبوسات بنانے والی ایک کمپنی نے نئے نمونے مارکیٹ میں لانے سے پہلے ، اپنے ڈیزائن کردہ لاکھوں لباس صرف اس لئے نذر آتش کروا دئیے تاکہ اسکے کپڑوں کی کوئی اور نقل نہ اتار لے اور دنیا بھر میں منوں ٹنوں سلے ہوئے کپڑے ہر سال اسی چکر میں زیرِ  زمین دفن کر دئیے جاتے ہیں ۔ مغربی دنیا میں اس بات کا بہت سختی سے نوٹس لیا جا رہا ہے ۔ حکومتیں اس کے خلاف قانون سازی کی سوچ رہی ہیں ۔ بے شمار تنظیمیں لوگوں میں تحریک چلا رہی ہیں کہ وہ سادگی کو شعار بنائیں ۔ خود فیشن انڈسڑی بھی اپنے آپ کو قابو کرنے کے جتن کر رہی ہے ۔بے شمار فیشن ایبل خواتین بتا رہی ہیں کہ وہ اپنے پرانے کپڑوں کو  ہی نئے فیشن کے مطابق ڈھال لیتی ہیں ۔ بے شمار خواتین عام عورتوں کو یہ سمجھا رہی ہیں کہ پرانے کپڑوں سے پیچ ورک ( رلی یا پھلکاری کا کام ) کرکے انتہائی خوبصورت چیزیں بنائی جا سکتی ہیں ۔ بچوں کے کھلونے ، فٹ میٹ اور ایسی بے شمار کار آمد اشیاء تیار کی جا سکتی ہیں ۔ پرانے کپڑے مستحق لوگوں کو دئیے جا سکتے ہیں ۔

دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں رحجان سازی کی باگ دوڑ مغربی اقوام کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ دنیا بھر کے انسانوں کو جدھر موڑنا چاہیں ، ہانک لے جاتے ہیں ۔ انٹر نیٹ کی بدولت ویسے ہی کوئی بھی بات جنگل کی آگ کی طرح چہار جانب پھیل جاتی ہے ۔ انہوں نے غیر ترقی یافتہ اقوام کومصنوعی کھادوں کی طرف لگایا سب نے آمنا صدقنا کہہ دیا ۔ انہوں نے مصنوعی تیل اور برائلر کی طرف کھینچا ، سب اسی کی طرف کھینچے چلے گئے اور ملکوں کا کیا ذکر ، ہم تو مغربی دنیا کی چمک دمک پہ اس قدر فریفتہ ہیں کہ آنکھیں بند کر کے ہر اس کنویں میں کود جاتے ہیں جس کی طرف ” ادھر ” سے چشم و ابرو کا اشارہ ہو جائے ۔

اب اس فیشن انڈسڑی اور برانڈڈ کی بیماری کو ہی لیجیے ۔ ہم کہ بحیثیت قوم چند فی صد خوشحال لوگوں کو چھوڑ کر  سب عسرت و فلاکت میں مبتلا ہیں یہاں برانڈڈ کا لفظ ہماری جان کو آ گیا ہے ۔ بڑے شہروں کا کیا ذکر چھوٹے چھوٹے علاقوں میں فیشن پریڈز  جاری ہیں ۔ خواتین کو میک اپ کا پلستر تھوپنے اور چمکیلے بھڑکیلے کپڑوں کا عادی بنانے کے لئے اسقدر محنت کی جا رہی ہے کہ اتنی محنت اگر قوم کی تعلیم و تربیت پہ کی جاتی توشائد ہم کہیں آگے نکل چکے ہوتے ۔

روپے پھونکنے کی یہ مشق سب سے زیادہ شادی بیاہوں پہ کی جاتی ہے ۔ ” یہ دن زندگی میں ایک بار ہی تو آتا ہے ۔ “جس کسی نے بھی اس جملے کو پاکستان میں صرف اس لئے رواج دیا ہے کہ چونکہ یہ دن زندگی میں ایک بار ہی آتا ہے لہذا اس دن اصراف کی انتہا کردو تو مجھے تو یقین ہے کہ ابدی زندگی میں اس شخص کو اسقدر جوتے پڑیں گے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارے بھلے مانس یا بھلی مانس ! انسان کی زندگی کا ہر دن صرف ایک بار ہی آتا ہے ۔ کبھی کوئی دن دوبارہ پلٹ کر آیا ہو تو بتاؤ ۔ لاکھوں روپے صرف کر کے جو عروسی ملبوسات بنائے جاتے ہیں وہ دوبارہ شاید ہی پہنے جاتے ہوں ۔ جہیز اور بری کے نام پہ جو سینکڑوں جوڑے دئیے جاتے ہیں وہ پیٹیوں اور الماریوں میں پڑے سڑتے رہتے ہیں اور خواہ اپنی شادی کے مہینے بھر بعد ہی کوئی تقریب آ جائے ، لڑکی نیا جوڑا، جیولری اور جوتے خریدنے کے لئےبازار جا پہنچتی ہے ۔ فیشن انڈسڑی ہر دو ڈھائی برس کے بعد یکلخت چلتے فیشن کو متروک قرار دے کر نئے فیشن مارکیٹ میں لے آتی ہے اور بھیڑ چال لوگ تما م ملبوسات الماریوں میں لٹکے چھوڑ کر نئی تراش خراش کے کپڑوں کے ڈھیر جمع کرنے شروع کر دیتے ہیں ۔

چند سال پہلے تک متوسط گھرانوں میں لڑکیوں کو سینا پرونا سکھایا جاتا تھا ۔ تہذیب اور سلیقے کی تربیت دی جاتی تھی ۔ پرانے کپڑوں کو نئی شکل دینا کمال ہنر مندی سمجھا جاتا تھا ۔ اب ہمارے معاشرے میں کمال ہنر مندی انگریزی بولنا ، چالاکی مکاری اور دوسروں کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھنے کو سمجھا جاتا ہے اور اس ہنر میں طاق لوگ ہی معاشرے میں آگے سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ مغرب جس راستے پہ چلتا ہے ۔ ان راستوں کا تو یہاں خوب پرچار کیا جاتا ہے اور اکثریت اپنے منہ اپنی ہی چپیڑوں سے لال کرنے لگتی ہے ۔ پر مغرب جب اپنی غلطی مان کر رجوع کرتا ہے ۔ فطرت کی طرف لوٹتا ہے تو یہاں ہوا بھی نہیں لگنے دی جاتی ۔
؎ ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *