کیا آپ کو لوگوں سے ڈر لگتا ہے؟۔۔۔۔میاں جمشید

اگرچہ ڈر کی کئی اقسام ہیں مگر ان میں سے کوئی اتنی خاص سنگین نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس میں کسی قسم کے جسمانی و جانی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا ۔ عام طرح کے ڈر میں صرف اپنی اندرونی گھبراہٹ پر قابو پاتے ڈر کا دفاع کرنا پڑتا ہے ۔ جیسے اسٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں کے سامنے نہ بولا جاتا ہو ، بلندی سے ڈر لگتا ہو یا پانی کی گہرائی سے وغیرہ، وہ ڈر ہیں جو اتنے شدید نہیں، جتنا کہ لوگوں سے ڈرنا اور ان سے خوف کھانا ۔

آج کل کے نفسا نفسی کے عالم میں کسی کی کہی یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے کہ بندہ اب خدا سے نہیں ڈرتا ، بلکہ اپنے ہی جیسے کسی دوسرے بندے سے ڈرتا ہے ۔ اس میں بھی اگرچہ ایک نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ خدا چونکہ نظر نہیں آتا اس لئے اس کا ڈر ویسے محسوس نہیں ہوتا جو سامنے کھڑے بندے سے یا اس کی وقتی غیرموجودگی سے لگ رہا ہوتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کسی جسمانی تشدد کے ہونے یا جان سے جانے کا امکان ہوتا ہے۔

ہر قسم کے ڈر کا بھرپور دفاع کرنے کے  لئے خاص کر لوگوں سے ڈرنے پر قابو پانے کے لئے زبردست خود اعتمادی چاہیے ہوتی ہے ۔ جس کا حصول حوصلہ افزا ماحول سے وابستہ ہے۔ اگر ہماری تربیت بچپن سے ہی اخلاق یافتہ لوگوں کے درمیان ہوئی ہو تب لوگوں سے شدید ڈرنے والی کیفیت نہیں ہوتی اور اگر کسی واقعہ میں درپیش ہو بھی تو دفاع کرنے کا بھرپور اعتماد ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہمارا بچپن و بلوغت گھر میں لڑائی جھگڑے دیکھتے، تشدد سہتے یا دیکھتے ہوئے ، سہمے ہوئے  اور کسی کونے میں دبکے ہوئے  گزرا ہو تو لوگوں کا ڈر ہمارے اندر ایسے بسیرا کر لیتا ہے کہ ہمارے لاشعور کا مستقل حصہ بن جاتا ہے ۔ پھر کسی فرد سے معمولی قسم کا ڈر ہمیں پہاڑ جیسا محسوس ہوتا ہے۔ تبھی دفاع کرنے کی بجاے ہمارا ذہن تب فراریت کی طرف جاتا ہے ۔

تو جناب، اس لوگوں سے ڈرنے والی کیفیت پر جلد قابو پانا اس لئے ضروری ہے کہ ایسا نہ کرنے سے ہر شعبہ زندگی متاثر ہوتا ہے۔ تعلیم و روزگار سے  لے  کر خانگی   معاملات تک  میں پیچدگیاں در  آتی ہیں ۔ اس کے حل کے لئے جہاں کسی ماہر سے باقاعدہ کونسلنگ کی ضرورت پڑتی وہیں پر اپنے ماحول میں بھی سکون آمیز تبدیلی لانی پڑتی ہے۔ اپنے اندر کے ڈر کو کھرچ کھرچ کر نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبھی پھر آہستہ آہستہ اعتماد بحال ہوتا اور لوگوں کا جرات کے ساتھ سامنا کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے ۔ ان سے دور بھاگنے کی بجائے سر اٹھا کر دفاع کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ صرف شروع میں بہت مشکل لگتا ہے، مگر پھر ہم اس کیفیت پر غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

اسی حوالے سے میری جہاں والدین سے گزارش ہے کہ گھر میں لڑائی جھگڑے اور تشدد والے ماحول پیدا نہ کریں کہ جس سے اولاد کی شخصیت اور ان کے مستقبل پر برا اثر پڑے ۔ ساتھ ہی میری ان ظالموں سے بھی التجا ہے جو لوگوں کو جان بوجھ کر اپنے ڈر کے زیر اثر رکھتے ہیں۔ ان پر ذہنی تشدد کے ساتھ ساتھ جسمانی تشدد بھی کرتے ہیں ۔ اب وقت تو ایک جیسا نہیں رہتا ۔۔ آج کا برا طاقتور ، کل بدترین کمزور بھی بن سکتا ہے۔ آج آپ سے ڈرنے والے ، مار کھانے والے مستقبل میں بدلہ لینے کی آگ میں ڈرانے والے اور مارنے والے بھی بن سکتے ہیں اور شاید آپ سے بھی زیادہ ظالم ۔ اس لئے خود کو روک لیجیے کہ ایسا سلسلہ معاشرے کے لئے تباہ کُن ہے ۔ پیار ، محبت، دلائل ، برداشت، امن و شانتی کے ساتھ معاملات کو سنواریے، کہ یہی اس دنیا میں زندگی جینے کا عملی تقاضا ہے ۔

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری ایک ٹرینر ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ کردار سازی ، ذہنی اصلاح اور مثبت طرز زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے ہیں۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *