طالبان کا نفاذِ شریعت۔۔۔۔۔شاہجہان سالیف/اختصاریہ

طالبان کو افغانستان پر حکومت کرتے چار پانچ سال ہو چکے تھے۔۔ افغان ریڈیو کو حکم ملا کہ ریڈیو پر پیغام چلایا جائے کہ کابل کے لوگ جمعہ کے دن، جمعہ کی نماز کے بعد کابل کے غازی سٹیڈیم پہنچیں جہاں سر عامِ  چوروں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔۔

کابل کے کونے کونے میں منادی کرائی گئی، ریڈیو پر بھی نشر کیا گیا اور افغان ریڈیو کے نمائندوں کو بھی پابند کیا گیا کہ وہ بھی غازی سٹیڈیم آئیں، سزاؤں کا عمل دیکھیں اور اس عمل کو ریڈیو پر ٹھیک سے نشر کریں۔۔ تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور چوری ڈاکے سے باز رہیں۔۔

مقررہ وقت پر لوگ کابل کے ہر کونے سے جوک در جوک گاڑیوں، سائیکلوں، موٹر سائیکلوں پر اور پیدل غازی سٹیڈیم پہنچے جہاں سر عام چوروں کے، اسلامی شریعت کے عین مطابق، دائیں ہاتھ کاٹے گئے اور ڈاکوؤں کا ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک ٹانگ کاٹی گئی۔۔ سٹیڈیم میں موجود “تماشبین” سناٹے میں تھے۔۔ کچھ خوش بھی تھے۔۔

خیر، جب سزائیں دینے کا عمل ختم ہوا تو طالبان کمانڈرز نے خطبے دیے جس میں لوگوں کو کہا گیا کہ عبرت حاصل کریں، معاشی حالات جیسے بھی ہوں شریعت کے مطابق زندگی گزاریں۔۔ اگر کسی کو بھی، کسی بھی جرم میں پکڑا گیا اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔۔

اس کے بعد لوگوں کو کہا گیا کہ اب وہ گھروں کو جا سکتے ہیں۔۔ لوگ جب واپس گھروں کو جانے کے لیے سٹیڈیم سے نکلے تو بہت سے لوگوں کی سائیکلیں اور کچھ لوگوں کے موٹر سائیکل چوری ہو چکے تھے۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *