نابغہ پاگل ہوتے ہیں ۔۔سارہ خان

نابغہ genius پاگل ہوتے ہیں
there is a method in his madness
شیکسپیئر
شاعر عاشق اور پاگل کا تخیل ایک جیسا ہوتا ہے!

ذہانت بھی فطرت کا کیا عظیم تحفہ ہے ،ذہین و فطین دنیا میں اپنا الگ ہی مقام رکھتےہیں۔لیکن ارسطو کے بقول ،ہر بے تحاشہ ذہانت رکھنے والا انسان تھوڑا تھوڑا پاگل ضرور ہوتا ہے۔ارے بھئ ذہین افراد پر پاگل پن کی مہر لگانا تو کچھ بری بات سی بات ہوگئی۔

اس بات میں کس قدر حقیقت ہے ۔خیر ایسا تو نہیں  ہے کہ سارے ذہین پاگل ہی ہوں یا سارے پاگل ذہین بھی ہوں لیکن کافی حد تک یہ بات کچھ درست نظر آتی ہے۔نیوٹن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شیزوفرنیا کے مریض تھے۔فیثا غورث جو یونانی ریاضی دان تھے وہ بھی کچھ عجیب و غریب دماغی مسائل میں مبتلا رہے۔ایک مذہب بھی بنایا جو بے حد غیر حقیقی اصولوں پر مبنی تھا۔ساتھ ہی Pythagoras’s formula بھی بناکر دنیا پر احسان کر گئے۔مائیکل اینجلو جو بہت مشہور اطالوی مصور ،آرکیٹیکچرر ،اور مجسمہ ساز تھا،کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں سے بات نہیں  کرتا تھا،کئی دن کپڑے نہ بدلتا اور جوتے پہن کر سوتاتھا۔شبہ ہے کہ وہ autistic بھی تھا۔اس کی بنائی ہوئی پینٹنگ God creates Adam ,آج بھی اپنی مثال آ پ ہے۔

لارڈ بائرن ،اٹھارویں صدی کا مشہور شاعر اپنی پاگل پن کی حرکتوں کی وجہ سے آج بھی مشکوک ذہین افراد میں شمار ہوتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ وہ کیمبرج یونیورسٹی کا گریجویٹ اور بہت ذہین سٹوڈنٹ بھی تھا۔اور ہمارے مشہور ریاضی دان جان نیش سے کون واقف نہیں۔۔۔علم ریاضی جان نیش کو استاد عظیم مانتاہے۔اور ان کے بنائے ہوئے ریاضی کے فارمولے ساری دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں۔وہ ساری زندگی شدید ذہنی امراض جس میں شیزوفرینیا بھی شامل تھا ،کا شکار رہے۔تو بھئ ایک طویل لسٹ ہے ان افراد کی جو ذہنی امراض کی اذیت کو برداشت کرتے ہوئے،دنیا کو بہت بے مثال قسم کے تعمیری تحفے علم اور تعمیری کاموں کی صورت میں تھما گئے۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ذہین کون ہے ؟،تو میرا جواب ہوگا،وہ جو چیزوں کو مختلف انداز میں دیکھتےہیں۔ان لوگوں کو اصول و ضوابط زیادہ سمجھ نہیں  آتے،یہ لوگ انسانوں کو آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کئی مرتبہ دھکیلنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔یہ لوگ اصولوں سے باہر دیکھنا جانتے ہیں۔یہ چیزوں کی ٹیکنیکل ایپلیکیشن سے واقف ہوتے ہیں ۔یہ لوگ اپج اور تخلیق کا وہ اظہار جانتے ہیں جو عام انسان نہیں جان سکتا۔ذہین افراد کا سماجی رویہ بھی دوسرے لوگوں سے ذرا مختلف ہوتا ہے۔انھیں دوسروں سے سلام دعا اور ملنے جلنے میں کوئی مقصد نظر نہیں آتا،اس لیے یہ زیادہ تر وقت اپنے ہی ساتھ گزارنا پسند کرتے ہیں ۔ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق اعلی قسم کے ذہین افراد مزاجی اتار چڑھاؤ کا عام افراد کی نسبت چارگنازیادہ شکار رہتے ہیں۔James Fallon جو یونیورسٹی آف کیلی فور نیا کانیورولوجسٹ ہے کہتا ہے کہ،بائی پولر افراد جب اپنےڈپریشن سے باہر آتےہیں ،اسی وقت ان کا دماغ تعمیراتی تخلیق کا کام کرتا ہے۔

جب بائی  پولر کا موڈ اچھا ہو تو اسکے دماغ کی تخلیقی صلاحیت عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتی ہے۔تو بھئ میں نے اپنے خیالات اور معلومات آپ سے شیئر کرلیں۔آپ بھی اس معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔کہ “تھوڑاساپگلا ،تھوڑا دیوانہ ،کیا واقعی کچھ خصوصی ذہانت رکھتا ہے یا  نہیں۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *