ڈرامہ گاریں کلدار پر ایک نظر۔۔۔۔۔جاوید حیات

کوئی بھی ڈرامہ یا تھیٹر ویڈیو میں مکمل نظر نہیں آتا، جس طرح وہ آڈیو میں اپنے جلوے بکھیرتا ہے. افسانے کو فلم یا ڈرامے کی صورت میں پیش کرنا بھی بڑی مہارت کا کام ہے. بلوچی ڈرامہ “گاریں کلدار” پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ قاری پہلے افسانے کو پڑھے، پھر تھیٹر کی صورت میں ڈرامے کو دیکھے، اس کے بعد اپنی رائے دے. میں21 اپریل کی شام سید ہاشمی آڈیٹوریم میں بہت دیر سے پہنچا لیکن یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے اس پروگرام کا سارا شہد مل گیا.

مھر بلوچ نے اپنی دلفریب نغمہ سرائی سے سید ہاشمی کی غزل چھیڑ کر اس کی گھائل روح پر مرہم رکھ دیا. پروگرام کے آخر تک اس کی آواز کا جادو سوچوں میں برستے بادل کی طرح رس گھولتا رہا.

اس پروگرام کی دوسری اٹریکشن سید ہاشمی کا افسانہ گاریں کلدار نے ڈرامے کی شکل میں ہر دیکھنے والے شخص کو اس کے سائے میں تلاش کر لیا، جب میں نے تھیٹر کی صورت میں یہ ڈرامہ دیکھا، اگر میں اس وقت اس پر تبصرہ کرتا تو وہ میرے اس تبصرے سے مختلف ہوتا جو میں نے ابھی ڈرامے کی آڈیو سننے کے بعد اخذ کیا ہے.

اس ڈرامے میں ساحل پہ آباد مچھیروں کی بستی میں اجنبی کرداروں کی جدائی کے دکھ میں کٹنے والے تنہا لمحوں کی منظر کشی کی گئی ہے.
اعجاز ذاکر اور سر فراز اپنے کرداروں میں خوب نمایاں رہے. بیک گراؤنڈ میوزک اور سیٹ پر بہترین لائٹنگ نے اعجاز کے مکالموں کو چاند کی طرح روشن کر دیا.

” اس راہ کو دیکھو تو لگتا ہے گیہوں جیسے بالوں میں چاندی جیسی مانگ سجی ہے، تنہائی اچھی لگتی ہے مگر اس وقت جب اس کی ضرورت ہوں.”

مگر یہاں سرفراز کہانی کے معیار کے مطابق گٹ اپ کے لحاظ سے تھوڑا چُوک گئے. وہ اپنے کردار میں گہرے رنگ والے لباس میں داڑھی رکھتے تو اپنے کردار کے ساتھ زیادہ انصاف کر سکتے تھے. ایسا شاید انہوں نے اس لیے نہیں کیا کیونکہ پچھلے سال وہ دو شارٹ فلموں دجک اور جنگل میں داڑھی والے رول میں پہلے بھی جلوہ گر ہوئے تھے.

اس سے جب ماھل پوچھتی ہے، “تم نے صبح کیا کھایا؟”
وہ جواب میں کہتا ہے، “ایک کپ چائے_”

یہاں سے ہی کردار کے اندر کا اداس آسمان چائے کی پیالی کی طرح دِکھ جاتا ہے. لیکن اسٹیج پر وہ کیریکٹر ایسے نظر آتا ہے جیسے وہ ابھی آلو کے پراٹھے کھا کے آیا ہو.

” میرے تیرے حالات کی ایک چیز ایک جیسی ہے اور وہ ایک چیز تنہائی ہے”
“ماھل! اپنا روپیہ نہیں لے جاؤگی؟”
” وہ روپیہ، وہ میں کب کا ڈھونڈ چکی_”
” اس کی نہیں جانتا، مجھے میرا کھویا روپیہ مل گیا_”

اس ڈرامے گاریں کلدار کی سب سے اچھی بات یہ رہی کہ اس ڈرامے نے بہت دیر بعد انیتا جلیل کے اندر فن کے سکے کو تلاش کر لیا، اور اس کی کھنک دور کے گاؤں تک سنائی دی.

ڈرامے میں اس کی ہنسی کی پہلی لہر گاؤں کی گوری کی پازیب کی طرح دلفریب تھی، پر آگے کی باقی ہنسی مصنوعی لگی، جیسے پیتل کی چوڑیوں کو کوئی زور زبردستی سے چھنکائے.

” میں تیرے واسطے انڈے لاؤں گی.”
” کب؟”
” کل”
میرا نام اصل میں مھاتون ہے، ماں نے پیار سے ماھل رکھ دیا_”
” ماھل تم نے پانی بھی نہیں پیا_”
” تم نے پی لیا، میری پیاس بجھ گئی_”

انیتا جلیل بلوچستان کی پہلی خاتون وی لوگر ہیں، جنہوں نے بہت مختصر عرصے میں بے شمار ویڈیوز بنائے، جن میں زیادہ تر گوادر کی خوبصورتی کو سمویا گیا ہے. البتہ یہ الگ بات ہے کہ ان میں گوادر کا حسن کم، انیتا کا میک اپ زیادہ دِکھتا ہے.

کل اگر ان کی کلا کو فن کے میزان پر پرکھا جائے گا تو ان کا یہ بلوچی تھیٹر انہیں فن کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پہلی سیڑھی ثابت ہوگا.

اس ڈرامے کی ہدایتکاری میں نامور افسانہ نویس یونس حسین نے بہت ہارڈ ورک کیا لیکن وہ یہاں بھی شارٹ فلم دجک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے.

ڈرامے کا کلائمکس افسانے سے مختلف نہیں ہے لیکن اس میں احساس سے لبریز چند اضافی جملوں نے دیکھنے والوں کی پیاس بڑھا دی.

ڈرامے کے آخر میں انڈے کی جگہ لیجر مچھلی یا باقلا (بانقلینک) لانے کی بات ہوتی تو دیکھنے والے بھی اس ناشتے کا بھر پور مزہ لیتے کیونکہ یہ مکالمہ کہانی کے کردار اور ماحول کی مکمل عکاسی کرتا ہے.

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *