قلم اور قلمکار۔۔۔علینا ظفر

قلم کی اہمیت ہمیں قرآن مجید نےاس کا تذکرہ بیان فرما کر بتائی ہے۔ اللہ تعالی نےایک سورۃ کا نام قلم رکھا اور اس کی قسم کھاکراسےمعتبر فرمایا دیا۔ قرآن پاک قلم سے لکھ کرتحریری شکل میں محفوظ ہوا۔ قلم کے استعمال سے ہی فرمانِ رسولﷺ(احادیث مبارکہ) صحابہ اکرام نے محفوظ کیے۔یہ عظیم نسخے قلم اور قلمکار کی کوششوں کے باعث تا قیامت تمام انسانوں کے لیے مشعلِ ہدایت ہیں۔حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہﷺ کےصحابی اور شاعر تھے۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی تلوار نہیں اٹھائی مگر اپنے اشعار کے ذریعے مجاہدین کا حوصلہ بڑھاتےہوئے جہاد میں حصہ لیتے رہے۔ جان ، مال کے علاوہ جہاد زبان و قلم سے بھی کیا جاتا ہے۔جہاد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے اور جو چیز راہِ خدا میں خرچ کی جائے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔کلمہءحق بلند کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جان نچھاور کر نے والا شہادت کےدرجے میں آتا ہے۔ رسول اللہﷺکا فرمان ہے کہ شہید کو قتل کی اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی جتنی کہ تمہیں چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔

وہ لوگ جنہیں اللہ تعالی نے قلمی صلاحیت سے نواز رکھا ہے وہ جہاد بالقلم میں حصہ لیتے ہوئے معاشرے کی بہتر تربیت کر کےاسے سدھار سکتےہیں۔ اپنی رائے کا اصلاحی، معلوماتی اور غیرجانب دارانہ خطوط پراظہار کرنا ایک لکھاری کی اہم ترین ذمہ داری ہے کیونکہ لکھاری معاشرے کے معلم کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ قلم کی حرمت اور تقدس کا خیال رکھنا ہر لکھنے والے پر لازم ہے مگر ساتھ ہی ساتھ سچائی اور حقائق کو بیان کیا جائے۔قلمی طاقت اللہ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیت ہے جس کا حق ادا کرنا قلمکار پرفرض ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ جان و مال اور دیگر چیزوں کی طرح اللہ نے جس بھی صلاحیت سے ہمیں نواز رکھا ہے روزِ محشر اس کا ہم سے سوال ہو گا۔

پچھلے سال میرے کچھ لکھاری دوستوں سے منسلک ارد گرد کے لوگوں کے باعث ان کے ساتھ پیش آنے والےواقعات کے حوالے سے اپنے لکھاری بہن بھائیوں کے جذبات پر لکھنا چاہوں گی کہ بعض لکھاری جب کوئی تحریر لکھ رہےہوتے ہیں توظاہری طور پر دیکھنے والے کو وہ اس وقت نظر آرہےہوتے ہیں مگر درحقیقت ان کا ذہن کسی اور ہی جہاں کی سیر کر رہا ہوتا ہے۔تب وہ ، وہ کچھ دیکھ رہے ہو تے ہیں جو ساتھ موجود کسی فرد کو نظر نہیں آرہا ہوتا۔ ان لمحات میں کچھ ایسی عجیب سی حالت ہوتی ہے کہ شاید ہی کبھی وہ لفظوں میں بیان کر پائیں۔ اس دوران حتی الامکان ان لکھاریوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی سے بھی کلام نہ ہو۔جان بوجھ کر اس دوران متوجہ کرنا ایک ایسی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے کہ لکھنے والا کافی دیر تک ٹھیک نہیں ہو پاتا۔ اس لیے اس کیفیت کو سمجھ کر دوسری طرف سے خیال رکھا جانا چاہیے۔ اور اگر ان کی جانب سے اس پر کوئی ایسا ردِ عمل سامنے آ جائے تو اسے ان کی بدمزاجی کا نام دینا مناسب نہیں ہے۔ اکثر مصنفین اور لکھاریوں کو مغرور، بد اخلاق اور نجانے کیسے کیسے الفاظ دے کر ان کا منفی خاکہ بنا لیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو لکھاری دوستوں سے شکایت رہتی ہے کہ وہ ان کے میسجز رسیو تو کر لیتے ہیں لیکن جواب  نہیں دیتے یا مختصر ٹیکسٹنگ کے دوران انہیں لگتا ہے کہ یہ لکھاری خواتین و حضرات بہت بیزار سے  ہو کر یا  بے دلی   سے جواب دے رہے ہیں اورپہلے کی نسبت بہت بدل گئےہیں۔اس بات کو فراموش نہ کیا کریں کہ کئی لکھاری اکثر اپنی قلمی مصروفیات کو ترک کر کے یا مطالعہ کی محویت توڑ کر بھی آپ لوگوں کے جواب دے رہےہوتے ہیں۔ اپنی قلمی مصروفیات میں انہیں کسی کے لیے منفی سوچنے کا خیال بھی نہیں رہتا تاہم کسی سے رکھائی سے بات کرنا تو دور کی بات ہے۔قلمکار اپنی اسی مصروفیت کے باعث دوسروں سے بہت کم رابطہ رکھ پاتے ہیں تو اس کا مطلب قطع تعلقی نہیں ہوتا۔لکھاری کے لیےآپ سب محترم ہیں لہذا اسے بے رخی تصورکیا کریں اور نہ ہی ان سے بار بارنہ ملنے کا گلہ کہ میں نے اپنے کچھ لکھاری دوستوں سے ان کے رفقاء کو سرے سے ہی روٹھتے دیکھا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ قلمکار کبھی بے حس نہیں ہوتا،بلکہ ایک وہی تو ہوتا ہے جو وہ سب بھی محسوس کر تا ہےجسے عام آدمی نہیں کر پاتا، اسے آپ کی محبتوں اور جذبات کی قدرہوتی ہے۔سویوں لکھاریوں کے بارے میں کوئی منفی رائے قائم کرنے سے پہلے مثبت سوچ لیا کیجیے۔

اگر میں اپنی بات کروں تو میری والدہ نے کبھی مجھے لکھنے سے منع نہیں کیا کہ ان کا خود قلمی میدان سے تعلق رہا ہے، لیکن وہ مجھے اکثر اس بات پر ٹوکتی ہیں کہ جب تم لکھنے بیٹھتی ہو تو دنیا و مافیا سے بالکل بےخبر ہو جاتی ہو۔”میں اس وقت لکھنے میں مصروف ہوں”ہر مرتبہ اپنی زبان سے اس بات کا ذکر کرنا نہیں پسند کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھنے لگیں دو چار تحریریں لکھ کر دماغ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا ہے اور علینہ خود کو قلمی میدان کا بہت بڑا تیس مار خان سمجھنے لگی ہے۔ جبکہ حقیقتاً اپنی تحریروں کی لوگوں میں مقبولیت کے باوجود بھی میں نے خود کو کبھی اعلی پائے کا قلمکار نہیں سمجھا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ابھی تو میں سیڑھیاں چڑھنا سیکھ رہی ہوں۔میرے استادِ محترم فرماتے ہیں کہ مثبت لوگوں کی صحبت اختیار کیا کرو تو بس میری بھی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں سے اچھا اور مثبت سیکھنے کو مل جائے دیگر کاموں کی بجائے وہاں وقت اور توجہ دوں تاکہ اپنی تحریروں میں مزید بہتری لا سکوں۔

وہ تمام ادارے بھی قابلِ تحسین ہیں جو نئے لکھنے والوں کو اپنی صلاحیتوں کے منوانے اور انہیں نکھارنے کے لیے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔وہ لوگ   خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جو ہر دور میں اپنے قلم سے جہاد کرتے ہوئے ان لوگوں کے لیے انصاف کی رہائی تک لکھتے رہتے ہیں جن میں مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی سکت نہیں ہے۔لکھنے کے عمل سے انسان کا کتھارسس بھی ہوجاتا ہے۔اسی سلسلے میں معروف مصنفہ عصمت چغتائی کی چند باتیں میرے اور ہر لکھاری کے لیے بہت حوصلہ افزا ہیں کہ اگر کوئی آپ کے لکھے پر تنقید کرتا ہے تو دلبرداشتہ ہو کر کسی کے بھی طعنوں کی پروا مت کیجیے، اعتراضات کب، کس پر نہیں ہوئے اور کس نے نہیں کیے۔جو کچھ آپ دیکھتے، سنتے اور سوچتے ہیں اپنے وہ تجربات اور مشاہدات کانٹوں اور بھیانک درندوں کی پروا کیے بنا ضرور لکھیں۔اچھا، بُرا، کڑوا، کسیلا کچھ بھی ہو سب لکھ دیجیے۔وہ خوراکیں جو ہمارے شریر مریض پینے سے انکار کر رہے ہیں اور بے طرح مچلے جاتے ہیں ، آئندہ نسلیں انہیں فخریہ احترام سے لیں گی۔ اسی امید سے لکھنا ترک نہ کیجیے اور اپنے قلم کو رواں رکھیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *