برِ عظیم کی مسلم سیاست میں کردار کشی کی نفسیات

برِ عظیم کی مسلم سیاست میں کردار کشی کی نفسیات
حافظ صفوان محمد
یہ اصولی بات ہے کہ کسی کے کردار پر زبان درازی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے کیے ہوئے کام یا اس کے پھیلے ہوئے اثر کا توڑ کرنے کے لیے کوئی تعمیری پہلو مہیا نہ رہا ہو اور مخالفین زچ ہوچکے ہوں۔ میرے نزدیک Character Assassination ایک مکروہ فعل ہے اور اسلامیانِ ہند میں اس ناشائستہ فعل کے بنیاد گزاروں میں مولانا محمد علی جوہر کا نام بھی آتا ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کی علمی، عملی اور صحافتی شان ہمارے قومی کردار کے ماتھے کا جھومر ہے لیکن سیاسی گرما گرمی کے دور میں چند بے اعتدالیاں ان جیسے بلند پایہ انسان سے بھی سرزد ہوگئیں۔ خدا انھیں حسنِ نیت کا اجر دے۔

پاکستان میں اس کارِ بد کی ابتدا قیامِ پاکستان کے وقت سے اسلامی جماعتوں کی قائدِ اعظم کی کردار کشی سے شروع ہوتی ہے جب انھیں کافرِ اعظم تک کہا گیا اور چہرے پر ڈاڑھی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے جسم پر اسلام نافذ نہ کرسکنے کے طعنے دیے گئے اور ان کی نمازِ جنازہ تک پڑھنے سے انکار کیا گیا۔ جب دینی جماعتوں تک نے اپنے کارکنوں کی تربیت میں کردار کشی کو بطورِ جزوِ اعظم شامل رکھا ہو تو ان جماعتوں کے کارکنوں سے کسی خیر کی توقع کہاں رکھی جاسکتی ہے جو اسلام یا اسلامی اخلاقیات کو سیاسی چارٹر کے طور پر استعمال کرتیں ہی نہیں۔ چنانچہ دوسری طرف سے بھی کردار کشی کا کام زوروں پر رہا۔

سیاسی اختلاف کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنے کے بجائے شخصیت اور کردار کو نشانہ بناکر عزتوں کو چوراہوں کی ٹھیکری بنانے کے منبروں سے شروع ہونے والے شرمناک کام کے ردِ عمل میں آج پورا سماج سرگرم ہے۔ سیاستدانوں نے معاشرے میں اچھی اقدار کے فروغ کے لیے آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 شامل کیے تاکہ سیاست کرنے والوں کے لیے اخلاقیات کا کوئی بنیادی پیمانہ موجود ہو۔ یہ ایک بہت اچھا اقدام تھا۔ لیکن برا ہو قوم کی نفسیات اور ذہنی پستی کا کہ کیا مذہبی اور کیا غیر مذہبی، اب ہر دو لوگ سیاسی عمل کے بجائے Character Assassination کے ہتھیار سے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے پر عملًا متفق ہوچکے ہیں۔ آرٹیکل 62 اور 63 دور کھڑے منہ تک رہے ہیں۔ وطنِ عزیز کی ہر مذہبی و سیاسی جماعت کردار کشی کے اس کام میں برابر شریک ہے۔

سوشل میڈیا بھی یہی منظر پیش کر رہا ہے۔ تعمیری کام کرنے والوں کی پذیرائی کا حلقہ محدود ہے اور شدید داخلی معاصرت کا شکار بھی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو برے لفظ لکھتے ہیں اور عزت داروں کی کردار کشی کرتے ہیں انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ سا بن گیا ہے کہ شرفا بھی جیسے ہر کسی کو پڑھنا اور کمنٹ کرنا فرض سمجھتے ہوں، یہ جانے بغیر کہ ہر لکھا لفظ ہماری شخصیت کا تاثر دے رہا ہے اور یوں بنا سوچے سمجھے اور بعض اوقات بنا جانے بھی عزت اچھالنے والوں کی ٹیم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ شریف عورتیں تک ان کی والز پر کمنٹ کرتی اور قہقہے لگاتی نظر آتی ہیں۔ جب شرفا بھی عزتوں کے سوداگروں کے ساتھ شریک ہوجائیں تو دوش کسے دیا جائے؟

جس قوم میں سفاک قاتلوں کی حمایت تک کا مائنڈ سیٹ کھلے عام موجود ہو اس میں کردار کشی والوں کے حمایتی نکل آنا کون سی بڑی بات ہے۔ ہر عزت والا انتظار کرے کہ اسے بے عزت کرنے کی باری کب آتی ہے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”برِ عظیم کی مسلم سیاست میں کردار کشی کی نفسیات

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *