• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پولیس تشدد کے بھیانک عفریت سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے کیا؟۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

پولیس تشدد کے بھیانک عفریت سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے کیا؟۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

آج سے 24،25 سال پرانی بات ہے کہ تھانہ مسلم ٹاؤن لاہور کے اہلکاروں نے انسپکٹر ارشاد اختر گلاب کی سربراہی میں راقم کے ایک دوست فیاض حیدری کو نام کی مماثلت کی وجہ سے اس کی دکان واقع بادامی باغ سے اٹھا لیا- ابھی ہم اس کی رہائی کے لئے قانونی چارہ جوئی کا بندوبست کر ہی رہے تھے کہ جبری گم شدگی کے صرف تیسرے دن ہی ایس پی صدر نے فون کر کے اس کے گھر والوں کو بتایا کہ فیاض نے خود کشی کر لی ہے- جب ہم سب بھاگے بھاگے تھانہ مسلم ٹاؤن پہنچے تو وہاں فیاض کا مردہ جسم حوالات کے بستر پر موجود تھا- مرحوم کے گھر والے تو رونے دھونے میں لگ گئے مگر جب راقم نے پولیس والوں سے پوچھا کہ فیاض نے خود کشی کیسے کی تو ان کا کہنا تھا کہ چھت کے کنڈے سے لٹکی اس رسی سے- میں نے وہ رسی پکڑ کر کھینچی تو وہ کنڈے سمیت نیچے گر گئی- یعنی ثابت ہو گیا کہ اس کنڈے سے لٹک کر کوئی خود کشی نہیں کر سکتا- پھر میں نے پوچھا کہ فیاض کے پاس حوالات میں یہ رسی کیسے پہنچی اور لٹکنے کے لئے سٹول کس نے مہیا کیا- اس سوال کا سننا تھا کہ انسپکٹر ارشاد اختر گلاب نے اچانک مجھے دھکہ دے کر نیچے گرا دیا اور بھاگتا ہوا تھانہ سے باہر نکل گیا- اس کے جانے کے بعد میں نے فیاض کے جسم کا معائنہ کیا تو اس پر جابجا شدید تشدد کے نشانات واضح تھے- اس پولیس تشدد کی بھی حسب معمول انکوائری چلتی رہی مگر جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا- انسپکٹر ارشاد اختر گلاب 3/4 مہینوں تک معطل رہا, پھر بحال ہوا اور ترقی پا کر ڈی ایس پی تعنیات ہوا- البتہ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اتنی “مہربانی” ضرور کی کہ ڈی ایس پی ارشاد اختر گلاب کو لاہور کی بجائے اس کے آبائی ضلع میں ٹرانسفر کر دیا- اس سانحہ کے بعد کم از کم مجھے تو ضرور سمجھ آ گئی کہ یہ ہوتا ہے پولیس تشدد اور یہ ہوتا ہے اس کا انجام۔

بغیر کسی تخصیص کے ہمارے ملک کی ساری قیادت کی نااہلی کی وجہ سے اور تھانہ کلچر تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے ہماری ریاست کا سیاسی، سماجی اور انتظامی ڈھانچہ 72 سال سے چل رہے اس پولیس تشدد کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے- پولیس تشدد کا شکار کئی لوگ تو فیاض کی طرح مر بھی جاتے ہیں جبکہ بیشتر لوگ ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوران تفتیش زیرحراست افراد پر تھرڈ ڈگری تشدد کے اس قدر ظالمانہ اور سفاکانہ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں کہ جن کے ذکر سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں- ان میں چھترمارنا, ڈانگ پھیرنا، چھت سے لٹکانے کے مختلف طریقے، رسہ پر چڑھانا، پنکھا چلانا، پاؤں اور سر کو رسی سے باندھ کر ایک کر دینا، شلوار میں چوہے چھوڑنا، ٹائر ڈالنا، گوبر لگانا، ٹانگیں رسی سے باندھ کر چوڑی کرنا، جسم کے نازک حصوں کو مختلف طریقوں سے ضرب دے کر تکلیف پہنچا نا، پان لگانا، سگریٹ سے داغنے کے علاوہ غلیظ گالیاں دینا, مقدمہ میں ملوث افراد کے اہل خانہ کو گرفتار کر کے ان کی تذلیل و بے حرمتی کرنا، خواتین اور کمسن ملزموں کے ساتھ بد اخلاقی و جنسی تشدد جیسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔

عموماً گرفتاری کے فوری بعد ہی پولیس ملزم پر تشدد کا آغاز کر دیتی ہے اور جس ظالمانہ طریقے سے اسے زبان کھولنے پر مجبور کیا جاتا ہے ایسی صورت میں تو کہا جاتا ہے کہ ہرن بھی خود کو ہاتھی کہنے لگتا ہے۔ تفتیش کے دوران ملزمان پر تشدد انگریز دور کی یادگار ہے۔ اس دور میں بھی ملزمان کو چھتر مارے جاتے تھے اور آج بھی ملزمان پر چھترول پولیس تشدد کا ایک معروف طریقہ ہے۔ چھتر ایذارسانی کا خاص اوزار خالص چمڑے سے تیار کیا جاتا ہے- اس کا باقاعدہ کوئی کاریگر نہیں ہوتا بلکہ جس افسر نے چھتر بنوانا ہوتا ہے وہ پہلے خالص چمڑا خریدتا ہے، پھر جوتے بنانے والے کاریگروں یا لیڈر کی اشیاءتیار کرنے والوں سے اس چمڑے کی دو تہہ رکھ کر اسے مختلف اشکال میں اس طرح کٹوایا جاتا ہے کہ ہاتھ سے پکڑنے کی گرپ بن جائے۔ عام طور پر چھتر کی شکل بیڈ منٹن کے ریکٹ کی طرح ہوتی ہے تیاری کے بعد اسے 7 دن تک سرسوں کے تیل میں بھگو کر رکھا جاتا ہے پھر اس کے بعد 2 دن دھوپ میں سکھایا جاتا ہے بعد ازاں اس چمڑے کو پریس کرنے والی رولر مشین سے گزارا جاتا ہے تاکہ دونوں تہیں آپس میں اچھی طرح جڑ جائیں۔ پھر اسے موچی سے سلوایا جاتا ہے اور اس کے بعد مزید دو دن دھوپ میں رکھا جاتا ہے سوکھنے کے بعد ایک ہفتے تک روزانہ اس میں سرسوں کا تیل ملایا جاتا ہے جس سے چھتر کی رنگت سیاہ اور نرم و لچکیلی ہو جاتی ہے یہ چھتر ملزمان کو ایک خاص طریقے سے مارا جاتا ہے- مخصوص پولیس اہلکار ہی اسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی اناڑی پولیس افسر چھتر استعمال کرے تو ملزم کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ کیونکہ غلط طریقے سے چھتر مارنے سے ملزم کے مثانے میں پانی بھر جاتا ہے۔ یا اس کی حالت غیر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے- چھتر مارنے سے قبل ملزم کو زمین پرالٹا لٹا دیا جاتا ہے۔ دو سپاہی اس کے ہاتھ اور دو اہلکار پاؤں پکڑتے ہیں۔ جبکہ چھتر مارنے والا اہلکار دونوں ہاتھوں میں چھتر پکڑ کر ہاتھوں کو اپنی کمر کے پیچھے سے لے جاتا ہے اور پھر پوری طاقت سے زمین پر اوندھے منہ لیٹے ملزم کے کولہوں پر چھتر مارتا ہے۔ 7/8 مرتبہ چھتر مارنے کے بعد ملزم کو زمین پر بٹھا دیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کولہے زمین پر زور زور سے مارے تاکہ اس کی رگوں میں خون نہ جمے، بعض افسران چھتر مارنے کے بعد ملزم کے کولہوں پر پولی فیکس کریم یا آیو ڈیکس لگاتے ہیں۔ اگر چھتر مارنے سے ملزم کے کولہوں کی کھال اتر جائے تو اسے اینٹی بائیوٹک گولیاں کھلائی جاتی ہیں اور زخم خشک کرنے والے انجکشن لگائے جاتے ہیں۔ چھتر مارنے کے کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر چھتر مارنے سے قب اوندھے منہ لٹا کر ملزم کی ناف کے نیچے تکیہ نہ رکھا جائے تو اس کے مثانے بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور ملزم کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ چھتر مارنے سے قبل ملزم کی ناف کے نیچے تکیہ رکھا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پولیس تشدد سے متاثرہ ملزمان کو قریبی اسپتالوں میں لے جا کر ان کا علاج کرایا جاتا ہے اور اگر کسی ملزم کی حالت تشویشناک ہو تو پولیس اسے فوری طور پر سرکاری اسپتال لے جاتی ہے جہاں ایم ایل او سے ساز باز کر کے اس کی ایسی میڈیکل رپورٹ تیار کرائی جاتی ہے جس میں پولیس تشدد کا تذکرہ نہیں ہوتا۔

پولیس میں ملزمان کو چیرا لگانے کا طریقہ بھی رائج ہے۔ چیرا دو طریقے سے لگایا جاتا ہے۔ ایک طریقے کو سیدھا چیرا اور دوسرے کو الٹا چیرا کہا جاتا ہے۔ چیرا لگانے والے پولیس اہلکار بھی ایکسپرٹ ہوتے ہیں۔ اگر کسی ناتجربہ کار اہلکار سے چیرا لگوایا جائے تو ملزم کے جنسی صلاحیت کھو کر نامرد ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات الٹا چیرا لگانے کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے- الٹا چیرا صرف ایسے ملزموں کو لگایا جاتا ہے جو انسداد دہشت گردی یا اغواءبرائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث ہوں۔ عام طور پر پولیس ملزم کو سیدھا چیرا لگاتی ہے۔ اس کام کے ماہر اہلکار کو ہر تفتیشی افسر اپنی ٹیم میں رکھتا ہے۔ سیدھا چیرا لگانے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ملزم کو دیوار کے ساتھ لگا کر بٹھا دیا جاتا ہے اور اس کی دونوں ٹانگیں سیدھے کر کے کھول دی جاتی ہیں۔ دو اہلکار اس کے ہاتھوں کو پکڑتے ہیں اور دو اہلکار جو چیرا لگانے کے باہر ہوتے ہیں وہ ملزم کی ٹانگوں کو چیرتے ہیں۔ دونوں ٹانگیں کھینچے جانے سے ملزم تکلیف سے تڑپ اٹھتا ہے لیکن اس وقت تک ٹانگیں چیری جاتی ہے جب تک ملزم اپنے جرم کا اعتراف نہ کر لے۔ اس دوران ملزم درد کی شدت سے بے ہوش ہو جاتا ہے بعض اوقات ملزم کی حالت اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ اسے اسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے اور کئی ہفتوں تک اس کا علاج کرایا جاتا ہے۔ بعض عادی مجرم تو چیرے کی تکلیف کو بھی برداشت کر جاتے ہیں۔ پھر پولیس کو ان سے تفتیش کے لیے دیگر طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ جب کوئی ملزم سیدھے چیرے کو برداشت کر لیتا ہے تو اسے الٹا چیرا لگایا جاتا ہے۔ الٹے چیرے میں ملزم کو دیوار کی طرف منہ کر کے بٹھایا جاتا ہے۔ دو پولیس اہلکار اس کے ہاتھ پکڑتے ہیں اور دو اہلکار اسے پیٹھ سے دھکا دیتے ہیں۔ جس سے اس کی دونوں ٹانگیں چیرجاتی ہیں۔ اس طریقہ میں ملزم کو شدید تکلیف ہوتی ہے- بعض اوقات الٹا چیرا زیادہ لگانے سے ملزم کے مثانے میں پانی بھر جاتا ہے اس طریقے میں ملزم کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ الٹا چیرا لگانے والے اہلکاروں کی خدمات زیادہ تر سی آئی ڈی پولیس حاصل کرتی ہے۔ الٹا چیرا لگنے کے بعد ملزم ایک ہفتے تک چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا، اس کا علاج بھی کرانا پڑتا ہے، اگر ایک سے زائد مرتبہ الٹا چیرا لگایا جاتا ہے تو ملزم کی حالت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اسے فوری طور پر اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ اگر کسی ملزم کی حالت زیادہ خراب ہو جائے تو اس کا پرائیوٹ اسپتال سے علاج کرایا جاتا ہے، اگر کوئی ملزم ریمانڈ کے دوران عدالت میں تشدد کی شکایت کرتا ہے تو عدالت اس کا میڈیکل کرانے کا حکم دیتی ہے جس پر پولیس افسران کو ایم ایل اوز سے معاملات طے کرنے پڑتے ہیں اور اس میں کافی خرچہ آ جاتا ہے- ایسے معاملات میں ایم ایل اوز پولیس افسران سے منہ مانگی رشوت لیتے ہیں اور میڈیکل رپورٹ پولیس کے حق میں بنا کر دیتے ہیں۔

ملزموں سے  اعتراف جرم کرانے کے لئے پولیس نسوار کے پانی کا طریقہ بھی استعمال کرتی ہے لیکن اس طریقہ کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ یہ طریقہ زیادہ تر اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسر استعمال کرتے ہیں- اس میں ملزم کو زمین پر لٹا کر اس کو اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ لئے جاتے ہیں اور ایک گلاس میں پانی بھر کر اس میں نسوار ملائی جاتی ہے- ایک اہلکار ملزم کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیتا ہے، پھر اس کی ناک میں نسوار ملا پانی ڈالا جاتا ہے- پولیس حراست کے دوران ملاقات کے لئے آنے والے اپنے رشتہ داروں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ چھتر مارنے والے سپاہی یا ہیڈ کانسٹیبل کی مٹھی گرم کر دیں تاکہ وہ ہاتھ تھوڑا ہلکا رکھے یا پھر اس دن چھٹی کر لے۔ اس طرح چھتر مارنے والے اہلکاروں نے بھی اپنا کمائی کا ایک ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

ملزمان سے تفتیش کے لئے پولیس کا ایک طریقہ تلوے کوٹنے کا ہے- پاؤں کے تلوے کوٹنے کے لئے کسی مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کوئی بھی اہلکار کسی بھی ملزم کے تلوے کوٹ سکتا ہے- اس طریقہ تشدد میں ملزم کے پاؤں کے تلوؤں پر بید کی ضربیں لگائی جاتی ہیں- اس بید کو بھی سرسوں کے تیل میں بھگویا جاتا ہے تاکہ وہ مزید لچک دار ہو جائے۔ جبکہ کچھ افسران خصوصی طور پر چمڑے کی بید بنواتے ہیں۔ یہ بید عموماً سی آئی ڈی پولیس استعمال کرتی ہے- ملزم کے دونوں ہاتھ اور پاؤں باندھ کر اسے زمین پر لٹا دیا جاتا ہے پھر ایک سپاہی اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیتا ہے دوسرا سپاہی اس کے پاؤں اوپر کی طرف اٹھا کر اس میں ایک لکڑی پھنسا دیتا ہے۔ پھر بید مارنے والا ملزم کے تلوؤں پر تیز رفتاری سے بید مارتا ہے ایک ساتھ 8 سے 10 ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ پھر ملزم کو کھڑا کر کے اسے اپنے پاؤں زور زور سے زمین پر مارنے کے لئے کہا جاتا ہے تاکہ تلوؤں میں خون نہ جمے۔ بعض اوقات تشدد کے دوران لکڑی کی بید ٹوٹ بھی جاتی ہے اس لئے ہر تفتیشی افسر کے پاس تین سے چار لکڑی کی بید ہوتی ہیں۔

پولیس ملزمان کو رسّے سے لٹکا کر بھی تفتیش کرتی ہے- اس ظالمانہ طریقہ تفتیش میں اکثر ملزمان کے دونوں کندھے اتر جاتے ہیں ایسی صورتحال میں پولیس ملزم کو طبی امداد دینے کے لئے ہڈی اور جوڑوں کے ماہر پہلوانوں سے رجوع کرتی ہے۔ عام طور پر عادی مجرموں سے تفتیش کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے لیکن بعض پولیس افسران تو ہر ملزم کو ہی رسے پر لٹکا دیتے ہیں- اس طریقہ کار میں چھت پر لگے ہک/کنڈا میں رسی ڈال کر ملزم کے دونوں ہاتھوں کو باندھ دیا جاتا ہے پھر ایک اہلکار ملزم کو تھوڑا سا اٹھاتا ہے اور دوسرا اہلکار رسی کھینچتا ہے، پھر رسی کو کسی پلر یعنی ستون سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح ملزم دونوں ہاتھوں کے بل پر لٹک جاتا ہے اور اس وقت تک لٹکا رہتا ہے جب تک اعتراف جرم نہیں کر لیتا۔ عموماً جب اس کی حالت غیر ہونے لگتی ہے تو وہ پولیس کے سامنے جرم کا اعتراف کر لیتا ہے۔ اس طریقہ میں بعض اوقات ملزم کی کلائی اور کندھے اتر جاتے ہیں- رسے پر لٹکانے سے قبل ملزم کے ہاتھوں پر کپڑا باندھا جاتا ہے، پھر اس پر رسی باندھ کر لٹکا دیا جاتا ہے- کپڑا اس لئے باندھا جاتا ہے تاکہ ہاتھوں پر نشان نہ پڑیں۔ تشدد کے اس طریقہ سے عادی ملزمان بھی زبان کھول دیتے ہیں لیکن اس طریقہ کار کو آزمانے کے لئے مہارت ضروری ہے- اناڑی اہلکاروں سے یہ کام کرایا جائے تو ملزم کے کندھے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے ملزم کے میڈیکل ٹیسٹ میں پولیس تشدد کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ اس لئے رسے پر وہی تفتیشی افسران ملزم کو لٹکاتے ہیں جن کے پاس ماہر عملہ ہوتا ہے-

پولیس تشدد کے واقعات میں پنجاب پولیس پہلے نمبر پر ہے جبکہ سندھ پولیس دوسرے نمبر پر ہے۔ جن خاص خاص شہروں میں پولیس تشدد کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوتے ہیں ان میں ملتان سر فہرست ہے- اس کے بعد لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، کراچی، سکھر، خیرپور، نواب شاہ، حیدرآباد اور گوجرانوالہ شامل ہیں- اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باقی شہروں کی پولیس سلجھی ہوئی ہے- ان کے یہاں پولیس تشدد کا حال بھی ان شہروں جیسا ہی ہے مگر ان کے اعداد و شمار ان شہروں کے مقابلہ میں کم ہیں- ایک محتاط اندازے  کے مطابق ملک بھر میں پولیس تشدد کی ہر ماہ 500 سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں- پولیس کی جانب سے ہونے والے ظلم اور تشدد کا شکار ذیادہ تر افراد مزدور، کسان اور گھروں میں کام کرنے والے ہیں- سب سے زیاہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ پولیس تشدد کے زیادہ تر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے-

پولیس کے تربیتی اداروں میں پولیس افسروں اور اہلکاروں کو تفتیش کیلئے سائنسی بنیادوں پر تربیت دینے کی بجائے روایتی طریقوں سے تشدد اور بدتمیزی کا سبق دیا جاتا ہے۔ مقدمہ کے اندارج کے بعد تفتیشی افسر جب ملزم کو گرفتار کر کے اس کا جسمانی ریمانڈ لیتا ہے تو وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اب اسے ملزم پر تشدد کرنے کا قانونی حق مل گیا ہے حالانکہ پولیس کو کسی بھی زیر حراست ملزم پر تشدد اور خاص طور پر سرعام تشدد کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے جرم کا سراغ لگائے۔ بااثر افراد کے قائم کئے ہوئے عقوبت خانے طاقت کے اظہار کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، اس لئے حکمرانوں، سیاستدانوں اور مراعات یافتہ طبقے کی شہ پر پولیس نے بھی تھانوں میں عقوبت خانے قائم کئے ہوئے ہیں جہاں مختلف تعزیرات کو بنیاد بنا کر ملزمان پر اقبال جرم کے لئے بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔ اس تشدد کے نتیجے میں اندرونی چوٹوں کی تاب نہ لاتے ہوئے کئی ملزمان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔جبکہ یہاں بے گناہ شہریوں کو ہراساں کر کے ان سے رقم بٹوری جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجی طور پر قائم کردہ پولیس کے عقوبت خانے اوپر سے نیچے تک پولیس افسران اور اہلکاروں کی ناجائز آمدنی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا میں تحقیق اور جدید سائنسی طریقوں کے متعارف کئے جانے کے بعد یہ تصور ابھرا کہ کسی جرم کی تفتیش اور اقبالِ جرم کے لئے مشکوک فرد یا افراد پر تشدد کے علاوہ دیگرسائنسی طریقے جیسے پولی گرافک ٹیسٹ اور نفسیاتی طریقے بھی اختیار کئے جا سکتے ہیں جو خاصی حد تک کامیاب ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ اور کرمنل پروسیجر کوڈ پولیس کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی بھی جرم کے شک میں گرفتار کئے گئے ملزم کو 24 گھنٹوں کے اندر فوجداری عدالت کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے اس سے تفتیش کے لئے ریمانڈ حاصل کرے مگر بیشتر کیسوں میں ایسا نہیں کیا جا رہا- پولیس ایکٹ کی دفعہ 156 کے تحت تشدد کرنے والے پولیس ملازمین کو 3 سال کی قید ہو سکتی ہے جبکہ تعزیرات پاکستان کے تحت پولیس تشدد، زخم لگانے یا حبس بے جا میں رکھنے کی سزا بھی موجود ہے اورکسی بھی زیر حراست یا گرفتار ملزم پر تشدد قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ جس کے ذمہ دار پولیس افسر یا اہلکار کو 5 سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے- مگر عملی طور پر یہی ہوتا ہے جس کی مثال راقم نے کالم کے شروع میں فیاض شہید کے کیس میں دی ہے- اس پولیس ایکٹ میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ پوکیس تشدد کا یہ جرم قابل راضی نامہ ہے نیز اس کی انکوائری بھی پولیس والے ہی کرتے ہیں, اس لئے وہ اپنے ساتھی اہلکاروں کے بچاؤ کے راستے نکال ہی لیتے ہیں۔

حکمرانوں کے پولیس ایکٹ میں تبدیلی اور تھانہ کلچر میں جدت اور ٹیکنالوجی لانے کے دعوے پتہ نہیں کب پورے ہوں گے- لیکن اس دوران جو بھی مجوزہ قانون سازی ہو اس میں پولیس کے تربیتی نصاب میں آئین، جمہوری و بنیادی انسانی حقوق اور احترام انسانیت کو ضرور شامل کیا جائے۔ پولیس تشدد کے خلاف رپورٹ کرنے کے لئے ضلعی سطح پر شکایاتی مرکز بنائے جائیں جہاں شہریوں کی شکایات کا ازالہ ہو سکے۔ پولیس تشدد واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے لئے دوسرے اضلاع کی پولیس یا جوڈیشل افسران سے تحقیقات کروائی جانی چاہئیں چاہے اس کے لئے جوڈیشل سسٹم میں افرادی قوت کو کئی گنا بڑھانا ہی کیوں نہ پڑے- اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف کنونشن پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *