پروفیشن۔۔بنت الہدیٰ

قلم سے دوستی اپنی جگہ
مگر پروفیشن کچھ اور ہونا چاہیے۔۔۔۔
تو سوچ رہی ہوں انجینئر بن جاؤں۔۔۔
وہ انجینئر جو آسمان سے برسنے والے بموں پر ایک ایسا سینسر لگائے
جو چالیس فٹ کی بلندی سے ہی
جھولے میں سوئے بچوں کی سانسوں کو محسوس کرلے
اور بارود کا زہر زمین پر پھیلانے سے انکار کردے۔۔
اور پھر وہ سینسر لیکر کربلا پہنچوں
اور حرملا کے چلائے ہوئے تیر کا رخ علی اصغر ع کی نازک گردن سے موڑ دوں۔۔۔۔

یا ایک اور آپشن لوں اور ڈاکٹر بن جاؤں
مگر عام ڈاکٹر نہیں
بلکہ وہ طبیب جو ان بیماریوں کی تشخیص کرے
جن کے جراثیم کربلا والوں کو یاد کرنے سے تو نہیں روکتے
مگر کربلا کو خون میں سرائیت کرنے سے روک دیتے ہیں
اور پھر حریّت کے وٹامن سے اس مرض کا علاج کروں
مگر وٹامن حریّت تو اب عزاخانوں کی فارمیسی میں میسر نہیں
یہ وٹامن عزاداروں تک پہنچانے کے لئے
خود کو حُر ع کے ساتھ روانہ کروں
خیمہ حسین ع کی جانب
کہ حسین ع ابالاحرار ہیں
حریّت صرف انہی کی فارمیسی سے مل سکتی ہے۔

یا پھر میں ایک درزن بھی بن سکتی ہوں۔۔۔
مزاروں پر باندھے گئے،
مختلف رنگ و نسل کے انسانوں کی۔۔۔
عقیدتوں کے دھاگوں سے
ایسی چادریں تیار کروں
جسے پہن کر زینب ع دربار میں جا سکے۔۔!
اور کچھ چادریں ایسی بھی ہوں
جسے صرف زندہ انسان ہی نہیں۔۔۔
صحرا میں پڑے بےجان جسم بھی اوڑھ سکیں۔
اور کوئی نعش برہنہ دفن نہ ہو۔۔!

درزن بن کر ڈریس ڈیزائننگ کے شعبے میں بھی کام کیا جاسکتا ہے۔۔
جہاں ایک ایسا لباس ڈیزائین کروں
جسے پہننے سے جسم تو ظاہر نہ ہو۔۔
مگر باطن سامنے آجائے۔
حق اور باطل کی شناخت آسان ہو جائے!
مگر اس لباس کی تیاری کے لئے
ایک ایسی چادر درکار ہے
جس میں نیزے کی نوک پر لگے لہو کے داغ ہوں،
کہ خون کے دھبوں والی چادر ہی یہ لباس تیار کرسکتی ہے۔۔۔!

آجکل سافٹ وئیر ڈیویلپر کی بھی بہت ڈیمانڈ ہے
میں بھی ایک سافٹ وئیر تیار کرلیتی ہوں
جسکے ذریعے ماتمی دستوں میں
جانثاری اور فداکاری کا ڈیٹا انسٹال کیا جائے
نوحے کے ردھم پر اٹھنے والے ہاتھ جونہی سینے پر پڑیں
پروگرامنگ کا پراسیس شروع ہوجائے۔
مگر نوحوں کی کوڈنگ اب بدل دی گئی ہے۔۔
سافٹ وئیر ایرر شو کر رہا ہے۔۔۔
کہ اس سافٹ وئیر کے اصل کوڈز
ایک سرخ رنگ کی چھوٹی سی گٹھڑی میں بند ہے
جسے “موت کی چاشنی” کہا جاتا ہے!
اگر یہ گٹھڑی کھول کر کوڈنگ درست کر لی جائے
تو سافٹ وئیر تیار ہوسکتا ہے۔
سنا ہے شہید محسن حججی اس سافٹ وئیر کی کوڈنگ میں کامیاب رہے تھے۔۔!

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *