فیوچک اور اسیری کی داستانیں ۔۔۔ بلال حسن بھٹی

سیاسی قیدیوں اور انقلابیوں کی گرفتاریوں کے بعد جیل میں گزارے گئے شب و روز کی داستانیں ہمیشہ دلچسپ، تکلیف دہ اور عبرتناک ہوا کرتی ہیں۔ ان داستانوں کو پڑھ کر جہاں کچھ لوگوں سے محبت ہوتی ہے۔ وہاں بہت سے لوگوں کے لیے دل میں نفرت کے جزبات ابھرنے لگتے ہیں۔

جولیس فیوچک ان لوگوں میں سے ہے جس کی اسیری کی داستان آپ کو اس سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گی۔ آپ اگر ادب سے لگاؤ رکھنے والے انسان ہیں۔ آپ نے میلان کنڈیرا کو پڑھا ہے۔ تو یقین مانیں آپ اس دور کے چیکوسلواکیہ اور آج کے چیک ریپبلک اور سلواکیہ ریپبلک میں کام کرنے والی کیمیونسٹ پارٹی آف چیکوسلواکیہ سے نفرت کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ کیمیونسٹوں کے ظلم، جبر اور قتل و غارت کی جو داستانیں میلان کنڈیرا کے ناولوں میں پڑھنے کو ملی تھیں۔ اس کے پیچھے موجود وجوہات کا ادارک فیوچک کے یہ نوٹس پڑھ کر ہوا ہے۔

فیوچک کی پیدائش دنیا کے چند خوبصورت اور سب سے زیادہ انقلاب کی زد میں رہنے والے شہروں میں سے ایک پراگ میں ہوئی۔ پراگ کہ جہاں میرا پسندیدہ ادیب کافکا پیدا ہوا تھا۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیوچک کیمیونسٹ پارٹی آف چیکوسلواکیہ کا ممبر بنا۔ بعد میں وہ انقلابیوں کے اخبار کا ایڈیٹر رہا اور نازی قبضے کے بعد انڈر گراونڈ ریہہ کر بہت کام کیا۔ لیکن جنگ عظیم دوئم کے شروع ہونے کے بعد جب جرمنی نازیوں نے چیکوسلواکیہ پر قبضہ کیا تو دو سال تک پوری پارٹی نے انڈر گروانڈ ریہہ کر نازیوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ پھر فروری 1941 میں جب دو سالہ کامیاب روپوشی کے بعد پارٹی ممبرز غیر محتاط ہوئے تو نازیوں نے پارٹی کی کور کمیٹی کو گرفتار کر لیا۔ فیوچک پھر بھی محاز پر ڈٹا رہا۔ پھر ایک سال بعد چوبیس اپریل 1942 کو ایک دن انہوں نے اپنے مطلوب ترین دشمن کو انجانے میں اس طرح پکڑ لیا کہ تفتیش کرنے کے بعد بھی جب تک فیوچک کے قریبی ترین ساتھی نے سب کچھ نہ اُگل دیا تب تک نازی جرمن یہ نہ جان سکے تھے کہ جس شخص کو انہوں نے گرفتار کیا وہ کون ہے۔

”نوٹس فارم دا گالوز“ فیوچک کی وہ تکلیف دہ یادیں ہیں جو اس نے اسیری کے دنوں میں سگریٹ کے کاغذ پر لکھیں اور دو چیک سپاہیوں ”کولنسکی“ اور ”ہورا“ نے اپنی جانوں پر کھیل کر ان کو محفوظ کیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کاغذ کے ان پرزوں کی وجہ سے ان کی گردنیں بھی اتاری جا سکتی ہیں۔ فیوچک کے ساتھ اس کی بیوی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن رہائی پانے کے بعد فیوچک کی بیوی نے ان نوٹس کو اکٹھا کر کے کتاب کی شکل میں شائع کیا۔ یہ کتاب اب تک دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔۔۔

یہ داستان 1939 سے 43 تک کی کہانی ہے۔ جب فیوچک جرمنوں سے لڑ رہا تھا اور پھر جیل میں بند تھا۔ باہر دنیا کی دوسری جنگ عظیم لڑی جا رہی ہے۔ جرمن نازی پورے یورپ پر قبضہ کرنے نکل چکے ہیں۔ چیکوسلواکیہ ان کے قبضے میں ہے۔ روس پر جون میں حملہ کرنے سے پہلے انہوں نے فروری 1941 میں چیکوسلواکیہ کی کیمیونسٹ پارٹی کی کور کمیٹی کو پکڑ کر ایک طرح تنظیم کو غیر فعال اور کمزور کر دیا تھا۔ وہ لینن گراڈ پر حملہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سٹالن گراڈ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ اس دور میں چیکوسلواکیہ اور دیگر مقبوضہ ملکوں کے انقلابیوں کی پکڑ دکڑ شروع ہے تا کہ وہ انتشار نا پھیلا سکیں۔ ایسے میں وہی بچ سکتے ہیں جن کے ساتھ قسمت یاوری کرتی ہے۔

تو یہ داستان بتاتی ہے کہ کس طرح ایک شخص کی غداری کئی لوگوں کی جانیں لینے کا موجب بن جاتی ہے۔ کس طرح ڈنڈوں، بوٹوں اور مکوں سے کیے جانے والے تشدد کے بعد جب آپ کو ایک کوٹھری میں پھینکا جاتا ہے تو سات قدم دور پڑے پانی والے برتن سے پانی نکالنے کے لیے آپ کو کئی منٹ اور گھنٹے لگ جاتے ہیں اور وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کس طرح جیل میں موجود قیدیوں کے ساتھ باپ اور بیٹے جیسے خاموش تعلق بن جاتے ہیں۔ کس طرح راتوں کو تفتیش کے بعد زخموں سے چور ہو کر آنے پر جیل کا ساتھی انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ جو رستے زخموں سے بہتی پیپ صاف کرتا ہے۔ لیٹا کر اوپر کمبل اوڑھاتا ہے۔ وقت آنے پر زبردستی گلی سڑی ترکاری کا بنا ہوا شوربے کا ایک پیالا پلاتا ہے تاکہ بھوک اور پیاس کی شدت مار نا دے۔ جیل کے یہ ساتھی جب بدلتے رہتے ہیں اور وہی جیل کی کوٹھری نمبر 267 اکیلا رہتا ہے تو اس کو زندہ رکھنے کا واحد مقصد اس کے پاس معلومات کی وہ فروانی ہے۔ جسے نکلوا کر نازی مزید اہم لوگوں کو پکڑنا چاہتے ہیں۔ تو ایسے میں آپ کی زندگی کا ہر دن آپ کے ساتھیوں کے ختم ہونے کی اطلاع پہنچاتے ہیں۔

جب انقلابیوں کی لاشوں کی تعداد دسیوں اور سینکڑوں سے نکل کر ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے۔ پھر ایک دن ان اذیتوں سے فیوچک کی جان چھوٹ جاتی ہے۔ پارٹی کی کور کمیٹی کی طرح اسے بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ فیوچک کی اسیری کی یہ داستان جہاں ہمیں نازی جرمن کے ظلم و جبر اور وحشیانہ تشدد سے آگاہی دیتی ہے۔ وہیں اس سے یہ ادارک حاصل ہوتا ہے کہ جب جرمنوں کی شکست کے بعد سویت یونین کی معرفت سے چیکوسلواکیہ میں کیمیونسٹ پارٹی آف چیکوسلواکیہ حکومت میں آتی ہے۔ تو وہ چن چن کر نہ صرف انقلاب دشمنوں کو قتل کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے دشمنوں کے ساتھ ساتھ کئی مرتد انقلابیوں کی لسٹیں بنا کر ان کو گرفتار کیا، قتل کیا یا پھر ملک بدر کر دیا جاتا یے۔ دنیا میں ہر جگہ انقلاب سے پہلے، انقلاب کے دوران اور انقلاب کے بعد زندہ اور مردہ لاشیں بس سال بہ سال یادگار منانے کی حد تک ریہہ جاتی ہے اور نئے آنے والے اپنے ساتھ نئی سوچیں اور نظریات لاتے ہیں۔ پرانا کچھ بچ جاتا ہے تو صرف ظلم، جبر اور بربریت کی پرانی یادیں اور وہ سیاہ راتیں جن کو چھٹنے کے لیے مزید لاکھوں لوگوں کو اپنا خون دینا پڑتا ہے اور چیکوسلواکیہ کے لوگوں نے بیسوی صدی میں اپنی آزادی کے لیے بے شمار جانیں قربان کر دیں۔

ہاں لیکن یہ زندگی ہے جو موت کے ان اندھیروں سے پھوٹتی ہے۔ ان قتل و غارت کے دنوں میں بھی اور اس کے بعد بھی کچھ لوگ ہنستے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں، جیتے ہیں، محبت کرتے ہیں اور ان چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں جس سے خوف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بعد میں رنگوں اور خوشبو بھری دنیا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آج کے پراگ کو زندہ رکھا ہوا وہ پراگ جس کو سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے اپنا خون دے کر سینچا تھا۔

Avatar
بلال حسن بھٹی
ایک طالب علم جو ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *