ہم زندہ قوم ہیں۔۔۔ضیااللہ ہمدرد

۱۹۹۴ میں آج سے قریبا ًًً پچیس سال قبل جب پشاور میں کویت اور قطر کے تعاون سے مرسی انٹرنیشل ہائی سکول کی بنیاد رکھی گئی تو میرے والد کو فوت ہوئے تین مہینے گزر چکے تھے اور ہمارے کچھ رشتہ دار ہمیں اٹھا کر اس سکول میں لے آئے جہاں ہم نے زندگی کے سب خوبصورت دن دیکھے اور بچپن کی وہ یادیں بنائیں جسے آج بھی یاد کرکے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ اس سکول کو کویت کے بیت الزکوة سے پیسے ملتے تھے اور مجھے دس سال تک جس خاتون نےپیسے بھیجے اس کا کسی فارم میں میں نے نام دیکھا تھا لیکن آج تک مجھے اپنے اس محسن کی دیگر تفصیلات نہیں ملیں اس کا نام موزہ احمد الجابر الصباح تھا۔ یہ وہ جذبہ تھا جو ہمارے مذہب نے یتیم کی کفالت کے بارے میں قران و حدیث کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا اور جس کا ہم نے کچھ ایسا فائدہ اٹھایا کہ ہمیں سکول میں یونیفارم سے لے کر سٹیشنری تک، ناخن کاٹ سے لے کر ٹوٹھ برش تک، اور ہاسٹل میں موجود سہولتوں سے لے کر کینٹین میں ہر وہ نعمت بالکل مفت حاصل تھی جس کا پاکستان میں اوسط گھرانوں کے بچے بھی تصور نہیں کرسکتے تھے اور ہم نے بھی ان ساری نعمتوں کا اس قدر بے دریغ استعمال کیا کہ آج بھی ماں ہمیں لوفر کہہ کر پکارتی ہے۔ مالِ مفت دلِ بے رحم کا محاورہ شاید ہمارے لئے بولا گیا تھا۔ مرسی کی عادت آج تک نہیں چھوٹی اور بغیر سکالرشپ کے تعلیم حاصل کرنا ہمیں بالکل بھی پسند نہیں، اس لئے سکول سے لے کر پی ایچ ڈی تک کویت، قطر، جاپان، امریکہ، جرمنی اور انگلینڈ کے سکالرشپس سمیت پاکستان میں  بہت سارے سکالرشپس حاصل کئے اور زندگی میں ایسا وقت بھی آیا کہ پچھلے سال امریکہ اور روس میں دو کانفرنسوں میں صرف اس وجہ سے شرکت نہیں کی کیونکہ وہ باقی سکالرشپ تو دے رہے تھے لیکن جہاز کا ٹکٹ خود خریدنے کو بولا تھا۔

اس سکول کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں دینی و دنیاوی علوم کا ایک ایسا حسین امتزاج تھا کہ جس نے ہمیں علم کے ساتھ ساتھ ایسے نظریات دئیے کہ جس نے زندگی کی  ہر مشکل میں رہنمائی کی۔ ہمیں ایسے اساتذہ ملے جو والنٹیرز یا خدائی خدمتگاروں کی طرح اس خلوص سے ہمیں پڑھاتے تھے کہ ان کے خلوص کو دیکھ کر ہمیں یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ اس زندگی کا یقیناًًً  ایک بہت ہی بڑا مقصد ہے۔ انگلش میڈیم سکول ہونے کے ساتھ ساتھ اس سکول میں قرآن پاک کی تلاوت، حفظ، تفسیر، حدیث اور اسلامی تاریخ بھی پڑھائی جاتی تھی اور میری خوش نصیبی یہ تھی کہ میں نے دس سال تک اس سکول کو مسلسل ٹاپ کیا اور ہر سال گھر دو ٹرافیاں لے جاتا تھا۔ میری والدہ نے انہیں کئی سال تک الماری میں رکھا لیکن بعض اوقات پوچھتی تھی کہ یہ تم کیا لائے ہو؟ یہ تو نہ کوئی جگ ہے نہ کوئی گلاس اور نہ ہی کھانے پینے کے برتن۔ بعد میں چھوٹے بھائی نے وہ ساری ٹرافیاں ایک ایک کرکے محلے کے بچوں کو دے دیں۔ محلے میں جو بھی بچے ٹورنامنٹ منعقد کرتے تھے تو میرے گھر سے ٹرافی لے جاتے تھے، یہاں تک کہ میٹرک میں میتھس کے پرچے نے زندگی میں پہلی مرتبہ پوزیشن لینے کی راہ میں رکاوٹ بنی لیکن آگے چل کر ہم نے حساب کو تعلیم سے ہی نکال باہر کیا اور پھر مڑ کر بھی اس مضمون کی طرف نہیں دیکھا۔ جس وقت ہم اس سکول میں پڑھ رہے تھے تو یہ بیسویں صدی کی آخری دہائی تھی اور افغان جنگ ختم ہوچکی تھی لیکن پاکستان کے بہت سارے مہاجرین کیمپوں میں ایسے ہزاروں یتیم موجود تھے جن کے والدین نے اس وقت افغانستان میں روس کو شکست دے کر امریکہ کو سپر پاور بنایا تھا۔ اس لئے ہمارے ساتھ سکول میں بہت سارے افغان اور کشمیر سےبھی طالبِ علم آئے اور میٹرک تک ہم اس بین الاقوامی ادارے کی وجہ سے انگریزی، اردو، عربی اور فارسی بھی سیکھ چکے تھے جبکہ ناصر پور میں ہونے کی وجہ سے ہندکو کی پوری سمجھ آتی تھی۔

اس سکول کی یاداشتوں کی روداد بہت لمبی ہے، لیکن جب میں سکول سے گھر جارہا تھا تو میرے پاس اپنی ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جس میں سینکڑوں کتابیں تھیں اور ان کتابوں میں مذہب، ادب اور تاریخ کی بہت سارے موضوعات پر کتابیں شامل تھیں۔ سکول میں باسکٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈمنٹن اور کرکٹ سمیت بہت  سے کھیلوں کی سہولیات میسر تھیں جس میں ایک ٹانگ کو پکڑ کر دوسرے کو گرایا جاتا تھا۔ اپنے جسم کے خدوخال دیکھتے ہوئے ہم نے باسکٹ بال، والی بال، کرکٹ اور ٹینس پر ہی اکتفا کیا۔ سکول میں نہ صرف پاکستان کے بہت سارے علاقوں سے دوست ملے بلکہ اس سکول کے بس میں پاکستان کے بہت سارے علاقوں کی سیر بھی کی۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کی ہر سہولت اس سکول میں پڑھنے والوں کو دے رکھی تھی اور اس کی برکت کی وجہ سے اس سکول کے طالبِ علم جہاں بھی گئے تو ان کی حسنِ آوارگی کا یہ اعجاز تھا کہ داستاں چھوڑ آئے۔ آج اس سکول سے فارغ ہونے والے بہت سارے طالبِ علم ڈاکٹرز، انجینئرز، ٹیچرز، منیجزز، بزنس مین، میڈیا پرسنز، عالم، غرض زندگی کے ہر شعبے اور تقریبا ًًً ہر ملک میں موجود ہیں۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان میں جہاں عربوں کی فنڈنگ سے چلنے والے بہت سارے ادارے بند کئے وہیں مرسی انٹرنیشنل ان چند گنے چنے سکولوں میں شامل تھا جس کا کوئی بھی فارغ التحصیل طالبِ علم کسی بھی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا اس لئے یہ سکول قائم و دائم رہا۔ بدقسمتی سے عرب دنیا میں دو ہزار دس کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی تو شام، عراق، لیبیا اور یمن بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔ یوں عرب جو پیسہ پاکستان اور افغانستان بھیجتے تھے، وہ انہوں نے عرب دنیا میں ہی تقسیم کرنا شروع کیا اور چند مہینے پہلے انہوں نے مرسی پاکستان کو پیغام دیا کہ اپنے بجٹ کا بندوبست خود کریں کیونکہ ہم مزید پیسے نہیں بھیج سکتے۔ ہمارے سکول کی انتظامیہ کے انچارج اور ڈائریکٹر فقیر محمد انور جماعتِ اسلامی اور پشاور میڈیکل کالج سے قریبی تعلقات تھے، اس لئے انہوں نے ایک ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پشتو کے ایک معروف اینکر یوسف جان نے ایک پروگرام کرکے پیغام مخیر حضرات تک پہنچایا۔ دو مئی کو ڈونر کانفرنس پشاور میں منعقد ہوئی۔ مجھے سکول سے کال موصول ہوئی کہ سکول کے بعض طالبِ علموں کو کانفرنس میں شرکت کے لئے بلایا گیا ہے۔ میں نے اسے اپنا فرض سمجھ کر کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

پشاور صدر کے شیراز ارینہ میں ڈونر کانفرنس شروع ہوئی تو اس میں صوبے کے بہت بڑے نامی گرامی شخصیات، ڈاکٹرز، پروفیسرز، طالبِ علم اور کاروباری شخصیات موجود تھیں۔ پروگرام کے شروع میں پریزینٹیشن دی گئی کہ اس سکول کو چلانے کے لئے سالانہ چھ کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔ تقریباًًً  دو گھنٹے پروگرام میں جب مختلف تقریروں اور پریزینٹیشنز کے بعد ڈونرز نے پیسے دینا شروع کیا تو تقریباًًً  ایک گھنٹے میں پانچ کروڑ روپے جمع ہوگئے۔ ایک شخص نے اٹھ کر پچاس ہزار ڈالر دئیے۔ تو ایک چھ سال کی بچی نے ہزار روپے کا چیک دیا۔ ایک اور بچے نے اپنا خزانہ دیا جن میں چند سو روپے تھے تو ایک بہن نے دس تولے سونا وقف کیا۔ ایک خاتون نے اپنا نیکلس اتار کر ان یتیم بچوں کے نام کردیا۔ سکول میں اس وقت پانچ سو کے لگ بھگ بچے موجود ہیں جن میں دیر، وزیرستان اور قبائیلی اضلاع کے جنگ زدہ علاقوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ میں نے ایک گھنٹے میں پاکستان خاص کر پشتونوں کو پانچ سو یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاتے دیکھا تو آنکھوں میں آنسو  آگئے۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ جو چیلنج پاکستان کے لوگوں کو اپنے عرب بھائیوں کی طرف سے ملا تھا، وہ انہوں نے ایک گھنٹے میں پورا کردیا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ یہ قوم اس فرسودہ نظام میں پھنس گئی ہے ورنہ ان کا جذبہ آج بھی بہت بلند ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے زندہ قوم کو دیکھا۔ سکول واپسی پر ڈائریکٹر فقیر محمد انور نے بتایا کہ پوری دنیا سے لوگ مجھ سے رابطے کر رہے ہیں اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھارہے ہیں۔ آج کے بعد مرسی پاکستان کو عرب نہیں بلکہ پاکستانی چلائیں گے اور انشااللہ یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *