سائبر اردو کا رسم الخط۔۔۔حافظ صفوان محمد

ابھی کچھ دیر پہلے وھاٹس ایپ میں یہ پیغام موصول ہوا ہے:
ریختہ کا آفیشل رسم الخط بدل کر رومن کر دیا گیا، اور ریختہ کی زبان اردش ہوگئی۔ زیادہ تر مواد کی کی ترجیحی زبان ہندی آتی ہے۔ اردو کے تمام شاعری کے اثاثے ہائی جیک کرکے ہندی کو سونپ دیے گئے اور ہمارے دانشور خوش ہیں کہ اس زبان کی خدمت ’’انڈیا والے‘‘ کر رہے ہیں۔ جو ریختہ اپنے رسم الخط کی وجہ سے اردو کہلاتی ہے، عربی، فارسی، ترک زبانوں کا مرکب تھی، عنقریب وہی زبان ریختہ کے تمام رشتے اس طرف سے توڑ کر برہمنزم کے حوالے کر دی جائے گی۔
اس تحریر پر میری رائے لی گئی۔ میں نے عرض کیا کہ نہ کوئی زبان مقدس ہے اور کوئی رسم الخط۔ جس زبان کا رسم الخط ایک ہی ہے وہ نئے دور میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ زندہ نہ رہنے کا مطلب ہے کہ اس کا بین اللسانی ربط کم ہونے کی وجہ سے وہ صرف ایک ہی قوم یا ملک تک رہ جائے گی سو رفتہ رفتہ فنا کے راستے پر رواں ہوجائے گی۔ آج کثیر اللسانی معاشرے وجود میں آ رہے ہیں اور ہر ایک کو اپنی سیاسی و معاشی بقا کے لیے دوسری زبان بولنے والوں سے رابطہ رکھنا ہی رکھنا ہے۔ اسی لیے ہر زبان کے ایک سے زائد رسوم الخط ہونا انتہائی ضروری ہیں۔ چینیوں اور جاپانیوں نے اسی لیے اپنی زبانوں کو رومن حروف میں لکھنے کو رواج میں لانے کی سوچی سمجھی سنجیدہ کوششیں بہت عرصے سے شروع کر رکھی ہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ عربوں کی زبان ہندوستان میں اسی لیے رواج پاگئی اور اس کا رسم الخط بھی اپنی جگہ بنا گیا کہ حجاز والوں کی بعض معاشی ضرورتوں کا سامان یہاں سے جاتا تھا، اور جو عرب سوداگر یہاں آتے جاتے تھے وہ کوئی نہ کوئی زبان بولتے تھے اور اپنی کاروباری یادداشتیں لکھتے بھی ہوں گے جو لازمًا ایسے رسم الخط میں ہوتی تھیں جو یہاں اور وہاں دونوں کے لوگوں کے لیے نامانوس نہ تھا۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ محمد بن قاسم یہاں آیا بھی تھا یا نہیں یا اس کا تاریخی وجود تک ثابت ہے یا نہیں، یا اگر آیا تھا تو اس نے یہاں مذہب پھیلایا تھا یا نہیں اور اس کے لیے عرب زبان کے لفظ اور رسم الخط کو یہاں چلایا تھا یا نہیں، یہ البتہ طے ہے کہ عرب سوداگر ہندوستان کے ساحلوں پر آتے جاتے تھے اور اسلام کی آمد سے پہلے سے یہ تجارتی گزر گاہیں اور راستے چل رہے تھے، چنانچہ یہ زبان اور رسم الخط یہاں اسلام سے پہلے سے اپنا استقبالی حلقہ اور تعارف رکھتے تھے۔
آج مشرقِ وسطیٰ میں ہندوؤں کا استقبال یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ دنیا میں کارآمد لوگ ہیں اس لیے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ عرب دنیا میں سرکاری سرپرستی میں ہندو مذہب کی عبادت گاہیں کھلنا اس بات کا اعلان ہے کہ عربوں کو ہندوؤں کے مذہب سے مسئلہ نہیں ہے۔ ہندوؤں اور ان کے مذہب کو عربی اور اس کے رسم الخط سے کوئی خطرہ ہے اور نہ عربوں کے مذہب کو ہندوؤں یا ان کی زبان اور رسم الخط سے۔ نہ عربوں (کے نزدیک ان) کی زبان یا رسم الخط مقدس ہے نہ ہندوؤں (کے نزدیک ان) کا۔
بارِ دگر اور بالوضاحت عرض ہے کہ ہندوستان میں عربوں کی زبان یا رسم الخط مذہبِ اسلام کے ساتھ یا اسلام کے فاتحین کی بدولت نہیں آیا بلکہ تاجروں کے ساتھ آیا۔ چنانچہ یہی سوداگر جب نئے مذہب کے ساتھ آنے جانے لگے تو یہاں اپنی کاروباری roots کی وجہ سے انھیں کوئی مشکل نہ ہوئی اور حسبِ سابق آر جار لگی رہی۔ ان تجارتی روابط کی تفصیل کے لیے محمد حسین ہیکل اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تحریروں کے متعلقہ حصے دیکھ لیجیے۔
عرب سوداگر چین میں بھی آتے جاتے تھے۔ وہاں بھی اصحابِ رسول میں سے ایک کی قبر موجود ہے۔ چینیوں کی زبان اور اس کے روایتی رسم الخط میں عرب کی زبان کے اثرات نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ہندوستان کی طرح یہ ملک سیاحوں کی گزرگاہ نہ تھا۔ چونکہ اس علاقے میں کاروباری سرگرمی کی گرم بازاری نہ ہوسکی اس لیے یہاں اسلام بھی نہ پھیل سکا گو صحابہ بھی یہاں آئے تھے۔ جغرافیائی اعتبار سے جاپان بھی کچھ ایسا ہی الگ تھلگ ہے، اور بایں وجہ عربوں کی زبان یا رسم الخط جاپانی زبان میں بھی بار نہ پا سکے۔
خوب سمجھنے کی بات ہے کہ زبان کے چلنے اور زندہ رہنے کی وجہ صرف اور صرف معاشی سرگرمی ہے۔ (یاد رہے کہ میں زبان کی ترویج کی بات کر رہا ہوں نہ کہ نفاذ کی۔) آج ہمارے ہاں جن لوگوں/ قوموں/ ملکوں کی وجہ سے معاشی سرگرمی ہے ان کی زبان بولنے سیکھنے کے لیے لوگ یوں ہجوم کرتے ہیں جیسے پتنگے شمع پر، اور آپ اپنی مقامی یا قومی زبان کو کسی بھی بیرونی لیکن معاشی طور پر مضبوط لوگوں کی زبان کے اثرات سے بچانے کی جو بھی کوشش کرلیں، آپ ہانپ کر رہ جائیں گے اور اپنی زبان کو نیا چولا پہن کر نئی محفلوں میں خوش وقت ہوتا دیکھ رہے ہوں گے۔
میں نے آج سے کوئی 35 سال قبل ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب سے سنا تھا کہ اردو زبان کو کوئی مسئلہ نہیں، رسم الخط کو شدید خطرہ ہے۔ اس وقت مجھے حیرانی ہوئی تھی۔ پھر جنابِ شان الحق حقی اور ازاں بعد ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے یہی بات کہی تو سمجھ آنا شروع ہوئی کہ مسئلہ گمبھیر ہے۔ آج وہ وقت آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ جو شخص رومن رسم الخط میں اردو نہیں پڑھ سکتا وہ جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اردو کا روایتی رسم الخط گیا تیل لینے۔
بایں وجہ اگر ریختہ والوں نے اردو کے لیے اپنا ترجیحی رسم الخط رومن حروف کو کرلیا ہے تو اس کی وجہ دنیا بھر میں اس کا عوامی استقبال اور کاروباری ضرورت ہے۔ میں ریختہ کی اس بروقت move کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *